Subscribe Us

70 Bright Years Of Pakistan-China Relations

 

پاکستان اور چین کے تعلقات کے 70 روشن سال

تحریر۔پیر فاروق بہاوالحق شاہ۔

70 Bright Years Of Pakistan-China Relations
70 Bright Years Of Pakistan-China Relations

چین اور پاکستان اقوام عالم میں اپنی بے مثال دوستی کی وجہ سے ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کے مابین تعلقات ''یک جان دو قالب'' کی طرح ہیں۔ موجود سال دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کیقیام کا 70 واں سال ہے۔ گزشتہ ستر برس چین اور پاکستان کیمابین سفا رتی تعلقات کی تا ریخ میں اپنی مثال آ پ بن چکے ہیں۔دونوں ممالک ہمیشہ ہر اچھے اور بر ے وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ مضبو طی سے کھڑے رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے ہر علاقائی  اور بین الاقوامی فورم پر ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ 1949 میں چین نے اپنے قیام کے بعد سے  جدت اور ترقی کے بہت سے مراحل کو طے کیا ہے۔ اس شاہراہ ترقی پر چین نے اپنے دوستوں کو کبھی پیچھے نہیں چھوڑا۔پاکستان چین کا قریبی دوست ملک ہونے کے ناطے ہمیشہ علاقائی اور عالمی سطح پر چین کا قریبی اتحادی رہا ہے، چین کی علاقائی اور عالمی سفارتکاری سے ہمیشہ مستفید ہوا ہے۔سفا رتی تعلقات کے سفر میں دونوں اقوام نے ایک دوسرے کی سوچ کے ساتھ مکمل اتفاق کیا ہے جس سے دونوں کے درمیان تعلقات مزید گہرے ہو ئے ہیں اور عوام پہلے سے زیادہ ایک دوسرے کے قر یب آئے ہیں۔دونوں ممالک کے عوام کے باہمی رشتے اور تعلقات بہت مضبوط ہیں۔پاک چین تعلقات اسٹریٹجک شراکت داری کی بنیاد پر استوار ہیں۔دفاع، معیشت، تعلیم، طب  ، کاروبار، سائنس، آرٹس اور دیگر مختلف شعبوں میں قریبی تعاون قائم ہے، جو آج نئی بلند یوں کو چھو رہا ہے۔دونوں دوست ممالک کی قیادت نے عشروں سے تعلقات کو ایک ایسے انداز میں پروان چڑھایا ہے جسے سفارتکاری کے روایتی نظریات کے تناظر میں سمجھا نہیں جاسکتا اور نہ ہی اس کی حد کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔یہ دوستی  اور تعلقات بے مثال ہیں۔ الفاظ میں دوستی کا بیان ممکن نہیں مگر یہ کہ سکتے ہیں کہ یہ جسم اور روح کا رشتہ ہے۔ یہ رشتہ ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کی بھر پور حمایت پر مبنی ہیں۔شاہراہ قراقرم (کے کے ایچ)، سی پیک، گوادر بندرگاہ اور جے ایف -17 تھنڈر جیسے عظیم منصوبو ں پر کثیر الجہتی تعاون سے دونوں اطراف کے لوگوں کی زندگیوں میں نمایاں تبدیلیاں  آ ئی ہیں اور بلاشبہ ان سے پاکستان بہت زیادہ مستفید ہوا ہے۔چین کے ساتھ سفا رتی تعلقات، پاکستانی خارجہ پالیسی کا ایک اہم محور بن چکے ہیں کیونکہ ان اسٹریٹجک تعلقات نے پاکستان کو علاقائی استحکام برقرار رکھنے اور جنوبی ایشیا میں اپنی اسٹریٹجک پوزیشن کو مستحکم کرنے میں مدد کی ہے۔

چین پاک تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ  پاک چین تعلقات میں ایک نیا اضافہ چھنگ داو میں پاکستان –چائنا سنٹر کی صورت میں سامنے آیا ہے۔گزشتہ  ماہ میں  چین کے شہر چھنگ داو  میں پاکستان۔چائنا سنٹر کا افتتاح کیا گیا۔چین میں تعینات پاکستان کے سفیر معین الحق اور چھنگ داو شہر کے ضلع جائی چو میں پارٹی سیکرٹری اور شنگھائی تعاون تنظیم ڈیمونسٹریشن ایریا کے ڈائریکٹر جنرل لیو جیان جون نے سنٹر کا مشترکہ افتتاح کیا۔اس سنٹر کا مقصد پاکستان کے چین سمیت دیگر ایس سی او ممالک کے ساتھ مختلف شعبوں میں روابط کا فروغ ہے۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں پاکستانی سفیر نے کہا کہ سال دو ہزار سترہ میں ایس سی او کا رکن بننے کے بعد پاکستان مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے تنظیم کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ قریبی مشاورت کر رہا ہے۔انہوں نے پاکستان اور تنظیم کے دیگر رکن ممالک کے درمیان تجارت،سرمایہ کاری،کھیل،سیاحت اور افرادی تبادلوں  کو فروغ دینے کے لیے سنٹر کے قیام کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا۔انہوں نے اس موقع پر سنٹر کے قیام میں چھنگ داو کی حکومت کا بھی شکریہ ادا کیا۔چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کیقیام کے بعد سے گزشتہ ستر سالوں میں، اس سے قطع نظر کہ بین الاقوامی صورتحال کیسے بدلی، دونوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، دونوں نے اپنی خوشیاں اور غم ایک دوسرے کے ساتھ بانٹیں ہیں، ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کو سمجھا ہے اور ان کی حمایت کی ہے۔ ہر گزرتے پل کے ساتھ یہ دوستی مزید گہری ہوگی۔

لازوال پاک چین دوستی کے ستر سال،خصوصی ڈاکومنٹری ویڈیو جاری

لازوال پاک چین دوستی کے سترسالہ جشن کے موقع پر وزارت خارجہ کی طرف سے منگل کو خصوصی ڈاکومنٹری ویڈیو جاری کر دی گئی۔

اس مختصر ویڈیو میں ہمالیہ سے اونچی، سمندروں سے گہری اور شہد سے میٹھی اس پاک چین دوستی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔پاک چین دوستی کے ستر سالہ جشن کے حوالے سے ایک خصوصی تقریب بھی وزارت خارجہ میں منعقد ہو ئی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ چئیرمین ماوزے تنگ اور وزیر اعظم چوان لائی نے پاک چین تعلقات کو مضبوط بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا،پاک چین تعلقات خطے میں امن و استحکام کے ضامن ہیں۔چین نے پاکستان کے کلیدی سٹرٹیجک، معاشی اور ترقیاتی ترجیحات کے معاملات میں ہماری مدد کی ہے،قومی ترقی کے لئے سی پیک کے ناگزیر ہونے پر پاکستان میں مکمل سیاسی اتفاق رائے ہے۔یہ باتیں انہوں نے منگل کو پاک چین لازوال دوستی کے ستر سالہ جشن کے حوالے سے بیک وقت وزارت خارجہ پاکستان اور وزارتِ خارجہ چین میں منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے (بذریعہ ویڈیو لنک) تقریب میں شرکت کی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ 21 مئی 1951 کو شروع ہونیوالے دو طرفہ پاک چین دو طرفہ مثالی تعلقات کو 2021 میں ستر سال مکمل ہونے کو ہیں۔اس سلسلے میں دونوں ممالک اس لازوال دوستی کے ستر سالہ جشن کے حوالے سے مختلف تقاریب کا انعقاد کرتے رہیں گے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میرے لیے انتہائی مسرت کی بات ہے کہ میں چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کے ہمراہ پاک چین لازوال دوستی کے ستر سالہ جشن کا افتتاح کر رہا ہوں۔پچھلے ستر سالوں میں پاک چین تعلقات، وسیع البنیاد طویل المدتی، سدا بہار سٹر ٹیجک شراکت داری میں تبدیل ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ پاک چین تعلقات خطے میں امن و استحکام کے ضامن ہیں،ہمیں خوشی ہے کہ پاکستان ان اولین ممالک میں شامل ہے جنہوں نے سب سے پہلے چین کی ریاست کو تسلیم کیا۔ چین نے اپنی محنت کے بل بوتے پر سماجی و اقتصادی ترقی کے کئی اہم مدارج طے کیے ہیں،آج چین دنیا کی دوسری بڑی اقتصادی قوت ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی تجارت اور آرٹیفشل انٹیلیجنس میں اپنا لوہا منوا چکا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ چین کاتین دہائیوں میں 80 کروڑ لوگوں کو غربت سے نجات دلانے کا تجربہ انسانی تاریخ میں منفرد ہے۔1.4 ارب لوگوں کی زندگی اور تقدیر بدلنے کی اس حیرت انگیز کامیابی پر ہم چین کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔صدر شی جن پنگ کی قیادت نے اس تاریخی مرحلے پر چینی قوم کی قومی خواہشات کی تکمیل میں بے پناہ مدد کی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ چئیرمین ماوزے تنگ، وزیر اعظم چوان لائی نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا جبکہ بعد میں آنے والے قائدین اور رہنماوں نے پاک

 چین تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں قابل قدر خدمات سر انجام دیں،سات دہائیوں میں باہمی اعتماد، مدد اور باہمی مفادات کے اصولوں پر دونوں ممالک کے تعلقات نے نشوونما پائی۔کثیرالجہتی سٹرٹیجک اور سیاسی تعاون آج کہیں زیادہ مضبوط اور توانا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دونوں ممالک عالمی اور علاقائی فورمز پر تعاون کررہے ہیں اور کلیدی مفادات کے امور پر ایک دوسرے کی مدد کررہے ہیں۔ پاکستان ’ون چائنا پالیسی‘ کی مکمل تائید وحمایت کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین نے پاکستان کے کلیدی سٹرٹیجک، معاشی اور ترقیاتی ترجیحات کے معاملات میں ہماری مدد کی ہے،ہم رواں برس چینی صدر شی جن پنگ

کے دورہ پاکستان کے منتظر ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید بلندیوں سے ہمکنار کرنے میں صدر شی جنگ پنگ کا دورہ نہایت اہم ثابت ہوگا،دونوں ممالک نے مشکل میں ایک دوسرے کے کام آنے کی اپنی شاندار روایت نبھائی ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ چین میں کورونا وبا کے دوران پاکستان نے فوری طورپر ضروری طبی سامان چین بھجوایا،مارچ 2020 میں صدر ڈاکٹر عارف علوی بیجنگ گئے اور چین کی حکومت اور عوام سے یک جہتی کا اظہار کیا۔پاکستان میں کورونا وبا کے پھیلاو کے وقت چین نے ہمیں فراخ دلی سے مدد فراہم کی۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پانچ لاکھ سائنوفام ویکسین فراہم کرنے پر چین کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے سماجی وثقافتی تعلقات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ وزیر خارجہ اٹھائیس ہزار سے زائد پاکستانی طالب علم چین میں تعلیم حاصل کررہے ہیں اور چین کے جدید ترین تعلیمی نظام سے استفادہ کررہے ہیں جبکہ چین کی مختلف یونیورسٹیوں میں 7 مطالعہ پاکستان مراکز اور 11 اردو زبان کے شعبے قائم کئے گئے،اس کے علاوہ پاکستان میں 4 کنفیوشس انسٹی ٹیوٹس قائم کئے گئے ہیں۔یہ اقدامات دونوں ممالک میں ثقافتی ہم آہنگی کے فروغ میں ممدو معاون ثابت ہوں گے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان صدر شی جن پنگ کے ’بیلٹ اینڈ روڈ اقدام‘ کی حمایت کرتا ہے،یہ منصوبہ رابطے بنانے اور عالمی معاشی نشوونما میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔’بی آر آئی‘ کا اولین منصوبہ سی پیک اعلی ترین معیار کا حامل منصوبہ بن چکا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ قومی ترقی کے لئے سی پیک کے ناگزیر ہونے پر پاکستان میں مکمل سیاسی اتفاق رائے ہے

پاک چین تعلقات کی روشن تاریخ۔

پاکستان اور چین کے درمیان باقاعدہ تعلقات کا آغاز 1950ء میں ہوا۔ پاکستان اسلامی دنیا کا پہلا اور غیر کمیونسٹ ممالک میں تیسرا ملک تھا۔ جس نے 1950ء کے تائیوان چین تنازے کے فوراً بعد چین کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات 31مئی 1951ء میں قائم ہوئے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں نمایاں گرم جوشی 1962ء کی چین بھارت سرحدی جنگ کے بعد پیدا ہوئی۔ بھارت کو اپنا روایتی دشمن سمجھنے والی پاکستانی قیادت نے چین سے تعلقات بڑھاتے ہوئے اسے خطے میں ایک متبادل طاقت کے طور پر اُبھرنے میں مدد فراہم کی تاکہ بھارتی اثر و رسوخ کا راستہ روکا جا سکے۔1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران بھی چین نے پاکستان کو خاصی مدد فراہم کی جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور اقتصادی رابطوں میں مزید شدت آئی۔ 1966ء میں فوجی تعاون کا آغاز ہوا۔ چین پاکستان کو دفاعی پیداوار میں اپنے پاؤں پر کھڑا کر رہا ہے۔ چین سے ملنے والا اسلحہ سستا ہوتا ہے جو مغرب سے نہیں ملتا۔ اگر کوئی چیز نہیں ملتی تو دونوں (پاکستان اور چین) مشترکہ طور پر تیار کرتے ہیں۔ جس میں کچھ مغربی اور کچھ چین کی ٹیکنالوجی شامل ہوتی ہے۔اس کے مقابلے میں دونوں جنگوں میں چین نے بڑے بھائی کا قابل ستائش کر دار ادا کیا۔ پاکستان نے بھی ہمیشہ چین کی خیر سگالی کا مثبت جواب دیا۔ پاکستان نے چین اور امریکہ کے مابین سفارتی تعلقات قائم کرنے اور اقوام متحدہ میں اس کیرکنیت بحالی کرنے کے لیے بھر پور سفارت کاری کی۔1970ء میں پاکستان کی انتھک کوششوں سے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کے خفیہ دورہ بیجنگ کے انتظامات ممکن ہوئے۔ اس طرح چین اور مغربی دنیا کے درمیان براہِ راست رابطے ممکن ہو سکے اور پاکستان ہی کی بدولت 1972ء میں امریکی صدر رچرڈ نکسن نے چین کا سرکاری دورہ کیا۔ 1978ء میں چین اور پاکستان کے درمیان واحد زمینی راستے قراقرم ہائی وے کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔ 1984ء میں پاکستان اور چین کے درمیان جوہری توانائی کے میدان میں تعاون کے سمجھوتے پر دستخط کیے گئے۔ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کے اہم منصوبوں میں 2001ء میں الخالد ٹینک، 2007ء میں لڑاکا طیارے ”جے ایف۔ 17 تھنڈر“، 2008ء میں ایف۔ 22 پی فریگیٹ اور کے 8۔پی قراقرم جدید تربیتی طیاروں کی تیاری اور دفاعی میزائل پروگرام میں قریبی اشتراک شامل ہے۔ دونوں ممالک کی افواج کئی مشترکہ فوجی مشقیں بھی کر چکی ہیں۔ جن میں سب سے اہم رواں سال ہونے والی فوجی مشق تھی جس کا مقصد انسداد دہشت گردی کے لیے باہمی تعاون کا فروغ قرار دیا گیا تھا۔ 2005ء اور 2010ء میں دکھ کی گھڑی میں چین نے پاکستان میں آئے ہوئے سیلاب اور زلزلے کی تباہ کاریوں کے مداوے کے لیے 247ملین ڈالرز کی امداد کی تھی۔چینی صدر شی چن پنگ نے اپنے دو دروزہ دورہ کے دوران پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ اس دورے میں متعدد مفاہمت کی یاد داشتوں اور معاہدات پر دستخط ہوئے۔ 46ارب ڈالر مالیت کے توانائی اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں پر مشتمل معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ ان منصوبوں میں خنجراب کی سرحد سے لے کر گوادر تک سڑکوں اور ریل وغیرہ کی تعمیر کے علاوہ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ 10400میگاواٹ بجلی، 832 کلومیٹر شاہراؤں کی تعمیر، 1736 کلومیٹر ریلوے لائن کی تعمیر اور گوادر کی بندرگاہ پر متعدد ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبے شامل ہیں۔ ان سارے منصوبوں میں توانائی کے منصوبوں کو اہمیت حاصل رہے گی۔ کیونکہ پاکستان کو اس وقت توانائی کے بحران کا شدید سامنا ہے۔ یہ معاہدے درحقیقت دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مستحکم بنانے اور دونوں ملکوں کے عوام کی ترقی و خوشحالی کے راستہ کو ہموار کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔پاکستان اور چین ایک دوسرے کے بڑے اتحادی ہیں۔ یہ اتحاد دفاعی پہلوؤں سمیت اقتصادی پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان سیاسی بندھن اٹوٹ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کاروباری تعلقات ہمیشہ نمود پذیر رہے ہیں۔اور آئندہ بھی ان تعلقات میں مزید استحکام اے گا۔


70 Bright Years Of Pakistan-China Relations 70 Bright Years Of Pakistan-China Relations Reviewed by Rizwan Malik on مارچ 14, 2021 Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.