Subscribe Us

واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمبر 58

 واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں       قسط نمبر 58



سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انداز تکلم

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی کچھ ارشاد فرماتے تو ایسا لگتا جیسے دہن مبارک سے نور نکل رہا ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اندا ز تکلم کو صیاء النبی میں کچھ یو ں ہے۔

”حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گفتگو فرماتے تو آہستہ آہستہ ہر لفظ الگ الگ کر کے تلفظ فرماتے اور بسا اوقات ایک لفظ کو یا جملہ کو تین بار دہراتے تا کہ تمام سامعین اس کو پوری طرح سن بھی لین اور اس کا مفہوم سمجھ بھی لیں۔اثناء گفتگو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بکثرت تبسم فرمایا کرتے۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گفتگو کرتے تو معلوم ہوتا کہ دہن مبارک سے نور نکل رہا ہے۔اثناء گفتگو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعض دفعہ اپنا سر مبارک آسمان کی طرف بلند کرتے اور اللہ اکبر کہتے۔امام ترمذی روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلا ضرورت گفتگو نہیں فرمایا کرتے تھے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سکوت بہت طویل ہوا کرتا تھا۔

حضور صلی اللہ علیہوآلہ وسلم کی زبان پاک سے جو امع الکلم صادر ہوتے نہ ان میں غیر ضروری طوالت ہوتی اور نہ ایسا اختصار ہوتا جس سے کلام کے معانی کو سمجھنا مشکل ہو جائے۔ام معبد نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انداز تکلم کو خوب بیان کیا ہے فرماتی ہیں۔:”جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموشی اختیار فرماتے تو پیکر وقار معلوم ہوتے اور جب گفتگو فرماتے تو ایک خاص قسم کی چمک روئے اقدس پر رونما ہو جاتی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گفتگو بڑی حسین اور دلکش ہوتی۔

انداز جواب

”حضر ت علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے:آپ(رضی اللہ عنہ) نے فرمایا عمار نے ایک دفعہ بارگاہ رسالت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں حاضر ہونے کیلئے  اذن طلب کیا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی آواز پہنچان لی تواکھڑا ہوا جواب نہیں دیا بلکہ بڑے محبت بھرے اور دل موہ لینے والے انداز میں فرمایا:میں اس شخص کو خوش آمدید کہتا ہوں جو فطر ۃ پاک ہے جس کو رحمت الہٰی نے پاکیزہ بنا دیا ہے۔حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ ایک روز سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں۔آپ کی چال ہو بہو حضور کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چال تھی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی صاحبزادی کو دیکھا تو خوش آمدید فرمایا پھر حضرت سیدہ کو اپنی دائیں یا بائیں جانب بٹھایا۔ایسی بات،جس کو صراحتہ بیان کرنا آداب شرم وحیا کے خلاف ہے،سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ذکر بطور کنایہ فرماتے تا کہ بات سننے والوں کو اس کی حقیقت سمجھ بھی آجائے اور زبان سے ایسا کلام بھی ادا نہ ہو جس کو ادا کرنا شرم وحیا کے خلاف ہو۔بطور مثال: ایک حدیث بیان کی گئی ہے جسے ابن ماجہ نے اپنی کتاب میں روایت کیا ہے۔ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رفاعہ قرظی کی بیوی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی عرض کی یا رسول اللہ!(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)رفاعہ نے مجھے طلاق دیدی ہے اس کے بعد عبدالرحمن بن زبیر سے شادی کی ہے  اس میں مجامعت کی قوت نہیں وہ اس طرح ہے جیسے کسی چادر کا پلو ہوتا ہے۔حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اسے فرمایا:”کیا تم یہ چاہتی ہو کہ پھر رفاعہ سے شادی کر لو؟“ پھر خود ہی فرمایا نہیں کیونکہ اس طرح وہ شرط پوری نہیں ہو گی جو قرآن کریم میں مذکور ہے۔: ام خالد بنت خالد بن سعید رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ اپنے والد کے ساتھ بارگاہ رسالت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں حاضر ہوئی۔میں نے اس وقت زردرنگ کی قمیص پہنی تھی۔سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا سنہ سنہ۔یہ حبشی زبان کا لفظ ہے اس کا معنی یہ بہت خوبصورت بہت خوبصورت۔میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت کی طرف سے آئی اور مبارک کندھوں کے درمیان ختم نبوت کو دیکھا تو میں اس کے ساتھ کھیلنے لگی۔میرے والد نے مجھے جھڑکا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے والد کو فرمایا: بچی کو کچھ نہ کہو وہ کھیلتی ہے تو کھیلنے دو۔پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دعا دی۔:تم لباس پہنتی رہواور پرانا کر کے اتارتی ہو۔پھر ایسا کرو(یہ عمر دراز کیلئے دعا کا ایک انداز ہے)حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے صدقہ کی ایک کھجور اٹھائی اور منہ میں ڈال دی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا تو فوراََ فرمایا۔باہر پھینک دو،باہر بھینک دو کیا تم نہیں جانتے کہ ہم صدقہ کا مال نہیں کھایا کرتے۔“

زمین پر لکڑی سے لکیریں بنانا

”سید نا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں ایک نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی۔آپ مٹی کو اس سے اوپر نیچے کرتے رہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ایسا کوئی شخص نہیں ہے جس کے جنتی اور دوزخی ہونے کے بارے میں فیصلہ نہ کرلیا گیاہو بعض نے عرض کی: کیاہم اس فیصلہ پر بھروسہ نہ کریں۔فرمایا:عمل کیا کرو۔اور ہر شخص کے کئے وہ کام آسان بنا دیا جائے گا جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔“

اثنائے خطبہ مختلف حالات میں مختلف حرکات

”اثنائے کلام اگر کوئی تعجب کی بات ہوتی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھ کو حرکت دیتے۔جب اشارہ فرماتے تو اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کے ساتھ اشارہ فرماتے۔جب حیرت کا اظہار کرتے تو اس کو الٹا کردیتے اور اپنے دائیں ہاتھ کے انگوٹھے سے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو ضرب لگاتے۔“

حالت تعجب میں تسبیح 

”امام بخاری ام سلمہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدا ہوئے تو اچانک فرمایا:”جو خزانے آج نازل کئے گئے ہیں اور جو فتنے نازل کئے گئے ہیں۔ان پر میں اللہ کی تسبیح کرتا ہوں پھر فرمایا:کون ہے جو حجرے میں آرام کرنے والی میری ازواج کو جگائے تا کہ وہ نمام پڑھیں۔پھر فرمایا:کئی عورتیں دنیا میں رزق برق لباس پہنتی ہیں لیکن قیامت کے روز عریاں ہوں گی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی وقت ہونٹ چبانے کے بارے میں امام بخاری نے الادب المفر د میں حضرت ابو العالیہ سے ایک حدیث نقل کی ہے۔آپ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن صامت سے پوچھا وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دوست ابو ذر سے پوچھافرماتے ہیں میں ایک دن وضو کا پانی لے کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سر مبارک کو حرکت دی پھر اپنے ہونٹوں کو چبایا۔میں نے عرض کی یا رسول اللہ!(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میرے باپ اور ماں آپ پر قربان ہوں کیا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت تو نہیں دی؟فرمایا نہیں۔یہ میرا سر کا ہلانا اور ہونٹو ں کو چبانا اس لئے یہ کہ تم ایسے امراء کا زمانہ پاؤ گے جو نماز کو تا خیر سے پڑھیں گے۔میں نے عرض کی مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا حکم دیتے ہیں؟آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا اپنی نماز وقت پر پڑھ لیا کرو اور اگر بعد میں وہ جماعت کرائیں تو ان کے ساتھ مل کر پڑھ لیا کرو اور یہ نہ کہنا کہ میں پہلے نماز پڑھ چکا ہوں اب نہیں پڑھوں گا (ہوسکتا ہے وہ لوگ تمہیں اس وجہ سے اذیت دیں)“

تعجب کے وقت اپنی رانوں پر ہاتھ مارنا

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرو ی ہے:آپ(رضی اللہ عنہ)فرماتے ہیں ایک را ت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔جس کمرہ میں، میں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نور نظر سیدہ فاطمہ تھیں اس کو کھٹکھٹایا۔فرمایا کیا تم نماز نہیں پڑھو گے؟میں نے عرض کی یا رسول اللہ!(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سب اختیار اللہ کے ہاتھ ہے جس وقت وہ چاہے ہمیں اٹھائے ہم اس وقت اٹھ بیٹھتے ہیں۔سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری بات سن کر واپس مڑگئے اور مجھے کوئی جواب نہ دیا پھر میں نے سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیٹھ پھیر کر تشریف لے جا رہے ہیں اور اپنی رانوں پر دست مبارک مار رہے ہیں اور فرما رہے ہیں۔:انسان بڑا جھگڑالوہے۔انگشت شہادت اور وسطیٰ (درمیانی انگلی)کو ملا کر اشارہ کرناابی جبیر ہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ۔:”حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگشت شہادت او ردرمیانی انگلی کو اکٹھا کر کے فر مایا میری بعث اور قیامت یو ں ہیں یعنی بالکل قریب قریب۔“

دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں داخل کرنا 

حضور کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”ایک مومن دوسرے مومن کیلئے اس طرح ہے جس طرح عمارت کہ اس کا کچھ حصہ دوسرے حصہ کو قوت دیتا ہے۔یہ کہا اور اپنے دونوں ہاتھ کی انگلیوں کو آپس میں داخل کر دیا۔“ طبرانی میں سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس باہر تشریف لائے اور فرمایا اس وقت تمہارا کیا طریقہ ہو گا جب تمہیں اپنے زمانہ میں پیدا کیا جائے گا جبکہ انسانوں کا تلچھٹ ہو گا جنہوں نے اپنے وعدوں کو اپنی قسموں کو اور اتنی امانتوں کو گڑمڈ کر دیا ہو گا۔یہ فرمایا اور اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کر دیا۔صحابہ نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)بہتر جانتے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”کہ دین کی جن چیزوں کو تم جانتے ہوان پر عمل کرو۔جن کو تم نہیں جانتے ان کو چھوڑ دینا۔ہر آدمی اپنی خیر منائے اور عام لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دے۔“ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک روز سرور کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ان سے پوچھا اے ابو ذر!جب تم لوگوں کے تلچھٹ میں پھنس جاؤ تو تمہارا کیا حال ہو گا۔اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کر دیا۔میں نے عرض کی یا رسول اللہ!(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیاحکم فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:صبر کرنا۔صبر کرنا۔صبر کرنا۔لوگوں کے ساتھ اخلاق سے پیش آنا۔

(ضیاء النبی ج5ص429تا435)




واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمبر 58  واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں       قسط نمبر 58 Reviewed by Rizwan Malik on مارچ 03, 2021 Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.