Subscribe Us

واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمب59

واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں         قسط نمبر59



حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعضاء مبارکہ کے کمالات

حضور کا ظاہری حسن و جمال

جہاں کہیں بھی حسن و جمال پایا جاتا ہے وہ ذات پاک ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ

 وآلہ وسلم کا فیضان ہے اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ظاہری حسن

 وجمال کو ضیاء النبی میں یوں بیان کیا گیا ہے۔

”نور مجسم،فخر آدم و بنی آدم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیگر انبیاء ورسل کی

 طرح کسی ایک قبیلہ کی طرف اور وہ بھی محدود وقت کیلئے نبی بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے

 بلکہ تمام بنی نوع انسان کیلئے تا قیامت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس وہ

 آفتاب عالمتاب تھی جس کی روشنی ظاہر و باطن کو اپنے انوار سے منور کرنے والی تھی۔

اس لئے ضروری تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری جسمانی محاسن بھی تمام

 انبیاء سابقین سے اعلیٰ وبرتر ہوں کیونکہ یہ مظاہر جسم باطن کی عظمت کے گواہ ہیں۔

اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب تمام بنی نوع

 انسان کیلئے ہادی و مرشد بنا کر بھیجا تو یقینا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہر وباطن

 کو اتنی عظمتیں اور وسعتیں دی ہوں گی کہ کوئی اس کی ہمسری کا گمان بھی نہ کر سکے۔

اسی حقیقت کو عاشق صادق حضر ت شرف الدین بو صیری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے قصیدہ

 میں یوں بیان کیا ہے۔:”وہی ذات ہے جو معنوں وصوری لحاظ سے درجہ کمال کو پہنچی

 ہوئی ہے پھر تمام ارواح کو پیدا کرنے والے نے 

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا محبوب بنانے کیلئے چن لیا۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ

 وآلہ وسلم اپنے محاسن اور کمالات میں شریک سے پاک ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ

 وسلم کے حسن و کمال کا جو ہر منقسم نہیں ہے یعنی حسن کی تمام ادائیں حضور (صلی اللہ

 علیہ وآلہ وسلم)کی ذات میں مجتمع ہیں۔جہاں کہیں بھی حسن و کمال پایا جاتا ہے وہ ذات

 پاک مصطفوی کا فیضان ہے۔“صاحب المواہب اللدنیہ علامہ قرطبی سے نقل کرتے ہیں

 کہ انہوں نے فرمایا۔:”سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تمام حسن ہمارے لئے

 ظاہر نہیں کیا گیا کیونکہ اگر 

حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے تمام حسن کے ساتھ جلوہ فرما ہوتے تو ہماری آنکھیں

 اس کی دید کی طاقت نہ رکھتیں کیونکہ ہم اس بات سے عاجز ہیں کہ آفتاب محمدی کی جلوہ

 سامانیوں کا صحیح ادراک اور احاطہ کر سکیں۔“ علامہ قرطبی رحمت عالم(صلی اللہ علیہ وآلہ

 وسلم) کے خداداد جمال وکمال کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔”حضور صلی اللہ علیہ

 وآلہ وسلم کے حسن و جمال کا آفتاب پوری طرح ہمارے سامنے نمایاں نہیں ہوا اگر وہ

 پوری طرح نمایاں ہوتا تو کوئی ہستی اس کے دیکھنے کی تاب نہ لا سکتی آنکھیں چند ھیا

 جاتیں،دل ہیبت زدہ ہو جاتے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعث کا مقصد پورا نہ

 ہوتا۔“ اس لئے مولا کریم نے اپنی حکمت بالغہ سے اپنے محبوب کے حسن وجمال کو

 صرف اتنا ظاہر ہونے دیاجس کی لوگ تا ب لا سکیں اور چشمہ فیض کے قریب پہنچ کر اپنی

 پیاس بجھا سکیں۔اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ وہ اللہ کے محبوب کے حسن و جمال کی ساری

 اداؤں کا احاطہ کرلے تو یہ ممکن نہیں۔امام بوصیری فرماتے ہیں۔:”انہوں نے صفات

 میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جلوہ گری کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ اس طرح ہے جس

 طرح پانی میں ستاروں کا عکس ہے جو ستاروں کی حقیقت کو ظاہر کرنے سے عاجز

 ہے۔“اب ہم بڑے اجمال کے ساتھ سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس

 و اطہر کے اوصاف کو بیان کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔“

محبوب رب العالمین کا رخ انور

حضور صلی اللہ علیہ وآلہو سلم کا چہرہ انور چودھویں کے چاند سے بھی زیادہ خوبصورت تھا۔

جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکراتے تو یوں لگتا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

 کے چہرہ انور چاند سے بھی زیادہ روشن ہے ضیاء النبی میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

 کے رخ انورکا تذکرہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

”امام بخاری،مسلم اور دیگر محدثین نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں بیان کیا۔:”اللہ تعالیٰ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ انور تمام لوگوں سے زیادہ خوبصورت تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلق بھی تمام لوگوں سے زیادہ دلکش اور زیبا تھے۔“ امام ترمذی احمد اور بیہقی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان کا یہ قول روایت کیا ہے۔”میں نے آج تک کہیں بھی کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جو اللہ کے حبیب سے زیادہ حسین ہو۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ سورج چہرہ اقدس میں طلوع ہو رہا ہے۔“ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رخ انور کا ہر حصہ آفتاب حسن کی جلوہ گاہ بنا ہوا تھا۔کسی نے کیا اچھا کہا ہے 

:’حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انوار سے سارا عالم وجود اور اس کی رات کیوں نہ

 چمک اٹھے کیونکہ اس میں ایسی صبح ہے جو

 حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جمال کے صدقے روشن ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ

 وآلہ وسلم کے حسن کے آفتاب کے ساتھ ہر دن روشن ہو رہا ہے۔اور آپ صلی اللہ

 علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ کے ماہ تمام سے ہر رات حسین اور دلکش ہو رہی ہے“ امام

 بخاری نے براء بن عازب

 رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ آپ سے پوچھا گیا۔کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ

 وسلم کا چہرہ مبارک تلوار کی طرح تھا۔حضرت براء نے جواب دیانہیں بلکہ چاند کی

 طرح تھا کیونکہ چاند میں روشنی بھی ہے اور گولائی بھی ہے جو چہرے کا صحیح حسن ہے۔

لکھتے ہیں کہ حضرت براء نے یہ کیوں نہ کہا:فرماتے ہیں کہ سورج میں روشنی بھی ہے اور

 گرمی بھی۔اس کو جب کوئی دیکھتا ہے تو اس کی آنکھیں چند ھیا جاتی ہیں اور تکعن محسوس

 کرتی ہیں لیکن چاند میں روشنی ہے اور اس کے ساتھ پریشان کرنے والی تپش نہیں بلکہ

 خنکی  اور ٹھنڈک ہے۔کوئی افسردہ خاطر آدمی چاند کو دیکھے تو اس کے دل میں سکون اور

 انس پیداہو جاتا ہے۔امام ترمذی نے حضرت جابر بن سمرہ سے روایت کیا ہے کہ میں

 نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی۔وہ چاند نی رات تھی

 سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک سرخ پوشاک زیب تن

 فر ما رکھی تھی۔میں کبھی سرکا دوعالم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روئے انور کو دیکھتا

 اور کبھی چودھویں کے چاند کی طرف۔میں کافی دیر دیکھتا رہا موازنہ کرتا رہا لیکن میں اس

 نتیجہ پر پہنچا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چودھویں کے چاند سے زیادہ دلربا اور

 خوبصورت ہیں۔امام بخاری حضرت کعب بن مالک سے روایت کرتے ہیں:سرکا رد

 وعالم

 صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب خوش ہوتے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگتا

 یوں محسوس ہوتا کہ گویا چاند کا ٹکڑا ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہ)فرماتی ہیں

 کہ ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے حجرہ میں قدم رنجہ فرمایا۔یوں

 معلوم ہوتا تھا کہ چہرے کے تمام خدوخال چمک رہے ہیں۔دارمی،بیہقی،ابو نعیم اور

 طبرانی ابو عبیدہ بن محمد بن عامر بن یاسر رصی اللہ عنہم سے روایت کرتے یہں:انہوں

 نے ربیعہ بنت معوذرضی اللہ عنہا سے عرض کی صفی لنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

 ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حلئے مبارک سے آگاہ کریں۔انہوں ے

 کہا۔:”اگر تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھتا تو یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا َگویا چہرہ

 اقدس سے سورج طلوع ہو رہا ہے۔“امام مسلم نے ابی طفیل عامر بن واثلہ سے روایت کیا

 ہے،یہ عامر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے آخری صحابی تھے جنہوں نے

 وفات پائی۔آپ کی عمر مبارک سو سال تھی۔زندگی کے آخری دنوں میں آپ نے فرمایا

 کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی اور آج

 میرے ساتھ روئے زمین پر کوئی شخص ایسا موجود نہیں جس نے رخ انور کی زیارت کی

 ہو۔لوگو ں نے کہا رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیہ شریف بیان فرمائیں۔آپ

 نے دو لفظوں میں سمو دیا۔:”چہرہ مبارک روشن تھا لیکن اس میں ملاحت کی ملاوٹ

 تھی۔“ صاحب المواہب اللدنیہ نے ایک عارف کا مل 

سید علی وفی رضی اللہ عنہ کے چند اشعار نقل کئے ہیں جو بڑے وجد آفرین ہیں۔آپ بھی

 ان دو تین اشعار سماعت فرمائیں اور لطف اٹھائیں۔:”اے دلکش چہرے والے میں آپ

 سے التجا کرتا ہوں کہ آپ میری آنکھوں سے اوجھل نہ ہوں کیونکہ آپ میری روح

 ہیں۔ میری نگاہوں سے اگر آپ کی ذات پوشیدہ ہو جائے گی توجب آپ لوٹ کر آئیں

 گے تو صرف میری قبر دیکھ سکیں گے۔ 

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق کی قسم!اے میرے حبیب اپنے غلام پر احسان

 فرمائیں وار میرا زخمی دل جو سوز محبت سے جل رہا ہے اس کا علاج فرمائیے۔حضرت امام

 حسن رضی اللہ عنہ نے اپنے ماموں ہند بن ابی ہالہ سے عرض کی۔کہ حضور سرور عالم

 صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیہ مبارک مجھے بتائیے۔آپ نے جواب دیا۔:”حضور صلی

 اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کی نگاہوں میں بڑے جلیل القدر اور عظیم الشان دکھائی دیتے

 تھے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاچہرہ اس طرح چمکتا تھا جس طرح چودھویں کا

 چاند۔“ جو لوگ صاحب بصیرت اور صاحب قلب سلیم تھے انہیں سرور عالم صلی اللہ علیہ

 وآلہ وسلم کا روئے تاباں دیکھ کر یقین ہو جاتا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ

 تعالیٰ کے سچے رسول ہیں اور اسی کی طرف سے یہ دین حق کے ساتھ مبعوث ہوئے

 ہیں۔اس حقیقت تک رسائی حاصل کرنے کیلئے انہوں نے رخ انور دیکھنے کے بعد نہ دلیل

 طلب کی اور نہ کسی معجزہ کا مطالبہ کیا۔بہت سے ایسے واقعات بھی ہوئے کہ جب لوگوں

 نے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رخ انور دیکھا تو بغیر کوئی دلیل طلب کئے اور بغیر 

کسی

معجزے کی فرمائش کئے ان کے دل میں یقین پیدا ہو گیا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور جو

 دین لے کر آپ آئے ہیں وہ اللہ کا دین ہے۔عبداللہ بن سلام مدینہ طیبہ کے یہودیوں

 کے سرتاج علماء سے تھے۔وہ اپنے ایمان لانے کا واقعہ بیان کرتے ہیں:جب حضور صلی

 اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے وہاں کے لوگ قطار در قطار حضور صلی اللہ

 علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کیلئے حضور کی قیام گاہ پر جانے لگے۔میں ے دل میں سو چا چلو

 زیارت تو کر لیں۔جب وہاں پہنچے تو صرف حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نورانی 

چہر ہ دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے سچے رسول

 ہیں۔اسی وقت آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لے آئے۔“(ضیاء النبی

 ج5ص439تا444)



واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمب59 واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمب59 Reviewed by Rizwan Malik on مارچ 03, 2021 Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.