واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمبر57
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہنسی اور مسکراہٹ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مسکراتے توہر طرف نور چھا جاتا اور حضورصلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ چاند کی طرح چمکنے لگتا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہنسی
اور مسکراہٹ کو ضیاء النبی میں کچھ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
”امام ترمذی نے حارث بن جزء رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔:”حضرت حارث نے
کہا کہ میں نے حضور پر نور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ کسی کو مسکراتے ہوئے
نہیں دیکھا۔“ دوسری روایت میں ہے کہ حضور کی ہنسی تبسم تھی۔حضرت عمرہ بنت
عبدالرحمن فرماتی ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت
کیا کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لاتے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کا طریقہ کار کیا تھا؟آپ نے فرمایا: آپ کا سلوک عام لوگوں کے سلوک کی طرح
تھا۔:”کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ کریم الاخلاق تھے ہنستے بھی تھے
اور مسکراتے بھی تھے۔“ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ رسو اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
سے روایت فرماتے ہیں:
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔کہ میں اس آدمی کو بھی جانتا ہوں جو سب سے
پہلے جنت میں داخل ہو گا اور اس کو بھی جانتا ہوں جو سب کے بعد جہنم سے نکالا جائے
گا۔ایک آدمی کو قیامت کے روز پکڑ کر لایا جائے گا اور فرشتوں کو کہا جائے گا پہلے اس
کے سامنے اس کے چھوٹے چھوٹے گناہ پیش کرو اور اس کے بڑے گناہوں کو پوشیدہ
رکھو۔جب اسے ان چھوٹے گناہوں کا کوئی خوف نہ ہو گا البتہ اسے یہ اندیشہ ضرور ہو گا
کہ اگر اس کے بڑے گنا ہ پیش کئے گئے تو اس کا انجام کیا ہو گا۔جب اس کے سامنے جو
گناہ پیش کئے جائیں گے ان کو وہ تسلیم کرے گا تو فرشتوں کو فرمایا جائے گا۔: ہر گناہ کے
بدلے جو اس نے کیا ہے اس کی نیکی دے دو۔وہ کہے گا میرے پرور دگار!میرے تو ایسے
گناہ بھی تھے جو یہاں نہیں دیکھ رہا۔اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ بڑے گنا ہ بھی پیش کئے
جائیں اور ان کو بھی نیکیوں سے بدل دیا جائے۔حضرت ابو ذر فرماتے ہیں میں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ حضور خوب ہنسے یہاں تک کہ دندان
مبارک نمایا ں ہو گئے۔ابن عساکر حضرت ابو ہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک روز
میں بارگاہ رسالت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں حاضر تھا۔ایک آدمی آیا اور عرض کی
یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں ہلاک ہو گیا تباہ ہو گیا۔حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے فرمایا خدا تیرا بھلا کرے کیا بات ہے۔اس نے عرض کی میں نے رمضان
کے مہینہ میں اپنی بیوی سے صحبت کی ہے۔سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے
فرمایا بطور کفارہ ایک غلام آزاد کرو۔اس نے عرض کی میرے پاس نہیں ہے۔فرمایا لگا
تار دو ماہ کے روزے رکھو۔عرض کی یا رسول اللہ
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)مجھ کو یہ طاقت نہیں۔فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔اس
نے عرض کی یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں ساٹھ مسکینوں کو کھانا بھی
نہیں کھلا سکتا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بیٹھ جاؤ۔کچھ دیر بعد حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بہت سی کھجوریں پیش کی گئیں۔آپ (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم)نے فرمایا:سائل کہاں ہے؟وہ حاضر ہوا۔آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم)نے فرمایا:یہ کھجوریں لے لو اور اپنا کفارہ ادا کرو۔اس نے عرض کی یا رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان مجھ سے زیادہ حاجت مند
اورنادار کوئی نہیں ہے۔نبی رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ہنس پڑے یہاں تک کہ
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سامنے والی داڑھیں ظاہر ہو گئیں۔پھر اسے فرمایا یہ
ساٹھ مسکینوں کا کھانا تم لے لو اور اپنے اپنے اہل خانہ کو کھلاؤ۔علی بن ابی الدنیا سے
مروی ہے فرماتے ہیں کہ ایک روزمیں بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں
بیٹھا ہوا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زور سے ہنسے یہاں تک کہ حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی
میرے ماں باپ
حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان ہوں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیوں ہنسے
ہیں؟فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ میری امت کے دو آدمی اللہ کی جناب میں گھٹنوں کے
بل کھڑے ہیں،ان میں سے ایک نے عرض کی اے میرے پروردگار اس میرے بھائی
نے جو مجھ پر ظلم کیا ہے وہ مجھے واپس دلایا جائے۔اللہ تعالیٰ اس کو کہیں گے اپنے بھائی پر
جو ظلم تو نے کیا ہے جو حق اس کا چھینا ہے وہ واپس کرو۔وہ آدمی عرض کرے گا میرے
رب!میرے پاس کوئی نیکی باقی نہیں رہی میں اسے کیا دوں۔وہ مظلوم کہے گا یا اللہ
میرے گناہوں کا بوجھ اس پر لاد دو۔اس وقت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
دونوں چشم ہائے مبارک سے آنسوؤں کے موتی ٹپکنے لگے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے فرمایا یہ دن بہت بڑا دن ہے اس دن لوگوں کو اس بات کی ضرورت ہو گی کہ
کوئی ان کے گناہوں کا بوجھ اٹھالے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
اللہ تعالیٰ اس مظلوم کو کہیں گے اپنا سر اٹھاؤ اور جنت کی طرف دیکھو۔اس نے سر اٹھایا
عرض کی اے رب!مجھے چاندی کے بنے ہوئے شہر نظر آرہے ہیں جن میں سونے سے
بنے ہوئے محلات ہیں جن کے اوپر موتی جڑے ہیں۔یہ کس نبی کیلئے ہیں کس صدیق
کیلئے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا یہ اس شخص کو ملیں گے جون ان کی قیمت ادا کر سکتا
ہے۔وہ بندہ عرض کرے گا کس طرح:فرمایا اگر تو اپنے اس بھائی کو اپنا حق معاف کر
دے تو پھر گویاتو نے ان تمام چیزوں کی قیمت ادا کر دی۔اس نے کہا میں نے معاف کر
دیا۔اللہ تعالیٰ اسے فرمائے گا اپنے اس بھائی کا ہاتھ پکڑ لو اور اسے جنت میں داخل کر
دو۔اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور
دونوں فریقوں کی رنجش کو دور کرتے رہو کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بھی لوگو ں
کے درمیان صلح کرائے گا۔حضرت صہیب سے مروی ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں ایک
دن بارگاہ رسالت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں حاضر ہوا،جب حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم قبا میں تشریف فرما تھے وہاں پکی ہوئی کھجوریں اور نیم پختہ رکھی تھیں۔میری
ایک آنکھ دکھتی تھی میں نے کھانے کیلئے ایک کھجور اٹھا لی۔سرکار عالم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے فرمایا:کیا تم کھجور کھا رہے ہو حالانکہ تمہاری آنکھ دکھتی ہے؟میں نے عرض
کی:میں اپنی صحیح آنکھ کی طرف سے کھا رہا ہوں۔
حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ہنس پڑے۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں
نقل کیا ہے کہ عبداللہ نامی ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہنسایا کرتا تھا۔وہ
کئی بار شراب پینے کے جرم میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اور
اس پر شراب پینے کی حد لگائی گئی۔جب وہ کئی بار پیش ہوا تو ایک شخص نے اس کے
بارے میں کہا:اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے کتنی بار اس جرم میں اس کو پکڑکر لایا گیا اور
سزا دی گئی لیکن پھر بھی باز نہیں آتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص
کو فرمایا:اس کو لعنت مت کرو یہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے
محبت کرتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ جرائم کبیرہ کا ارتکاب کرنے والے بھی اس نعمت
عظمیٰ سے متصف ہوتے ہیں۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سرور عالم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک حدی خوان تھا جو دوران سفر ازواج مطہرات کے اونٹوں کے
سامنے حدی خوانی کرتا تھا۔ایک فعہ اس نے حدی کے اشعار کہے تو اونٹو ں پر مستی کی
کیفیت طاری ہو گئی اور وہ تیز تیز چلنے لگے سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے
حدی خواں کو فرمایا:اے انجشہ تیرا بھلا ہو کانچ کی نازک شیشوں کے ساتھ نرمی کرو یعنی
اونٹوں کو آہستہ چلنے دو مبادا انہیں کچھ اذیت پہنچے۔
سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خوشنودی اور ناراضگی کی پہنچان
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام جہانوں کے لئے رحمت تھے اور حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی ناراضگی دراصل اللہ تعالیٰ کی ناراضگی تھی او ر جب حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم خوش ہوتے تو اللہ تعالیٰ بھی خوش ہوتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
خوشنودی اور ناراضگی کو ضیاء النبی میں یو ں بیان کیا ہے۔
”حضرت کعب بن مالک فرماتے ہیں خوشی کی حالت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا
چہرہ چاند کی طرح چمکنے لگتا اور جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے میں ہوتے تو چہرہ
مبارک سرخ ہو جاتا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب زیادہ غصہ میں ہوتے تو ریش
مبارک کو بار بار چھوتے۔حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے ایک روز نبی رحمت صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ہم تقدیر کے مسئلہ میں جھگڑ رہے تھے۔یہ
دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک فرط غضب سے سر خ ہو گیا۔ایسا
معلوم ہوتا تھا کہ انار کے دانے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رخ انور پر نچوڑ دئیے
گئے ہیں۔پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور جھڑکتے
ہوئے فرمایا:”کیا اس چیز کا تمہیں حکم دیا گیا ہے؟کیا مجھے اس لئے تمہاری طرف بھیجا گیا
ہے؟تم سے پہلے جن لوگوں نے اس معا ملہ میں باہم جھگڑا کیا وہ ہلاک ہو گئے۔ میں
تمہیں تاکید مزید کرتا ہوں کہ ایسا ہر گز نہ کیا کرو۔“عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ
اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
دروازے پر بیٹھے تھے۔ہماری باہمی گفتگو شروع ہوئی۔ایک نے کہا کیا اللہ تعالیٰ نے یہ
فرمایا ہے۔دوسرے نے کہا اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا۔رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے ان کی گفتگو سنی باہر تشریف لائے فرط غضب سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کا چہرہ سرخ تھا۔یوں معلوم ہوتا تھا جیسے اناروں کے دانے نچوڑ دئیے گئے ہوں۔حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:کیا ان باتوں کا تمہیں حکم دیا گیا ہے؟کیا تم اس لئے
پیدا کئے گئے ہو؟اللہ تعالیٰ کی کتابوں کو ایک دوسرے سے مت ٹکرایا کرو۔اسی وجہ سے
پہلی قومیں گمراہ ہو گئی تھیں۔غور سے ان چیزوں کو دیکھو جن چیزوں سے روکا جائے
ان سے رک جاؤ۔امام ترمذی عبداللہ بن ابی بکر سے وہ اپنے والد ماجد سے روایت
کرتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبیلہ عبدالا شہل کے ایک آدمی کو
صدقات جمع کرنے کیلئے عامل مقرر کیا۔جب وہ صدقات جمع کر کے واپس آیا تو عر ض
کرنے لگا یا رسو ل اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)صدقہ کے اونٹوں سے مجھے عطا
فرمائیے۔فرط غضب سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں سر خ ہو گئیں پھر
فرمایا کوئی آدمی مجھ سے ایسی بات کا سوال کرتا ہے جو نہ میرے لئے جائز ہے نہ اس کے
لئے۔اگر میں اس کو نہ دوں تو مجھے یہ بات ناپسند ہے اور اگر اس کو دوں تو میں اسے وہ
چیز دوں گا جو نہ میرے لئے جائز ہے نہ اس کے لئے جائز ہے۔اس آدمی نے عرض
کی:ان صدقات سے کوئی چیز میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں مانگوں گا۔
(ضیاء النبی ج5ص425تا429)
Reviewed by Rizwan Malik
on
مارچ 04, 2021
Rating:

کوئی تبصرے نہیں: