واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمبر56
حضور کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان ظرافت
اللہ تعالیٰ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام مخلوق خدا سے بڑھ کر خوش طبع تھے۔حضور نبی کریم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کی شان ظرافت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خوش اخلاق ضیاء النبی میں ان الفاظ میں بیان ہوئی
ہے ملاحظہ کیجئے۔
”ان بلندیوں اور رفعتوں پر سر فراز ہونے کے باوجود حضور سرورعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوش طبعی،دلوں کو
موہنے میں اہم کردار ادا کیا کرتی تھی۔وہاں زہد خشک نہ تھا بلکہ اپنے صحابہ کے ساتھ دل لگی کر کے حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ان کے ذہنوں کو جلا دیتے اور ان کے دلوں میں سچی محبت اور بے لوث پیار کے چشمے جاری فرما دیتے۔
حضرت حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ اپنے آقا علیہ السلام کے بارے میں فرماتے۔:”حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام
مخلوق سے بڑھ کر خوش طبع تھے۔“حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے فرمایا۔:”میں مزاح تو کرتا ہوں لیکن ہمیشہ سچ کہتا ہوں۔“نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوش طبعی کی
وضاحت کرتے ہوئے ام نبیط رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ایک دفعہ ہم اپنی ایک نوجوان بچی کو اس کے خاوند،جو
قبیلہ بنی نجار کافرد تھا،کے پاس لے جا رہی تھیں۔میرے ساتھ بنی نجار کی عورتیں بھی تھیں۔میرے پاس دف
تھی جو میں بجا رہی تھی اور میں یہ کہہ رہی تھی۔:”ہم تمہیں سلام کہتی ہیں تم ہمیں سلام کہو۔اور اگر تمہارے پاس
سرخ سونا نہ ہوتا تو یہ عروسہ تمہاری وادی میں نہ اترتی۔“ ہم اس طرح گزر رہی تھیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم تشریف لائے اور ہمارے پاس کھڑے ہو گئے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا ایام نبیط یہ کیا کر رہی
ہو؟میں نے عرض کی میرا باپ اور میری ماں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان،یا رسول اللہ!یہ قبیلہ بنی نجار
کی دلہن ہے جسے ہم اس کے خاوند کے پاس لے جار ہے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم کیا کہہ رہی
تھیں میں نے اپنے وہ گیت سنائے تو بنی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔:”اگر یہ گندم نہ ہوتی تو تمہاری یہ
کنواریاں اتنی موٹی تازہ نہ ہوتیں۔“ حضرت انس (رضی اللہ عنہ)حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوش طبعی کا ذکر
کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم میں گھل مل جاتا کرتے تھے۔میرا ایک چھوٹا بھائی
تھا اس کی چڑیا مر گئی وہ بڑا افسردہ اور مغمول تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی افسردگی کو دور کرنے کیلئے
فرمایا۔:”اے ابو عمیر تیری چڑیا کدھر گئی۔“ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے آپ (رضی اللہ عنہ)نے فرمایا
ایک روز اللہ کے پیارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ہمارے پاس قدم رنجہ فرمایا اور پوچھابچہ کہاں ہے۔یہ
ارشاد سن کر حضرت حسن(رضی اللہ عنہ) باہر تشریف لائے۔آپ نے ایک لحاف اوڑھا ہوا تھا۔اور اپنا ہاتھ حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بڑھا رہے تھے اورحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک ان کی طرف
بڑھایا ہواتھا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں سینے سے لگالیا اور فرمایا:”جو شخص میرے ساتھ محبت کرتا ہے
وہ اس فرزند بلند اقبال کے ساتھ محبت کرے۔“ حضرت جابر رضی اللہ عنہ ایک سفر کا ذکر کرتے ہیں کہ جب ہم فارغ
ہو کر واپس مدینہ طیبہ آرہے تھے تو راستے میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ساتھ گفتگو فرماتے اور
مزاح بھی کرتے۔پھر فرمایا اے جابر!تم نے ابھی تک شادی نہیں کی۔میں نے عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم)میں نے تو شادی کر لی ہے۔پھر فرمایا کیا شادی شدہ خاتون سے یا کنواری سے میں نے عرض کی یا رسول
اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شادی شدہ خاتو ن سے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا با کرہ کے ساتھ کیوں
نہیں کی۔وہ تمہارے ساتھ لہو و لعب کرتی اور تم اس کے ساتھ لہو ولعب کرتے۔میں نے عرض کی یا رسول
اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میرے والد غزوہ احد میں شہید ہو گئے۔انہوں نے سات بچیاں چھوڑیں۔اس لئے میں
نے ایسی خاتون سے شادی کی جو ان کی صحیح تربیت بھی کر سکے اور ان کو اکٹھا بھی رکھ سکے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے میری اس با ت کی تحسین کرتے ہوئے فرمایا اَصبَتَ اِنسَاءَ اللہ اللہ کی برکت سے تم نے صحیح فیصلہ کیا ہے۔پھر
فرمایا جب ہم صرار پہنچیں گے (ایک گاؤں کا نام ہے جو مدینہ طیبہ سے تین میل کی مسافت پر تھا)تو ہم وہاں اونٹ
ذبح کریں گے،سارا دن وہیں ٹھہریں گے۔جب تیری بیوں ہماری آمد کے بارے میں سنے گی تو وہ اپنے قالین وغیرہ
سے گردوغبار جھاڑ دے گی۔خود بھی صاف ستھری ہو جائے گی۔میں نے عرض کی یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم)ہم ناداروں کے پاس قالین کہاں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بہت جلد تمہارے پاس قالین ہو
جائیں گے۔جب تم وہاں پہنچو تو عقلمندوں کی طرح کام کرنا۔حضرت جابر کہتے ہیں جب صرار کے گاؤں پہنچے تو رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ ذبح کرنے کا حکم دیا۔ہم ساردا دن وہاں رہے جب شام ہو گئی تو سرور عالم اور
ہم اپنے اپنے گھروں میں گئے۔میں نے ساری بات اپنی بیوی کو سنائی۔امام ترمذی،ابو داؤد اور احمد بن حنبل،امام
بخاری نے الادب المفرد میں حضرت انس سے روایت کی۔ایک آدمی بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر
ہوا،عرض کی یار سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سواری کیلئے مجھے کوئی اونٹ وغیرہ دیجئے۔حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے فرمایا:ہم تمہیں اونٹنی کے بچے کے اوپر سوار کریں گے۔اس نے عرض کی اونٹنی کے بچے کو کیا کروں
گا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:کیا اونٹوں کو اونٹنیاں ہی نہیں جنا کرتیں۔امام ابو داؤد اور ترمذی
حضرت انس سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ سرکا ردو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں:اے دو کانوں
والے کہ کر یاد فرمایا۔امام ابو داؤد اسناد جید سے حضر ت اسید بن حضیر کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں:ایک
انصاری تھا جو بڑا خوش طبع تھا۔جب وہ قوم سے بات کرتا تو انہیں خوب ہنساتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک
روز تشریف لائے اور جو چھڑی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک میں تھی اس کے ساتھ اس کی کمر کو
کھجلایا۔اس شخص نے عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں تو بدلہ لوں گا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے فرمایا بیشک بدلہ لو۔اس نے عرض کی جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کھجلایا تو میں نے قیمص
نہیں پہنی تھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیمص پہنی ہوئی ہے اس طرح اگر کروں تو بدلہ نہیں ہو گا۔حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی قیمص اوپر اٹھائی۔وہ دوڑ کر آیا،حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گلے لگایا اور حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمر کو بو سے دینے لگا عرض کی میں نے یہ سارا حیلہ اس مقصد کے لئے کیا تھا۔امام احمد سے
روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک خادم زاہر نامی تھا ایک روز حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے
اسے بازار میں دیکھا۔وہ اس وقت اپنا سامان فروخت کر رہا تھا۔اس کی شکل بھی اچھی نہ تھی۔سرور عالم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم چپکے سے تشریف لائے اور پیچھے سے اس کو اپنے سینے سے لگالیا۔اس شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کو نہیں دیکھا تھا وہ کہنے لگا کون صاحب ہو مجھے چھوڑدو۔پھر اس نے مڑ کر دیکھا،رحمت عالم(صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) کو پہچان لیا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ مبارک سے اپنی پشت کو رگڑ تا رہا،حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم فرماتے رہے:اس غلام کو کون خریدے گا؟اس نے عرض کی یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اگر
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے بیچیں گے تو آپ کو میری بہت کم قیمت ملے گی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
فرمایا:”لیکن تم اللہ کے نزدیک کھوٹے نہیں ہو۔“ یا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ جملہ فرمایا۔:”اللہ تعالیٰ کے
نزدیک تو تم گراں قیمت ہو۔ابن عسا کر اور ابو یعلی صحیح راویوں کے واسطہ سے حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا)سے
روایت کرتے ہیں کہ میں نے ایک دن حریرہ پکایا اور لے کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی
حضرت سودہ رضی اللہ عنہا بھی حاضر تھیں۔میں نے انہیں کہا کہ آپ بھی کھائیں۔انہوں نے کھانے سے انکارکیا۔
میں نے کہا یا تو کھاؤ یا میں یہ حریرہ تمہارے چہرہ پر مل دوں گی۔انہوں نے پھر بھی کھانے سے انکار کیا۔میں نے اس
حریرہ میں ہاتھ ڈالے اور اسے لے کر حضرت سودہ (رضی اللہ عنہا)کے چہرہ پر مل دیا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے میرا سر اپنی ران مبارک پر رکھا اور فرمایا تم بھی اسی طرح اس حریرہ سے عائشہ(رضی اللہ عنہا)کے چہرہ پر لیپ
کر دو۔چنانچہ حضرت سودہ نے میرے چہرہ پر وہ حریرہ مل دیا۔ہم دونوں کو اس حالت میں دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم خوب ہنسے۔حضرت زید بن اسلم روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت جس کا نام ام ایمن تھا بارگاہ
رسالت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں حاضر ہوئی،عرض کی میرا خاوند حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلا رہا ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا وہ کون ہے وہی جس کی آنکھوں میں سفیدی ہے؟اس نے عرض کی ہاں یا
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)وہی۔لیکن اس کی آنکھوں میں کوئی سفید ی نہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے فرمایا نہیں اس کی دونوں آنکھوں میں سفید ی ہے۔اس نے عرض کی نہیں بخدا نہیں۔نبی کریم (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم)نے اس کی وجہ سمجھائی کہ کیا کوئی ایسا شخص ہے جس کی آنکھوں کا کوئی حصہ سفید نہ ہو۔ایک اور خاتون
آئی اس نے عرض کی یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)مجھے سواری کیلئے اونٹ عطا فرمائیں۔حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے حکم دیا اس کو اونٹ کے بچے پر سوار کر دو۔اس نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں
اسے کیا کروں گی وہ مجھے نہیں اٹھا سکے گا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے فرمایا:ہر
اونٹ کیا اونٹ کا بچہ نہیں ہوتا؟اس قسم کی خوش طبعیاں صحابہ کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول تھا۔
حضرت امام احمد ام المومنین عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا)سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:ایک دفعہ میں ایک
سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمرکاب تھی۔میری عمر اس وقت چھوٹی تھی اور میرا بدن ہلکا پھلکا تھا۔
حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے لوگوں کو کہا کہ تم آگے چلے جاؤ وہ سب آگے چلے گئے پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم مجھے فرمایا آؤ آپس میں دوڑ لگائیں۔چنانچہ اس دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے نکل گئے۔آپ ہنستے رہے
فرمایا:کہ اب بدلہ چکا دیا گیا۔امام ترمذی نے حضرت انس سے روایت کی ہے کہ ایک بوڑھی عورت حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی،کوئی بات دریافت کی۔سرکار دو عالم نے ازراہ مذاق اسے کہا کہ
کوئی بوڑھی عورت جنت میں نہیں جائے گی۔اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا۔سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز ادا
کرنے کیلئے مسجد میں تشریف لے گئے۔اس بوڑھی عورت نے رونا شروع کیا،خوب روئی یہاں تک کہ حضور کریم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا)نے عرض کی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم)جب سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بوڑھی عورت کو یہ فرمایا کہ:کوئی بوڑھی عورت جنت میں
نہیں جائے گی۔اس وقت سے یہ زاروقطار رو رہی ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سن کر ہنس
پڑے،فرمایا:بیشک جنت میں کوئی بوڑھی عورت نہیں جائے گی:لیکن اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایاہے:ہم نے پیدا کیا
ان کی بیویوں کو حیرت انگیز طریقہ سے۔پس ہم نے بنا دیاانہیں کنواریاں۔(دل و جان سے)پیارکرنے والیاں،ہم
عمر۔یہ سب نعمتیں اصحاب یمین کیلئے محصوص ہوں گی۔(ضیاء النبی ج5ص419تا424)
Reviewed by Rizwan Malik
on
مارچ 04, 2021
Rating:

کوئی تبصرے نہیں: