واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمبر55
ہادی بر حق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ الہٰی میں گریہ وزاری
اللہ تعالیٰ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے رب العزت کی بارگاہ میں گریہ وزاری فرماتے اس کا زکر ضیاء
النبی میں کچھ یوں ہوا ہے۔
”حضرت مطرف بن شخیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے اللہ کے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کودیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ سے رونے کی
آواز آرہی ہے جیسے چکی چلائی جارہی ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ سے ایسی آواز آرہی تھی جس طرح
ہانڈی جب ابلتی ہے تو اس سے آواز آتی ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے آپ نے فرمایا جب یمن
کا ایک وفد بارگاہ رسالت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں حاضر ہوا تو انہوں نے التجا کی ہمیں وہ کلام پاک سنائیے جو
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کیا گیا ہے۔رحمت عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے سورۃ الصافات کی تلاوت
شروع کی جب اس آیت پر پہنچے۔فَاَ تبَعَہ شِھَا بََ ثاَقِب:تو انہوں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنسو
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ریش مبارک پر تیزی سے گر رہے ہیں۔انہوں نے عرض کی ہم دیکھ رہے ہیں کہ
آپ رو رہے ہیں۔کیا جس ذات اقدس نے آپ کو ہادی انس وجان بنا کر مبعوث فرمایا ہے اس کے خو ف سے آپ رو
رہے ہیں؟حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بیشک اور وجہ بیان کی۔:”کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسے کٹھن
راستہ پر چلنے کیلئے مبعوث فرمایا ہے جو تلوار کی دھار کی طرح تیز ہے۔“ یہاں معمولی سی غفلت بھی اندو ہناک انجام
تک پہنچا دیتی ہے۔حضرت فاروق اعظم کے پوتے حضرت سالم رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: سرور عالم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم اس طرح دعا فرمایا کرتے تھے۔:”اے اللہ!مجھے وہ آنکھیں عطا فرما جو بارش کی طرح آنسو گرائیں۔وہ
آنکھیں روئیں اور اشک افشانی کریں اور مجھے تیرے خوف سے سیر کر دیں اس پیشتر کہ یہ آنسو خون میں بدل جائیں
اور ڈاڑھیں انگارے بن جائیں۔“ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے آپ نے کہا سرور عالم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم حطیم کی طرف تشریف لے آئے اور اپنے دونوں لبہائے لعلیں اس پر رکھ دیئے اور دیر تک روتے رہے۔
پھر توجہ فرمائی تو دیکھا کہ حضرت عمر رو رہے ہیں۔مرشد کامل نے فرمایا۔:”اے عمر!(رضی اللہ عنہ)یہی وہ جگہ ہے
جہاں آنسو بہائے جانے چاہئیں۔“ایک روز رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود کو
فرمایا۔:مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔انہوں نے ازراہ حیرت عرض کی،میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قرآن پڑھ کر
سناؤں حالانکہ یہ قرآن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کیا گیا ہے۔آقا نے فرمایا میری یہ خواہش ہے کہ میں
اسے دوسروں سے سنوں۔انہیں حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ ایک روز
سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا۔قرآن کریم پڑھو۔میں نے سورہ النساء کی ابتدا سے تلاوت شروع
کی۔جب میں اس آیت پر پہنچا۔:”تو کیا حال ہو گا(ان نافرمانوں کا)جب ہم لے آئیں گے ہر امت سے ایک گواہ اور
(اے حبیب)ہم لے آئیں گے آپ کو ان سب پر گواہ۔“تو میں نے دیکھا کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
چشمان مبارک سے آنسوؤں کے موتی ٹپکنے لگے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بس اتنا کافی ہے۔یہ آیت
جس نے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رلادیا بڑی اہم آیت ہے۔اسکی مختصر تشریح ضیاء القرآن سے پیش
خدمت ہے۔قیامت کے دن تمام انبیاء اپنی اپنی امتوں کے احوال و اعمال پر شہادت دیں گے اور
حضور پر نور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انبیاء کرام کی شہادت کے درست ہونے کی گواہی دیں گے ھؤ لا ء کا مشارالیہ امت
مصطفو یہ کو بھی قرار دیا گیا ہے۔یعنی حضورعلیہ الصلوٰۃو السلام اپنی امت کے احوال پر گواہی دیں گے۔علامہ قرطبی نے
اس قول کی تائید کیلئے حضرت سعید بن مسیب کا یہ قول نقل کیا ہے۔:”یعنی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے ہر
صبح و شام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت پیش کی جاتی ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہر امتی کا چہرہ
اور اس کے اعمال کو پہچانتے ہیں۔اس علم کامل کے باعث حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت کے روز سب کے گواہ
ہوں گے۔“(ضیاء النبی ج5ص413تا415)
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وقار اور ہیبت
اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایسی ہیبت و جلال کا القا کیا تھا کہ کوئی دیکھنے کی جرات نہ کر
سکتاتھا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وقار او ر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہیبت ضیاء النبی میں ان الفاظ کے ساتھ
موجو د ہے۔
”سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ ہر قسم کے تکلف اور تصنع سے منزہ اور پاک تھی۔حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کا لباس زینت و آرائش سے بالکل پاک تھا۔نشست برخاست اور آمدورفت میں کسی قسم کا رکھ رکھاؤ
نہیں ہوتا تھا۔مکمل سادگی کی پاکیزہ ترین تصویر ہوتی۔اس کے باوجود جو دیکھتا ہیبت نبوت سے اس پر لرزہ طاری ہو
جاتا۔کتب سیرت میں بیسیوں ایسی مثالیں ہیں کہ جب کوئی شخص نورجمال محمدی کو پہلی بار دیکھتا تو تھر تھر کانپنے لگتا۔
ابن سعد اور ابن جریر حضرت قیلہ بنت مخرمہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب میں نے اللہ کے رسول مکرم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کو خضوع و خشوع کے ساتھ بیٹھے ہوئے دیکھا تو میں برق تجلی کو برداشت نہ کر سکی اور خوف کے باعث
کانپنے لگی۔ایک صحابی جو سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اس نے عرض کی یا رسول اللہ اس
مسکینہ پر تو لرزہ طاری ہو گیا ہے۔سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف دیکھے بغیر فرمایا اور میں حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت کے پیچھے بیٹھی تھی۔:”اے اللہ کی مسکین بندی اطمینان و تسکین کو لازم پکڑو۔“ سرو
ر عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تسلی دیتے ہوئے جب یہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے سارے خوف و رعب کو میرے
دل سے نکال دیا۔یزید بن اسود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کی معیت میں حجتہ الوداع کی سعادت حاصل کی۔ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز
پڑھائی اور نماز کے بعد لوگوں کی طرف رخ انور کر کے متوجہ ہوئے۔اچانک لوگوں کے پیچھے دو آدمی نظر آئے
جنہوں نے جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا ان دونوں کو میرے
پاس لے آؤ۔جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کئے گئے۔تو خوف سے کانپ رہے تھے۔حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا تم نے لوگوں کے ساتھ نماز کیوں نہیں ادا کی۔انہوں نے عرض کی یا
رسول اللہ ہم اپنے خیموں میں نماز پڑھ کر یہاں حاضر ہوئے تھے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آئندہ ایسا نہ
کیا کرو۔اگر تم میں سے کوئی آدمی اپنے خیمہ میں نماز پڑھ کر آئے اور دیکھے کہ لوگ امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں تو
وہ بھی جماعت میں شریک ہو جائے اور یہ اس کی نفلی نماز ہو گی۔امام ابو داؤد اور امام ابن ماجہ حضرت ابو مسعود
انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک روز سرور عالمیان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں ہم حاضر
تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے گفتگو فرمائی تو وہ بڑا مرعوب ہو کر کانپنے لگا۔:”حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا مت خوفزدہ ہو،میں بادشاہ نہیں ہوں میں تو قریش کی ایک
خاتون کا بیٹا ہوں جو دھوپ میں خشک کیا ہوا گوشت کھاتی تھی۔“ کتنے پیارے انداز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے اس کو تسلی دی کہ انسان ڈرتا تو اس وقت ہے جب کسی جابر بادشاہ کے سامنے وہ پیش ہوتا ہے۔میں تو بادشاہ
نہیں ہوں اور قریش کی ایک غریب خاتون کا بیٹاہوں۔ ابن عدی،حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے
ہیں:آپ نے فرمایا کہ جب ہم بارگاہ رسالت ماب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بیٹھا کرتے تو ہم اس طرح بے حس و
حرکت ہو رکر بیٹھتے جیسے ہمارے سروں پر کو ئی پرندہ بیٹھا ہے،اگر ہم نے ہلکی سی حرکت بھی کی تو وہ اڑ جائے گا۔ہم
میں سے کسی کو یارائے تکلم نہ ہوتا تھا بلکہ ہم سر جھکائے ساکت و صامت بیٹھے رہتے البتہ حضر ت ابو بکراور حضرت
عمر عنھما گفتگو کر لیا کرتے۔امام ترمذی نے شمائل میں سید نا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا بڑا پیارا جملہ نقل کیا ہے۔:
”جو سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اچانک دیکھتا وہ خوفزدہ ہو جاتا اور جو پہچان کر حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
سے میل جول کرتا وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گرویدہ ہو جاتا۔“
حضرت امام مسلم نے حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ کایہ دلنشین اور حقیقت افروز جملہ نقل کر کے اس حقیقت
کو واضح کیا ہے۔ایک روز آپ نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ مجھے کوئی اور محبوب نہ تھا
اورنہ میری نگاہوں میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کسی کا رتبہ تھا۔میری مجال نہ تھی کہ میں آنکھیں
بھر کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ سکوں مگر کوئی شخص مجھے کہے کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیہ
بیان کروں تو میں اس سے قاصر رہوں گا کیونکہ میں نے کبھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آنکھیں بھر کر دیکھنے کی
جرات نہیں کی تھی۔حضرت ابن بریدہ اپنے والد ماجد سے ان کا یہ قول نقل کرتے ہیں۔کہ ہم جب اللہ کے رسول
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد حلقہ بنا کر بیٹھا کرتے تو نبوت کی عظمت و احترام کے باعث ہمیں یہ جرات نہ ہوتی
کہ ہم سر اونچا کر کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ سکیں۔حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ
تعالیٰ نے اپنے رسول مکرم پر ایسی ہیبت و جلال کا القا کیا تھا کہ کوئی دیکھنے کی جرات نہ کر سکتا۔ام معبد نے سرور عالم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جس طرح تصوریر کشی کی ہے وہ اس حقیقت کی بہترین ترجمان ہے وہ فرماتی ہیں۔:”حضور
اگر سکوت فرماتے تو رخ انور پر وقار ہوتا اور اگر گفتگوفرماتے تو چہرہ اقدس پر ایک روشنی ہوتی۔حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کے ایسے فقاء تھے جو ان کے ارد گرد حلقہ بنائے رہتے۔اگر حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گویا ہوتے تو وہ
لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گفتگو سننے کیلئے خاموش ہو جاتے اور جب کوئی حکم فرماتے تو تعمیل ارشاد کیلئے
سب دوڑ پڑتے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام صحابہ کے مخدوم بھی تھے اور سب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے اردگرد حلقہ بنائے رہتے تھے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ درشت روتھے اور نہ زیادتی کرنے والے
تھے۔“(ضیاء النبی ج5ص416تا418)
Reviewed by Rizwan Malik
on
مارچ 04, 2021
Rating:

کوئی تبصرے نہیں: