Subscribe Us

واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمب54

واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں                   قسط نمبر54

واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں    قسط نمبر54


حضور کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہونا اور اپنی امت کی بخشش کے لئے دعا مانگنا

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کی بخشش کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوتے اور رب العزت کی

 بارگاہ میں دعا مانگا کرتے ان دعائیہ کلمات کو صاحب ضیاء النبی نے کچھ ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔

”حضرت عوف بن مالک نے فرمایا کہ میں نے ایک رات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں گزاری۔حضور

 صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو پہلے مسواک کیا،وضو فرمایا،پھر کھڑے ہو کر نماز شروع کی۔میں بھی آقا کے

 ساتھ کھڑا ہو گیا۔سرکا ردوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورہ بقرہ سے تلاوت کا آغاز کیا۔جہاں بھی کوئی رحمت

 کی آیت آئی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک جاتے اور اس رحمت کے بارے میں التجائیں کرتے رہتے۔جب اس

 آیت کی تلاوت فرماتے جس میں اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ذکر ہے تو وہاں بھی توقف فرماتے اور اللہ تعالیٰ سے اس

 عذاب سے پناہ مانگتے۔سورہ بقرہ کو ختم کرنے کے بعد رکوع میں گئے اور اتنی دیر ہی رکوع میں ٹھہرے رہے جتنی دیر

 حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیام فرمایا تھا۔اور یہ تسبیح پڑھتے رہے:یعنی اے جبر وقہر کے مالک! اے وسیع و

 عریض مملکت کے بارشاہ!اے ساری عظمتوں کے مالک!تو ہر شریک اور ہر ضد سے ہرند سے اور ہر عیب سے پاک

 ہے۔رکوع کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں گئے اور وہاں بھی اتنی ہی دیر لگائی پھر دوسری رکعت

 میں سورہ آل عمران کی تلاو ت کی۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ یہی روایت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں۔:جتنی

 دیر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیام فرمایا اتنی دیر ہی سجدہ میں تسبیح و تہلیل کرتے رہے۔پھر دو سجدوں کے

 درمیان جلوس فرمایا اور یہاں بھی اتنی دیر لگائی۔چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان نوافل میں سورۂ

 بقرہ،آل عمران،النساء اور المائدہ تلاوت فرمائیں۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے آپ فرماتی ہیں

 کہ اللہ کے محبوب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک روز نماز شروع کی اور ایک آیت تلاوت فرمائی۔ساری رات

 یہی ایک آیت فرماتے رہے۔اور ملا علی قاری شرح شفاء میں لکھتے ہیں کہ سورۃ مائدہ کی یہ آیت تھی۔:”اگر تو عذاب

 دے انہیں تو وہ بندے ہیں تیرے اور اگر تو بخش دے ان کو تو بلا شبہ تو ہی سب پر غالب اور دانا ہے۔حضرت ابن ابی

 ہالہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔:”رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ حزن و ملال کی کیفیت میں رہتے تھے۔ہمیشہ

 اپنی امت کے بارے میں فکر مند رہتے تھے۔کبھی راحت و آرام نہیں پایاتھا۔“(ضیاء النبی ج5ص393تا394)

حضور کا طریقہ کار

صاحب ضیاء النبی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقہ کار کو کچھ یو ں بیان فرمایا ہے ملاحظہ کیجئے۔

”سید نا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے آقا علیہ الصلوٰۃ و السلام سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

 کے طریقہ کار کے بارے میں دریافت کیا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔:”اللہ تعالیٰ کی معرفت

 میری پونجی ہے عقل و دانش میرے دین کی اساس ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت میری بنیاد ہے۔قرب الہٰی کے حصول کا

 شوق میری سواری ہے۔اللہ تعالیٰ کا ذکر میری دلجوئی کرنے والا ہے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ میرا خزانہ ہے۔حزن و اندوہ

 میرا رفیق راہ ہے۔اور علم میرا ہتھیار ہے۔اور صبر میری چادر ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی رضا میرے لئے غنیمت ہے اور

 بارگاہ الہٰی میں میرا عجزو نیاز میرا فخر ہے۔مال و دولت سے اجتناب میرا پیشہ ہے۔اور یقین میری قوت کا سر چشمہ

 ہے۔اور سچائی میری شفاعت کرنے والی ہے۔اللہ تعالیٰ کی اطاعت میرا سرمایہ افتخار ہے۔اور اللہ کے راہ میں جہاد

 میرا خلق ہے۔میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔اور میرے دل کا ثمر اللہ کا ذکر ہے۔میرا غم و اندوہ محض اپنی

 امت کے لئے ہے میرا راہو ار شو ق قرب الہٰی کی طرف گامزن ہے۔“(ضیاء النبی ج5ص395)

رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امت کے لیے اعلان عام

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق حسنہ اور امت کے لئے بشارتوں کو صاحب ضیاء النبی نے کچھ یوں بیان کیا ہے۔

”حضرت ابن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق حسنہ کے بارے میں سید نا امام حسن

 رضی اللہ عنہ کو جب بتایا تھا وہ ہم ابتدا میں بھی لکھ آئے ہیں لیکن یہاں ایک جملہ کا اضافہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں

 جووہاں لکھا نہیں گیا تھا۔:حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو لوگ یہاں موجود ہیں اور میری گفتگو سن

 رہے ہیں یہ ان لوگوں کو پہنچا دو جو اس مجلس سے غیر حاضر ہیں۔پھر فرمایا کہ جو شخص براہ راست مجھے اپنی حاجت سے

 آگاہ نہیں کر سکتا اسکی حاجت تم لوگ مجھ تک پہنچا دیا کرو۔کیونکہ جو شخص کسی سلطان کو ایسے آدمی کی تکلیف و حاجت

 سے آگاہ کرتا ہے جو خود ایسا کرنے سے قاصر ہے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو قیامت کے دن ثابت قدم رکھے گا۔جب وہ

 پل صراط سے گزریں گے تو ان کا پاؤں پھسلے گا نہیں بلکہ ثابت قدم رہیں گے۔“ہادی انس و جان صلی اللہ علیہ وآلہ

 وسلم حقائق کو مختلف انداز سے اس طرح بیا ن فرماتے کہ سامعین کے دل میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے

 ارشادات اتر جاتے اور پھر انکے نقوش کبھی مدہم نہ پڑتے۔حشیت الہٰی کے مضمون کو مختلف اسالیب سے رحمت دو عالم

 صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایا ہے۔ہر ادا نرالی ہے،ہر اسلوب دلکش اور دلفریب ہے۔حضور صلی اللہ علیہ

 وآلہ وسلم کی شان خشیت الہٰی کو حضرت ابو ہریرہ ارشاد نبوی سے یوں بیان کرتے ہیں۔:”شیخین“ حضرت ابو ہریرہ

 سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔میانہ روی اختیار کر و

 سیدھے راستہ پر چلو۔اچھی طرح جان لو کہ کوئی شخص اپنے عمل کی بنا پر نجات نہیں پا سکتا۔کوئی شخص محض اپنے

 عمل سے جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ آپ بھی؟فرمایامیں بھی مگریہ کہ اللہ تعالیٰ

 اپنی رحمت و فضل سے مجھے ڈھانپ لے۔“(ضیاء النبی ج5ص396تا397)

حضور کا ایک مختصر خطبہ

اللہ تعالیٰ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خطبہ میں امت کے لیے ایک راہ معین فرمائی اس خطبہ

 میں امت کو خشت الہی کی طرف متوجہ کیا گیا ضیاء النبی میں اس کا زکر کچھ یوں ہے۔

”حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔:”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کام کیا اور اس کو کرنے کی

 اجازت بھی عطا فرمائی لیکن بعض لوگوں نے اس کو کرنے سے اجتناب کیا۔یہ بات بارگاہ رسالت (صلی اللہ علیہ وآلہ

 وسلم)میں عرض کی گئی تو 

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا۔پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد کی پھر فرمایا اس قوم کا کیا انجام ہو گا جو اس چیز سے

 پرہیز کرتے ہیں جو میں کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کی قسم!میں سب لوگوں سے زیادہ اپنے پروردگار کے ساتھ علم رکھتا

 ہوں اور سب لوگوں سے زیادہ اس سے ڈرتا ہوں۔“حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سخت ہوا

 چلتی یا بادل کے گرجنے کی آواز سماعت فرماتے تو شدت خوف سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رنگت تبدیل ہو

 جاتی اور اس خوف کے اثرات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے سے معلوم ہونے لگتے۔امام ترمذی،حافظ

 منذری اورحاکم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ ایک دن صحابہ کرام نے عرض کی یا

 رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بوڑھے ہو گئے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ

 وسلم نے فرمایا۔:”ان سورتوں نے مجھے بوڑھا کر دیا ہے (کیونکہ ان میں اہوال قیامت کا ذکر کیا گیا ہے)یعنی ھود۔

الواقعہ۔المرسلات۔عم یتساء لون اور اذاالشمس کورت۔“

امام بیہقی اور ابن عسا کرنے ابی علی اشبولی سے روایت کیا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ

 وسلم کا خواب میں دیدار کیا۔میں نے عرض کی یا رسول اللہ!حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو یہ مروی ہے کہ

 (شَیَّبَتْنِیْ ھُودِِ،)کیا یہ درست ہے؟(قَالَ نَعَمْ)حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں میں نے عرض کی ان

 سورتوں میں کون سی ایسی چیز ہے جس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوڑھا کر دیا ہے؟ ان میں انبیاء کے

 واقعات ہیں،امتوں کی ہلاکت کا لرز ادینے والا تذکرہ ہے،کیا اس سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پڑھاپا کے آثار

 نمایا ں ہو گئے ہیں؟: آپ نے فرمایا نہیں بلکہ مجھے تو اس آیت نے بوڑھا کردیا:”جس طرح آپ کو حکم کیا گیا اس

 طرح آپ ان اوامر کو پابندی سے بجا لائیں۔“ابو حرب بن المسور سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

 نے یہ آیت پڑھی:”بیشک ہمارے پاس ان کیلئے بھاری بیڑیاں اور بھڑکتی آگ ہے اور غذا جو گلے میں پھنس جانے والی

 ہے اور درد ناک عذاب۔“ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہاں تک آیت پڑھی تو حشیت الہٰی سے حضور صلی

 اللہ علیہ وآلہ وسلم پرغشی طاری ہو گئی۔حضرت ابن ابی شیبہ ثقہ راویوں کی بنا پر حضرت انس رضی اللہ عنہا سے

 روایت کرتے ہیں:ابو سعید نے کہا کہ ہم ایک روزرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر تھے۔ہم

 نے دیکھا کہ حضور راز حد غمزدہ ہیں۔کسی نے عرض کی اے اللہ کے پیارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)۔میرا

 باپ اور میری ماں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان ہوں۔اس غمزدگی کی وجہ کیا ہے۔رحمت عالم صلی اللہ علیہ

 وآلہ وسلم نے فرمایا:کہ میں نے ایک خوفناک آواز سنی ہے آج تک اتنی خوفناک آواز میں نے کبھی نہیں سنی۔میرے

 پاس جبرئیل (علیہ السلام)آئے میں نے اس آواز کے بارے میں ان سے پوچھا تو آپ(علیہ السلام)نے جوا ب میں

 کہا۔:”ایک چٹان جہنم کے کنارے سے ستر سال پہلے نیچے گرائی گئی اور جب وہ جہنم کی گہرائی میں پہنچی تو اللہ تعالیٰ نے

 پسند کیا کہ اس کی آواز حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنائی جائے یہ وہ آواز ہے۔“ابو سعید کہتے ہیں کہ اس دن کے

 بعد کبھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قہقہہ لگاتے نہیں سنا گیا۔علامہ زینی دحلانن نے یہاں ایک لطیف نکتہ تحریر

 فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ کے خوف کے کئی درجات ہیں اور ہر درجہ کے الگ الگ نام تجویز کئے گئے ہیں۔عام اہل ایمان

 کے دلوں میں اپنے رب کا جوڈر ہوتا ہے اسے خوف کہتے ہیں۔علماء ربانیین کے دلوں میں اپنے مالک کا جوڈر ہوتا ہے

 اسے خشیتہ کہتے ہیں۔ذات باری کے عشاق کے دلوں میں جوڈر ہوتا ہے اس کو ہیبت کہتے ہیں۔بارگاہ رب لعزت

 کے مقربین کے دلوں میں جو ڈر ہوتا ہے اس کو اجلال کہتے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام محبین اور مقربین

 سے اکمل و افضل تھے اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلب مبارک میں اپنے خدا وند قدوس کا جو ڈر تھا وہ

 ہیبت و اجلال کا جامع تھا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کو یقین کے تمام مدارج پرفائز کیا تھا۔آپ علم الیقین نہیں عین

 الیقین اور حق الیقین کے مدارج عالیہ پر بیک وقت فائز تھے۔تمام چیزوں کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ فرمایا کرتے اور

 عظمت خداوندی کا تصور ہر وقت مستحضر اور پیش نظر رہتا تھا۔اور یہ مقام رفیع کسی اور کو نصیب نہیں ہوا اس لئے نبی

 مکرم نے اپنی شان رفیع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا سب سے زیادہ اللہ

 کی شان جمال و کمال کا جاننے والا میں ہوں۔“(ضیاء النبی ج5ص397تا399)






واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمب54 واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں                   قسط نمب54 Reviewed by Rizwan Malik on مارچ 04, 2021 Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.