Subscribe Us

واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمبر53

 واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں                   قسط نمبر53

واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں  قسط نمبر53


اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لئے صبر کرنا

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبر کی صفت سے مالا مال تھے اور سخت ترین حالات میں صبر اور توکل کا مظاہرہ فرماتے۔

ضیاء النبی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صبر کا تذکرہ ان الفاظ کے ساتھ ہے۔

”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آپ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل خانہ پے درپے

 تین مہینے گزرتے کہ ان کے چولہے میں آگ نہیں جلائی جاتی تھی۔نہ روٹی پکانے کیلئے نہ سالن پکانے کیلئے۔سننے

 والوں نے پوچھا اے ابو ہریرہ پھر وہ زندہ کیسے رہتے تھے؟آپ نے بتایا کہ کھجور اور پانی پر گزر اوقات تھی۔نیز انصار

 میں سے بعض گھرانے ان کے پڑوسی تھے۔اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے وہ اپنی شیر دار اونٹنیوں کا دودھ ارسال کیا

 کرتے تھے۔ام المومنین (رضی اللہ عنہا)کے گھروں میں رات کے وقت دیا بھی نہیں جلتا تھا۔

”حضرت جریری فرماتے ہیں کہ مجھے یہ خبر ملی کہ ایک روز اللہ کے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ایک

 صحابی کے ساتھ بیٹھے تھے۔اسی اثناء میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پیٹ کو دبایا اس صحابی نے عرض کی یا

 رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرا باپ اور میری ماں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان جائیں کیا پیٹ

 میں تکلیف ہے جس لئے آپ دبا رہے ہیں؟ (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے)فرمایا نہیں۔میں بھوک کی وجہ سے

 ایسا کر رہا ہوں۔وہ صحابی اسی وقت اٹھ کھڑا ہوا اور انصار کے ایک باغ میں گیا۔دیکھا ایک انصاری ڈول نکال نکال کر

 اپنے باغ کے درختوں کو پانی دے رہا ہے۔اس صحابی نے اس انصاری سے کہا کیا تمہیں یہ بات منظور ہے کہ میں

 تمہارے باغ کی آبپاشی کردوں اور تم ہر ڈول کے بدلے ایک اچھی قسم کی کھجور مجھے دیدو۔اس نے کہا مجھے منظور

 ہے۔چنانچہ اس صحابی نے اپنی چادر اتار کر رکھ دی اور پھر ڈول نکال نکال کر پانی دینا شروع کر دیا۔وہ صحابی بڑا طاقتور

 تھا۔کچھ دیر جب جو ش و خروش سے ڈول نکالتا رہا اس کا سانس پھول گیا اور وہ رک گیا۔پھر اس نے اس باغ کے مالک

 کو کہا کہ اب مجھے کھجوریں گن کر دو جب وہ کھجوریں گنی گئیں تو رطل یعنی 1/2سیر کے برابر تھیں۔وہ لے کر بارگاہ

 رسالت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں حاضر ہوا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں میں انہیں بکھیر کر رکھ

 دیا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کھجوروں سے مٹھی بھرتے اور حکم دیتے:یہ فلاں خاتون کو پہنچا دو۔پھر مٹھی

 بھرتے فرماتے یہ فلاں خاتون کو پہنچا دو۔اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مٹھیاں بھر بھر کر نام لے لے کر

 بھجواتے رہے۔وہ صحابی جو کھجوریں لے کر حاضر ہوا وہ یہ دیکھ کر بڑاحیران ہو رہا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

 مٹھیاں بھر بھر کر دے رہے ہیں اور کھجوریں ویسی کی ویسی موجود ہیں،ان میں کوئی کمی محسوس نہیں ہوتی تھی۔

انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ!حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مٹھیاں بھر بھر کر دے رہے ہیں اور یہ کھجوریں ویسی

 کی ویسی پڑی ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھاکرتے۔میں نے عرض کی یا

 رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کون سی آیت۔فرمایا اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔:”جو چیز تم خرچ کرتے ہو تو اس

 کی جگہ اور دے دیتا ہے۔وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔“(ضیا ء النبی ج5ص389تا390)

غزوۂ خندق اور حضور کا صبر 

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ خندق کے موقع پرجس صبر کا مظاہرہ فرمایا اس کا تذکرہ ضیاء النبی میں کچھ اس طرح ہے۔

”حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے موقع پر جب مسلمان اس پتھریلی زمین میں خندق کھود

 رہے تھے تو تین دن گزر گئے نہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی چیز کھائی اور نہ صحابہ کرام کو ایک لقمہ تک

 نصیب ہوا۔حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں نے جب قریب ہوکر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے

 شکم مبارک پر پتھر باندھا ہوا تھا تا کہ بھوک کی وجہ سے کمر جھک نہ جائے۔امام ترمذی نے سند جید قوی کے ساتھ

 حضرت انس سے روایت کیا ہے کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ ہم نے بارگاہ رسالت(صلی اللہ علیہ وآلہ

 وسلم)میں اپنی فاقہ کشی کی شکایت کی اور قمیص کا پلہ اپنے پیٹ سے اٹھا کر دکھایا کہ ہر ایک نے اس پر پتھر باندھے

 ہوئے ہیں۔نبی رؤف و رحیم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے بھی اپنے شکم مبارک سے جب قمیص کا پلہ اٹھایا تو ہم نے

 دیکھا کہ حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کے بجائے دو پتھر باندھے ہوئے تھے۔“(ضیاء النبی

 ج5ص390)

محمد بن جابر کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں اشعار 

”محمد بن جابر نے،جو اندلس کے بڑے غزل گو شاعر ہیں،بارگاہ رسالت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں ہدیہ نعت پیش

 کرتے ہوئے کچھ اشعار عرض کئے ہیں،ان میں سے چند اشعار آپ کی ضیافت طبع کیلئے پیش خدمت ہیں۔:”سب

 لوگوں کے اہل و عیال خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل وعیال ہیں اور سب اہل وعیال کی ضرورتوں کو پورا

 کیا جاتا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فقر وفاقہ پر رات بسر کرتے تھے اور اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

 چاہتے تو تمام ٹیلے اور پہاڑ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے زرخالص بنا دئیے جاتے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ

 وسلم کی بارگاہ میں دنیا کی کوئی قدروقیمت نہ تھی۔اس سے تعلقات کی ساری رسیاں کاٹ دی گئی تھیں۔حضور صلی

 اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ یہ دنیا بڑی تیزی سے زوال پذیر ہے۔پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز

 کو ہرگز پسند نہ کیا جس کو زوال لا حق ہوتا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں زمین کے سارے

 خزانوں کی کنجیاں پیش کی گئیں لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو مسترد کر دیا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ

 وسلم جمال و جلال سے مزین تھے آپ عطا کرنے والے تھے منع کرنے والے نہیں تھے۔حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ

 وآلہ وسلم کے رخ انور پر وقار اور جلال ظاہر ہو رہا تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گہنگاروں کی شفاعت کرنے

 والے ہیں اور اونچی شان کے مالک ہیں۔اپنے غلاموں کی مدد کرنے والے ہیں اور ہمارے خیر خواہ ہیں۔حضور رحیم

 ہیں اور حضور کو کوئی تکلیف پہنچائی جاتی ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عفو ودر گزر بڑی کشادہ ہوتی ہے۔

حضور تمام مخلوق کے پرور دگار کے حبیب ہیں اور ساری مخلوق کے محبوب ہیں۔بجز اس بد بخت کے جس کے مقدر میں

 ضلالت و گمراہی ہو۔“(ضیاء النبی ج5ص391)

خشیت الہٰی

اللہ تعالیٰ کی الوہیت و کبریائی کا جتنا عرفان حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل تھا اتنا کائنات میں کسی اور کو حاصل

 نہ تھا اللہ تعالیٰ کی کبریائی اور خشیت الہٰی کا ذکر ضیاء النبی میں کچھ اس طرح بیان کیا ہے۔

”اللہ جل مجدہ کی الوہیت و کبریائی کا جتنا کسی کو عرفان نصیب ہوتا ہے اسی قدر اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف ہوتا

 ہے۔ساری کائنات میں سے اپنے ر ب کا جتنا عرفان محبوب رب العالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل تھا اتنا نہ

 کسی پیغمبر کو اور نہ کسی فرشتہ کو حاصل تھا۔اسی لئے سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلب کریم میں اللہ تعالیٰ کا

 جتنا خوف تھا کوئی فرشتہ،کوئی مقبول بارگاہ الہٰی،کوئی نبی،کوئی اولوالعزم رسول اس مقام پر رسائی حاصل نہ کر سکا۔

امام ترمذی اپنی سنن میں حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔:”نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے

 فرمایا کہ میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے میں وہ کچھ سنتا ہوں جو تم نہیں سن سکتے۔آسمان چیں چیں کر رہا ہے

 اور اس کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ ایسا کرے کیونکہ آسمان پر چار انگشت کی مقدار بھی ایسی جگہ نہیں جہاں کوئی فرشتہ اللہ

 تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہوئے اپنی پیشانی رکھے ہوئے نہ ہو۔بخدا اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنستے اور

 بہت زیادہ روتے۔اور تم بلند و بالا رستوں پر نکل جاتے اور گڑ گڑاکر اللہ تعالیٰ کی جناب میں فریاد یں کرتے۔“حضرت

 ابو ذر نے اس روایت کے بعد کہا میں پسند کرتا ہوں کہ کاش میں ایک درخت ہوتا جسے کاٹ دیا جاتا۔رحمت عالم صلی

 اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو نفل پڑھنے کیلئے کھڑے ہوتے تو اتنی دیر قیام فرما رہتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

 کے قدم مبارک سوج جاتے۔عرض کی گئی یا رسول اللہ!حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنی تکلیف کیو ں برداشت

 کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مغفر ت کی نوید سنا دی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ

 وسلم فرمایا کرتے:(جب اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ بے پایا ں انعامات اور احسانات فرمائے ہیں)تو کیا میں اس کا شکر گزار

 بندہ نہ بنوں۔ام المومنین حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل کی یوں تصویر

 کشی کرتی ہیں فرماتی ہیں۔:”اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل مسلسل ہوا کرتا تھا یعنی اس میں انقطاع

 نہیں ہوتا تھا اور تم میں سے کون ہے جس میں اتنی طاقت و ہمت ہو جو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندے کو ارزانی

 فرمائی تھی۔“یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو عمل فرمایا کرتے اس میں تسلسل اور دوام ہوتا۔حضور صلی اللہ علیہ

 وآلہ وسلم پابندی سے اسے انجام دیتے اس میں انقطاع اور ناغہ نہ ہوتا اور ہم میں سے کون ہے جس میں اتنی ہمت اور

 طاقت ہو جتنی اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب مکرم کو ارزانی فرمائی۔“(ضیاء النبی ج5ص392تا393)



واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمبر53 واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں  قسط نمبر53 Reviewed by Rizwan Malik on مارچ 04, 2021 Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.