Subscribe Us

واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمبر52

 واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں         قسط نمبر52


واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں     قسط نمبر52


روز مرہ کے اخراجات کی ادائیگی

حضرت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذاتی خزانچی تھے۔ان سے بہتر حضور کے روز مرہ

 کے اخراجات کے حوالے سے کون آگاہ ہو سکتا تھا۔زیر نظر روابت میں صاحب ضیاء النبی نے انہی سے منقول ایک

 روایت نقل کی ہے۔ملاحظہ کیجئے۔

”امام ابو داؤد اور بیہقی ابی عامر عبداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت بلال مؤذن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے

 حلب میں میری ملاقات ہوئی۔میں نے پوچھا اے بلال!مجھے بتاؤ کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روز مرہ

 کے اخراجات کی کیا کیفیت تھی؟حضرت بلال نے انہیں بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روز مرہ کے

 آخراجات کی ادائیگی کا انتظام میرے زمہ تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یوم وصال تک میں ہی ان اخراجات

 کو ادا کرتا تھا۔جب بھی کوئی شخص بارگاہ رسالت میں حاضر ہوتا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیکھتے کہ وہ برہنہ

 ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے حکم دیتے اور میں کہیں سے قرض لے کر اس سے پارچات خریدکر اسے پہناتا

 اور اسے کھانا بھی کھلاتا۔ایک روز مشرکین میں سے ایک آدمی میرے پاس آیا کہنے لگا اے بلال!(رضی اللہ

 عنہ)میرے پاس دولت فراواں ہے اور میرے علاوہ کسی اور سے قرض نہ لیا کرو، میں خود اس کا انتظام کر دیا کروں

 گا۔میں نے اس کی بات مان لی اور اس کے بعد جب بھی قرض کی ضرورت محسوس ہوتی تو میں اسی سے لیا کرتا۔ایک

 دن میں نے وضو کیا اور پھر نماز کیلئے اذان دینے کیلئے کھڑا ہوا تو وہ مشرک تاجروں کے ایک دستہ کو ہمراہ لئے میرے

 پاس آیا اور مجھے بڑے درشت لہجہ میں کہنے لگا۔ اے حبشی!میں نے کہا لبیک۔پھر اس نے خشمناک چہرہ بنا کر بڑے ا

 کھڑپن سے مجھے یہ بات کہی کہ تمہیں علم ہے کہ تیرے درمیان اور میرے درمیان اور تیری تاریخ ادائیگی کے

 درمیان صرف چار راتیں رہ گئی ہیں۔اس روز میں اپنا تمام قرضہ تم سے وصول کروں گا میں نے تمہیں جو قرضہ دیا

 ہے اس لئے نہیں دیا کہ میرے دل میں تمہاری بڑی عزت تھی اور نہ اس لئے کہ تمہارے صاحب کا میرے دل میں

 بڑا احترام تھا بلکہ میں نے اس لئے تمہیں قرض دیا ہے کہ میں تمہیں اپنا غلام بنا سکوں اور تم پھر میری بکریاں چرایا

 کرو۔مجھے اس کی اس بات سے بڑا دکھ ہوا۔پھر میں مسجد میں گیا اور اذان کہی۔جب میں نماز عشاء پڑھنے سے فارغ ہوا

 تو رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اہل خانہ کے پاس گئے۔میں نے حاضری کیلئے اذن طلب کیا چنانچہ اذن مل

 گیا۔حاضر خدمت ہو کر میں نے التجا کی یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرا باپ اور ماں حضور صلی اللہ علیہ

 وآلہ وسلم پر قربان ہوں وہ مشرک جس کے بارے میں میں نے عرض کیا تھا اس نے مجھے کہا کہ جب بھی تمہیں قرض

 کی ضرورت ہو مجھ سے آکر لے لیا کرو میں کافی عرصہ سے اسی قرض لیتا رہا آج وہ مجھے ملا ہے اس کا چہرہ بڑا خشمناک

 تھا۔اس کی آواز میں بلا کی سختی تھی اس نے مجھے کہا ہے اگر مقررہ میعاد کے روز تم نے مجھے پوری ادائیگی نہ کی تو میں

 تمہیں پکڑ کر اپنا غلام بنا لوں گا اور ہمارے پاس تو کوئی ایسی چیز نہیں جس سے ہم اس کا قرض ادا کریں۔وہ تو ہمیں بازار

 بھر میں رسوا کر دے گا۔اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اجازت فرمائیں تو میں ان قبائل کے پاس جاؤں جو مسلمان

 ہوئے ہیں اور ان سے قرض لے کر میں اس مشرک کا قرض ادا کروں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اجاز

 ت فرمائی۔بلال (رضی اللہ عنہ)کہتے ہیں کہ میں بارگاہ رسالت سے اجازت لے کر اپنے گھر آیا۔میں نے اپنا سامان

 سفر تلوار،نیزہ اٹھایا او رجوتیاں سر کے پاس رکھ دیں اورسونے کیلئے لیٹ گیا۔میں نے اپنا رخ مشرق کی طرف کیا جب

 بھی آنکھ لگتی فوراََ کھل جاتی۔اس مشرک کی اس دھمکی میں ساری رات پریشان رہا۔صبح صادق تک میں یوں ہی پہلو

 بدلتا رہا پھر اٹھا ان قبائل میں جانے کا ارادہ کیا تو میں نے سنا کوئی شخص بلند آوازسے بلا رہا ہے اور کہہ رہا ہے اے

 بلال!(رضی اللہ عنہ) بارگاہ رسالت پناہ میں فوراََ حاضر ہو جاؤ۔چنانچہ میں سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی

 خدمت میں حاضرہوا۔میں نے دیکھا چار اونٹ بیٹھے ہیں اور ان پر سامان لدا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی

 خدمت میں حاضری کی اجازت طلب کی۔حاضر ہوا تو نبی رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا اے بلال

 خوشخبری ہو،اللہ تعالیٰ نے تیرا قرضہ ادا کرنے کیلئے انتظام فرما دیا ہے۔یہ اونٹ جو تم نے دیکھے ہیں جو کچھ ان پر لدا

 ہے وہ سب تمہارے لئے ہے۔ان اونٹوں پر پارچات تھے کھانے پینے کی چیزیں تھیں۔فدک کے رئیس نے اسے

 بارگاہ رسالت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں بھیجا تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بلال(رضی اللہ

 عنہ)ان کو اپنے قبضہ میں لے لو اور ان سے قرضہ ادا کرو۔میں نے ایسا ہی کیا وہ سامان اتار کر اونٹوں کے گھٹنوں کو

 باندھا اس سے فارغ ہونے کے بعد صبح کی نماز کیلئے اذان دینے واپس آیا۔رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز

 صبح سے فارغ ہوئے تو میں جنت البقیع میں آیا۔میں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈالیں اور بلند آواز سے اعلان کیا۔

اگر کسی نے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی قرضہ لینا ہے تو فوراََ حاضر ہو جائے۔چنانچہ جن لوگوں نے کچھ

 لینا تھا وہ آتے گئے میں ضرورت سے زیادہ چیزیں فروخت کرتا رہا اور جو قیمت ملتی وہ میں قرض خواہوں میں تقسیم کرتا

 رہا یہاں تک کہ تمام قرض خواہوں کے مطالبات پورے کر دئیے گئے اور اڑھائی اوقیہ افروز تھے میں نے سلام عرض

 کیا۔مجھے ارشاد فرمایا جو چیزیں تمہارے پاس تھیں ان کے بارے میں کیا کیا؟میں نے عرض کی اے اللہ کے پیارے

 حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذمہ جتنا قرض تھا،وہ سب کا سب ادا

 کیا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا کوئی چیز بچی؟میں نے عرض کی ہاں یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ

 وسلم)۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا باقی ماندہ کو یوں رکھ نہ چھوڑنا بلکہ ان کے حقداروں تک پہنچا کر مجھے

 آرام پہنچاؤ۔میں اپنے گھر نہیں جاؤں گا جب تک ان سب چیزوں کو تم خرچ نہ کر لو۔بلال (رضی اللہ عنہ)فرماتے ہیں

 سارا دن گزر گیا لیکن میرے پاس کوئی طلبگار نہ آیا۔چنانچہ رات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں

 گزاری۔دوسرا دن پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کامسجد میں گزر گیا اس دن کا آخری وقت آیا تو دوسوار میرے

 پاس آئے اور انہوں نے اپنی ضرورت کیلئے درخواست کی۔میں نے ان دونوں کو لے کر بازار گیا،کپڑے سلواکر

 پہنائے،انہیں پیٹ بھر کر کھانا کھلایا پھر عشاء کی نماز پڑھنے کے بعدکریم آقا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے مجھے یاد

 فرمایااور پوچھا بلال (رضی اللہ عنہ)کیا بنا۔میں نے عرض کی۔جو بچ گیا تھا جس سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑی

 تکلیف محسوس فرما رہے تھے اللہ تعالیٰ نے اس سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نجات دی ہے اور حضور صلی اللہ

 علیہ وآلہ وسلم کی راحت کا سامان فرما دیا ہے۔یعنی وہ سب میں نے ضرورت مندوں میں بانٹ دیا اس میں سے کوئی

 چیز باقی نہیں رہی۔یہ سن کر فرط مسرت سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و

 ثناء کی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کوفت اس لئے تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اندیشہ تھا کہ ایسا

 نہ ہو کہ میں رفیق اعلیٰ کی طرف کوچ کر جاؤں اور میرے گھر میں اس ساما ن سے کوئی چیز باقی رہ جائے۔اس سے

 فارغ ہونے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لے گئے۔میں پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔حضور صلی اللہ

 علیہ وآلہ وسلم اپنی تمام ازواج مطہرات کے حجروں میں تشریف لے گئے اور ہر زوجہ کریمہ کو سلام فرمایا پھر اپنے

 حجرہ میں تشریف لائے جہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ رات بسر کرنا تھی۔یہ بیان کرنے کے بعد آپ نے

 کہا اے ابو عامر!جو سوال تو نے مجھ سے کیا ہے اس کا یہ جواب ہے:اما بیہقی،ابن مسعود سے اور ابو داؤد الطیالسی اور

 ابن سعد واثلہ بن اسقع سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن بارگاہ رسالت میں ایک مہمان آیا۔سرورعالم صلی اللہ علیہ

 وآلہ وسلم نے امہات المومنین کی طرف آدمی بھیجا کہ کسی کے پا س اگر کھانے کیلئے کچھ ہو تو وہ ہمارے نووارد مہمان

 کیلئے بھیجے لیکن کسی ام المومنین کے ہاں کوئی ایسی چیز دستیاب نہ ہوئی جو مہمان کے سامنے پیش کی جائے۔عبد منیب

 صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے کریم مالک کے سامنے دست سوال دراز کیا اور عرض کی۔:”اے اللہ میں تجھ سے

 تیرے فضل اور تیری رحمت کی بھیک مانگتا ہوں کیونکہ صرف تو ہی فضل ور حمت کے خزانوں کا مالک ہے۔“یہ کہنے کی

 دیر تھی کہ ایک بھونی ہوئی بکری اور تازہ روٹیاں کوئی لے کر حاضر ہوگیا۔سب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ

 وسلم نے اہل صفہ کو کھلایا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے۔پھر ارشاد فرمایا اے صحابہ!ہم نے اپنے پرور دگار سے اس کے

 فضل اور اس کی رحمت کی بھیک مانگی ہے اس کا فضل تو یہ ہے جو تم نے تناول کیا اور ہم اس کی رحمت کے منتظر ہیں۔

ابن سعد اور دار قطنی نے اس روایت کو صحیح کہا ہے کہ ابو حازم عوف بن عبدالحارث کہتے ہیں کہ میں سہل بن سعد

 رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا عہد رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں چھاننی کا رواج تھا،آپ نے کہا کہ میں نے

 عہد رسالت میں چھاننی نہیں دیکھی اور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھنا ہوا جو کا آٹا کبھی استعمال نہیں فرمایا

 یہاں تک کہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ہم جو پیسا کرتے، اس کے آٹے کے اوپر جو چھلکے جمع ہو جاتے ان کو

 پھونگ مار کر اڑاتے۔کچھ اڑ جاتے کچھ بچ جاتے اسی کا آٹا گوندھ کر روٹی پکائی جاتی۔

(ضیاء النبی ج5ص385تا388)

 




واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمبر52  واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں     قسط نمبر52 Reviewed by Rizwan Malik on مارچ 04, 2021 Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.