Subscribe Us

واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمبر51

واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں              قسط نمبر51


واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں    قسط نمبر51


نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان زہدو قناعت

”اس موضوع پر اظہار خیال سے پہلے ضروری ہے کہ زہد کا مفہوم قارئین کے ذہن نشین کیا جائے تا کہ وہ حضور صلی

 اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان عالی کا صحیح طور پراندازہ کر سکیں۔نسیم الریاض کے مصنف زہد کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے

 ہیں۔ترجمہ!”یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس جو ابدی نعمتیں اور سرمدی راحتیں ہیں ان کو حاصل کرنے کیلئے دنیا کے سامان

 عیش و عشرت سے دستبر دار ہو جانا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ساری زندگی اسی زہد سے عبارت تھی۔اللہ

 تعالیٰ نے ساری دنیا کے خزانوں کی کنجیاں اپنے حبیب کے حوالے کر دی تھیں لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے

 ان تمام نعمتوں کو پس پشت ڈال دیا اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے حصول کیلئے فاقہ کشی اور عسرت کی

 زندگی بسر فرمائی۔نبی رحمت کا یہ فاقہ اور افلاس اضطراری نہیں تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش تو یہ

 تھی کہ مجھے عیش و راحت کے سارے سامان میسر ہوں رہائش کیلئے آراستہ پیراستہ محل ہو،دستر خوان بچھے ہوں ان پر

 انواع و اقسام کے لذیذ اور خوش ذائقہ کھانے چنے جائیں خدام کا ایک لشکر ہو جو تعمیل حکم کیلئے ہمہ وقت مستعد ہو

 لباس پہنیں تو بڑا قیمتی اور زرق برق ان امور میں سے کوئی ایسی چیز نہ تھی جس کی خواہش محبوب العالمین کے دل میں

 پیدا ہوئی ہو اگر کوئی آرزو تھی اگر کو ئی تمنا تھی تو صرف یہ کہ جس ر ب کریم کا میں بندہ ہوں جس نے مجھے یہ شان

 رفیع ارزانی فرمائی ہے۔جس نے مجھے تمام انبیاء کا امام بنایا یہ میں اس کریم رب کی زیادہ سے زیادہ رضا اور خوشنودی

 حاصل کر سکوں۔تو یہ حالت افلاس اضطراری نہ تھی بلکہ اختیار ی تھی۔سرور انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دانستہ

 اور عمداََ دنیا کی ساری نعمتوں اور لذتوں عیش و عشرت کے سامانوں سے علیحدگی اختیار کی تا کہ قرب الہیٰ کی نعمت سے

 مالا مال ہوں۔سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تو چاہے تو میں مکہ کے پہاڑوں کو سونا بنا دوں۔

میں نے عرض کی یا رب العالمین! مجھے اس کی خواہش نہیں میری آرزویہ ہے کہ میں ایک دن بھوکا رہوں اور ایک

 دن کھانا کھاؤں جس روز میں فاقہ کروں اس روز میں تیری بارگاہ میں عجزو نیاز کا ہدیہ پیش کروں اور تیرے ذکر اور تیر ی یاد میں مصروف رہوں۔اور جس روز سیر ہو کر کھاؤں اس دن میں تیرا شکر کروں۔سارا وقت تیری حمد وثنا میں

 گزاروں۔“ ایک روز جبرئیل امین علیہ السلام بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے عرض کی۔ترجمہ!”اللہ تعالیٰ آپ کو

 سلام فرماتے ہیں اور کہتے ہیں: کیا آپ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ میں ان پہاڑوں کو سونا بنادوں اور جدھر آپ

 تشریف لے جائیں وہ آپ کے ساتھ جائیں۔“یہ سن کر کچھ دیر کیلئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر مبارک

 جھکالیا اور غورو فکر کرنے لگے کہ اس خداوندی پیشکش کا کیا جواب دوں۔تھوڑی دیر کے بعد سرمبارک اٹھایا فرمایا۔

ترجمہ!”اے جبرئیل!دنیا اس شخص کا گھر ہے جس کا اور کوئی گھر نہ ہو اور یہ اس کا مال ہے جس کے پاس کوئی مال نہ

 ہو۔اس دنیا کو وہ آدمی جمع کرتا ہے جو عقل و دانش سے محروم ہو۔“ سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ جواب سن

 کر حضرت جبرئیل نے عرض کی۔ترجمہ!”اے اللہ کے محبوب!اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ حق پر ثابت قدم رکھے۔“(ضیاء النبی ج5ص372-374)

دونوں جہانوں کے خزانوں کا مالک ہونا۔لیکن فقر کو ترجیح دینا

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے دونوں جہانوں کا مالک بنا دیا لیکن ساتھ ہی فقر کی نعمت بھی عطاء فرما ئی۔

اللہ کریم کی مہربانیوں تذکرہ ضیاء النبی میں ان الفاظ کے ساتھ ہے۔

”امام بخاری نے اپنی صحیح میں ایک حدیث شریف ذکر کی ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے

 اللہ تعالیٰ نے زمین کے سارے خزانوں کی کنجیاں عطا فرمائی ہیں۔وہ حدیث شریف میں قارئین کی خدمت میں پیش

 کرتا ہوں تا کہ ان کو اس کے بارے میں کوئی شک وشبہ نہ ہو۔ ترجمہ!”حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک روز

 شہداء احد کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے لئے دعا ء مغفرت کی اور انہیں الوداع سلام فرمایا۔پھر حضور صلی اللہ

 علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لائے اور منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا کہ میں تمہارا پیشرو ہوں اور میں تم پر گواہی

 دوں گا۔میری اور تمہاری ملاقات کی جگہ حوض کوثر ہے۔اور میں یہاں منبر پر بیٹھ کر حوض کوثر کو دیکھ رہا ہوں اور

 مجھے زمین کے خزانوں کی ساری کنجیاں عطا فرمائی گئی ہیں۔مجھے یہ اندیشہ نہیں کہ تم میرے بعد شرک کرنے لگو گے

 مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا کو جمع کرنے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرو گے۔اس وجہ سے تم ہلاک ہو گے جس

 طرح پہلی قومیں اس وجہ سے ہلاک ہو ئیں۔“(ضیاء النبی ج5 375-376)

نرم بستر کے بجائے سخت بستر کو پسند فرمانا

آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر پسند فرماتے تو ہر طرح کی رسائشیں آپ کے قدموں میں بچھا دی جاتیں لیکن

 ان نعمتوں کے بجائے فقر کو اختیار کرنا زیادہ پسند فرمایا ضیاء النبی میں اس کیفیت کا تذکرہ ان الفاظ کے ساتھ موجود

 ہے۔

”حضرت ابن مسعور رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن سرور انبیا ء ایک چٹان پر استراحت فرما ہوئے۔اس کے

 پٹھے کے نشانات پہلو مبارک میں نظر آنے لگے۔جب حضو ر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو میں اس جگہ کو

 ملنے لگا جہاں نشانات پڑے تھے۔اسی اثناء میں ،میں نے عرض کی یا رسول اللہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

 اجازت دیں تو ہم یہاں آرام دہ بستر بچھا دیں اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آرام فرمائیں۔حضور صلی اللہ علیہ

 وآلہ وسلم نے میری اس گزارش پر یہ ارشا د فرمایا!ترجمہ!”میرا دنیا سے کیا تعلق ہے میری اور دنیا کی یہ مثال ہے

 جس طرح کوئی مسافر ہو گرمی کے موسم میں دن میں سفر کرے۔دوپہر کا وقت آئے تو قیولہ کرنے کیلئے کسی درخت

 کے سایہ میں آرام کرے۔پھر آرام کے بعداس جگہ کو چھوڑ کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو جائے۔“ حضرت فاروق

 اعظم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آپ نے فرمایا میں ایک فعہ بارگاہ رسالت پناہ میں حاضر ہوا۔میں کیا دیکھتا ہوں کہ

 حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھردرے بان کے ساتھ بنی ہوئی چٹان پر ٹیک لگائے بیٹھے ہیں اور اس کے نشان حضور

 صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں صاف نظر آرہے ہیں۔میں نے سراٹھا کر کاشانہ اقدس کو دیکھا تو بخدا مجھے وہاں

 کوئی چیز ایسی نظر نہ آئی جو آنکھوں کے سامنے سد راہ بن سکے بجز تین چمڑوں کے جن کو رنگنے کیلئے لٹکایا گیا تھا اور

 ایک کونہ میں جو کا ایک ڈھیر تھا۔اس بے سروسامانی کو دیکھ کر میری آنکھیں اشک آلود ہو گئیں۔سرکار نے پوچھا عمر

 کیا ہو گیا ہے کیوں رو رہے ہو؟میں نے عرض کی یا رسول اللہ۔ترجمہ!”حضور اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق میں سے اللہ

 تعالیٰ کو زیادہ پسند ہیں (اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حالت ہے)اور کسریٰ و قیصر عیش و عشرت کی زندگی

 بسر کر رہے ہیں۔“حضرت عمر کی بات سن کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا اٹھ کر بیٹھ گئے

 اور اپنے تلمیذ ارشد کومخاطب کر کے فرمایا۔ترجمہ!”قیصر و کسریٰ وہ لوگ ہیں جن کو اس دنیوی زندگی میں ساری

 راحتیں دے دی گئی ہیں۔اے میرے تلمیذ رشید!کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ انہیں تو دنیا دے دی جائے

 اور ہمیں آخرت میں انعامات سے سرفراز کیا جائے۔“ حضرت عمر فرماتے ہیں میں نے عرض کی میں اس تقسیم پر راضی

 ہوں۔ میں اپنے رب کریم کی حمد و ثنا کرتا ہوں۔ابو الحسن بن ضحاک نے اس جملہ کا اضافہ کیا ہے۔حضور نے فرمایا۔

ترجمہ!”اگر اللہ تعالیٰ چاہتا کہ یہ بڑے بڑے پہاڑ سونا بن کر میرے ساتھ ساتھ چلیں تو اللہ تعالیٰ ان کو ضرور

 میرے ساتھ چلا دیتا۔“ ابن ابی شیبہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کوئی

 نذرانہ پیش کیا گیا۔سرکار نے ادھر ادھر دیکھا لیکن کوئی ایسی چیز نہ ملی جس میں اس ہدیہ کو رکھا جائے۔حضور صلی اللہ

 علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو نیچے رکھ دو میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس طرح کھاتا ہوں جس طرح غلام کھاتا ہے اور

 اس طرح پیتا ہوں جس طرح غلام پیتا ہے۔آخر میں فرمایا۔ترجمہ!”اگر اللہ تعالیٰ کی جناب میں اس دنیا کی اتنی بھی

 قدر ہوتی جتنی مچھر کے پر کی ہے تو کوئی کافر پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پی سکتا۔“(ضیاء النبی ج5ص378-79)

فاقہ کشی کے بعد ملنے والی نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرنا

ضیاء النبی میں ایک خوبصورت واقع درج ہے جس میں شخین کے نصب کو بیان کیا گیا ہے اور اس پر جسٹس پیر محمد کرم

 شاہ الازہری نے دلنشین  سیرائے میں بیان کا ہے۔

”امام بخاری اور دیگر محدثین نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ ایک روز حضرت صدیق اکبر

 رضی اللہ عنہ دوپہر کو مسجد کی طرف روانہ ہوئے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو آپ بھی اسی وقت اس چلچلاتی

 دھوپ میں باہر نکل آئے اور مسجد کی طرف چل پڑے۔انہوں نے جب صدیق اکبر کو مسجد کی طرف جاتے دیکھا تو

 پوچھا اے ابو بکر اس وقت کیوں آپ گھر سے نکل کر مسجد کی طرف آئے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ بھوک اور فاقہ

 کی وجہ سے کسی پہلو آرام نہیں آرہا تھا اس لئے مسجد میں جانے کا قصد کیا۔آپ نے عرض کی اس ذات کی قسم جس کے

 دست قدرت میں میری جان ہے میں بھی اس چلچلاتی دھوپ میں اسی وجہ سے مسجد کی طرف جا رہا ہوں۔اسی اثناء میں

 سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف لائے اور اپنے دونوں یاروں سے پوچھا کہ اس وقت تم گھروں سے

 نکل کر کدھر جا رہے ہو۔دونوں نے عرض کی یا رسول اللہ!مسلسل فاقہ کی وجہ سے کسی پہلو قرار نہیں آتا تھا اس لئے

 خانہ خدا کا قصد کیا ے۔حضور نے فرمایا کہ بخدا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میرے

 اس وقت گھر سے باہر آنے کی بھی یہی وجہ ہے۔تینوں حضرات حضرت ابو ایوب انصاری کے گھر  تشریف لے گئے۔

انہیں جب  اس حقیقت کا علم ہوا تو آپ نے ایک بکری ذبح کی اسے پکایا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں

 پیش کیا۔سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بھنی ہو ئی بکری کا ایک حصہ کاٹا اسے روٹی پر رکھا فرمایا اے ابو

 ایوب!یہ فاطمہ کو پہنچا دو۔کیونکہ اس نے کئی دنوں سے کچھ نہیں کھایا۔جب سب نے سیر ہو کر کھا لیا تو حضور صلی

 اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہی وہ نعیم ہے جس کے بارے میں قیامت کے روز تم سے پوچھا جائے گا یہ بات صحابہ

 کرام پر بہت گراں گزری تو سرور عالم نے ان کی اس پریشان کو دور کرنے کیلئے ایک نسخہ بتایا۔فرمایا جس وقت تم

 کھانے کیلئے ہاتھ بڑھا ؤ کہو بسم اللہ جب سیر ہو جاؤ تو کہو:”یہ اس کا بدلہ ہو جائے اور ان نعمتوں کے بارے میں نہیں

 پوچھا جائے گا۔“(ضیاء النبی ج5ص380)

”ابن عدی ابو سعید سے روایت کرتے ہیں کہ ایک روز آپ نے تمام صحابہ کو خطاب کرتے ہوئے ان ایمان افروز

 ہدایات سے انہیں سر شار کیا فرمایا۔ ترجمہ!”اے لوگو!تمہیں تنگدستی اور غریب اس بات پر برانیگختہ نہ کرے کہ تم

 حرام ذریعہ سے رزق طلب کرو کیونکہ میں نے اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا اے

 اللہ!میری وفات ہو تو فقر کی حالت میں۔مجھے غنی کر کے اس دنیا سے رخصت نہ فرما۔میرا حشر بھی زمرہ مساکین

 میں ہو۔اس ارشاد گرامی کا آخری جملہ ازحد غور طلب ہے۔فرمایا) سب سے زیادہ شقی اور بد بخت وہ ہے جس کے لئے

 یہ دونوں چیزیں جمع ہو جائیں:جب تک زندہ رہے فقر و فاقہ اس کا مقدر ہو اور آخری میں وہ ابدی عذاب میں مبتلا کر

 دیا جائے۔“(ضیاء النبی ج5ص380تا381)

   

             


واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمبر51 واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں    قسط نمبر51 Reviewed by Rizwan Malik on مارچ 04, 2021 Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.