Subscribe Us

واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمبر50

 واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں                                قسط نمبر50


واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمبر50

صلہ رحمی

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلہ رحمی کی تلقین فرماتے اور خود بھی اہتمام کرتے۔اپنے رشتہ داروں،اہلیہ کی

 سہیلوں تک کا خیال رکھتے۔رفاعی رشتہ داروں کی بھی تکریم فرماتے ضیاء النبی میں اس صفت کا تذکرہ ملا حظہ کریں۔

”حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ بارگاہ نبوت میں جو کوئی شخص ہدیہ پیش کرتا تو حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

 فرماتے ہیں کہ یہ فلاں خاتون کو پہنچا دو کیونکہ وہ میری رفیقہ حیات خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی سہیلی تھی۔وہ

 حضرت خدیجہ سے محبت کرتی تھی۔حضرت عائشہ سے مروی ہے آپ فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو

 کوئی بکری ذبح کرتے تو اس کا گوشت ام المومنین حضرت خدیجتہ الکبریٰ کی سہیلیوں کی طرف بھیجا کرتے۔ایک دفعہ

 آپ کی بہن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات کیلئے آئی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بڑی خوشی سے ان

 سے گفتگو کی اور ان کی بات سنی۔ایک دن ایک خاتون حاضر خدمت ہوئی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی

 آمد پر بڑی مسرت کا اظہارکیا اور اس کے حالات احسن طریق سے دریافت کئے۔وہ چلی گئی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ

 وسلم نے فرمایا: یہ وہ خاتون ہے کہ حضرت خدیجتہ الکبریٰ کے زمانہ میں اکثر حاضر ہوتی تھی۔حضور نے فرمایا

 ترجمہ!”پرانے تعلقات کو ملحوظ رکھنا اور جو تم سے محبت کرے اس کا خیال رکھنا اور جو تیرے محبت کرنے والے سے

 محبت کرے اس کا خیال رکھنا ایمان کا حصہ ہے۔“ سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نواسی جن کا نام امامہ تھا

 حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کی حالت میں بھی ان کو اپنے کندھوں پر بٹھاتے۔جب سجدہ میں جاتے تو ان کو نیچے

 رکھ دیتے پھر جب قیام فرماتے تو ان کو اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھتے۔“(ضیاء النبی ج5ص364)

مہمانوں کی تکریم

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفت مبارک یہ بھی تھی کہ مہمانو ں کی بذات خود تکریم فرماتے۔نجاشی کے وفد

 کے متعلق ضیاء النبی میں ہے۔

”حضرت ابو قتادہ روایت کرتے ہیں:ایک د فعہ نجاشی کی طرف سے ایک وفد آیا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نفس

 نفیس ان کی مہمانداری اور خاطر مدارات کا انتظام کرنے لگے۔صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ

 وآلہ وسلم ہم حاضر ہیں ہم ان کی خاطر مدارات میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھیں گے،حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود

 کیوں تکلیف فرماتے ہیں۔اس کریم آقا نے ارشاد فرمایا ترجمہ!”میرے صحابہ جب وہاں گئے تو ان لوگوں نے ان کی

 بڑی عزت کی۔میں چاہتا ہوں کہ میں ان کو اس خاطر مدارات کا خود صلہ دوں گا۔“غزوہ ہواز ن کے جنگی قیدیوں میں

 حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا عی بہن شیماء بھی شامل تھی۔اس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا

 تعارف کرایا کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضاعی بہن ہوں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے

 لئے اپنی چادر بچھائی اس کو اوپر بٹھایا پھر اسے فرمایا اگر تم پسند کرو تو ہمارے پاس ہی قیام کرو۔ہم تمہاری عزت و

 تکریم کریں گے اور تجھ سے محبت کی جائے گی اور اگر تم واپس اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر جانا چاہو تو ہم تجھے

 انعام و اکرام سے واپس کر دیں گے۔ اس نے عرض کی یا رسول اللہ!میں اپنے اہل خانہ کے پاس جانا چاہتی ہوں۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے سازوسامان دے کر عزت و احترام کے ساتھ واپس جانے کی اجازت دے

 دی۔“(ضیاء النبی  ج5ص365)

”ابو طفیل کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز دیکھا،جب میں ابھی بچہ تھا کہ ایک خاتون حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی

 خدمت میں آئی جب وہ قریب پہنچی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر مبارک اس کے لئے بچھا دی اور اس

 کو اپنی چادر پر بیٹھنے کا حکم دیا۔میں نے لوگوں سے پوچھا یہ کون خاتون ہے جس کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنی

 تعظیم و تکریم فرمارہے ہیں؟لوگوں نے بتایا کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضاعی والدہ ہے۔توبیہ جو ابو لہب

 کی لونڈی تھی اس نے سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ پلایا تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ اس کی

 طرف تحائف بھیجتے جن میں اس کے پہننے کے کپڑے بھی ہوتے۔جب وہ فوت ہو گئی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

 نے اس کے قریبی رشتہ داروں کے بارے میں پوچھا۔عرض کی گئی اس کا کوئی رشتہ دار زندہ نہیں ہے۔اس سے پتہ

 چلتا ہے کہ اگر اس کے قریبی رشتہ داروں سے کوئی زندہ ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو بھی ضرور اپنے

 انعام و اکرام سے نوازتے رہتے۔جب شعب جبرئیل امین نے غار حرا میں حاضر ہو کی پہلی وحی سے مشرف فرمایاتو

 حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر واپس آئے اور اپنی ر فیقہ حیات کو سارا ماجراسنایا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر

 تحیر اور سراسیمگی کی حالت طاری تھی۔اس وقت حضرت ام المومنین خدیجتہ الکبریٰ نے جن کلمات طیبات سے

 حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دلجوئی کی اور تسلی دی اس میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق حسنہ

 اور شمائل جمیلہ کا اس طرح اظہار فرمایا کہ رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسلی ہو گئی۔آپ نے عرض کی۔

ترجمہ!”یا رسول اللہ!مثر دہ باد۔بخدا اللہ تعالیٰ کبھی آپ کو رسوا نہ کرے گا۔آپ صلہ رحمی کرتے ہیں۔لوگوں کا بوجھ

 اٹھاتے ہیں۔اپنی کمائی سے غریبوں،ناداروں کی امداد فرماتے ہیں۔مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں۔اگر کسی پر

 کوئی مصیبت آجائے تو آپ اس کی امداد فرماتے ہیں۔“(ضیاء النبی ج5ص366ٌ)

حضور کی شان صداقت و امانت اور عفت و پاکدامنی

”امانت،صداقت،سچائی اور عدل،محبوب رب العالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی وہ صفات تھیں کہ وہ دشمن جو

 حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خون کے پیاسے تھے اسلام کا نام و نشان مٹانے کیلئے اپنی جان کی بازی لگانے کیلئے

 مستعد رہتے تھے،ایسے دشمن بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان صفات کا انکار نہیں کر سکتے تھے بلکہ تسلیم کرتے

 تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ سچا اور امین اور کوئی نہیں ہے۔ابو جہل جیسا دشمن حق بھی حضور صلی

 اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کو تسلیم کرتا تھا۔سیدنا علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے۔کہ ایک روز ابو جہل حضور

 صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کہنے لگا ہم آپ کو نہیں جھٹلاتے ہم تو اس دین کو جھٹلاتے ہیں جو آپ

 لے کر آئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی۔ترجمہ!”وہ آپ کی تکذیب نہیں

 کرتے لیکن یہ ظالم لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔“جب اسلام اور کفر کی فوجیں میدان بدر میں صف بندی کر

 رہی تھیں تو اخنس بن شریق کی تنہائی میں ابو جہل سے ملاقات ہوئی تو اس نے ابو جہل سے پوچھا اے ابو احلکم (ابو

 جہل کی کنیت)یہاں ہم تنہا ہیں،میرے اور تیرے بغیر کوئی ہماری گفتگو سن نہیں رہا مجھے یہ بتاؤ کہ تمہاری (حضور

 صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام نامی لیکر)ان کے بارے میں کیا رائے ہے وہ سچے ہیں یا جھوٹے ہیں۔اس تنہائی میں ابو

 جہل کے منہ سے یہ سچی بات نکل کر رہی اس نے کہا:ترجمہ!”خدا کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقینا سچے ہیں اور

 آج تک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جھوٹ نہیں بولا۔“ اب ابو جہل نے حضو ر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان نہ

 لانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے حقیقت سے پردہ اٹھایا۔ترجمہ!”یعنی جب عزت و منصب کے سارے مناصب لواء،

 سقایہ، حجابہ،ندوہ،سب پہلے ہی بنو قصی کے پاس ہیں اگر نبوت بھی ہم ان کیلئے مخصوص کر دیں تو عزت و شرف کے

 مناصب میں ہمارے لئے کیا رہ جائے گا۔“(ضیاء النبی ج5ص367-369)

” نضر بن الحارث،مسلمانوں کا بد ترین دشمن تھا۔مظلوم اور بے بس مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ کر اسے بڑی

 مسرت ہوتی تھی۔ایک روز اس نے قریش سے پوچھا کہ نبوت کا اعلان کرنے سے پہلے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

 نے تم میں اپنی کافی زندگی بسر کی۔ان کے عنفوان شباب کو بھی تم نے دیکھا۔اس وقت تم سب میں ان کی شخصیت

 پسندیدہ تھی۔وہ صادق القوم تھے۔ان کی صفت امانت شک وشبہ سے بالا تر تھی۔یہ تو اس وقت ان کی کیفیت تھی

 جب وہ جوان تھے اور جب اس کی کنپٹیوں میں سفید بال ظاہر ہونے لگے جو بڑھاپے کی علامت ہے اور وہ قرآن کریم

 لے کر تمہارے پاس آئے تو تم نے یہ کہنا شروع کر دیا: یہ ساحر ہے جادو گر ہے۔ہر گز نہیں خدا کی قسم!وہ جادو گر

 نہیں ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ حضور کی عفت و پاکدامنی کی گواہی دیتے ہوئے فرماتی ہیں۔ ترجمہ!”میرے آقا کے

 ہاتھ نے کبھی کسی ایسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجیت میں نہ تھی۔“ مشہور

 ادب اور نحوی،ابو العباس المبر دیکھتے ہیں۔ کسریٰ شہنشاہ ایران نے اپنے دنوں کو اس طرح تقسیم کیا ہوا تھا وہ کہتا تھا

 جس روز ٹھنڈی ہوا چل رہی ہو وہ دن سونے کیلئے ہے۔جس دن بادل گھر کر آئے ہوں وہ دن شکار کیلئے مخصوص

 ہے۔جس روز بارش برس رہی ہو وہ مے نوشی اور لہو ولعب کیلئے ہے اور جس دن سورج نکلا ہو وہ دن لوگوں کی حوائج

 کو پورا کرنے کیلئے ہے۔لیکن ایک دانشور ابن خالویہ کہتے ہیں کہ کسریٰ کے مقابلہ میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ

 وسلم نے جس طرح اپنے اوقات کو تقسیم فرمایا ہوا تھا۔اس کامطالعہ کریں آپ کو خود بخود ایک شنہشاہ اور اللہ کے

 نبی میں جو فرق ہے معلوم ہو جائے گا۔وہ کہتے ہیں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہر دن کو تین

 حصوں میں تقسیم کیا ہوا تھا ایک حصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور یاد کیلئے۔دوسرا حصہ اپنے اہل خانہ کیلئے اور تیسرا حصہ

 اپنی ذات کیلئے۔پھر اپنے تیسرے حصہ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کی حوائج سننے اور ان کو پورا کرنے

 کیلئے وقف کیا تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عوام کے حالا ت کو جاننے کیلئے خواص سے رابطہ قائم کرتے اور انہیں

 فرماتے۔ترجمہ!”وہ لوگ جو اپنی تکالیف مجھے نہیں پہنچا سکتے۔ان کی حاجات تم مجھے پہنچایا کرو کیونکہ جو شخص ایسے

 آدمی کی تکلیف کوحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچاتا ہے جو خود رسائی حاصل نہیں کر سکتا تو اللہ تعالیٰ اسے روز

 محشر خوف سے امن عطا فرمائے گا۔“ حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ترجمہ!ئئ حضور سرور عالم صلی اللہ

 علیہ وآلہ وسلم کسی کے تہمت لگانے سے کسی کو سزا نہیں دیتے تھے اگر کوئی کسی کے خلاف شکایت کرتا تو اس کی

 تصدیق نہ فرماتے۔“(ضیاء النبی ج 5ص370تا371)



واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمبر50  واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمبر50 Reviewed by Rizwan Malik on مارچ 04, 2021 Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.