میراج طیاروں کی پاکستان کے فضائی بیڑے میں شامل ہونے کے پچاس سال مکمل
ہوگئے

https://pirfarooqbahawalhaqshah.blogspot.com/
اس
موقع پر ایک باوقار تقریب منعقد کی گی جسمیں پاک فضائیہ کے سربراہ سمیت اعلی عہدیداروں
نے شرکت کی جبکہ صدر پاکستان کی مہمان خصوصی تھے۔صدر مملکت عارف علوی نے اس موقع
پر خطاب کرتے ہوے کہا کہ پاک فضائیہ
شاندار کارکردگی، پیشہ ورانہ مہارت اور بہترین شخصیات کی حامل رہی ہے، پاک فضائیہ
کسی بھی طرح کسی دوسری ایئرفورس سے کم نہیں۔ مزید تفصیلات کے مطابق پاک فضائیہ میں
میراج طیاروں کی شمولیت کی گولڈن جوبلی تقریب کے مہمان خصوصی صدر مملکت ڈاکٹر عارف
ور پاک فضائیہ کے سربراہ ایئرچیف مارشل مجاھدانور خان تھے، تقریب میں پاک فضائیہ
کے سابق سربراہان سمیت حاضر سروس وریٹائرڈ سینئر افسران بھی شریک ہوئے،میراج طیاروں
کو پاک فضائیہ کا حصہ بنے پچاس سال مکمل ہوگئے،تقریب میں 27 فروری 2019 کو بھارتی
تنصیبات کو نشانہ بنانے والے افسران بھی شریک ہوئے،پاک فضائیہ کے میراج طیاروں کے
سب سے پہلے اسکواڈرن نے کوبرا فارمیشن میں فلائی پاسٹ کیا،میراج طیاروں کے ضرار
اسکواڈرن نے صدر مملکت کو سلامی دی۔ایئر وائس مارشل ریٹائرڈ فاروق عمر جو فرانس سے پہلا میراج طیارہ اڑاکر پاکستان لائے تھے،انہیں خصوصی شیلڈ دی گئی۔ چار دسمبر
1971 کو بھارتی کینبرا جہاز گرانے والے پائیلٹس کو شیلڈ دی گئی،دسمبر1971 کو سکیسر
میں بھارتی طیارہ گرانے والے ایئر کموڈور صفدر اور سکواڈرن لیڈر جمیل شوکت کو بھی
اعزازی شیلڈ دی گئی،میراج طیاروں کی موجودہ ٹیم میں زیادہ فلائننگ آورز والے پائیلٹس
کو بھی ٹرافیاں دی گئیں،میراج طیاروں کی انجینئرنگ ٹیم کو بھی ایوارڈز دئیے
گئے۔آپریشن سوئفٹ ریٹارڈ میں حصہ لینے والے افسران کو گروپ کیپٹن فہیم کی قیادت میں
ایوارڈ دئیے گئے،پی اے ایف اسکواڈرن22 اور27 کے آفیسر کمانڈرز کو بھی شیلڈز دی گئیں،
پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آپریشن
سوئفٹ ریٹارڈ کی وجہ سے میراج گولڈن جوبلی تقریبات تاخیر کا شکار ہوئیں۔میراج کے
24 طیاروں پر مشتمل پہلا اسکواڈرن 1968 میں پاک فضائیہ میں شامل ہوا،ہمارے میراج طیارے
جنگوں اور تنازعات میں امیدوں پر پورا اترے ہیں۔دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا آپریشن
سوئفٹ ریٹارڈ میراج نے کبھی مایوس نہیں کیا، میراج ری بلڈ فیکٹریز کامرہ اس جہاز
کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں اہم کردار ادا کررہی ہے،پاکستان کے دفاع میں میراج
طیاروں کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ،ہمارے پاس موجود میراج طیارے ہر
قسم کی جنگ میں کارگر ثابت ہوئے ہیں۔پی اے ایف ملک کو درپیش اقتصادی چیلنجز کو
سامنے رکھتے ہوئے اپنے اثاثہ جات پر انحصار کرتی ہے۔صدر مملکت عارف علوی نے خطاب
کرتے ہوئے کہاکہ پاک فضائیہ کے میراج طیاروں کی انجینئرنگ ٹیم کو مبارکباد دیتا
ہوں جنہوں نے یہ جہاز آپریشنل رکھے ہوئے ہیں،ہمیں اپنے انجینئرز اور ٹیکنیشنز پر
فخر ہے جو ہمارے حقیقی ہیروز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہمسائے کے پاس ہم سے کہیں
زیادہ وسائل ہونے کے باوجودہم نے کامیابی سے وطن عزیز کا دفاع کیا ہے۔پاک فضائیہ
کے سابق سربراہان کا زکر کرتے ہوے صدر پاکستان نے کہا کہ پاک فضائیہ نے ایئر مارشل
نورخان اور ایئر مارشل اصغر جیسے ایماندار، اخلاقی قدروں والی شخصیات تیار کیں،
پاک فضائیہ شاندار کارکردگی، پیشہ ورانہ مہارت اور بہترین شخصیات کی حامل رہی ہے۔
انہوں نے پاک فضائیہ کی جنگی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوے کہا کہ پاک فضائیہ کسی بھی
طرح کسی دوسری ایئرفورس سے کم نہیں،ہم بطور قوم ڈسپلن سیکھرہے ہیں، پاکستان دہشت
گردی کے خلاف جنگ میں اپنی مسلح افواج اور عوام کی وجہ سے کامیاب رہی۔علاقہ میں
امن کی بحالی کیلے وزیراعظم کی کوششوں کا زکرتے ہوے صدر پاکستان نے کہا کہ وزیراعظم عمران نے بھارت کو امن کی پیشکش کی کہ
اگر بھارت ایک قدم آگے بڑھے تو ہم دو قدم بڑھیں گے،ہمارا خطہ باقی دنیا سے ترقی کی
دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے۔پاک فضائیہ نے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا، آپریشن
سوئفٹ ریٹارڈ اس کی شاندار مثال ہے۔ ماضی قریب میں فضائی افواج کی صلاحیتوں کا اعتراف
کرتے ہوے صدر عارف علوی نے کہا کہ بالاکوٹ کا جواب پاکستان نے ایک دن کے اندر
بھرپور انداز میں دیا،بھارت کا جہاز پاکستان کی سرزمین پر مارگرایا،جو ہاتھ ہماری
طرف بڑھے گا اسے کاٹ دیں گے اور جو آنکھ اٹھے گی اسے نکال دیں گے،بھارت عدم
استحکام کا شکار ہے، اقلیتوں سے ناروا سلوک کیا جارہا ہے،ہم کشمیر کے تنازعہ کا
اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل چاہتے ہیں۔بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کا
زکر کرتے ہوے انہوں نے کہاکہ بھارت کو ہتھیاروں کی سپلائی سے دنیا اس خطے کو عدم
استحکام کا شکار کر رہی ہے،ہم امن کی خواہش رکھتے ہوئے اپنے دفاع کے لئے پوری طرح
سے تیار ہیں،صدر مملکت عارف علوی نے ملکی معیشت کا زکر کرتے ہوے کہا کہ تمام انڈیکیشنز
مثبت سمت میں بڑھ رہے ہیں چاہے معیشت ہو یا اقتصادی استحکام ہو۔پاکستان مثبت سمت میں
جا رہا ہے۔
میراج طیاروں کی دیکھ بھال پاکستان کے انجینئرز کا اہم کارنامہ۔
پاکستان
کے پاس موجود 50 سال پرانا وہ جنگی طیارہ جو آج بھی بھارت کے جدید جنگی طیاروں کا
مقابلہ کر سکتا ہے۔پاکستان نے 47 برس قبل ایک ایسا فیصلہ کیا تھا جس کی وجہ سے ملک
کو اب تک اربوں ڈالر کی بچت ہوئی۔زرائع کے مطابق 1974 میں پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس
پر کام 1974 میں شروع ہو کر 1978 میں مکمل ہوا۔اس کمپلیکس کے قیام کی وجہ سے پاکستان اپنے جنگی طیاروں کی
مرمت خود ہی کرنے کے قابل ہوا۔ پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کے قیام کی وجہ سے
پاکستان 50 برس پرانے فرانسیسی ساختہ میراج جنگی طیاروں کو آج بھی بہترین حالت میں
رکھ کر استعمال کر رہا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان نے میراج جنگی طیاروں میں
ایسی زبردست تبدیلیاں لائی ہیں، جس کی وجہ سے یہ طیارے آج بھی بھارت کے جدید جنگی
طیاروں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔پاک فضائیہ کے بیڑے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے
والے میراج طیاروں نے پی اے ایف میں شمولیت کی50 سال مکمل کرلیے ہیں۔ایک اندازے کے
مطابق گزشتہ 5 دہائیوں میں پاکستان کی جانب سے 150 میراج تھری اور فائیو طیارے خریدے
گئے۔
پاکستان میں میراج طیاروں کی تاریخ۔
پاک
فضائیہ میں پہلی بار میراج طیارہ 1956 میں شامل کیا گیا۔ یورپی ساختہ جنگی میراج
تھری نے اپنی پہلی اڑان پر آواز کی رفتار سے تیز پرواز کرکے لوگوں کو حیران کیا۔انٹرنیشنل
انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹیڈیز کی جانب سے سال 2020 میں جاری اعداد و شمار کے
مطابق پاکستان فضائیہ میں 70 ہزار ایکٹو ڈیوٹی پرسنل جبکہ 582 جنگی طیارے موجود ہیں۔میراج
طیاروں کی ٹیکنالوجی چکی ترقی۔پاکستانی افواج کا کارنامی۔حالیہ دنوں کچھ اخباری
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال 2030 تک پاک
فضائیہ کے بیڑے میں موجود میراج طیاروں کو جے ایف 17 سے تبدیل کردیا جائے گا۔
پاکستان کے پاس موجود میراج طیاروں کی خصوصیات۔
پاکستان
کے پاس میراج طیارے کے مختلف ورثنز میراج فائیو ای ایف، میراج تھری ڈی پی اور میراج
تھری روز ون موجود ہیں۔یہ طیارے جدید ریڈار سسٹم سے بھی لیس ہیں اور رات کے وقت بھی
پرواز کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان طیاروں میں آر سی 400 ریڈار نصب کیا گیا تھا جب کہ
رات کے وقت حملہ کرنے کی ایچ ایم ڈی صلاحیت بھی موجود ہے۔میراج جنگی طیارہ محض 9
ممالک کے پاس موجود ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق سال 2009 تک تقریبا 600 سے زیادہ میراج
پوری دنیا میں موجود تھے۔ یہ فورتھ جنریشن کا ملٹی رول جنگی طیارہ ہے۔پاکستان میں
اس طیارے کی اپ گریڈیشن کیلئے کامرہ میں روز پراجیکٹ کے نام سے منصوبے کا آغاز کیا
گیا، جس میں طیارے کو جدید طرز اور موجودہ جنگی مشن کے تناسب سے تیار کرنا ہے۔ یہ
طیارہ رات میں بھی فضائی مشن کیلئے پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاک فضائیہ کے
ان میراج طیاروں نے سال 2010 میں اردن میں ہونے والی جنگی مشقوں میں بھی حصہ لیا
تھا۔
میراج طیاروں پاکستان اپ گریڈیشن۔
پاکستان
میں میراج طیاروں کی اپ گریڈیشن کے بعد ان
طیاروں میں بی وی آر میزائلز بھی نصب کیے گئے۔ یہ طیارے اپ گریڈیشن کے بعد موٹر ویز
پر لینڈنگ اور ٹیک آف کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اسے ایچ فور سو بم، ایچ ٹو سو بم،
تکبیر گلائیڈ بم، اسٹیلتھ نیوکلئیر کروز میزائل جیسے رعد ایم کے ون اور رعد ایم کے
ٹو سے لیس کیا گیا۔گروپ کیپٹن محمد فاروق کے حوالے سے جاری کی گی میڈیا رپورٹس کے
مطابق میراج طیاروں کو جدید بنانے کیلئے سب سے اہم ٹینکالوجی ہوا میں دوران پرواز
ری فیول کی صلاحیت ہے، جس پر پاک فضائیہ جنوبی افریقہ کے ساتھ مل کر کام کر رہی
ہے، جب کہ دشمن یا دوست طیارے کی پہنچ والا آئی ایف ایف سسٹم بھی اسی سلسلے کی کڑی
ہے، یہ سسٹم میراج طیاروں کو اس وقت مدد فراہم کرتا ہے، جب کوئی دوسرا طیارا اسے
نشانہ بنانے یا فوکس کیلئے اپنے ریڈرا پر لے لیتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ طیارہ
بلاشبہ حیرت انگیز صلاحیتوں سے لیس ہے، جو اکیلے مشن پر پرواز کرتے ہوئے دشمن کی
صفوں میں گھس کر انہیں تہس نہس کرسکتا ہے اور دشمن کے ریڈار پر ظاہر بھی نہیں ہوتا
ہے۔
پاکستان کی فضائی طاقت پر ایک نظر۔
دور جدید میں جنگ میں فضائی قوت ہی برتری کی بنیادہوتی ہے۔پاکستان آئر فورس ایک اہم ترین جنگی قوت ہے جو بیک وقت زمینی، بحری اور فضائی محاذ پر اپنا لوہا منواتی ہے۔پاکستان کاقابل فخر جنگی جہاز جے ایف 17 تھنڈر رکھنیوالی پاکستان ائیرفورس کی حربی صلاحیتوں نے اسے دنیا کی بہترین ائیرفورس کی صف میں کھڑا کردیا ہے۔پاک فضائیہ ملک کی فضائی حدود کی نگرانی اور حفاظت کے ساتھ زمینی اور بحری افواج کی معاون و مددگاربھی ہے۔ملک پر جارحیت ہو یا دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان ائیرفورس نے ہمیشہ اپنی کارکردگی کا لوہا منوایا ہے۔اور خود کو پروفیشنل فورس کے طور پر منوایا ہے۔پاکستان آئر فورس کے جنگی طیارے اور ائیرڈیفنس سسٹم ملکی دفاع کا اہم ترین جز وہیں۔پاک فضائیہ کے ہوابازوں کا شمار دنیا کے بہترین جنگی پائلٹس میں ہوتا ہے۔پاک فضائیہ کے جنگی بیڑے میں میراج، ایف سیون، فائٹر جیٹ، ایف سولہ اور فخر پاکستان جے ایف 17 تھنڈر شامل ہیں۔پاکستان کے جدیدٹیکنالوجی سے لیس جنگی طیارے روایتیہتھیاروں کے ساتھ ایٹمی ہتھیاراستعمال کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔فورس ملٹی پلائر اواکس اور ائیرفیولنگ طیارے بھی ائیرفورس کا حصہ ہیں۔دوست ملک چین سے حاصل ٹیکنالوجی سے پاکستان جدید جے ایف17لڑاکا طیارے، تربیتی جہاز مشاق اور قراقرم اب خود تیار کررہا ہے۔جے ایف 17 جدید لڑاکا طیارہ ہے جو فضاء سے فضاء اور زمین پر ہدف کو نشانہ بنانے میں زبردست مہارت رکھتا ہے۔پہلے اسکواڈرن کی تکمیل کے بعد ائیرفورس آئندہ سالوں میں 150 جے ایف 17
تھنڈرطیاروں کو اسکواڈرنز میں شامل کرے گی۔

PAF celebrates golden jubilee of mirage aircraft in Pakistan air force
پاک
فضائیہ کے بہترین پیشہ ورانہ تربیتی مراکز ملکی دفاع کے لئے قابل انجینئر، ٹیکنیشنز
اور تیز تر فیصلہ سازی کے ماہر فائٹر پائلیٹس بھی فراہم کررہے ہیں۔ زمانہ امن میں
مستقل بنیادوں پر تربیتی مشقیں اور جدید کورسز نے پاک فضائیہ کے شاہینوں کو دنیا میں
بہترین ائیرفورس کی صف میں شامل کردیا ہے۔بغیر پائلٹ کیجاسوس طیارے ڈرون، جدید ائیرڈیفنس
سسٹم کے ساتھ میزائل ٹیکنالوجی نے پاکستان ائیرفورس کو ملکی دفاع کے لئے ناقابل
تسخیر بنادیا ہے۔فضاء سے فضاء اور زمین پرجبکہ زمین سیفضاء میں مار کرنے والے میزائل
بھی پاک فضائیہ کی اہم قوت ہیں۔حکومت پاکستان ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے
لئے چین، روس اور دیگر ممالک سے مزید جدید طیاروں، ریڈارز اور میزائل ٹیکنالوجی کے
حصول کے لئے کوشاں ہے۔خوب سے خوب تر کی تلاش جاری ہے۔پاکستان کی مسلح افواج خصوصا
پاک فضائیہ جدید خطوط پر استوار ہے اور دنیا کی کسی بھی فضائی فوج کا موازنہ کرنے
کی صلاحیت رکھتی ہے۔دشمن ملک بھارت پاکستان کی فضائی صلاحیت سے خائف ہے۔کیونکہ ہر
موقع پر پاک فضائیہ نے بھارت کو ناکوں چنے چبوانے ہیں۔معرکہ بالاکوٹ جدید جنگی تاریخ
کا ایک واقعہ ہے اور ابھی نندن کی گرفتاری اور رہائی ایک ضرب المثل بن چکی ہے۔
Reviewed by Rizwan Malik
on
مارچ 08, 2021
Rating:
کوئی تبصرے نہیں: