Subscribe Us

waqiat e serat episode 68 in urdu

 

واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں       قسط نمبر68

حضور کا خون مبارک

waqiat e serat episode 68 in urdu
waqiat e serat episode 68 in urdu

بیہقی نے ابی امامہ سے روایت کیا ہے کہ جب جنگ احدمیں کسی بد بخت کے پتھر مارنے سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دندان مبارک ٹوٹ گئے تو آپ کے اطراف لب سے جو خون بہا ابو سعید خدری کے والد مالک بن سنان نے اسے چوس لیا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا جس کے حون میں میرا خون مل جائے گا اسے نار جہنم نہیں چھو ئے گی۔اور ایک روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے زخم کو مالک بن سنان نے اس قدر چوسا کہ وہ جگہ سفید ہو گئی۔وہ جب چوستے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  فرماتے اسے باہر تھوک دے وہ عرض کرتے بخدا میں آپ کے خون پا ک کو زمین پر نہیں پھینکوں گا۔وہ نگلتا گیا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا جو چاہے کہ دنیا میں کسی جنتی کو دیکھے وہ اس شخص کو دیکھے۔بزاز،طبرانی،حاکم،بیہقی اور ابو نعیم نے حضرت عبداللہ بن زبیر سے روایت کیا ہے کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیچھے لگوائے۔جب فارغ ہوئے تو مجھے اپنا خون عطا فرمایا۔ارشاد فرمایا:اے عبداللہ اس خون کو لے جاؤ اور چھپاؤ تا کہ کوئی نہ دیکھ سکے۔میں لے گیا اور اسے پی گیا۔میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس خون کا تم نے کیا کیا؟میں نے عرض کی میں نے اسے پوشیدہ کر دیا۔ایک حدیث میں ہے:میں نے ایک ایسے پوشیدہ مکان میں اسے رکھ دیا ہے جو سب لوگوں سے مخفی  ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا شاید تو نے اسے پی لیا ہے؟عرض کی یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اسے پی لیا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم نے ایسا کیوں کیا؟عرض کی میں یہ جانتا ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خون کو جہنم کی آگ نہیں چھو سکتی اس لئے میں نے اسے پی لیا ہے کہ اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ مجھے آتش جہنم سے بچائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:تجھے دوزخ کی آگ نہیں چھو ئے گی اور اس کے سر پر اپنا دست شفقت پھیرا۔جس روزآپ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاخون نوش جان کیا اس دن سے لے کر یوم شہادت تک آپ کے منہ سے کستوری کی خوشبو آتی تھی۔شعبی کہتے ہیں حضرت ابن زبیر سے پوچھا گیا کہ یہ تو فرمائیں اس خون کا ذائقہ کیا تھا آپ نے فرمایا:”خون کا ذائقہ شہد کی طرح تھا خوشبو مشک کی طرح تھی۔“ حضور جب قضائے حاجت کیلئے بیت الخلاء میں تشریف لے جاتے تو یہ دعا مانگتے۔(الھمہ انی اعوذبک من الخبث والخبائث)جب فارغ ہو کر باہر تشریف لاتے تو یوں فرماتے۔(غفر الک الحمد اللہ الذی اذھب عنی الاذی وعا فانی منہ)حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص قضائے حاجت کیلئے جائے نہ قبلہ کی طرف منہ کرے اور نہ قبلہ کی طرف پیٹھ کرے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا کرتے تھے۔ایک روایت میں یہ آیا ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنے کے پچھلی طرف کوئی تکلیف تھی جس کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ نہیں سکتے تھے۔

حضور کا پسینہ مبارک

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینے مبارک کی مہک عطر کی طرح ہوا کرتی تھی۔اس کے بارے میں کئی روایات کا آپ مطالعہ کر آئے ہیں۔دارمی،بیہقی اور ابو نعیم نے حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایسی خصوصیات تھیں: حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی راستے پر چلتے تو اس میں مہک بس جاتی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو،ڈھونڈنے والا بآسانی معلوم کر سکتا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس راستے سے گزرے ہیں۔بزاز نے معاذ بن جبل سے روایت کیا ہے کہ می ں ایک دفعہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے نزدیک ہو جا۔جب نزدیک ہوا تو میں نے ایسی خوشبو سونگھی کہ مشک عنبر بھی اس کے سامنے ہیچ تھی۔ابن عساکر نے حضرت انس سے روایت کیا ہے آپ فرماتے ہیں مجھے اپنی والدہ ام سلیم سے جو گنج شائیگاں ورثہ میں ملا وہ یہ تھا۔اللہ کے پیارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چادر مبارک،حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک پیالہ جس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دودھ نوش فرمایا کرتے خیمہ کا ایک کھمبا اور ایک ایسی چیز جس کو وہ ”رامک“ (ایک سیاپ چیز)کو رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینہ مبارک میں گوندھ کر تیار کرتی تھی۔سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ام سلیم کے گھر میں اکثر تشریف فرما ہوتے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی ناز ہوتی۔اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اتنا پسینہ آتا تھا جس طرح بخار کے بیمار کو۔اس لئے آپ کو اتنا پسینہ دستیاب ہو جاتا جس میں اس رامک کو گوندھا جا سکتا تھا اور اس پسینہ سے جو خوشبو بناتی تھیں وہ دلہنوں کے کام آیا کرتی۔

حضور کے گیسوئے مبارک

قتادہ کہتے ہیں میں نے حضرت انس سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گیسوؤں کے بارے میں پوچھا۔آپ نے بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال زیادہ گھنگریالے نہ تھے بالکل سیدھے بھی نہ تھے بلکہ درمیان درمیان تھے۔علامہ زمخشری کہتے ہیں اکثر عربو ں کے بال گھنگھریا  لے ہوتے ہیں۔عجمیوں کے بال سید ے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں تمام شمائل کو یکجا کر دیا تھا۔سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک کے بال کندھوں تک لمبے ہوتے تھے۔ایک روایت میں ہے کہ کانوں کے نصف تک۔حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں۔میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالوں میں کنگھی کرتی تھی اور درمیان میں مانگ نکالتی تھی۔آدھے موئے مبارک ایک طرف اور آدھے ایک طرف۔ہجرت کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سر مبارک بال منڈواتے نہیں تھے۔صرف تین بار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بال منڈوائے۔ایک عام حدیبیہ میں پھر قضائے عمرہ کے وقت اس کے بعد حجتہ الوداع کے مو قع پر۔اور اکثر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے موئے مبارک کو منڈوا کر صحابہ کرام میں تقسیم کر دیا کرتے تھے۔صحابہ کرام ان موہائے مبارک کو اپنا گراں بہا سرمایہ سمجھتے تھے اور بڑے ادب و احترام کے ساتھ ان  کو سنبھال کر اپنے پاس رکھتے تھے۔

ریش مبارک کے بال

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ریش مبارک کے بال سیاہ تھے اور بڑے خوبصورت تھے۔امام مسلم نے حضرت انس بن مالک سے روایت کیا یہ کہ ابن سیر ین نے حضرت انس سے پوچھا:کیا سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خضاب استعمال فرماتے تھے؟آپ نے جواب دیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خضاب لگانے کی ضرورت نہیں تھی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ریش مبارک میں صرف گنتی کے چند بال سفید تھے اور اگر کوئی مجھے کہے کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سفید بال گن دوں تو بآسانی اسے بتا دسکتا ہوں۔آپ کی داڑھی اور سر مبارک میں کل سفید بالوں کی تعداد سترہ یا اٹھارہ یا بیس تھی۔امام مسلم نے حضرت انس سے روایت کیا ہے کہ میں نے اپنے آقا علیہ السلام کو دیکھا کہ حجام موہائے مبارک مونڈ رہا تھا اور صحابہ کرام اپنے آقا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے اردگرد دائرہ بنا کر کھڑے تھے اور ان کا یہ ارادہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی بال زمین پر نہ گرنے پائے۔ہر شخص تیمن اور برکت حاصل کرنے کیلئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موئے مبارک کو اپنی ہتھیلی پر لیتا تھا۔محمد بن سیرین کہتے ہیں میں نے عبیدہ السلمانی کو بتایا کہ ہمارے ہاں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موہائے مبارک میں سے چند بال ہیں جو ہمیں حضرت انس کے واسطہ سے ملے ہیں۔اس پر انہوں نے کہا کہ اگر میرے پاس نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یاک موئے مبارک ہو تو مجھے دنیا و مافیہا سے زیادہ پیاراہے۔

حضور کے چہرہ مبارک کی رنگت مبارک

وہ صحابہ کرام جو حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیہ بیان کرنے میں بڑی شہرت رکھتے تھے ان میں سے جمہور صحابہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ کی ابیض سے توصیف کرتے اور بعض میں ہے سفید ی لیکن ایسی سفیدی جس میں ملاحت ہوتی۔حضرت علی مرتضی فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رنگت سفید تھی جس میں سرخی کی ملاوٹ تھی یعنی سرخ وسپید۔ابو ہریرہ فرماتے تھے رنگت ابیض تھی یوں معلوم ہوتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چاندی سے ڈھالا گیا اور چاند ی سے اس لئے تشبیہ دی ہے کہ چاندی کی سفید ی دوسری سفید یوں سے اعلیٰ ہوتی ہے۔حضرت انس فرماتے ہیں اس میں ایسی سفیدی تھی جس میں سرخی کی ملاوٹ ہوتی،ایسی سفید نہیں تھی جو آنکھوں کو ناگوار گزرے۔“(ضیاء النبی ج5ص498تا502)

waqiat e serat episode 68 in urdu waqiat e serat episode 68 in urdu Reviewed by Rizwan Malik on مارچ 14, 2021 Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.