واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمبر71
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مجلس سے قیام
حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتے کا نازل ہونا اور حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے صحابہ کرام کو خوشخبری سنانے کا واقعہ ضیاء
النبی میں اس طرح ہے بیان ہوا ہے۔
”حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مجلس سے کھڑے ہونے کی دو قسمیں تھیں۔ایک قسم اس قیام کی
تھی جس کے بعد حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی جگہ پر لوٹ آتے تھے اور دوسرا قیام
ایسا تھا کہ وہ مجلس برخاست ہونے کا اعلان ہوتا۔پہلے قیام کے بارے میں حصرت ابو
الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تشریف
فرما ہوتے تھے تو ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد حلقہ باندھ کر بیٹھتے
تھے۔اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قیام کے بعد اسی مجلس میں واپس ہونے کا
ارادہ کرتے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نعلین مبارک باہر ہی رکھ آتے یا
کوئی اور چیز جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہوتی وہ مجلس سے باہر رکھ دیتے
جس سے صحابہ کرام کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارادہ پر آگاہی ہو جاتی۔لوٹا
لیا اس میں پانی بھرا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے چل پڑا حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت کے بغیر واپس لوٹے۔میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم!حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے قضائے حاجت نہیں کی۔آپ(صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نہیں کی۔یہ جلدی اس لئے کی کہ میرے پاس فرشتہ میرے
رب کی طرف سے یہ پیغام لے آیا۔:”اور جو شخص براکام یا ظلم کر لے اپنے آپ پر پھر
مغفرت مانگے اللہ تعالیٰ سے تو پائے گا اللہ تعالیٰ کو بڑا بخشنے والا بہت رحم
فرما نے والا۔“اسی آیت سے پہلے ایک اور آیت ناز ہوئی تھی جو میرے صحابہ پر بڑی
گراں گزری تھی۔:آدمی گناہ کرے گا تو اس کو اس کی جزادی جائے گی۔میرے صحابہ اس آیت
سے بڑے افسردہ اور غمگین تھے۔میں قضائے حاجت کئے بغیر واپس آیا ہوں تا کہ اپنے
صحابہ کو یہ خوشخبری سناؤں۔میں نے عرض کی یا رسول اللہ!اللہ تعالیٰ سارے گناہ معاف
کر دے گاخواہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو؟حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
فرمایا خواہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو پھر بھی اللہ تعالیٰ اس کے گنا ہ معاف
کر دے گا۔پھر میں نے عرض یک یا رسول اللہ:خواہ وہ زنا اور چوری کرنے کے بعد توبہ
کر ے تو پھر بھی اس کو بخش دیا جائے گا؟حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بیشک۔پھر
ابو درداء نے تیسری بار یہی سوال دہرایا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری
مرتبہ جواب دیا:بیشک اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے گا خواہ عویمر کی ناک کیوں نہ خاک
آلود ہو۔دوسری قسم جس قیام سے مجلس برخاست کرنا مطلوب ہو۔ایسے قیام سے پہلے حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے۔اور پھر مجلس کو برخاست کرتے۔:اے
اللہ!تو ہر شریک اور ہر عیب سے پا ک ہے اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور میں گواہی دیتا
ہوں کہ تیرے بغیر اور کوئی معبد نہیں۔میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری جناب
میں توبہ کرتا ہوں۔“ابو برزہ نے اس روایت پر یہ اضافہ کیا ہے کہ ایک شخص نے عرض کی
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے ایک ایسا ارشاد فرمایا جو پہلے حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں فرمایا کرتے تھے۔کیا یہ کلمات مجلس میں جو غلطیاں
ہوتی ہیں ان کا کفارہ ہیں؟حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:یہ وہ کلمات ہیں
جو جبرئیل نے مجھے سکھائے ہیں مجلس میں وقوع پذیر ہونے والی ساری حطاؤں کا یہ
کفارہ ہے۔ایک دوسری روایت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا)سے مروی ہے
کہ حصور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی مجلس میں تشریف فرما ہوتے یا نماز ادا
کرتے تو کچھ کلمات زبان مبارک پر لے آتے۔میں نے اپنے آقا (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم)نے ان کلمات کے بارے میں دریافت کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
وہ کلمات یہ ہیں۔(سُبْحاَ نَکَ اللھُمہَ وَبِحَمْدِ کَ لَاَاِلہَاَنْتَ
اَسْتَغْفِرْ کَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ۔)پھر فرمایامجلس کے اختتام پر جو شخص یہ
کلمات کہے گا اس مجلس میں جتنی خطائیں اس سے سرزد ہوئی ہیں وہ سب بخش دی جائیں گی۔“
حضور کی رفتار اور اس کی انواع
اس
کی ہیئت:حضر ت ابو ہریرہ سے مروی ہے آپ نے فرمایا:”میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم سے زیادہ تیز چلنے والا کسی کو نہیں دیکھا۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ زمین حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سے لپٹتی جا رہی ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم جب چلتے تو کسی قسم کا ضعف یا سستی ہر گز نمایا ں نہ ہوتی۔حضورصلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم جب چلتے تو ساتھ والے لوگ دوڑتے لیکن پھر بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کو نہ پا سکتے۔“حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔:”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم چلتے تو اپنے عصا پر ٹیک لگاتے۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب چلتے تو پوری قوت سے چلتے اس میں کوئی
کسل اور سستی نہ ہوتی۔حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کی سرعت فتاری کو بیان کرتے ہوئے فرمایا۔:”رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
جب چلا کرتے تو یوں معلوم ہوتا کہ بلندی سے نشیب کی طرف جا رہے ہیں اور جب حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم چلا کرتے تو قدم جما کر رکھتے جس سے پتہ چلتا کہ حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم جلدی میں نہیں ہیں۔“ اسی سرعت رفتاری کو حضرت ابن سعد نے یوں بیان
کیا ہے۔:”جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتے تو آگے زور دے کر چلتے گویا بلند ی
سے نیچے اتر رہے ہیں۔“ ابن سعد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔:کہ حضور
جب چلتے تو زمین پر سے پاؤں زور کے ساتھ اٹھاتے (جیسے مستعد اور مضبوط لوگوں کی
چال ہے)یہ نہیں کہ چھوٹے چھوٹے قدم مغروروں یا عورتوں کی طرف رکھتے۔“ حضرت فاروق
اعظم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آپ نے فرمایا کہ میں نے مغرب کی نماز اللہ کے پیارے
رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے ساتھ ادا کی۔بعض نماز ی واپس آگئے وار بعض وہیں
ٹھہرے رہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلدی سے تشریف لائے حتیٰ کہ سانس پھولا
ہوا معلوم ہو تا تھا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیزی سے فرمایا:”اے میرے
صحابہ تمہیں خوشخبری ہو،یہ ہے تمہارا پروردگار جس نے آسمان کے دروازوں سے ایک
دروازہ کھولا ہے اور تمہاری وجہ سے ملائکہ پر فخر کر رہا ہے اور فررہے ہے:اے
ملائکہ!دیکھو میرے بندوں کو انہوں نے ایک فریضہ ادا کیا ہے وار دوسرے کے انتظار میں
بیٹھے ہیں۔“حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب چلتے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کلی طور پر ایک چیز کی طرف متوجہ ہوتے۔حضرت ہند بنت ابی ہالہ فرماتی ہیں۔:”یعنی
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی چیز کی طرف متوجہ ہوتے اور جب کسی چیز کی طرف
پیٹھ کرتے تو مکمل طور پر پیٹھ کرتے۔“
حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جوتے پہن کر،ننگے پاؤں اور الٹے پاؤں
چلنا
حضرت
ابن عمر سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی ننگے پاؤں چلتے اور کبھی
نعلین پہن کر چلتے۔کبھی کبھی سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیچھے کی طرف
چلتے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔میں ایک روز باہر سے آئی حضور کریم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر کے ادر نماز ادا کر رہے تھے۔دروازہ بند تھا میں نے دروازہ
کھولنے کی التجا کی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے اور دروازہ کھولا
پھر الٹے پاؤں اپنے مصلیٰ پر پہنچے اور بقیہ نماز مکمل کی۔سرور عالم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم بسا اوقات چلتے ہوئے اپنے کسی صحابی کا ہاتھ اپنے دست مبارک سے پکڑ لیتے
حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ میں ایک روز کسی کام کیلئے گھر سے
باہر نکلا۔اچانک دیکھا کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے جا رہے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا وار ہم دونوں اکٹھے چلتے رہے۔حضرت ابو امامہ روایت کرتے
ہیں سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن میراہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا اے
ابا امامہ بعض ایسے اہل ایمان ہیں جن کیلئے میرا دل بہت نرم ہوتا ہے۔طبرانی حضرت
انس سے روایت کرتے ہیں کہ ایک روز سرور انبیاء باہر تشریف لے آئے اور حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے ابو ذر کا ہاتھ
پکڑا ہوا تھا۔اسی حالت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”اے ابو ذر کیا
تم جانتے ہو کہ ہمارے سامنے ایک دشوار گزار گھاٹی ہے،اس پروہی لوگ چڑھ سکیں گے جن
کے کندھوں پر گناہوں کا بوجھ ہلکا ہو گا۔“
ہادی انس و جان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آداب خوردو نوش
”بزاز اور طبرانی نے ثقہ راویوں کے واسطہ سے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت یمں جب کھانے کی کوئی چیز بطور ہدیہ پیش کی جاتی تو پہلے وہ ہدیہ پیش کرنے والا اس سے تناول کرتا اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف ہاتھ بڑھاتے۔اس احتیاط کی وجہ یہ ہے کہ فتح خیبر کے بعد ایک یہودن نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت میں ایک بکر ی کا گوشت بھون کر پیش کیا وار اس نمیں اس نے زہر ملاد ی تھی۔سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس احتیاط کا التزام فرمایا تا کہ آئندہ کوئی دشمن اسلام ایسی حرکت نہ کرے۔سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کھانا کھانے کیلئے تشریف فرما ہوتے تو اس طرح نہ بیٹھتے جس سے غرور اور رعونت کا اظہار ہو بلکہ اس طرح نشست فرماتے کہ عجزو تواضع کا اظہار ہو۔حضرت ابو حجیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا۔رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اس حالت میں نہیں کھاتا کہ میں تکیہ پر ٹیک لگائے بیٹھا ہوں۔رواہ بخاری احمد وغیرہما۔امام مسلم،ابو داؤد عبداللہ بن بسر سے روایت کرتے ہیں کہ بارگاہ رسالت میں ایک بکری پیش کی گئی۔رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دونوں گھٹنوں پر بیٹھے اور اس گوشت کو تناول فرمانے لگے۔ایک اعرابی نے دیکھا تو کہنے لگا بیٹھنے کی یہ صورت کیسی ہے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”مجھے اللہ تعالیٰ نے عزت والا بندہ بنایا ہے۔مجھے جابر اور متکبر نہیں بنایا ہے۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جبرئیل کی معیت میں ایک خاص فرشتہ بھیجا۔اس نے عرض کی یا رسول اللہ!(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اللہ تعالیٰ نے آپ کو اختیار دیا ہے کہ چاہے تو آپ ایسے نبی بنیں جو بندہ ہے اور چاہے تو بادشاہ بنیں۔سرکا ر دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبرئیل امین کی طرف دیکھا۔جبرئیل نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا تو اضع اختیار فرمائیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”میں بادشاہ نہیں بننا چاہتا میں ایسا نبی بننا چاہتا ہوں جو اپنے رب کا بندہ ہو۔اس گفتگو کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی تکیہ لگا کر کھانا نہیں کھایا۔“(ضیاء النبی ج5ص522تا528)
کوئی تبصرے نہیں: