واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمبر63
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز مبارک
”کسی آواز کی دو ہی خوبیاں ہوتی ہیں خوش الحان ہو اور بلند ہو۔اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کی آواز میں یہ دونوں خوبیاں رکھی تھیں۔ابن عساکر حضرت انس سے روایت کرتے ہیں۔:”اللہ تعالیٰ نے کبھی کوئی
نبی نہیں بھیجا مگر اسے خوبر و بنا کر اور خوش آواز بنا کر مبعوث فرمایا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم)کو مبعوث فرمایا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ انور بھی بڑا دلکش تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کی آواز بھی بڑی شیریں تھی۔یہی روایت حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے بھی مروی ہے۔صیحین میں
ہے کہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایک شب رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز عشاء میں
(وَالتین والنریتون)کی سورہ تلاوت فرمائی۔میں نے آج تک اتنی شیریں آواز کسی کی نہیں سنی تھی۔طبرانی اور امام
ترمذی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گفتگو فرمایا کرتے
تو یوں محسوس ہوتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دندان مبارک نور کی لہریں بہ رہی ہیں۔اور حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کی آواز بہت دور تک سنائی دیتی تھی۔کسی شخص کی آواز اتنی دور نہیں سنائی دیتی تھی۔براء بن عازب
روایت کرتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک روز خطبہ دیا۔دوردراز محلوں میں جو خواتین تھیں انہوں
نے اپنے پردوں میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ خطبہ سنا۔ابو نعیم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے
روایت کرتے ہیں: ایک دفعہ جمعہ کے روز حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما رہے،لوگوں کو فرمایا
بیٹھ جاؤ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز عبد اللہ بن رواحہ نے بنی غنم کے محلہ میں سنی جو وہاں سے کافی دور
تھا اور اس جگہ بیٹھ گئے۔حضرت ابن سعد نے عبدالرحمن بن معاذ التیمی جو طلحہ بن عبداللہ کے عم زاد تھے،کویہ کہتے
سنا: اللہ کے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منی میں خطبہ ارشاد فرمایا ہم دور دراز اپنی منازل میں جہاں بھی
تھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ حطبہ ہر ایک نے سنا۔حضرت ام ہانی بنت ابی طالب فرماتی ہیں آدھی رات کے
وقت کعبہ شریف کے پاس نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرات فرمایا کرتے اور میں اپنی چارپائی پر بیٹھ کر حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دلنواز قرات کو سنا کرتی تھی۔“
حضور کا ہنسنا
”امام بخاری نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔:”میں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کو کبھی قہقہہ لگاتے نہیں سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منہ پورا کھل جائے اور خلق کا گوشت نظر
آنے لگے۔“ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنسے یہاں تک
کہ دندان مبارک نظر آنے لگے۔اور یہ نادر ہوا کرتا تھاجیسے حضرت صدیقہ نے انہیں دیکھا اور ابو ہریرہ نے دیکھا۔
حضرت ابن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی ہنسی اکثر تبسم ہوا کرتی تھی۔حافظ ابن
حجر لکھتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اکثر معمول یہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبسم فرمایا کرتے اور
کبھی کبھی ہنسنے کی نوبت بھی آتی تھی لیکن وہ ہنسی بھی قہقہہ سے کم ہوتی تھی۔اور ہنسی سے مکروہ یہ ہے کہ کثرت سے
ہنسا جائے کیونکہ یہ وقار کو ختم کر دیتا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جن افعال کی پیروی ضروری ہے وہ ایسے
افعال ہیں جن کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ کیا کرتے تھے او ر وہ تبسم تھا اور اونچی آواز سے ہنسنا ہو محض بیان
جواز کیلئے تھا۔امام بخاری نے ادب مفرد میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے فرمایا۔:”کثرت سے ہنسانہ کرو کیونکہ کثرت سے ہنسنا دل کو مار دیا کرتا ہے۔“
حضور کا گریہ و فغاں
”جس طر ح سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنستے وقت قہقہہ نہیں لگایا کرتے تھے اسی طرح جب روتے تھے تو آواز
بلندنہیں ہوتی تھی بلکہ آنکھوں سے آنسو ٹپکتے تھے اور موسلا دھار بہتے تھے۔البتہ سینے میں رونے کی آواز سنائی دیتی
تھی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی کسی میت پر ازراہ رحمت اشک فشانی کرتے اور کبھی اپنی امت پر عذاب الہی کے
خوف سے رویا کرتے ور کبھی قرآن کریم سنتے وقت چشم مبارک سے آنسوؤں کے موتی ٹپکنے لگتے۔کبھی حالت نمازمیں
گریہ طاری ہو جاتا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے جمائی لینے سے محفوظ رکھا تھا۔ام المومنین میمونہ
رضی اللہ عنہا کے بھائی فرماتے ہیں:”بخاری شریف میں ہے اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی لینے کو نا پسند
کرتا ہے۔“
حضور کے دست مبارک
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک کی یو ں تو صیف کی گئی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلیاں اور
انگلیاں جو انمردوں کی طرح موٹی تھیں ان میں درشتی نہ تھی نہ وہ چھوٹی تھیں۔یہ صفت مردوں کیلئے حسن وجمال ہے
اور عورتوں میں یہ قابل مدمت ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کلائیاں بھی بڑی فربہ اور طاقتور تھیں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلیاں کشادہ
تھیں۔نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک روز جابر بن سمرہ کے رخساروں پر بطور انس وشفقت اپنا دست
مبارک پھیرا۔حضرت جابر کہتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک کی ٹھنڈی اور خوشبو
محسوس کی مجھے یوں معلوم ہوا کہ ابھی ابھی یہ دست مبارک عطار کی صندوقچی سے نکلا ہے۔امام طبرانی اور بیہقی وائل
بن حجر سے روایت کرتے ہیں۔”کہ اللہ تعالیٰ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے ساتھ میں مصافحہ کیا کرتا تھا۔
میری جلد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جلد کس مس کرتی تھی اور میں کافی دیر تک یہ اثر محسوس کرتا رہتاتھا۔اور
اس میں کستوری سے عمدہ خوشبو آتی۔“ یزید بن اسودر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے اپنا دست مبارک مجھے پکڑایا مجھے یوں محسوس ہوا کہ وہ برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور کستوری سے زیادہ خوشبودار۔
طبارنی مستورد بن شداد سے اور وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں۔”میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑا۔وہ ریشم سے زیادہ گدازاور برف سے
زیادہ ٹھنڈا تھا۔“ امام احمد سعد بن ابی وقاص سے روایت کرتے ہیں۔حجتہ الوداع کے موقع پر مکہ مکرمہ میں حضرت
سعد جب بیمار ہو گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی عیادت کیلئے تشرف لے گئے۔سعد فرماتے ہیں کہ حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک میری پیشانی پر رکھا پھر میرے چہرے سینے اور میرے پیٹ پر پھیرا۔اب
تک یوں محسوس ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک کی خنکی میرے کلیجے کو ٹھنڈا کر رہی
ہے۔امام بخاری حضرت انس سے روایت کرتے ہیں آپ فرماتے۔:”میں نے آج تک کسی ریشم اور دیباج کو نہیں
دیکھا جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلیوں سے زیادہ نرم ہو اور نہ میں نے آج تک کوئی ایسی خوشبوسونگھی ہے
جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشبو اور مہک سے زیادہ پاکیزہ ہو۔“
حضرت عمار بن یاسر کو آگ سے محفوظ کرنے کا واقعہ
”حضرت ابن سعد عمرو بن میمون سے روایت کرتے ہیں کہ مشرکین مکہ نے حضرت عمار بن یاسر کو آگ میں ڈالنا چاہا۔
آگ میں پھینکنے کو تیار تھے کہ رحمت للعالمین شفیع یوم الدین مطفی نار المفسدین سید المر سلین شفیع المذنبین رسول اکرم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور اپنا دست رحم و شفقت عمارکے سر پر رکھ کر فرمایا اے آگ عمار پر ٹھنڈا ہو جا
جیسے تو ابراہیم پر ہوئی تھی اور اسے دکھ نہ دے۔اے عمار!تیرے مرنے کا وقت یہ نہیں بلکہ ایک اور وقت باغیوں کی
جماعت تمہیں قتل کرے گی۔آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کا یہ فرمان سن کر آگ سر د ہو گئی۔بعد ازاں عرصہ دراز
کے بعد امیرالمومنین علی مرتضی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں شامی باغیوں کے گروہ نے آپ کو قتل کیا۔اس
طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیش گوئی سچی ثابت ہوئی۔امام بیہقی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رضی
اللہ عنہا)سے روایت کرتے ہیں آپ فرماتی ہیں۔:”ایک روز آقائے نامدار میرے حجرے میں تشریف لائے حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں ایک ڈھال تھی جس پر عقاب کی تمثال بنی تھی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے اس پر ہاتھ رکھ کر رگڑا۔اللہ تعالیٰ نے اس کے نام و نشان مٹا دئیے۔“
حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے کے سینہ مبارک پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پھیرنے کا واقعہ
”ابن ماجہ نے امیرالمومنین حضرت علی مرتضی کرم اللہ وجہہ سے روایت کیا ہے:حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے جب مجھے یمن بھیجنا چاہا تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں تو ناتجربہ کا رہوں کچھ
جانتا نہیں۔میں پیچیدہ مقدمات کے فیصلے کیونکر کروں گا۔یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست فیض
میرے سینہ پر مارا اور دعا کی۔اے اللہ!اس کے دل کو احقاق حق کی قوت دے اور اس کی زبان پر حق چلا۔حضرت
علی(رضی اللہ عنہ)فرماتے ہیں اس وقت سے تادم واپسیس فریقین کے مقدمات کے فیصلہ کرنے میں مجھ سے ذرا بھر
کبھی غلطی نہیں ہوئی۔امام بیہقی نے ابو العالیہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک روز
اپنے نو گھروں میں یعنی نو امہاالمومنین کے پاس کسی کو بھیجا کہ جا کر کسی کے گھر میں کچھ کھانے کو ہو تو بھیج دے۔آپ
کے پاس آپ کے صحابی تھے مگر کسی گھر سے کچھ نہ ملا۔اتفاق سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک پٹھوری نظر آئی
جو ابھی شیر دار نہیں ہوئی تھی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا۔ہاتھ پھیرتے ہی اس
کیت تھن دودھ سے بھر گئے اور اس کی ٹانگوں کے درمیان نیچے لٹک آئے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لکڑی
کابڑ ا پیالہ منگوایا پھٹوری کو دو ہا اور اپنی نو ازواج مطہرات کو ایک ایک کاسہ دودھ کا بھر ا ہوا بھیجا۔پھر آپ نے
حاضرین مجلس کو دودھ سے سیر کیا۔“(ضیاء النبی ج5ص466تا471)
Reviewed by Rizwan Malik
on
مارچ 07, 2021
Rating:

کوئی تبصرے نہیں: