یوم وفات سابق صدر پاکستان غلام اسحاق خان
غلام اسحاق خان بنگش پاکستان کے سابق صدر تھے۔ انہوں نے سیاست میں
آنے سے بہت پہلے سرکاری عہدوں پر خدمات سر انجام دیں۔ ضلع بنوں کے ایک گاؤں اسماعیل
خیل میں ایک پشتون گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق پشتونوں کے بنگش قبیلے سے تھا
ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے پشاور سے کیمیا اور نباتیات کے مضامین کے ساتھ گریجویشن
کی۔ انیس سو چالیس میں انڈین سول سروس میں شمولیت اختیار کی۔
سول سروس میں خدمات۔
آپ نے 1940 میں انڈین سول سروس میں شمولیت اختیار
کی۔ قیام پاکستان کے بعد سیکرٹری اطلاعات مقرر ہوئے۔1955 میں جب ون یونٹ کے تحت
مغربی اور مشرقی پاکستان کے نام سے دو صوبے بنائے گئے تو غلام اسحاق خان مغربی
پاکستان کے سکریٹری آبپاشی مقرّر ہوئے۔ اس حیثیت میں پاکستان بھارت دریائی پانی کی
تقسیم کے معاملات میں وہ سرکاری معاونت کرتے رہے۔ 196ٍ1 میں پانی و بجلی کے وسائل
کی ترقی اور نگرانی کے ادارے واپڈا کے سربراہ بنے اور 1965 تک اس عہدے پر فائز
رہے۔ اس کے بعد پانچ برس سے زائد عرصے تک سیکرٹری خزانہ رہے۔ بھٹو حکومت کی تشکیل
کے بعد غلام اسحاق خان 1975 تک گورنر اسٹیٹ
بینک کے طور پر فرائض انجام دیتے رہے۔
اس کے بعد غلام اسحاق خان کو سکریٹری جنرل دفاع
کا قلمدان دے دیا گیا۔ اس حیثیت میں وہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے بھی نگراں رہے
اور ان کے فوج کی اعلیٰ قیادت سے بھی براہ راست تعلقات استوار ہوئے۔1977 میں جب
جنرل ضیا الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹا تو غلام اسحاق خان پہلے مشیرِ خزانہ اور
پھر وزیرِ خزانہ بنائے گئے اور انہوں نے معیشت کو اسلامی طرز پر ڈھالنے کے جنرل ضیا
کے ایجنڈے میں معاونت کی۔ ملک کے لیے خدمات کے پیش نظر انہیں ستارہ پاکستان اور
ہلال پاکستان کے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔
سیاسی زندگی۔
1984 کے اواخر میں غیر
جماعتی انتخابات کے نتیجے میں بحالی جمہوریت کا محدود اور محتاط عمل شروع ہوا تو
غلام اسحاق خان کو سینیٹ کا چیئرمین بنایا گیا جو آئینی اعتبار سے صدر کا جانشین
عہدہ ہے۔
بطور قائم مقام صدر۔
چنانچہ جب 17اگست 1988 کو غلام اسحاق خان نے بحیثیت قائم مقام
صدر مملکت باضابطہ طور پر تصدیق کی کہ صدر ضیا الحق کا طیارہ ہوا میں پھٹ گیا ہے
تو اس وقت پورے ملک میں یہ انتظار ہو رہا تھا کہ فوج کب اقتدار سنبھالتی ہے لیکن ایسا
نہیں
ہوا۔انہوں نے عام انتخابات کراے جس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی
برسر اقتدار آء۔
بطور صدر انتخاب۔
غلام اسحاق خان پیپلز پارٹی اور آئی جے آئی کی مشترکہ حمایت سے
دسمبر1988میں نوابزادہ نصر اللہ خان کے مقابلے میں پاکستان کے ساتویں صدر منتخب ہو
گئے۔
صدر غلام اسحاق خان کو آٹھویں آئینی ترمیم کی
شق اٹھاون ٹو بی کے تحت منتخب پارلیمان اور حکومت کو برطرف کرنے کے ساتھ ساتھ عدلیہ
کے جج اور مسلح افواج کے سربراہان کی تقرری کا اختیار بھی حاصل تھا۔ لیکن ان کی نہ
تو بے نظیر بھٹو سے اور نہ ہی بعد میں نواز شریف حکومت سے نبھ سکی۔ اور 1990 میں بے نظیر حکومت اور اپریل 1993 میں نواز شریف حکومت اٹھاون ٹو بی کا شکار ہوگئیں۔سپریم
کورٹ نے 1988 میں اس صدارتی اختیار کے تحت صدر ضیا الحق کے ہاتھوں جونیجو حکومت
اور پھر 1990 میں غلام اسحاق خان کے ہاتھوں بے نظیر حکومت کی پہلی برطرفی کو تو غیر
آئینی قرار نہیں دیا البتہ نواز شریف حکومت کی برطرفی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے
مئی1993میں اس کی بحالی کا حکم جاری کر دیا۔
صدارت سے استعفیٰ۔
نواز حکومت کی بحالی کے بعد وفاقی ڈھانچہ ڈیڈلاک کا شکار ہو گیا۔ چنانچہ بری
فوج کے سربراہ جنرل عبد الوحید کاکڑ کے دباؤ پر نو بحال وزیرِ اعظم نواز شریف اور
جہاندیدہ صدر غلام اسحاق خان کو گھر جانا پڑا۔
خدمات۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں ان کا نام غلام اسحاق
خان انسٹییوٹ آف انجنیئرئنگ اینڈ ٹیکنالوجی جیسے اعلی تعلیمی ادارے کے ٹوپی کے
مقام پر قیام کی وجہ سے زندہ رہے گا۔ اس کے علاوہ بھٹو دور میں ایٹمی پروگرام کو
آگے بڑھانے میں بھی ان کا کردار کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
انتقال۔
غلام اسحاق خان جبری ریٹائرمنٹ کے بعد پشاور میں
ایسے گوشہ نشین ہوئے کہ نہ تو انہوں نے اپنی سوانح حیات لکھی اور نہ ہی کبھی کوئی
انٹرویو دیا۔ حالانکہ اگر وہ چاہتے تو سن انیس سو پچپن سے لے کر تا مرگ پاکستان کی
تمام اہم محلاتی جوڑ توڑ کو تاریخ کی عدالت میں سلطانی گواہ کے طور پر بہت اچھے طریقے
سے بے نقاب کرسکتے تھے۔ اکتوبر 2006 میں نمونیا کے حملے سے ان کا انتقال ہوا۔
پشاور میں ان کو دفن کیا گیا۔
کوئی تبصرے نہیں: