یوم شھادت غازی علم الدین شھید۔
آپ وہ خوش نصیب انسان تھے جنہوں نے غیرت ایمانی
کا مظاہرہ کرتے ہوے ایک گستاخ رسول کو واصل جہنم کیا۔
ولادت و ابتدائی حالات۔غازی علم الدین شہید 3 دسمبر 1908ئبمطابق 8 ذیقعد 1366ھ کو لاہور کے ایک علاقے کوچہ چابک سواراں (موجودہ نام محلہ سرفروشاں) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام طالع مند تھا جو ترکھان یعنی لکڑی کے کاریگر تھے۔ غازی علم دین نے ابتدائی تعلیم اپنے محلے کی تکیہ سادھواں کی مسجد اوربازار نوہریاں اندرون اکبری دروازہ بابا کالو کے مدرسہ میں حاصل کی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے اپنے آبائی پیشہ کو اختیار کیا اور اس فن میں اپنے والد اور بڑے بھائی میاں محمد امین کی شاگردی اختیار کی۔1928ء میں آپ کوہاٹ منتفل ہو گئے
نسب۔علم الدین ولد طالع مند ولد عبد الرحیم ولد جوایا برخوردار ولد عبد اللہ
ولد عیسیٰ ولد برخواردار ولد بابا لہنو۔
آپکے آباؤ اجداد سکھ مذہب سے تعلق رکھنے
تھے۔مغل بادشاہ جہانگیر کے دور میں آپکے خاندان کے ایک بزرگ لہنا سنگھ نے اسلام
قبول کیا جو بعد میں بابا لہنو کے نام سے معروف ہوے
راج پال کے قتل کا پس منظر۔راج پال لاہور کا
رہنے والا ایک ہندو ناشر تھا۔اس نے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں
گستاخی پر مبنی ایک کتاب شائع کی۔مسلم راہنماوں نے قانونی راستہ اختیار کیا لیکن
عدالتوں نے معاملہ کی سنگینی کو نہ سمجھا اور اسے بری کر دیا جس پر پورے ہندوستان
کے مسلمانوں میں اضطراب پیدا ہوگیے۔غازی علم الدین بھی انہی مضطرب نوجوانوں میں
شامل تھے۔
غازی علم الدین کا اقدام۔غازی صاحب سے قبل
متعدد نوجوانوں نے راجپال کو انجام تک پہنچانے کی کوشش لیکن ہر بار وہ بچ گیا۔29اپریل
1929کو غازی علم الدین اسکی دوکان پر گیے اور اسکو کہا کہ اس گستاخی کی معافی
مانگو۔انکار پر انہوں خنجر کے وار کر کے اس واصل جہنم کردیا
غازی علم الدین قانون کی عدالت میں۔غازی علم الدین شہید راجپال کو قتل کرنے کے بعد پرسکون رہے۔خود کو پولیس کے حوالے کیا۔ آپ نے اس کارروائی کا اعتراف کیا۔ مقدمہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ لوئس کی عدالت میں پیش ہوا جس نے آپ پر فرد جرم عائد کر کے صفائی کا موقع دیے بغیر مقدمہ سیشن کورٹ میں منتقل کر دیا۔ آپ کی جانب سے سلیم بارایٹ لا پیش ہوئے جنھوں نے آپ کے حق میں دلائل دیے مگر نیپ نامی انگریز جج نے آپ کو مورخہ 22 مئی 1929ء کو سزائے موت کا
حکم سنایا۔
غازی علم الدین لاہور ہائی کورٹ میں۔مسلمانان
لاہور نے فیصلہ کیا کہ سیشن کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی جائے
اور اس مقدمے میں غازی صاحب کی وکالت کے لیے شہرہ آفاق وکیل محمد علی جناح کو
نامزد کیا جائے۔ چنانچہ محمد علی جناح بمبئی سے لاہور تشریف لائے ان کی معاونت
جناب فرخ حسین بیرسٹر نے کی۔ 15 جولائی 1929ء کو ہائی کورٹ کے دو جج نے فیصلہ
سناتے ہوئے سیشن کورٹ کی سزا کو بحال رکھا۔ اور غازی کی اپیل خارج کردی۔ اپیل خارج
ہونے کی اطلاع جب جیل میں غازی کو ملی تو آپ مسکرا کر فرمایا '' شکر الحمداللہ! میں
یہی چاہتا تھا۔ بزدلوں کی طرح قیدی بن کر جیل میں سڑنے کی بجائے تختہ دار پر چڑھ
کر ناموس رسالت پر اپنی جان فدا کرنا موجب ہزار ابدی سکون و راحت ہے''۔
مسلمان عمائدین نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے
خلاف لندن کی پریوی کونسل میں اپیل دائر کی۔ اس اپیل کا مسودہ محمد علی جناح (جو
بعد میں قائد اعظم کہلائے) کی زیر نگرانی تیار کیا گیا۔ مگر انگریز حکومت جو ایڈیشنل
سیشن کورٹ سے ہائی کورٹ تک مسلم دشمنی کا مسلسل مظاہرہ کرتی آئی تھی نے اس اپیل کو
بھی رد کر دیا۔
شہادت۔31اکتوبر 1929ء بروز جمعرات کو میانوالی
جیل میں آپ کی سزا پر عمل درآمد کیا گیا۔جنازہ اور تدفین کے انتظامات۔تدفین کے
انتظامات کی سرپرستی مولانا ظفر علی خان، علامہ محمد اقبال اور سید دیدار علی شاہ
نے فرمائی۔ صندوق و بانس کا اہتمام ڈاکٹر محمد دین تاثیر نے کیا تھا جو پنجاب کے
مقتول گورنر سلمان تاثیر کے والد تھے۔
جنازہ اور تدفین کے انتظامات۔تدفین کے انتظامات
کی سرپرستی مولانا ظفر علی خان، علامہ محمد اقبال اور سید دیدار علی شاہ نے فرمائی۔
صندوق و بانس کا اہتمام ڈاکٹر محمد دین تاثیر نے کیا تھا جو پنجاب کے مقتول گورنر
سلمان تاثیر کے والد تھے۔
عاشق کا جنازہ۔شہید کا جنازہ لاہور کی تاریخ کا
سب سے بڑا جنازہ کہلاتا ہے۔ جنازہ کا جلوس ساڑھے پانچ میل لمبا تھا۔نماز جنازہ یونیورسٹی
گراؤنڈ میں ادا کی گئی جس میں کم و بیش چھ لاکھ عشاق رسول نے شرکت کی ہندوستان میں
مقیم جید علما کرام و مشائخ عظام بھی کونے کونے سے رسول پاک کے سچے عاشق کے آخری دیدار
کے لیے لاہور تشریف لائے
شہید کی پہلی نماز جنازہ قاری شمس الدین خطیب
مسجد وزیر خان نے پڑھائی اور دوسری نماز جنازہ مولانا دیدار علی شاہ الوری نے
پڑھائی۔ مولانا دیدار علی شاہ اور علامہ اقبال نے شہید کو اپنے ہاتھوں سے لحد میں
اتارا تھا۔ جس پر مولانا ظفر علی خان نے کہا تھا'' کاش! ''یہ مقام مجھے نصیب
ہوتا۔''اس موقع پر علامہ نے فرمایا '' یہ ترکھان کا لڑکا ہم سب پڑھے لکھوں سے بازی
لے گیا ''۔ لوگوں نے عقیدت میں اتنے پھول نچھاور کیے کہ میت ان میں چھپ گئی۔
مزار مبارک۔لاہور میں بہاولپور روڈ کے کنارے میانی
صاحب قبرستان میں ایک نمایاں مقام پر آپ کی آخری آرام گاہ موجود ہے۔ مزار کے چہار
اطراف برآمدہ ہے، مزار بغیر چھت کے ہے، مزار کے مشرق میں غازی کے والد محترم اور
والدہ محترمہ کی بھی آخری آرامگاہیں موجود ہیں۔ لوح مزار پر پنجابی اور اردو کے کئی
اشعار کندہ ہیں۔
ماخوذ از۔ غازی علم الدین شہید رحمۃہ اللہ علیہ۔مصنف
فرحان ذوالفقار۔شہیدان ناموس رسالت، مصنف محمد متین خالد
Reviewed by Rizwan Malik
on
اکتوبر 31, 2023
Rating:

کوئی تبصرے نہیں: