یوم وفات صبا اکبر آبادی
صبا اکبرآبادی
پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر، صحافی، مترجم اور ناول
نگار تھے۔ انہیں شاعری میں نعت اور مرثیہ گوئی میں شہرت حاصل تھی۔
حالات زندگی
صبا اکبرآبادی 14 اگست، 1908ء کو آگرہ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام خواجہ محمد امیر تھا۔ صبا اکبر آبادی کی شاعری کا آغاز 1920ء سے ہوا۔ شاعری میں ان کے استاد خادم علی خاں اخضر اکبر آبادی تھے۔ 1927ء میں وہ شاہ اکبر داناپوری کے صاحبزادے شاہ محسن داناپوری کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے اور اسی وسیلے سے انہیں تصوف کی دنیا سے شناسائی ہوئی۔ 1928ء میں انہوں نے ایک ادبی ماہنامہ آزاد نکالا۔ کچھ عرصے بعد انہوں نے رعنا اکبر آبادی کے رسالے
مشورہ کی ادارت بھی سنبھالی۔
تقسیم ہند کے بعد انہوں نے حیدرآباد (سندھ) اور
پھر کراچی میں سکونت اختیار کی اور بہت جلد یہاں کی ادبی فضا کا ایک اہم حصہ بن
گئے۔ انہوں نے مختلف النوع ملازمتیں بھی کیں اور تقریباً ایک سال محترمہ فاطمہ
جناح کے پرائیویٹ سیکریٹری بھی رہے۔
ادبی خدمات
صبا اکبر آبادی کے شعری مجموعوں میں اوراق گل،
سخن ناشنیدہ، ذکر و فکر، چراغ بہار، خونناب، حرز جاں، ثبات اور دست دعا کے نام
شامل ہیں اس کے علاوہ ان کے مرثیوں کے تین مجموعے سربکف، شہادت اور قرطاس الم کے
نام سے شائع ہوچکے ہیں۔ انہوں نے عمر خیام، غالب، حافظ شیرازی اور امیر خسرو کے
منتخب فارسی کلام کا منظوم اردو ترجمہ کیا جن میں سے عمر خیام اور غالب کے تراجم
اشاعت پزیر ہوچکے ہیں۔ ان کی ملی شاعری کا مجموعہزمزمۂ پاکستان قیام پاکستان سے
پہلے شائع ہوا تھا۔ انہوں نے ایک ناول بھی تحریر کیا تھا جو زندہ لاش کے نام سے
اشاعت پزیر ہوا تھا۔
تصانیف
ہم کلام
زمزمۂ پاکستان
ذکر و فکر
سر بکف
حرزِ جاں
دستِ دعا
دستِ زرفشاں
خونناب
زندہ لاش
ثبات
چراغ ِبہار
سخن ناشنیدہ
اوراق ِ گل
سربکف
شہادت
قرطاس الم
وفات
صبا اکبرآبادی 29 اکتوبر، 1991ء کو اسلام آباد،
پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی کے سخی حسن کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔
حوالہ جات
ریختہ ۔گوگل ایپ
صبا اکبرآبادی، بائیو ببلوگرافی ڈاٹ کام،
پاکستان کرونیکل، عقیل عباس جعفری، ورثہ / فضلی سنز، کراچی،
2010ء
کوئی تبصرے نہیں: