Subscribe Us

حضرت سیدنا بلال ابن رباح رضی اللہ تعالیٰ عنہ

 

حضرت سیدنا بلال ابن رباح رضی اللہ تعالیٰ عنہ

بلال ابن رباح رضی اللہ تعالٰی عنہ المعروف بلال حبشی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشہور صحابی تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مؤذن بنایا تھا۔سفر و حضر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے۔آپ بہت ہی مشہور صحابی ہیں ۔ آپ کے والد کا نام رباح ہے ۔ آپ حبشہ کے رہنے والے تھے اور مکہ مکرمہ میں ایک کافر امیہ بن خلف کے غلام تھے ۔ اسی حال میں مسلمان ہو گئے ۔امیہ بن خلف نے آپ کو بہت ستایا اور آپ پر بڑے بڑے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے مگر آپ رضی اللہ عنہ پہاڑ کی طرح اسلام پر ڈٹے رہے ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک کثیر رقم اور ایک غلام دے کر ان کو امیہ بن خلف سے خرید لیا اور اللہ و رسول کی رضا جوئی کے لیے ان کو آزاد کر دیا۔ اسی لئے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ابوبکر ہمارے سردار ہیں اور انہوں نے ہمارے سردار (بلال) کو آزاد کیا۔ خدا کی شان کہ جنگ بدر میں امیہ بن خلف کو حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی نے چند انصاریوں کی مدد سے قتل کیا ۔ تمام اسلامی جہادوں میں مجاہدانہ شان کے ساتھ جہاد فرماتے رہے اور مسجد نبوی کے مؤذن بھی رہے ۔ وصال نبوی کے بعد مدینہ طیبہ میں رہنا اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی جگہ کو خالی دیکھنا ان کے لیے ناقابل برداشت ہوگیا۔فراق رسول میں ہروقت روتے رہتے اس لئے مدینہ منورہ کو خیر باد کہہ دیا اور ملک شام میں سکونت اختیار کرلی ۔ پھر 20ھ میں 63 برس کی عمر پا کر شہر دمشق میں وفات پائی اور باب الصغیر قبرستان میں مدفون ہوئے اور بعض مؤرخین کا قول ہے کہ آپ کی وفات شہر حلب میں ہوئی اور باب الاربعین میں آپ کی قبر مبارک بنائی گئی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

 

نام و نسب

بلال نام ، ابوعبداللہ کنیت ، والد کا نام رباح اور والدہ کا نام حمامہ تھا۔ یہ حبشی نژاد غلام تھے ؛لیکن مکہ ہی میں پیدا ہوئے ، بنی جمح ان کے آقا تھے۔

اسلام

حضرت بلال ؓ صورت ظاہری کے لحاظ سےتو ایک سیاہ فام حبشی تھے،تاہم آئینۂ دل شفاف تھا۔اس کو ضیائے ایمان نے اس وقت منور کیا، جب اہل مکہ کی اکثریت اس نور سے محروم تھی

موذن

مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے شعارِ اسلام و دین متین کی اصولی تدوین و تکمیل کا سلسلہ شروع کیا، مسجد تعمیر ہوئی ۔نماز پنجگانہ کا اہتمام ہوااور اعلان عام کے لیے اذان کا طریقہ وضع کیا گیا ،سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سب سے پہلے وہ بزرگ ہیں جو اذان دینے پر مامور ہوئے۔ حضرت بلال ؓ کی آواز نہایت بلند وبالا ودلکش تھی،ان کی ایک صدا توحید کے متوالوں کو بے چین کر دیتی تھی، م جب خدائے واحد کے پرستاروں کا مجمع کافی ہو جاتا تو نہایت ادب کے ساتھ آستانہ نبوت پر کھڑے ہوکر کہتے حی علی الصلوۃ، حی علی الفلاح، الصلوۃ یا رسول اللہ! یعنی یارسول اللہ نماز تیار ہے،غرض آپ تشریف لاتے اور حضرت بلال رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی صدائے سامعہ نواز تکبیر اقامت کے نعروں سے بندگانِ توحید کو بارگاہِ ذوالجلال والاکرام میں سر بسجود ہونے کے لیے صف بصف کھڑا کر دیتی۔  حضرت بلال ؓ اگر کسی روز مدینہ میں موجود نہ ہوتے تو حضرت ابو محذورہ ؓ اور حضرت عمرو ابن ام مکتوم ؓ ان کی قائم مقامی کرتے تھے، صبح کی اذان عموماً کچھ رات رہتے ہوئے دیتے تھے،یہی وجہ ہے کہ صبح کے وقت دواذانیں مقرر کی گئی تھیں، آخری اذان حضرت عمرو ابن ام مکتوم ؓ دیتے تھے، چونکہ وہ نابینا تھے،اس لیے ان کو وقت کا پتہ نہ تھا ،جب لوگ ان سے کہتے کہ"صبح ہو گئی"تو اُٹھ کر ندائے تکبیر بلند فرماتے تھے، اسی بنا پر رمضان میں حضرت بلال ؓ کی اذان کے بعد کھانا پینا جائز تھا،کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ بلال ؓ کی اذان صرف اس لیے ہے کہ جو لوگ رات بھر عبادتِ الہی میں مصروف رہے ہیں وہ کچھ آرام کریں اور جو تمام رات خواب راحت میں سرشار رہے ہیں وہ بیدار ہوکر نمازصبح کی تیاری کریں، لیکن وہ صبح کا وقت نہیں ہوتا ؛بلکہ کچھ رات باقی رہتی ہے۔  حضرت بلال ؓ سفروحضر ہر موقع پر رسول اللہ ﷺ کے مؤذن خاص تھے

 

اخلاق

محاسنِ اخلاق نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے پایہ فضل و کمال کو نہایت بلند کر دیا تھا، حضرت عمرؓ بن خطاب فرمایا کرتے تھے: ابوبکر صدیق "سیدنا واعتق سیدنا"یعنی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہمارے سردار ہیں، اور انہوں نے سردار بلال ؓ کو آزاد کیا ہے۔ حبیب خدا ﷺ کی خدمت گزاری ان کا مخصوص مقصدِ حیات تھا، ہر وقت بارگاہ نبوی ﷺ میں حاضر رہتے ، آپ ﷺ کہیں باہر تشریف لے جاتے تو خادم جان نثار کی طرح ہمراہ ہوتے ،عیدین و استسقاء کے مواقع پر بلّم لے کر آگے آگے چلتے۔وعظ وپند کی مجلسوں میں ساتھ جاتے، افلاس وناداری کے باوجود ان کو جو کچھ میسر آجاتا اس کا ایک حصہ رسول اللہ ﷺ کی ضیافت کے لیے پس انداز کرتے ، تواضع و خاکساری ان کی فطرت میں داخل تھی، لوگ ان کے فضائل ومحاسن کا تذکرہ کرتے تو فرماتے، میں صرف ایک حبشی ہوں جو کل تک معمولی غلام تھا،صداقت ،بے لوثی اور دیانت داری نے ان کو نہایت معتمد علیہ بنادیا تھا ،

 

وفات

20ھ میں دنیائے فانی کو خیر باد کہا، کم و بیش ساٹھ برس کی عمر پائی، دمشق میں باب الصغیر کے قریب مدفون ہوئے۔

حوالہ جات

  

 طبقات ابن سعد قسم اول جزوثالث : 165

 اسد الغابہ:1/206

 بخاری باب بدوالاذان

 مستدرک حاکم :3/283

حضرت سیدنا بلال ابن رباح رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت سیدنا بلال ابن رباح رضی اللہ تعالیٰ عنہ Reviewed by Rizwan Malik on نومبر 04, 2023 Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.