Subscribe Us

یوم وصال سید نا امام جعفر صادق علیہ السلام

 یوم وصال سید نا امام جعفر صادق علیہ السلام



نام و نسب

امام جعفر صادق ؒ 17ربیع الاول80ہجری میں مدینہ النبیؐ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد امام محمد باقر،دادا امام زین

 العابدین ؓابن   امام حسینؓ تھے۔ امام جعفر صادقؑ کی کنیت ابو عبداللہ‘ ابو اسماعیل‘ ابو موسیٰ اور القاب صادق‘ فاضل‘

 طاہر‘ منجی زیادہ  مشہور ہیں۔ آپ کی والدہ بزگوارسیدہ فاطمہ ام فروہ بنت قاسم بن محمدا بن حضرت ابوبکرؓ تھیں۔ آپ

 اپنے زمانے کی خواتین میں بلند مقام رکھتی تھیں۔ اسی لیے امام جعفرصادق کا فرما ن ہے کہ میری والدہ با ایمان

 خواتین میں سے تھیں جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا‘ اچھے کام کیے اور اللہ اچھے کام کرنیوالوں کو محبوب رکھتا ہے۔ امام

 جعفر صادق ؒکے ناناحضرت قاسم بن محمد ابن ابوبکرؓ مدینہ کے سات عظیم فقہا میں شامل تھے۔

 آپ کا اس گرامی جعفر ؑ۔ آپ کی کنیت عبد اللہ،ابو اسماعیل، اور آپ کے القاب صادق، صابر،فاضل، طاہر وغیرہ ہیں۔

بادشاہان وقت

آپ کی ولادت کے وقت عبد الملک بن مروان بادشاہ وقت تھا پھر ولید، سلیمان،عمربن عبد العزیز بن عبد

 الملک،ہشام بن عبدالملک،ولید بن یزید بن عبد الملک،یزید الناقص،ابراہیم بن ولید اور مروان الحمار اسی ترتیب

 سے خلیفہ مقرر ہوئے مروان الحمار کے بعد سلطنت بنی امیہ کا چراغ گل ہوگیا اور بنی عباس نے حکومت پہ قبضہ

 کرلیا.بنی عباس کا پہلا بادشاہ ابو العباس،سفاح اور دوسرا منصور دو انقی ہوا۔

امام جعفر صادق علیہ السلام کے فرامین

  وہ انسان سعادت مند ہے جو تنہائی میں خود کو لوگوں سے بے نیاز اور خدا کی طرف جھکا ہوا پائے۔

 نیکی یہ ہے کہ اس میں جلدی کر و اور اسے کم سمجھواور چھپا کرکرو۔

 توبہ کرنے میں تاخیر کرنا اپنے نفس کو دھوکا دینا ہے۔

۴ چار چیزیں ایسی ہیں جس کی کمی کو کثرت سمجھنا چاہئے۔ ۱۔۱گ،۲۔ دشمن،۳۔فقیری،۴۔مرض۔

 کسی کے ساتھ بیس دن رہنا عزیز داری کے مانند ہے۔

 شیطان کے غلبہ سے بچنے کے لیے لوگوں پر احسان کرو۔

 لڑکی رحمت ہے اور لڑکا نعمت خدا رحمت پرثواب دیتاہے اور نعمت پر سوال کرے گا۔

جو تمھیں عزت کی نگاہ سے دیکھے تو تم بھی اس کی عزت کرو اورجوتمھیں ذلیل سمجھے تم اس سے خودداری کرو۔

جو دوسروں کی دولت کوللچائی ہوئی نگاہ سے دیکھے گا وہ ہمیشہ فقیر رہے گا۔

آپ کے شاگردوں کا تذکرہ

آپ کے ممتاز شاگردوں میں ہشام بن حکم، محمد بن مسلم، ابان بن تفلب، ہشام بن سالم، مفصل بن عمر اور جابربن

 حیان کا نام خاص طور سے لیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے بڑا نام پیدا کیا مثال کے طور پر ہشام بن حکم نے

 اکتیس کتابیں اور جابربن حیان نے دو سو سے زائد کتابیں مختلف علوم و فنون میں تحریر کی ہیں۔ جابربن حیان بابائے

 علم کیمیا کے نام سے مشہور ہیں۔ الجبرا کے بانی ابو موسی الخوارزمی نے بھی بالواسطہ امام جعفر صادق کی تعلیمات سے

 فیض حاصل کیا۔ اہل سنت کے چاروں مکاتب فکر کے امام بلاواسطہ یا بالواسطہ امام جعفر صادقؒ کے شاگردوں میں

 شمار ہوتے ہیں خاص طور پرامام ابوحنیفہؒ نے تقریباً دوسال تک براہ راست آپ سے کسب فیض کیا۔ آپ کے علمی

 مقام کا اعتراف کرتے ہوئے امام ابوحنیفہ

 نے کہا ہے: ''میں نے جعفر ابن محمد سے زیادہ عالم کوئی اور شخص نہیں دیکھا۔

آپ علیہ السلام کی شہادت

 65 سال کی عمر میں منصور دوانقی نے آپ کو زہر دی جس سے آپ کی شہادت واقع ہوئی۔ آپ کی شہادت کی تاریخ

 کے بارے    میں دو قول نقل ہوئے ہیں۔ بعض نے 15 رجب سن 148 ھ  اور بعض نے 25 شوال سن 148 بیان

 کیا ہے۔آپ کی شہادت کے بعد حضرت امام موسی کاظم ؑنے بھائیوں اور افراد خاندان کے ہمراہ آنحضرت کے غسل

 و کفن کے بعد بقیع میں دفن کیا۔


یوم وصال سید نا امام جعفر صادق علیہ السلام  یوم وصال سید نا امام جعفر صادق علیہ السلام Reviewed by Rizwan Malik on فروری 28, 2021 Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.