واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمبر 60
چشم مازاغ
حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چشم مازاغ ظاہری حسن سے مالا مال تھی جبکہ باطنی حسن معمور تھی اس حوالہ سے صاحب ضیاء النبی لکھتے ہیں۔
”حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی چشم مبارک کی تعریف قرآن کریم اس طرح کرتا ہے۔(مَا زَاغ اْلبَصَرُ وَمَاطَغیٰ)(النجم)ابن عدی ابن عساکر اور دیگر محدثین نے ام المومنین عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا) اور حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ)سے اس طرح روایت کیا ہے۔:”سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کی تاریکی میں اس طرح دیکھتے تھے جس طرح دن کے اجالے میں“ شیخان نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔:”تم نہیں دیکھتے کہ میرا قبلہ تو ادھر ہے جس طرف میرا منہ ہوتا ہے لیکن خدا کی قسم تمہارا رکوع کرنا،سجدہ کرنا مجھ پر چھپا نہیں رہتا۔میں تم کو پیچھے کی طرف سے دیکھتا ہوں۔“ دوسری روایت میں ہے۔تمہارا خشوع (جس کا تعلق دل سے ہے)اور تمہارا کوع مجھ سے پوشیدہ نہیں رہتا۔مجاہدین کا ایک لشکر موتہ میں قیصر کے لشکر جرار کا مقابلہ کرنے کیلئےحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روانہ فرمایا تا۔کچھ دنوں بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے۔جو مجاہد اسلام کا پرچم اٹھاتا اور جس صورت میں شرف شہادت سے مشرف کیا جاتا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ طیبہ میں بیٹھے وہ سب کچھ دیکھ رہے تھے اور حاضرین کو اس سے آگاہ کر رہے تھے۔جب خالد بن ولید نے پرچم اٹھایا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اب خالد بن ولید نے علم اسلام اٹھایا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اب لڑائی کی بھٹی گرم ہوئی ہے۔کچھ دنوں بعد یعلی بن منبہ جنگ موتہ کی خبر سنانے کیلئے مدینہ طیبہ حاضر ہوا۔رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اگر تو چاہتا ہے تو وہاں کے حالات ہمیں سنا اور اگر تو چاہتا ہے تو میں تمہیں وہاں کے حالات سناتا ہوں۔ابو یعلی نے عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سنائیے۔چنانچہ نبی الا نبیاء علیہ السلام نے وہاں کے تفصیلی حالات مسلمانوں کو بتائے۔سن کر ابو یعلی نے کہا جو کچھ میدان جنگ میں یہاں سے سینکڑوں میل دور وقوع پذیر ہو ا بعینہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ سب کا سب بیان فرما دیا۔:”اس ذات کی قسم جس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں کی کوئی بات نہیں چھوڑی۔“ امام بخاری و مسلم کی روایت ہے۔11ہجری میں پہلے شہدا احد کے پاس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے گئے انہیں سلام دیا پھر ان کیلئے دعائیں فرمائیں۔پھر جنت البقیع میں تشریف لائے وہاں بھی اپنے جان نثار غلاموں کو اپنی زیارت کا شرف بخشا ان کے لئے دعائیں فرمائیں اور الوداع فرمایا۔پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف لائے اور منبرپر بیٹھ کر جو آخری خطبہ ارشاد فرمایا اس کے چند جملے آپ بھی سماعت فرمائیں۔:”میں تمہارا پیشرو ہوں۔میں تم پر گواہ ہوں اور تمہاری میری ملاقات روز قیامت حوض کوثر پرہو گی۔اور میں آج بیٹھا ہوا یہاں سے اس کو دیکھ رہا ہوں۔مجھے زمین کے سارے خزانوں کی کنجیاں عطا فرمائی گئی ہیں مجھے قطعاََ اس چیز کا اندیشہ نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرو گے مجھے اندیشہ یہ ہے کہ تم دنیا کی تلا ش میں ایک دوسرے سے بڑھنا چاہو گے اور اس کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔“ ابن سعد اور بیہقی علاء بن حمد الثقفی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ہم غزوہ تبوک کے سفر میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے ہمرکاب تھے۔صبح سورج طلوع ہوا۔اس کی روشنی اس کی چمک دمک بالکل الگ نویت کی تھی۔پہلے سورج کبھی اس طرح طلوع نہیں ہواتھا۔جبرئیل امین (علیہ السلام)حاضر ہوئے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا آ ج صبح سورج کی ضیا پاشیاں معمول سے بہت زیادہ تھیں کیا وجہ ہے۔جبرئیل امین (علیہ السلام)نے عرض کی۔یا رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک صحابی مدینہ طیبہ میں وفات پا گیا یہ اسکے جنازے میں شرکت کیلئے آسمان سے ستر ہزار فرشتے اترے ہیں یہ انہیں کی چمک دمک تھی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کس عمل کے بدلے میں یہ عزت و شان اللہ تعالیٰ نے اسے عطا فرمائی ہے۔جبرئیل (علیہ السلام)نے عرض کی۔:”اس لئے رحمت فرمائی گئی کہ وہ سورہ اخلاص کثرت سے پڑھا کرتا تھا۔رات کے وقت،دن کے وقت،چلتے،کھڑے،بیٹھے،جس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ احسان فرمایا ہے۔“ جبرئیل امین (علیہ السلام)نے پر مارا راستہ میں جتنے درخت اور پہاڑ تھے سب دور ہوگئے۔اس صحابی کی چارپائی بلند کی گئی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا اور نماز پڑھائی۔اسی طر حسرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجاشی بادشاہ حبشہ کی وفات کی خبر دی۔پھرصحابہ کرام سمیت مدینہ طیبہ میں جنازہ گاہ میں تشریف لے گئے اور وہاں اس کی نماز جنازہ ادا فرمائی۔کتب احادیث میں سینکڑوں ایسی احادیث مبارک صحیحہ ہیں جن میں یہ مذکور ہے کہ دور دراز کی مسافت سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)چیزوں کو دیکھ لیا کرتے تھے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں ثریا میں بارہ ستارے دیکھ رہا ہوں حالانکہ علم نجوم کے ماہرین نے بڑی بڑی طاقتوں دور بینوں سے ثریا کے ستاروں کو گننے کی کوشش کی اور وہ زیادہ سے زیادہ سات ستاروں کو دیکھ سکے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک آنکھوں کو اللہ تعالیٰ نے جو قوت بینائی عطا فرمائی اس سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارہ ستاروں کو دیکھا۔جب مشرکین مکہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معراج پر اعتراض کیا اور مسجد اقصیٰ کے درودیوار کے بارے میں پوچھا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں بیٹھے ہوئے مسجد اقصیٰ کو ملاحظہ فرمایا اور اس کی ہر چیز گن کر انہیں بتا دی۔حضرت سید نا علی مرتضی کرم اللہ وجہہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چشمان مبارک کی یوں توصیف کی ہے۔:”اوعج اس آنکھ کو کہتے ہیں جو آنکھ کشادہ اور بڑی ہو اس کے سفید حصہ میں باریک باریک سرخ ڈورے ہوں۔اشکل کا بھی یہی معنی ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مثرگان مبارک لمبی تھیں۔یہ دونوں چیزیں آنکھ کی زیبائی میں حرف آخر ہیں۔سید ناعلی مرتضی رضی اللہ عنہ نے ایک روز حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیہ مبارک ان پاکیزہ کلمات سے بیان فرمایا۔:”کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چشمان مبارک کشادہ تھیں ان میں باریک باریک سرخ ڈورے تھے،پلکیں مبارک لمبی تھیں اورابرو مبارک باریک تھے اور باہم ملے ہوئے نہ تھے۔“ مواہب لدنیہ میں ہے: سرور انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب سید نا علی مرتضی کو یمن روانہ فرمایا کہ وہاں جا کر لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں تو آپ نے اپنا وہاں کا معمول بتاتے ہوئے فرمایا ایک دن میں وعظ کرتا تھاتا کہ جو مسلمان ہو چکے ہیں ان کا ایمان مزید پختہ ہو اور جو ابھی اس شرف سے محروم ہیں وہ اسلام قبول کر کے اس سعادت ابدی سے بہرہ یاب ہوں۔اس مجلس میں ایک یہودیوں کا بہت بڑا عالم (حبر)ہاتھ میں کتا ب لئے کھڑا رہتا،جب میں تقریر کرتا تو وہ اس کتاب میں غور سے دیکھتا پھر اس نے مجھے کہا میرے سامنے حصرت ابو القاسم کا حلیہ بیان کرو میں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بہت لمباقد نہ تھا اور نہ بہت چھوٹا قد تھا۔میں نے یہ ساری صفت بیا ن کی۔پھر میں خاموش ہو گیا۔اس نے پوچھا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اور حلیہ بیان کرو۔میں نے کہا سرد ست مجھے اتنا یاد ہے اس وقت اس حبر نے مجھ سے پوچھا کہ کیا ان کی آنکھو میں ڈورے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ڈاڑھی مبارک خوبصور ت ہے آپ نے ہاں میں جواب دیا۔اس حبر نے کہا یہ حلیہ جو آپ نے بیان کیا ہے یہ میرے آباؤ اجداد کی کتاب میں موجو د ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر مبعوث گئے ہیں۔ابنن مردو یہ نے سلیمان تیمی کے واسطہ سے حضرت انس سے اور انہو ں نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے۔:”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس رات کو مجھے آسمان پر لے جایا گیا میں نے موسیٰ علیہ السلام کو ان کی قبر میں دیکھا کہ وہ نماز پڑ ھ رہے ہیں۔“ عزوہ خندق میں جب سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چٹان کو توڑا تو پہلی ضرب پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا:”اللہ سب سے بڑا ہے۔مجھے فارس کے خزانوں کی کنجیاں عطا فرمائی گئی ہیں میں اس وقت مدائن کے قصر ابیض کو یہاں سے دیکھ رہا ہوں۔“ پھر بسم اللہ پڑھ کر تیسری ضرب لگائی تو تیسراٹکڑا ریزہ ریزہ ہو گیا۔فرمایا:”مجھے یمن کی کنجیاں عطا فرمائی گئی ہیں۔بخدا س آن میں صنعاء کے دروازے دیکھ رہا ہوں۔حضرت ابن عباس اور دیگر جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا عقیدہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دو مرتبہ دیکھاایک دفعہ اپنی ظاہری آنکھوں سے اور ایک مرتبہ دل کی آنکھوں سے۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔:”انہوں نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا۔عکرمہ فرماتے ہیں:میں نے ان سے پوچھا:کیا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا؟انہوں نے کہا:ہاں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کلام فرمایا حضرت ابراہیم (علیہ السلام)کو خلت کا مرتبہ عطا فرمایا اور اپنے دیدار کے لئے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخصوص فرمایا۔“ امام طبرانی نے ابن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ دنیا کو اٹھا کر میرے سامنے رکھ دیا ہے کہ میں اس کو اور جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے اس کو اس طرح دیکھ رہا وہیں گویا میں اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں۔“ (ضیاء النبی ج5ص446تا452)
Waqiat e serat un nabi zia un nabi ki roshni main episode 60
Reviewed by Rizwan Malik
on
مارچ 02, 2021
Rating:
Reviewed by Rizwan Malik
on
مارچ 02, 2021
Rating:

کوئی تبصرے نہیں: