حضرت حسن مثنیٰ علیہ السلام
حضرت حسن بن حسن بن علی بن ابی طالب حسن مثنی علیہ السلام کے نام سے معروف،اور امام حسن علیہ السلا کے صاحبزادے ہیں۔ جن کی شادی حضرت امام حسین علیہ السلام کی بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہاسے ہوئی۔
نام و نسب
آپ کے والد امام حسن علیہ السلام بن علی علیہ السلام۔ آپ کی والدہ کا نام خَوْلَہ بنت منظور بن زَبّان فَزاری تھا۔سنہ 36 ھ میں محمد بن طلحہ بن عبید اللہ کے جنگ جمل میں قتل ہونے کے بعد امام حسنؑ کے عقد میں آئیں۔حسن مثنی کی کنیت ابو محمد تھی۔
ازواج و اولاد
امام حسینؑ کی بیٹی فاطمہ آپ کی زوجہ تھیں۔حضرت امام حسین علیہ السلام نے واقعہ کربلا سے پہلے اپنی بیٹی کا عقدحضرت حسن مثنی سے کیا۔بعض کی روایت کے مطابق بقول یہ شادی امام حسینؑ کی شہادت کے سال انجام پائی۔حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت سنہ 61 ہجری کی 10 محرم کو ہوئی۔ اس لحاظ سے زیادہ احتمال یہی ہے کہ عاشوراسے کچھ مدت پہلے 60 ہجری میں ہی مکہ میں انجام پائی۔ پس اس بنا پر حضرت حسن مثنی اپنی زوجہ فاطمہ بنت الحسین کے ہمراہ کربلا میں موجود تھے۔
اولاد
حضرت فاطمہ سے ان کی اولاد عبد اللہ محض، ابراہیم عمر،حسن مثلث تھے۔ ان تینوں فرزندوں کی وفات عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور کے زندان میں ہوئی۔پھر ان کے بعد عبد اللہ بن حسن ایک عالم اور ادیب شخص تھے جنہوں نے عباسیوں کے خلاف تحریکوں کی قیادت کی۔نفس زکیہ کے نام سے مشہور ہونے والے محمد اورقتیل باخَمْرا کے نام سے مشہور ابراہیم بھی ان کی نسل میں سے ہیں۔
شہادت
سنہ 85 ہجری میں ابن اشعث کے قتل کے بعد حسن مثنی مخفی ہو گئے لیکن آخرکار ولید بن عبد الملک کے ساتھیوں نے انہیں مسموم کیا اور قتل کرنے کے بعد جنازے کو مدینہ بھیجا اور انہیں بقیع میں دفن کیا گیا۔
صحیح بخاری میں ایک روایت منقول ہے جس کی بنا پر فاطمہ بنت الحسین نے ان کے مزار پر قبہ کی تعمیر کروائی۔
کوئی تبصرے نہیں: