Subscribe Us

hazrat ruqayyah bint muhammad P.B.U.H

 حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بنت محمد صلی اللہ علیہ وا ٓلہ وسلم

تحریرو تحقیق:پیر محمد فاروق بہاؤ الحق شاہ

نام و نسب

حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار صاحبزادیوں میں سے ایک صاحبزادی ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدہ خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت خویلد بن اسد سے چار صاحبزادیاں سیدہ زینب بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدہ رقیہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدہ ام کلثوم بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدہ فاطمہ بنت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوئیں۔بنات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدہ رقیہ، سیدہ زینب بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تین برس بعد پیدا ہوئیں، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکی عمر مبارک تقریباً تینتیس برس تھی۔

ابتدائی حالات

حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آغوش مبارک میں پرورش پائی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اظہار نبوت فرمایا تو اس وقت سیدہ رقیہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر مبارک صرف سات سال تھی۔ جب ام المومنین سیدہ خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اسلام قبول کیا تو ان کے ساتھ ان کی صاحبزادیوں نے بھی اسلام قبول کیا۔ (طبقات ابن سعد، جلد 8، ص 24۔)

حضرت رقیہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا عثمان غنیؓ سے نکاح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی بھیجی ہے کہ میں اپنی بیٹی رقیہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کا نکاح حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کردوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی لخت جگر حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا کا نکاح امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کردیا اور ساتھ ہی رخصتی کردی۔ (کنزالعمال، جلد6، صفحہ 375)

سیدہ رقیہ اور سیدنا عثمان غنی کی ہجرت مدینہ

حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کو دو مرتبہ ہجر ت کا اعزاز حاصل ہوا۔

جب امیر المومنین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پتہ چلا کہ نبی اکر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ کی طرف ہجرت فرمانے والے ہیں تو آپؓ کچھ صحابہ کرام کے ساتھ حبشہ سے مکہ آگئے مگر آپؓ کے پہنچنے سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے جاچکے تھے۔

اس پر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہجرت مدینہ کے لیے تیار ہوگئے اور اپنی اہلیہ دختر رسول اللہ حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا سمیت مدینہ کی طرف دوسری ہجرت فرمائی۔ (الاصابہ لابن حجر، جلد 4، صفحہ 298)۔

سیدہ رقیہ بنت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد پاک

حبشہ کے زمانہ قیام میں حضرت رقیہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا، جن کا نام عبداللہ رکھا گیا۔ انہی کے نام کی وجہ سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ابوعبداللہ مشہور ہوئی۔حضرت عبداللہ بن عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا 6 برس کی عمر میں مدینہ منورہ میں انتقال ہوگیا۔ نبی اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز جنازہ خود پڑھائی اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قبر میں اتارا۔ (اسد الغابہ، جلد5، صفحہ456)۔

حضرت رقیہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری

2 ہجری غزوہ بدر کا سال تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کی تیاری میں مصروف تھے کہ حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا کو خسرہ کے دانے نکلے اور سخت تکلیف میں مبتلا ہوئیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام غزوہ بدر میں شرکت کے لیے روانہ ہونے لگے تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تیار ہوگئے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مخاطب کرکے فرمایا: رقیہ بیمار ہیں، آپؓ ان کی تیمارداری کے لیے مدینہ منورہ میں ہی مقیم رہیں۔ آپؓ کے لیے بدر میں شرکت کرنے والوں کے برابر اجر ہے اور غنائم میں بھی برابر حصہ ہے۔ (بخاری شریف)۔

حضرت رقیہ بنت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک تھے تو ادھرمدینہ شریف میں سیدہ رقیہ سلام اللہ علیہا کی بیماری اس قدر بڑھی کے آپؓ کا انتقال ہوگیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے کفن دفن کا انتظام حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود ہی فرمایا۔

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب غزوہ بدر کی فتح کی خبر لے کر مدینہ منورہ پہنچے تو حضرت رقیہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دفن کرنے والے حضرات اپنے ہاتھوں سے مٹی جھاڑ رہے تھے۔ (طبقات ابن سعد، جلد8، صفحہ 25)۔بعد میں آقا دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی صاحبزادی کی قبر مبارک پر تشریف لائے اور دعا فرمائی۔



 


hazrat ruqayyah bint muhammad P.B.U.H hazrat ruqayyah bint muhammad P.B.U.H Reviewed by Rizwan Malik on مارچ 02, 2021 Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.