Subscribe Us

Operation Radd-ul-Fasaad /آپریشن ردالفساد کے چار سال مکمل۔۔عزم و ہمت اور کامیابی کے چار سال۔

آپریشن ردالفساد کے چار سال مکمل۔۔عزم و ہمت اور کامیابی کے چار سال۔

تحریر۔پیر فاروق بہاوالحق شاہ۔

ملک میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کی بحالی کے لیے پاک فوج کی جانب سے شروع کیا گیا آپریشن ردالفساد اپنی کامیابیوں کی منازل طے کر رہا ہے۔آپریشن ردالفساد کے ذریعے ملک میں امن و امان کی بحالی دہشتگردوں کی سرکوبی اور ملک کو دشمنوں سے پاک کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے گئے۔آج سے قریب چار سال قبل جب ملک میں دہشتگردی اپنے عروج پر تھی اور کوئی شخص خود کو محفوظ تصور نہیں کر رہا تھا تو اس وقت ملک کے سیکورٹی اداروں کو یہ ذمہ داری دی گئی کہ پاکستان کی رونقیں بحال کریں اور بجھتی ہوئی روشنیوں کو دوبارہ روشن کریں۔پاک فوج کی بے پاک فوج کی بے مثال قربانیوں کے سبب اپنے پاک فوج کی بے مثال قربانیوں کے سبب اپنے عزیزپاک فوج کی بے مثال قربانیوں کے سبب اپنے عزیز کی پاک فوج کی بے مثال قربانیوں کے سبب اپنے عزیز کی پاک فوج کی   روشنیاں لوٹ آئیں پاک فوج کی بے مثال قربانیوں کے سبب اپنے عزیز کی روشنیاں لوٹ آئیں اور اس کے پاک فوج کی بے مثال قربانیوں کے سبب وطن عزیز کی روشنیاں لوٹ آئیں اور اس کے مکینوں کے چہروں پر خوشی کے آثار ہو پیدا ہونے لگے۔اس موقع پر انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے ہیڈ کوارٹر میں ایک خصوصی پریس بریفننگ کا اہتمام کیاگیا۔۔پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ آپریشن ردالفساد کو چار سال مکمل ہوگئے۔ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کا خاتمہ کردیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے آپریشن ردالفساد سے متعلق پریس بریفنگ میں کہا کہ دہشت گردو ں کے خلاف پاک فوج نے پورے ملک میں آپریشنز کیے۔ 22 فروری 2017 کو آرمی چیف کی قیادت میں آپریشن ردالفساد کا آغاز کیا گیا۔ آج ہر پاکستانی آپریشن ردالفساد کا حصہ ہے۔ آپریشن ردالفساد کا مقصد ملک میں امن کا قیام تھا۔ آپریشن ردالفساد کا دائرہ پورے ملک پر محیط تھا۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ آپریشن ردالفساد کا مقصد عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنا تھا۔ آپریسشن ردالفساد کا محور عوام تھے، آپریسن کا دائرہ کار پورے ملک پر محیط تھا۔ آپریشن کے حوالے سے ٹائمنگ بہت اہم ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آپریشن رد الفساد 2 نکاتی حکمت عملی کے تحت کیا گیا۔ دہشتگردوں نے ملک کے طول و عرض میں پناہ لینے کی کوشش کی۔ آپریشن ردالفساد کا مقصد دہشت گردوں کو غیر موثر کرنا تھا۔ڈی جی ائ ایس پی آر مزید نے کہا کہ قبائلی علاقے کو قومی دھارے میں شامل کیا گیا۔ طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے۔ ملک بھر میں 3 لاکھ سے زائد انٹیلیجنس بنیاد پر آپریشن کیے جاچکے ہیں۔ دہشتگردوں نے پاکستان میں زندگی مفلوج کرنے کی ناکام کوشش کی۔میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ 72 ہزار سے زائد غیر قانونی اسلحہ ملک بھر سے برآمد کیا گیا۔ کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملے کو ناکام بنایا گیا۔گوادر میں ہوٹل پر حملے کے دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔ 750 مربع کلومیٹر سے زائد علاقے پر ریاست کی رٹ بحال کی۔

انہوں نے کہا کہ ایک ہزار 684 کراس بارڈرواقعات ہوئے۔ آپریشن ردالفساد کے تحت خیبرآپریشن فور بھی کیا گیا۔ پاک افغان بارڈر کام 84 فیصد مکمل کر لیا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشنز کے دوران بہت سے لوگ بے دخل ہوئے۔ خفیہ اداروں نے سخت محنت سے بڑے دہشت گردنیٹ ورک پکڑے۔ اب تک آپریشن کے دوران 48 ہزار سے زائد بارودی سرنگیں ریکور کی گئیں۔

میجر جنرل بابر افتخار نے  آپریشن رد الفساد کے چار سال مکمل ہونے پر گفتگو کرتے ہوے کہا کہ ایک ہزار 200 سے زائد شدت پسندوں نے ہتھیار ڈالے۔ پیغام پاکستان نے شدت پسندی کے بیانیے کو بڑی حد تک شکست دی۔ 195


دہشت گردوں کو مختلف سزائیں سنائی گئیں۔

آپریشن رد الفساد کے ثمرات۔

اس ملک گیر آپریشن کے ثمرات پر بات کرتے ہوے ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ آج گوادرمیں ترقیاتی کام ہورہے ہیں اور کراچی میں امن ہے۔ بارودی سرنگوں کو غیرفعال کرتے ہوئے ہمارے 2 سپاہی شہید اور 119 زخمی ہوئے۔ شدت پسندی کیطرف مائل 5 ہزار افراد کو معاشرے کا کارآمد حصہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ ٹیررازم (دہشت گردی) سے ٹوورازم (سیاحت) کا سفر انتہائی کٹھن اور صبر آزما رہا۔ کراچی میں امن و امان سے متعلق واضح بہتری آئی۔ 23 مارچ کی پریڈ کا انعقاد بھرپور طریقے سے ہوگا۔ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ آج ملک میں کھیلوں کے میدان آباد ہیں۔ ممکن ہے گوادرکرکٹ اسٹیڈیم میں بھی ایک میچ کروایا جائے۔ آج یوم پاکستان کا مقصد ہے ایک قوم، ایک منزل۔ امن کاسفر جاری ہے۔


کرونا اور ردالفساد۔

کرونا کے اثرات اور اس اہم آپریشن پر گفتگو کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ پچھلے ایک سال ہم قدرتی آفات سے بھی نبرد آزما تھے۔ قدرتی آفات کے دورا ن بھی آپریشن ردالفساد نہیں روکا گیا۔ کورونا کا مقابلہ حکمت عملی اور دانشمندی سے کیا۔ مردم شماری کا انعقاد کامیابی سے کیا گیا۔پاکستان مخالف بیانیے کوشکست دی گئی۔  دہشت گردی کے خاتمے کے بعد معاشی بہتری بھی سامنے آئی۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ مدارس اصلاحات، سابق فاٹا کا خیبرپختونخوا سے الحاق ردالفساد کے ثمرات ہیں۔ آپریشن ردالفساد صرف فوجی آپریشن نہیں تھا۔ ابھی بھی بہت کام کرنا باقی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کے مطابق 78 سے زائد دہشتگرد تنظیموں کے خلاف موثر ایکشن کیا گیا۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں 450 اہلکار شہید ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا افغان امن عمل کے لیے پاکستان کے کردار کی متعرف ہے۔ افغانستان کے امن سے پاکستان کا امن جڑا ہے۔ افغان امن عمل میں پاکستان کی واحد دلچسپی افغانستان میں امن کا قیام ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ گوادر، شمالی علاقے اور کیٹو دنیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ چمن بارڈر پر ٹرانزٹ ٹریڈ سسٹم جلد فعال کردیا جائے گا۔ وہ علاقے جو دہشتگردی کا شکار تھے اب وہاں اقتصادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 36 ہزار سے زائد آپریشنز کیے گئے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت تمام اہداف حاصل کرلیں گے۔ بارڈر مینجمنٹ ڈویژن وزارت داخلہ کے ماتحت ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کے خلاف کام کیا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف پروپیگنڈا روکنے کیلیے قابل ذکر اقدامات کیے ہیں۔


پاک فوج کا عزم۔

عوام کو محفوظ بنانے کیلے مسلح افواج کے عزم کا اعادہ کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ عوام کے تعاون سے ہر چیلنج پر قابو پائیں گے۔ ہم مرحلہ وار اور حکمت عملی سے کام کر رہے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت بہتر اندازمیں کام کیا گیا۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ دہشتگردی کے واقعات اور شدت میں کمی آئی ہے۔ ہرسانحے کو دہشت گردی کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے۔ قبائلی اضلاع کا اپنا کلچر ہے، وہاں کے مسائل کے حل میں وقت لگے گا۔

انہوں نے کہا کہ امن کی کوششوں میں تمام علمائے کرام کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ پاکستان کے پیش کیے گئے ڈوزیئر کے حوصلہ افزا نتائج آئے ہیں۔پاکستان کے پچھلے چار سال کے سفر کو ہر سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔


ایف اے ٹی ایف اور ردالفساد۔

ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کیلے اقدامات کا تزکرہ کرتے ہوے میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف آبزرویشنز پر بڑا کام کیا گیا۔ ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر بہت پرامید ہیں۔ایف اے ٹی ایف کی جانب سے جن اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ان مطالبات کو پورا کرنے کے لئے بھی پاک فوج کی جانب سے موثر اقدامات کیے گئے۔تمام بین الاقوامی اداروں نے پاک فوج کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کو تحسین کی نگاہ سے دیکھا اور دنیا میں دہشتگردی کو ختم کرنے کے لیے مثالی اقدامات قرار دیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ سابق فاٹا میں پولیسنگ معمول پر آنے پر دہشتگردی کے واقعات میں کمی آجائے گی۔ ضم شدہ قبائلی علاقوں میں پولیس جلد انتظام سنبھال لے گی۔ عوام کی حمایت یا عزم نہ ہوتا تو یہ جنگ نہیں لڑی جا سکتی تھی۔

میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ  میڈیا نے کورونا وبا کے دوران مسائل کو بہترین طریقے سے اجاگر کیا۔ میڈیا نے کورونا وبا کے دوران فرنٹ لائن ورکرز کا کردار ادا کیا۔


آپریشن ردالفساد کا پس منظت۔

پاکستان میں شدت پسند تنظیموں اور ان کے سہولت کاروں کا خاتمہ کرنے کے لیے شروع کیے گئے آپریشن ردالفساد کی وجہ سے ملک بھر میں عمومی طور پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں کافی حد تک کمی آئی ہے تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے بدستور حملوں کے زد میں رہے۔

گذشتہ سال کے آخر میں فوج کے موجودہ سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد آپریشن ضرب عضب کے تحت ملک بھر میں کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔

تاہم سال 2017 کے ابتدائی دو ماہ میں ملک میں دہشت گرد کارروائیوں میں اچانک تیزی آئی اور شدت پسند تنظیموں نے ایک ہی دن میں پشاور سے لے کر کراچی اور پھر بلوچستان تک اہم سرکاری اور شہری اہداف کو نشانہ بنایا جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید دہشت گرد پھر سے منظم ہو رہے ہیں۔

ان حملوں میں لاہور میں چیئرنگ کراس میں ہونے ولا واقعہ خصوصی طور پر قابل ذکر ہے جس میں 18 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ واقعات ایسے وقت پیش آئے جب ملک کے بیشتر لوگ یہ سمجھ رہی تھے کہ شاید ضرب عضب کے نتیجے میں دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔

تاہم ان بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں فروری 2017 میں فوج کی طرف سے آپریشن ردالفساد کے نام سے ایک نئے آپریشن کا آغاز کیا گیا۔

اس آپریشن کے بڑے اہداف میں ملک کے مختلف علاقوں میں قائم شدت پسندوں کے ’سلپر سیلز‘ اور ان کے سہولت کاروں کا خاتمہ کرنا تھا۔ اس آپریشن میں اب تک بیشتر کارروائیاں انٹلیجنس معلومات کے تحت کی گئی ہیں اور جس کا دائرہ فاٹا اور خیبر پختونخوا سے لے کر کراچی، بلوچستان اور پنجاب کے صوبوں تک پھیلا دیا گیا ہے۔


ردالفساد ایک وسیع المقاصد پراجیکٹ۔

پاک فوج کے زرائع  کا کہنا ہے کہ ’رد الفساد‘ کا مقصد نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنا ہے اور یہ کہ اس آپریشن سے سرحد کی سکیورٹی بھی یقینی بنانا ہے۔

دفاعی امور کے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ردالفساد کے تحت ہونے والی زیادہ تر کارروائیاں کامیاب رہی ہے جہاں تک دہشت گردی کے منبع  اور جڑ کا تعلق ہے اس پر بھی خاص توجہ دی گئی جس سے اس آپریشن کو مکمل طور پر کامیاب بنانے میں مدد ملی۔بعض تجزیہ نگاروں کی یہ راے ہے کہ ’جب تک ہم افغانستان کے ساتھ ایک نئی اور مثبت سوچ کے ساتھ بات چیت نہیں کریں گے اس وقت تک دہشت گردی کا معاملہ مکمل طور پر حل نہیں ہوسکتا۔‘

انھوں کہا کہ ’فوج بھلے کتنے ہی بڑے آپریشن کیوں نہ کرے دہشت گردی کے واقعات کا روکنا مشکل نظر آتا ہے، کیونکہ دہشت گرد کہیں نہ کہیں نکل ہی جاتے ہیں۔ جب تک اس بات پر پوری توجہ نہیں دی جاتی کہ اس کا مرکز کہاں ہے اور اسے کیسے ختم کیا جاسکتا؟‘

’افغانستان کے ساتھ آج کل مذاکرات کا عمل مثبت پیش رفت کی طرف بڑھ رہا لیکن اسے مزید مربوط بنانا ہوگا اور دونوں ممالک کو اپنے اپنے موقف سے ہٹ کر قابل عمل اعتماد سازی کی طرف بڑھنا ہوگا ورنہ اس کے علاوہ اس معاملے کا اور کوئی حل بظاہر نظر نہیں آتا۔‘

پاکستان میں آپریشن ردالفساد کے بعد عوامی مقامات پر اگرچہ بڑے بڑے دھماکوں اور واقعات میں کافی حد تک کمی آئی ہے لیکن ہدفی یا ٹارگٹیڈ واقعات کا سلسلہ کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے۔

ماضی میں پشاور میں دو بڑے واقعات رونما ہوئے جس میں پولیس کے اے آئی جی کی ہلاکت کے علاوہ زرعی تربیتی ادارے پر بڑا حملہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی بروقت کارروائی کی وجہ سے زیادہ نقصان نہیں ہوا۔

اس کے علاوہ بلوچستان میں بھی مسلسل پولیس اور سکیورٹی اہلکار حملوں کے زد میں رہے۔تاہم پاک فوج کی بروقت کاروائیوں کی وجہ سے دہشت گردوں کی سرکوبی کی گئی اور ان میں ملوث مجرموں کو قرار واقعی سزا دی گئی۔

شدت پسندی پر گہری نظر رکھنے والے سنئیر تحقیق کار عامر رانا کا کہنا ہے کہ ردالفساد میں مرکزی توجہ شدت پسند تنظیموں کے سہولت کاروں یا ان کے سپورٹ گروپوں پر رکھی گئی۔

انھوں نے کہا کہ ضرب عضب اور ردالفساد کی وجہ سے دہشت گرد تنظیموں کے حملہ کرنے کی صلاحیت میں کمی ضرور واقع ہوئی ہے۔


پاک افغان سرحد پر موثر انتظامات۔

آپریشن ردالفساد کا ایک بنیادی نکتہ پاک افغان سرحد کی سکیورٹی بڑھانا اور اس کو محفوظ بنانا بھی رہا ہے۔

ڈیورنڈ لائن کے نام سے منسوب پاک افغان بارڈر دونوں ممالک کے درمیان ابتدا ہی سے زیادہ تر مسائل کی جڑ رہا ہے۔ پاکستان الزام لگاتا رہا ہے کہ ملک کے اندر ہونے والے بیشتر واقعات کی منصوبہ بندی سرحد پار افغانستان میں ہوتی رہی ہیں اور جہاں سے شدت پسند سرحد پار کر کے یہاں حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ تاہم افغانستان کا موقف ہے کہ ان حملوں کو حکومتی پشت پناہی حاصل نہیں۔

پاکستان نے ان واقعات کو روکنے کے لیے حالیہ دنوں میں پاک افغان سرحد پر باڑ اور جدید آلات لگانے کا کام تیز کر دیا ہے۔سرحد پر باڑ لگانے کے عمل سے سرحدیعلاقوں کو محفوظ بنانے میں بھی مدد ملی ہے۔اور سرحد پار دہشت گردی کے واقعات میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔پاکستان میں دہشت گردی کا منبع ہمیشہ سے افغانستان رہا ہے۔یہاں پر بھارت کی مدد سے پاکستان کے خلاف منصوبے بنائے جانے کا کام اکثروبیشتر جاری رہتا ہے ہے۔افغانستان میں بھارتی قونصل خانے پاکستان مخالف کیمپ کے طور پر کام کرتے ہیں۔پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کی وجہ سے بھارتی عزائم کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔اور آپریشن ردالفساد کا ایک اہم مرحلہ طے ہوا ہے۔پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس بات پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے عمل کے کام میں کوتاہی یا سستی کی جاے ۔سرحد پر باڑ لگانے کے عمل کو موجودہ حکومت نے بھی  سست نہیں ہونے دیا۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ’ابتدا میں نیشنل ایکشن پلان پر آپریشن اور آئی ڈی پیز کی بحالی کی حد تک تو موثر عمل درآمد نظر آیا لیکن جو دیگر نکات ہیں ان پر توجہ نہیں دی گئی۔اور جو کام سیاسی حکومت کی طرف سے کرنے والے تھے ان کاموں پر کما کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

ادھر عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ گذشتہ دس ماہ کے دوران آپریشن ردالفساد کے تحت ملک بھر میں 69 بڑے آپریشن اور 18 ہزار سے زیادہ انٹلیجنس معلومات پر مشتمل کارروائیاں کی گئی ہیں جس میں 20 ہزار چھوٹے بڑے ہتھیار برآمد کے گئے۔

آپریشن ردالفساد میں جنرل آصف غفور کا کردار۔

جن دنوں آپریشن ردالفساد شروع کیا گیا اس وقت آئی ایس پی آر کے سربراہ جنرل آصف غفور فوج کے شعبہ ابلاغیات کے سربراہ تھے۔انہوں نے آئی ایس پی آر کو جدید طرز پر کچھ اس طرح منظم کیا کہ پاکستان کا موقف دنیا بھر میں بھر پور توجہ کے ساتھ سنا گیا۔جنرل آصف غفور نے جس مضبوط انداز میں آپریشن ردالفساد کی تفصیلات قوم کے سامنے رکھی وہ انہی کا خاصہ تھا۔یہ بات کہنے میں کوی عار نہیں کہ میجر جنرل آصف غفور نے اپنی پیشہ ورانہ زمہ داریوں کو احسن انداز میں سرانجام دیا۔جناب آصف غفور نے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ کی حیثیت سے جس مضبوط ،جاندار اور مدلل انداز میں پاکستان اور پاک فوج کا موقف قوم کے سامنے پیش کیا وہ انہی کا خاصہ ہے۔میڈیا سے وابستہ افراد اس بات سے آگاہ ہیں کہ جب جنرل آصف غفور میڈیا کے سامنے اپنا موقف پیش کرتے تھے تو بھارت اور افغانستان میں بیٹھے پاکستان دشمنوں کی نیندیں حرام ہو جایا کرتی تھیں اسی طرح موجودہ سربراہ راہ اپنی افتاد طبع کے مطابق اپنے فرائض بخوبی سرانجام دے رہے ہیں۔ناقدین  کی طرف سے کئے گئے اعتراضات کے جوابات مدل انداز میں دیتے ہیں۔


حرف آخر۔

پاک فوج ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہے۔پاکستان کے چپے چپے پر پاک فوج کے شہداء کی قبریں اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ فوج کے جوان اپنے وطن عزیز کے تحفظ کے لیے اپنی جان بھی قربان کرنے سے دریغ نہیں کرت۔آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد نے دہشت گردوں کی جڑوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔پاکستان کی سرحدیں محفوظ کردی گئی ہیں۔دشمنوں کو کاروائیوں کے مواقع نہیں دیے جارہے۔پاکستان کے غیور عوام آج بھی سرحدوں کی حفاظت کے لئے اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔آپریشن ردالفساد کے چار سال مکمل ہونے پر پوری قوم شہداء کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے اور پاک فوج کی حربی صلاحیتوں پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتی یے

Operation Radd-ul-Fasaad /آپریشن ردالفساد کے چار سال مکمل۔۔عزم و ہمت اور کامیابی کے چار سال۔ Operation Radd-ul-Fasaad /آپریشن ردالفساد کے چار سال مکمل۔۔عزم و ہمت اور کامیابی کے چار سال۔ Reviewed by Rizwan Malik on فروری 27, 2021 Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.