واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمبر 61
آپ کا دہن مبارک
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دہن مبارک سے ہمیشہ خوشبو آتی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گفتگو فرماتے تو یوں محسوس ہوتا کہ
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دندان مبارک سے نور کی لپٹیں نکل رہی ہیں۔ضیاء النبی میں اس کا تذکرہ کچھ یوں ہے۔
”سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دہن اقدس سے کبھی بدبو نہیں آئی۔بلکہ جس چیز کا تعلق حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دہن مبارک سے ہو جاتا تھا اس سے کستوری کی لپٹیں نکلا کرتی تھیں۔امام بیہقی اور ابن ماجہ نے ابو نعیم اور امام احمد نے وائل بن حجر سے روایت کیا ہے کہ ایک دفعہ کسی نے پانی بھر ا ہوا ڈول حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پانی لیا پھر منہ میں پانی بھر کر اس ڈول میں ڈال دیا۔پھر ڈول کا پانی اس کنوئیں میں انڈیل دیا تو پھر اس کنوئیں سے ہمیشہ کستوری کی خوشبو آیا کرتی تھی۔
امام طبرانی نے صمیرہ بنت مسعود سے روایت کیا ہے کہ اپنی دوبہنوں کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دھوپ میں خشک کیا ہواگوشت تناول فرما رہے تھے۔سرکاردو عالم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے دانتوں میں چبایا پھر ان سب کو تھوڑا تھوڑا دیدیا۔جن بچیوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چبایا ہوا گوشت کھایا مرنے تک کبھی ان کے منہ سے بدبو نہیں آئی۔“
عبداللہ بن عمرو کو ساری باتیں تحریر کرنے کا حکم
امام ابو داؤد نے حضرت عبداللہ بن عمرسے روایت کیا ہے آپ نے فرمایا کہ جو بات میں رسول اکرم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتا تھا وہ لکھ لیا کرتا تھا۔میرا مقصد یہ تھا کہ میں ان کلمات طیبات کو حفظ کر لیا کروں لیکن قریش نے مجھے اس بات سے روکا کہ تم ہر چیز لکھتے جاتے ہو۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بشر ہیں اور کبھی غضب کی حالت میں اور کبھی رضا کی حالت میں گفتگو فرماتے ہیں۔چنانچہ میں نے ان کی بات سن کر لکھنا ترک کر دیا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں یہ ماجرابیان کیا۔
رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگشت مبارک سے اپنے دہن مبارک کی طرف اشارہ کیا اور مجھے فرمایا:لکھا کرواس ذات پاک کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے،ان لبوں سے حق کے بغیر کچھ نہیں نکلتا۔حضرت شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ اپنے قصیدہ اطیب النغم میں اپنے آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے حسن و جمال کا تذکرہ کرتے ہوئے ارقم طراز ہیں۔:”حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رخ انور من موہنا ہے۔اس کی رنگت سفید ہے۔قد مبارک درمیانہ ہے۔اور اعضاء کی ہڈیوں پر گوشت ہے اور آپ کے ابروباریک اور کمان کی طرح طویل ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مہتاب کی طرح روشن ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسن دل لجھانے والا ہے۔چشم مازاغ کی سیاہی بہت شدید ہے او ر اس کے سفید حصہ سرخ ڈوروں کی آمیزش نے آنکھوں کو ازحد پر کشش بنا دیا ہے۔آپ کے کلام میں ایسی فصاحت و بلاغت ہے کہ اس میں عجمیت کاشائبہ تک بھی نہیں پایا جاتا۔ حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اخلاق کریمہ اور محاسن جسمانی میں اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق سے زیادہ حسین و دلکش ہیں اور لوگوں کو جب آلام و مصائب کے طوفان گھیر لیتے ہیں تو اس وقت ان کو آپ سب سے زیادہ نفع پہنچانے والے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا اور توجہ سے
مصیبت کی گھٹائیں ناپید ہو جاتی ہیں اوررنج والم کے طوفانوں کا رخ پھر جاتا ہے۔“
ام حارثہ کا واقعہ
یوم بدر میں حارثہ بن سراقہ الانصاری شہید ہوگئے۔جب سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر سے واپس مدینہ طیبہ تشریف فرما ہو گئے تو ان کی والدہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔عرض کی یا رسول اللہ!مجھے حارثہ کے بارے میں ارشاد فرمائیں،اگر یہ وہ آگ ہے تو میں خوب رو کر اپنے دل کے ارمان پورے کر لوں اور مرتے دم تک روتی رہوں اور اگر وہ جنت میں ہے تو رونا بند کردوں۔رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے ام حارثہ!اللہ تعالیٰ کی ایک جنت نہیں بلکہ بہت سی جنتیں ہیں اور حارثہ فردوس اعلیٰ میں اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔حضر ت ام حارثہ ہنستی ہوئی واپس آئیں کہتی تھیں:اے حارثہ تمہیں مبارک۔تمہیں مبارک ہو۔رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک برتن منگوایا اس میں پانی ڈالا پھر اپنے دست مبارک اس میں ڈالے اور منہ میں پانی بھر کر اس برتن میں کلی کر دی پھر وہ پانی والا برتن پہلے ام حارثہ کو دیا اس نے پانی پیا پھر اسکی بیٹی کو دیا اس نے اس سے پیا۔پھر انہیں حکم دیا کہ اپنے سینہ پر اس کے چھینٹے ڈال لیں۔انہوں نے ایسا ہی کیا پھر رخصت ہو کر گھر لوٹیں اور ان کی یہ حالت تھی کہ مدینہ طیبہ میں ان دو عورتوں سے زیادہ کوئی خوش نہ تھی اور جس طرح ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں یہ سعادت اور کسی خاتون کو نصیب نہیں ہوئی۔امام بیہقی نے ایک انصاری سے روایت کیا ہے:ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانے کی دعوت دی۔
حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے گئے۔جب کھانا رکھا گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ایک لقمہ اپنے منہ میں ڈالا اور اس کو منہ میں چباتے رہے پھر فرمایا ایسی بکری کا گوشت ہے جو مالک کی اجات کے بغیر لی گئی ہے۔چنانچہ اس عورت سے پوچھا گیا تم نے جو گوشت پکایا ہے وہ کہا سے لیا ہے۔اس نے بتایا کہ میں نے اپنی پڑوسن سے بکر ی لی ہے۔اس وقت اس کا خاوند موجود نہیں تھا اس کی اجازت کے بغیر یہ بکری اس نے مجھے دی ہے اور میں نے یہ بکری ذبح کر کے گوشت پکایا ہے۔بزازاور بیہقی نے حضرت ابو ہریرہ
رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔:”سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دہان مبارک وسیع تھا۔دانت موتیوں کی طرح چمک رہے تھے اور دندان مبارک آپس میں بھنچے ہوئے نہ تھے بلکہ درمیان میں تھوڑا تھوڑا فاصلہ تھا۔“حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔”
حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے سامنے والے دانت بڑے چمکدار تھے۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:”
سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دانت بھچنے ہوئے نہ تھے بلکہ درمیان میں تھوڑا تھوڑا فاصلہ تھا۔جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گفتگو فرماتے تو یوں محسوس ہوتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دندان مبارک سے نور کی لپٹیں نکل رہی ہیں۔“ صاحب المواہب اللدنیہ ابی قرصا نہ جندرہ بن خثینہ الکنانی اللیثی الصحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں:انہوں نے کہا کہ میں،میری والدہ،میری خالہ،ہم سب نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر بیعت کا شرف حاصل کیا۔جب ہم رخصت ہوئے تو راستہ میں میری ماں اور میری خالہ نے مجھے کہا۔:”اے بیٹے!ہم نے خلق اور خلق میں کوئی آدمی ان کا ہمسر نہیں دیکھا اور نہ ہی آپ سے زیادہ حوبرو آپ سے زیادہ پاکیزہ لباس والا اور آپ سے زیادہ نرم گفتگو کرنے والا دیکھا ہے۔جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گفتگو فرماتے تو یوں محسوس ہوتا گویا منہ مبارک سے نور نکل رہا ہے۔“
لعاب دہن
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لعاب دہن مبارک سے ہر طرح کی بیماری ہمیشہ کیلئے دور ہو جاتی۔ضیاء النبی میں اس کا تذکرہ اس طرح موجود ہے۔
”دوسرے لوگ خواہ کتنے صاف ستھرے ہوں اور بہترین خوشبوؤں سے معطرہوں لیکن جب وہ تھوکتے ہیں تو دیکھنے والے پر ناپسند یدگی کے آثار نمایا ں ہوتے ہیں۔ہسپتالوں ٹرینوں،بسوں اور تمام عمارتوں پر یہ جابجا لکھا ہوتا ہے: تھوکئے مت کیونکہ اس سے بیماری پھیلتی ہے اور صاف مقامات غلیظ ہو جاتے ہیں لیکن محبوب رب العالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لعاب دہن کی شان ہی نرالی تھی۔حضرت علی مرتضیٰ (رضی اللہ عنہ)کی بیمار آنکھوں میں ڈالا تو فوراََ شفا ہو گئی۔اسلام کے مجاہد ابو جہل کے قاتل کا ایک بازو دشمن کی تلوار لگنے سے کٹ گیا دوڑتے ہوئے اپنے آقا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت میں حاضرہوکر عرض کی بازو لٹک رہا ہے درد ہوتا ہے نگاہ کرم فرمائیں۔
سر و ر عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی تھوک مبارک کٹے ہوئے بازو پر ڈالی،فوراََ زخم مند مل ہوگیا درد کا فورہو گیا لٹکتا ہوا بازو ہیوست ہو گیا۔
حضرت قتادہ کی آنکھ کا واقعہ
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کی آنکھ پر تیر لگا تھا۔ڈھیلا باہر نکل آیا وہ بھی اپنے آقا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت میں حاضر ہو کر نظر کرم کے ملتجی ہوئے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے ڈھیلے کو لیا وار اس کی جگہ رکھ دیا پھر اس پر لعاب دہن ملا اور وہ چشم زدن میں درست ہو گئی۔درد بھی ّختم ہوا اس کی بینائی تندست آنکھ سے زیادہ تیز ہو گئی۔اور یہ امتیاز ان کی اولاد میں کئی نسلوں تک باقی رہا کہ قتادہ کی جس آنکھ کو نبی رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اپنے لعاہب دہن مبارک سے نوازا تھا وہ خوبصورتی اور بینائی میں نمایا ہوا کرتی تھی۔لوگ ان کے بچوں کو دیکھ کر سمجھ جایا کرتے تھے کہ حضرت قتادہ کے فرزند ہیں یہ ان کی نسل سے ہیں جن کی آنکھ کا درماں نبی کریم
(حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اپنے لعاب دہن سے فرمایا تھا۔“
عتبہ بن فرقد ہ سے آنے والی خوشبو کا راز
”امام طبرانی اور بیہقی ام عاصم سے روایت کرتے ہیں یہ ام عاصم عتبہ بن فرقدکی زوجہ تھیں وہ فرماتی ہیں عتبہ کی ہم چار بیویاں تھیں ہم میں سے ہر ایک کی کوشش ہوتی کہ وہ ایسی خوشبو استعمال کرے جو ان کی دوسری بیویوں سے زیادہ عمدہ ہو۔ہم دیکھتیں کہ عتبہ ہمارے خاوند کبھی کوئی خوشبو استعمال نہیں کرتے اسکے باوجود ہم چاروں سے زیادہ ا ن کے جسم و لباس سے خوشبو اٹھتی تھی۔جب آپ لوگوں کے پاس جاتے تو سارے کہتے جسیسی ہو کر اپنے خاوند سے پوچھا جناب آپ کون سا عطر استعمال کرتے ہیں جو تمام خوشبوؤں سے زیادہ خوشبودار ہوتا ہے انہوں نے حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ عہد نبوت میں سے میرے جسم پر سرخ سر خ پھنسیاں نکل آئیں۔میں نے اس کی شکایت اپنے آقا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں کی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اوپر والے کھڑے اتار دو۔میں نے کپڑے اتار کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا اور رانوں پر کپڑا ڈال لیا پھر میرے آقا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے کچھ پڑھا اور اپنی ہتھیلیوں پر پھونک دیا۔رحمت عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا وہ دست مبارک میرے سپپد شکم پر پھیر۔اسی وقت سے مجھ پر یہ انعام ہوا کہ بیماری چلی گئی۔پھنسیاں درست ہو گئیں۔اور میرے جسم سے خوشبو کی لپٹیں نکلنے لگیں۔اس وقت سے اب تک یہی کیفیت ہے اس میں کبھی کمی واقع نہیں ہوئی۔(ضیاء النبی ج5ص453تا458)
waqiat e serat un nabi episode 61
Reviewed by Rizwan Malik
on
فروری 24, 2021
Rating:
Reviewed by Rizwan Malik
on
فروری 24, 2021
Rating:

کوئی تبصرے نہیں: