تحریرو تحقیق:پیر محمد فاروق بہاؤالحق شاہ
حضرت سلمان فارسی رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشہور صحابی تھے
حضرت سلمان فارسی کا نام و نسب اور ولادت
حضرت سیدنا سلمان فارسی کا اصل نام روزبہ اور آپ کے والد کا نام خشفودان اور بعض دیگر اقوال کے مطابق بوذخشان تھا۔ روایات کے مطابق اسلام لانے کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کا نام سلمان رکھا۔ سلمان کی کنیت ابوعبداللہ تھی۔ ولادت اصفہان کے ایک دیہات ''جی'' میں ہوئی بعض اور روایات کے مطابق اس دیہات کا نام رامہرمز تھا۔
بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آپکا مقام۔
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اس مخصصوص زمرے میں تھے جس کوبارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں خاص تقرب حاصل تھا، مخصوص صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے علاوہ کم لوگ ایسے تھے جوبارگاہِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی ہمسری کرسکتے ہوں، غزوہ خندق کے موقع پرجب مہاجرین اور انصار علیحدہ علیحدہ جمع ہوئے تومہاجرین کہتے تھے کہ سلمان رضی اللہ عنہ ہمارے زمرہ میں ہیں، انصار کہتے تھے کہ ہماری جماعت میں ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سلمان رضی اللہ عنہ ہمارے اہلِ بیت میں سے ہیں (مستدرک حاکم:۳/۵۹۸
غلامی سے آزادی اور اسلام قبول کرنا
آپ نے ہجرت کے پہلے سال جمادی الاول کے مہینے میں اسلام قبول کیا۔ غلامی کی مشغولیت کے باعث فرائضِ مذہبی ادا نہ کرسکتے تھے؛ اسی وجہ سے غزوہ بدرواُحد میں شریک نہ ہوسکے، اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اپنے آقا کومعاوضہ دے کرآزادی حاصل کرلو، تین سوکھجور کے درخت اور چالیس اوقیہ سونے پرمعاملہ طے ہوا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عام مسلمانوں سے سفارش فرمائی کہ اپنے بھائی کی مدد کرو، سب نے حسب حیثیت کھجور کے درخت دیے، اس طریقہ سے تین سودرخت ان کومل گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد سے ایک شرط پوری کردی، اب سونے کی ادائیگی باقی رہ گئی اس کا سامان بھی خدا نے کردیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوکسی غزوہ میں مرغی کے بیضہ کے برابر سونا مل گیا، آپ نے حضرت سلمان کو عطا فرما دیا، یہ وزن میں ٹھیک چالیس اُوقیہ تھا،یہ سب ادا کر کے غلامی گلوخلاصی حاصل کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہنے لگے(ماخوز از مسنداحمد بن حنبل:۵/۴۱ تا ۴۴)
رشتہ مواخات
مسلمانوں کے درمیان جب مواخات قائم ہوئی تو بعض کے مطابق حضرت سلمان فارسی اورحضرت ابودرداء کے درمیان رشتہ مواخات قائم ہوا۔ لیکن بعض کے مطابق حضرت سلمان اورحضرت حذیفہ بن یمان، اور بعض کے مطابق حضرت سلمان اورحضرت مقداد کے درمیان رشتہ مواخات قائم ہوا۔
جنگی مشورے
حضرت سلمان نے ابتدا اسلام سے ہی جنگوں میں شرکت شروع کی اور غزوہ خندق کے بعد کوئی ایسی جنگ نہیں تھی جس میں آپ نے شرکت نہ کی ہو۔ شہر مدینہ کے ارد گرد خندق کھودنے کا مشورہ آپ نے ہی دیا تھا۔ اس جنگ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر دس افراد کو چالیس ذراع زمین کی کھدائی کی ذمہ داری لگائی۔ حضرت سلمان جسمانی لحاظ سے ایک طاقت ور شخص تھے جس کی وجہ سے مہاجرین اور انصار میں اختلاف ہو گیا ہر کوئی چاہتا تھا کہ حضرت سلمان ان کے گروہ میں شامل ہوں۔ بعض روایات کے مطابق سلمان نے جنگ طائف میں منجنیق استعمال کرنے کا مشورہ دیا جس پرحضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس ہتھیار کے استعمال کا حکم دیا۔
ایران کی فتح کے وقت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت سلمان فارسی اورحضرت حذیفہ کو اسلامی فوج کی راہنمائی کی لئے ہراول دستے میں شامل کیا۔مدائن کی فتح کے وقت لشکر اسلام کی طرف سے ایرانی فوج کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری حضرت سلمان کے کندھے پر تھی۔
مدائن کی گورنری
حضرت سلمان فارسی، خلیفہ ثانی حضرت عمربن خطاب کے زمانے میں خلیفہ کی جانب سے مدائن کے گورنر مقرر ہوئے۔ حضرت سلمان تا دم آخر اس شہر کے والی رہے۔ ایک گورنر ہونے کے ناطے سے بیت المال سے حضرت سلمان کا حصہ پانچ ہزار درہم تھا جسے وہ صدقہ کر دیا کرتے تھے
شادی اور اولاد
حضرت سلمان نے بنی کندہ کی ایک عورت سے شادی کی۔ ان کے دو بیٹے عبداللہ اور محمد تھے۔حضرت سلمان کی ایک بیٹی اصفہان میں اور دو بیٹیاں مصر میں تھیں۔
علالت اور وفات
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں علیل ہوگئے۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ عیادت کوگئے تورونے لگے، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوعبداللہ رونے کا کون سامقام ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تم سے خوش خوش دنیا سے اُٹھے، تم ان سے حوض کوثر پرملوگے، بچھڑے ہوئے ساتھیوں سے ملاقات ہوگی، کہا: خدا کی قسم میں موت سے نہیں گھبراتا اور نہ دنیا کی حرض باقی ہے، رونا یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے عہد کیا تھا کہ ہمارا دنیاوی سازوسامان ایک مسافر کے زادِ راہ سے زیادہ نہ ہو؛ حالانکہ میرے گرد اس قدر سانپ (اسباب) جمع ہیں، سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کل سامان جس کوسانپ سے تعبیر کیا تھا، ایک بڑے پیالے، ایک لگن اور ایک تسلہ سے زیادہ نہ تھا، اس کے بعد سعد رضی اللہ عنہ نے خواہش کی کہ مجھ کوکچھ نصیحت کیجئے، فرمایا:کسی کام کا قصد کرتے وقت، فیصلہ کرتے وقت اور تقسیم کرتے وقت خدا کویاد رکھاکرو (ابن سعد:۴/۵،۶) ۔ بعض روایات کے مطابق آپکی وفات حضرت عثمان کے دور خلافت میں جبکہ بعض دوسری روایات میں آپکی رحلت حضرت عثمان کے دور خلافت کے بعد ہوئی ہے۔ روایات کے مطابق، حضرت سلمان فارسی کی عمر مبارک کافی طویل تھی اور اسمیں متعدد اقوال ہیں۔ بعض روایات میں ہے کہ حضرت سلمان کی وفات کے بعد سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم مدینہ سے مدائن تشریف لائے اور ان کی تجہیز و تکفین کو آپ نے ہی انجام دیا پھر ان کی نماز جنازہ پڑھا کر انہیں اپنے ہاتھوں سپرد خاک کیا۔آپ نے 10رجب 33ہجری کو وفات پائی۔
یوم وصال حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
Reviewed by Rizwan Malik
on
فروری 24, 2021
Rating:
Reviewed by Rizwan Malik
on
فروری 24, 2021
Rating:

کوئی تبصرے نہیں: