یوم ولادت باسعادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام
امام المتقین حضرت امام محمد تقی علیہ السلام ۱۰/ رجب المرجب ۱۹۵ ھ مطابق ۸۱۱ ء بروز جمعۃ المبارک مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ (شواہدالنبوت ص ۲۰۴)۔روایات کے مطابق امام محمد تقی علیہ السلام سے پہلے سیدنا امام علی رضا علیہ السلام کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی اوردشمنان اہل بیت کہتے تھے کہ اب اہل بیت کی نسل منقطع ہوجائے گی۔ اس پر امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا کہ اولادعطاکرنا یا نہ کرنا اللہ تعالی کا کام ہے۔ ان شائاللہ میرا جانشین عنقریب پیدا ہوگا۔
آپؑ کااسم گرمی والدماجدحضرت سیدنا امام علی رضاعلیہ السلام نے ”محمد“ رکھا۔ آپؑ کی کنیت ”ابوجعفر“ اور آپؑ کے القابات میں جواد، قانع، مرتضٰی ہیں اورسب سے معروف ترین لقب تقی ہے۔(شواہدالنبوت ص ۲۰۲)
سیدناحضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی سیرت
حضرت امام محمد تقی علیہ السلام آئمہ اہل بیت میں سے نویں امام ہیں۔ آپ علیہ السلام امام محمد تقی، امام جواد اور امام المتقین کے القابات سے مشہور ہیں۔سیدنا امام محمد تقی علیہ السلام نے اپنی علمی و روحانی صلاحیتوں کی بدولت عباسی دور کی بدعات اور غیر اسلامی رسومات کا خاتمہ کیا۔ آپؑ انتہائی متقی و پارسا، زاہد و عابد، شریعت و طریقت کے جامع اور شرافت کے پیکر مجسم تھے۔
امام محمدتقی کی اپنے والد سے جدائی
سیدنا امام محمد تقی علیہ السلام کونہایت کم سنی کے زمانہ میں مصائب اورپریشانیوں کامقابلہ کرنے کے لیے تیارہوجانا پڑا۔ آپؑ کو اطمینان اورسکون کے لمحات میں ماں باپ کی محبت اورشفقت وتربیت کے سائے میں زندگی گزارنے کاموقع انتہائی کم مل سکا۔
جب حضرت امام علی رضاعلیہ السلام مدینہ سے خراسان کی طرف محو سفر ہوئے تو امام محمد تقی علیہ السلام کوپھرظاہری زندگی میں اپنے والد گرامی سے ملاقات کاموقع نہ ملا اورتقریباً تین برس کی جدائی کے بعد سیدنا امام علی ضا علیہ السلام شہادت کے رتبے پرفائز ہوگئے۔
دنیایہ سمجھنے لگی کہ حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کے لیے علمی اورعملی بلندیوں تک پہنچنے کاکوئی ذریعہ نہیں رہا۔ اور شاید اب امام جعفرصادق علیہ السلام کی علمی مسندخالی ہوجائے گی۔تقریباً پانچ برس کی عمر میں دین اسلام کی خاطرامام محمد تقی علیہ السلام نے مدینہ منورہ سے خراسان کی طرف ہجرت فرمائی اور کم عمری میں ہی علم، فقہ و حدیث اور علوم باطنی میں مہارت حاصل کرلی۔چند دن بعد ہی اہل بیت کا نوری جوہر افشاں ہوا اور جو بظاہر کمسن اور نوعمربچہ لگ رہا تھا وہ عباسی خلیفہ مامون الرشید کے پہلو میں بیٹھ کربڑے بڑے علماء سے فقہ وحدیث وتفسیراورکلام پرمناظرے کرتا اوران سب کوقائل کرتے دیکھا گیا تو لوگوں کی حیریت کی انتہا نہ رہی۔
حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی شجاعت و بہادری
سیدناامام محمدتقی علیہ السلام تقریباً 9برس کی عمر میں ایک دن بغدادکی کسی گزرگاہ میں کھڑے تھے اورچند لڑکے وہاں کھیل رہے تھے کہ عباسی خلیفہ مامون الرشید کی سواری دکھائی دی اور سب لڑکے ڈرکربھاگ گئے مگرحضرت امام محمدتقی علیہ السلام اپنی جگہ پرکھڑے رہے۔
جب خلیفہ مامون کی سواری وہاں پہنچی تواس نے حضرت امام محمدتقی علیہ السلام سے مخاطب ہوکرکہاکہ صاحب زادے جب سب لڑکے بھاگ گئے تھے توآپؑ کیوں نہیں بھاگے؟امام جواد محمد تقی علیہ السلام نے بے ساختہ جواب دیا کہ میرے کھڑے رہنے سے راستہ تنگ نہ تھا جوہٹ جانے سے وسیع ہوجاتااورمیں نے کوئی جرم نہیں کیاتھا کہ ڈرتا۔ نیزمیراحسن ظن
ہے کہ تم بے گناہ کوضررنہیں پہنچاتے۔ عباسی خلیفہ مامون الرشید کوحضرت امام محمدتقی علیہ السلام کااندازِبیان بہت پسندآیا۔
بادشاہان وقت
حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کی ولادت ۱۹۵ ھ میں ہوئی اس وقت بادشاہ وقت،امین ابن ہارون رشیدعباسی تھا۔۱۹۸ ہجری میں مامون رشیدبادشاہ وقت ہوا۔۲۱۸ ہجری میں معتصم عباسی خلیفہ وقت مقررہوا۔ اسی معتصم نے ۲۲۰ ہجری میں آپ کوزہرسے شہیدکرادیا۔
حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی کرامات
امام محمد تقی علیہ السلام کے حوالے سے مشہور ہے کہ ایک شخص نے امام جواد علیہ السلام کی خدمت میں حاضرہوکرعرض کیاکہ ایک مسماۃ (ام الحسن) نے آپ سے درخواست کی ہے کہ اپناکوئی جامہ عطاء فرمائیں تاکہ میں اسے اپنے کفن میں رکھوں۔آپ علیہ السلام نے فرمایاکہ اب جامہ کی ضرورت نہیں ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ جب وہ شخص واپس پہنچا تو معلوم ہواکہ وہ عورت تقریباً دو ہفتے قبل انتقال کرچکی تھی۔اسی طرح ایک اور کرامت اس طرح بیان کی جاتی ہے کہ ایک شخص مکہ سے مدینہ کی طرف سفر میں تھا۔ راستے میں اس نے روٹی کا ایک لقمہ راہِ خدا میں صدقہ کیا، کچھ دیر بعد آندھی آئی اور اس کی پگڑی ہوا میں اڑا لے گئی۔جب وہ مدینہ شریف پہنچا تو حضرت امام محمد تقی علیہ السلام سے ملاقات کرنے حاضر ہوا۔ سیدنا امام محمد تقی علیہ السلام نے اپنے خادم کو آواز دی کہ اس کی پگڑی لے آو۔اس شخص کو بہت تعجب ہوا تو امام جواد علیہ السلام نے فرمایا: تم نے جو راہِ خدا میں صدقہ کیا تھا وہ اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالیا ہے اور اللہ تعالیٰ یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ جو اس کی راہ میں صدقہ دے وہ اسے نقصان پہنچنے دے۔
امام محمد تقی کی ازواج واولاد
علماء کرام نے لکھا ہے کہ حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کی متعدد بیویاں تھیں۔جن میں ام الفضل بنت مامون رشیدعباسی اورسمانہ خاتون یاسری نمایاں حیثیت رکھتی تھیں۔آپؑ کی شان و عظمت کو دیکھ کر عباسی خلیفہ مامون الرشید نے اپنی شہزادی ام الفضل کا نکاح آپؑ سے کردیا تھا۔جناب سمانہ خاتون (جوکہ حضرت عماربن یاسررضی اللہ تعالیٰ علیہ کی نسل سے تھیں) کے علاوہ کسی سے کوئی اولادنہیں ہوئی۔
سیدنا امام محمد تقی علیہ السلام کی اولادکے بارے میں علماء کااتفاق ہے کہ آپؑ کے دو صاحبزادے اور دو صاحبزادیاں تھیں۔
جن کے اسماء گرامی یہ ہیں
حضرت امام علی نقی بن امام محمد تقی علیہ السلام حضرت موسیٰ بن امام محمد تقی علیہ السلام جناب فاطمہ بنت امام محمد تقی سلام اللہ علیہما
جناب امامہ بنت امام محمد تقی سلام اللہ علیہما امام محمد تقی علیہ السلام کی شہادت
شہادت امام محمد تقی علیہ السلام
امام محمد تقی علیہ السلام شہادت سے قبل مدینہ منورہ میں ہی سکونت پذیر تھے۔ عباسی خلیفہ معتصم نے آپ علیہ السلام کو مدینہ شریف سے بغداد بلوایا اور قید کروادیا۔ بالآخر تقریباً 25 سال اور 3 ماہ کی عمر میں قید خانے میں ہی آپؑ کو 29 ذیقعد کو عباسی خلیفہ معتصم کی طرف سے زہر دے کر شہید کردیا گیا۔امام محمد تقی علیہ السلام کی شہادت کے بعد آپؑ کے صاحبزادے سیدنا امام علی نقی علیہ السلام نے رشد و ہدایت کا سلسلہ پوری دنیا میں عام کیا۔
Reviewed by Rizwan Malik
on
فروری 23, 2021
Rating:

کوئی تبصرے نہیں: