یوم وصال محدث اعظم پاکستان
حضرت مولانا سردار احمد قادری

Muhaddith Azam Pakistan Hazrat Maulana Sardar Ahmad Qadri
حضرت
محدث اعظم مولانا محمد سردار احمد ؒ 1904میں پیر کے روز گوردا سپور تحصیل بٹالہ
قصبہ دیال گڑھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد کا اسم گرامی چودھری میراں بخش تھا۔
کنیت:
آپ
نے اپنے بڑے صاحبزادے صاحبزادہ محمد فضل رسول کی ولادت کے بعد ابو الفضل کنیت رکھی۔
تعلیم:
جامعہ
رضویہ مظہر الاسلام بریلی میں آپ نے ابتدائی کتب مفتی اعظم ہند مولانا شاہ مصطفےٰ
رضا خان بریلوی رحمتہ اللہ علیہ سے پڑھیں۔ منیتہ المصلی اور قدوری تک کتابیں حضرت
حجتہ الاسلام نے خود پڑھائیں۔ پھر آپ جامعہ معینیہ عثمانیہ اجمیر شریف میں حضرت
صدرالشریعتہ مولانا مفتی محمد امجد علی(مصنف بہار شریعت) کی خدمت میں حاضر
ہوئے۔اور علم حدیث کی تکمیل کی۔
سنی کانفرنس شرکت:
اسی
دوران آپ نے 1943ء کی مشہور آل انڈیا سنی کانفرنس کے اجلاس منعقدہ بنارس میں شرکت
فرما کر مطالبہ پاکستان کی حمایت کا اعلان فرمایا۔ آپ نے شریعت مطہرہ پر گامزن
ہونے کے ساتھ ساتھ تصوف سلوک کی منازل بھی طے فرمائیں۔
خلافت:
آپ
کو تاج الکاملین، سراج السالکین حضرت شاہ سراج الحق چشتی صابری قدس سرہ اور سلسلہ
قادریہ میں حجۃ الاسلام مولانا شاہ حامد رضا خان مفتی اعظم ہند مولانا شاہ مصطفےٰ
رضا خان بریلوی سے سند خلافت حاصل ہے۔
سند حدیث:
سندِ
حدیث میں آپ کا سلسلہ بواسطہ مفتی اعظم ہند شاہ مصطفےٰ رضا خان مولانا عبدالعلی
لکھنوی شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اور شیخ المحققین شاہ عبدالحق محدث دہلوی تک
پہنچتا ہے۔
جامعہ رضویہ کا آغاز:
حضرت
محدث اعظم رحمتہ اللہ علیہ نے 12 ربیع الاول 1369ھ کو مرکزی سنی رضوی جامع مسجد
کاسنگ بنیاد رکھا جوکہ آج کل اہلسنت کا ایک عظیم مرکز ہے اور ساتھ ہی آپ نے مرکزی
دارالعلوم جامعہ رضویہ مظہر الاسلام کا سنگ بنیاد رکھا۔
آپ
نے پہلا فریضہ حج 1945ء میں مفتی اعظم ہند شاہ مصطفےٰ رضاخان کے ساتھ ادا کیا۔
دوسری
دفعہ1956ء میں زیارت حرمین طیبین کے لئے تشریف لے گئے۔
علالت:
مسلسل
درس وتدریس اور کام نے آپ کی صحت پر بہت زیادہ اثر کیا جب علالت نے طول پکڑا تو آپ
بغرض علاج کراچی تشریف لے گئے اور پھر یکم شعبان 1328ھ 28 دسمبر 1962ء کو شب ایک
بجکر چالیس منٹ پرآپ اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔۔ اناللہ وانا الیہ راجعون دم
آخر آپ کی زبان مبارک پر اللہ ہو اللہ ہو کا ورد جاری تھا۔
جنازہ:
آپ
کی وفات کی خبر متعدد بارریڈیو پاکستان سے نشر کی گئی۔ کراچی میں نماز جنازہ شیخ
الحدیث علامہ عبدالمصطفےٰ الازہری رحمتہ اللہ علیہ نے پڑھائی۔ اس کے بعد جسدِاقدس
کو بذریعہ ٹرین فیصل آباد لایا گیا۔ آپ کے تابوت مبارک کو دھوبی گھاٹ لے جایا گیا۔
جہاں تقریباََ تین لاکھ افراد نے باچشم تر آپ کے جنازے میں شمولیت کی۔
اولاد:
آپکے
4صاحبزادے تھے ان کے اسماء درج ذیل ہیں۔محمد فصل رسول۔محمد فضل رحیم۔محمدفضل احمد
رضا۔محمد فضل کریم۔محمد فضل رحیم بچپن میں وفات پا گئے۔آپکی 6صاحبزادیاں تھیں۔حضرت
مولانا فضل رسول آپکے جانشین مقرر ہوئے صاحبزادہ حاجی فضل کریم سیاست میں معروف
ہوئے رکن پارلیمنٹ اور صوبائی وزیربھی رہے۔آپکے پوتے صاحبزادہ حامد رضا اس وقت قرآن بورڈ کے چئیر مین تھے۔
تلامزہ:
آپ
نے کثیر تعداد میں علی،محدثین مدرسین اور مناظر تیار کیے۔جنہوں نے ملک کے طول و
عرض میں اسلام کی حدمت کی ان میں چند بزرگوں کے اسماء درج ذیل ہیں۔آپ کے تلامزہ میں
ریحان ملت صاحبزادہ مفتی ریحان رضاخاں سجادہ نشین بریلی شریف، تحسین ملت صاحبزادہ
مفتی تحسین رضا خاں بریلی شریف، مولانا مشتاق احمد کان پوری، شیخ الحدیث علامہ غلا
م رسول رضوی، مولانا عبدالرشید رضوی جھنگ پیر سید محمد زبیر شاہ چکوال، مولانا
محمد شریف رضوی بھکر، شیخ الحدیث علامہ محمد الیاس ہزاروی ٗ سید عبداللہ شاہ
ملتان، سید حبیب الرحمن شاہ راولا کوٹ آزاد کشمیر، پیر سید محمد یعقوب شاہ پھالیہ،
سید جلال دین شاہ بھکی، سید یعقوب شاہ کیراں والا سیداں گجرات، علامہ عبدالمصطفیٰ
الازہری کراچی، مفتی وقار الدین قادری کراچی، مولانا محمد نواز بھکی، مولانا محمد
فیض احمد اویس بہاولپور، سید مراتب علی شاہ گوجرانوالہ، مولا نا محمد ریاض الدین
اٹک، مفتی محمد حسین سکھر، صاحبزادہ عزیز احمد کفری شریف خوشاپ، مولاناعبدالکریم
خانقاہ ڈوگراں، مولانا منظور احمد نواں جنڈاں والا،
مولانا
عنایت اللہ سانگلہ ہل، مولانا معین الدین شافعی، مولانا عبدالقادر احمد آبادی،
مولانا عبدالوہاب، مولانا محمد ابوداؤد صادق۔
Mahaddassei Aazam Pakistan ki Azeem Yaadgar
Sunni Rizvi Jaamia Masjid Faisalabad |
Reviewed by Rizwan Malik
on
مارچ 16, 2021
Rating:
کوئی تبصرے نہیں: