فضائل ومسائل ماہ شعبان المعظم
| Sha’ban Al-Mu’azzam – The Holy Month of Sha’ban in urdu language |
شعبان
یہ وہی قابلِ قدر مہینہ ہے جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنا مہینہ قرار دیا
ہے شَعْبَانُ شَھْرِیْ وَ رَمَضَانُ شَھْرُ اللّٰہِ یعنی شعبان میرا مہینہ ہے اور
رمضان اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے، یہ وہی قابلِ احترام مہینہ ہے کہ جب رجب المرجب کا
چاند نظر آتا توحضور علیہ الصلوۃ و السلام یہ دعا فرمایا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ بَارِکْ
لَنَا فِیْ رَجَبٍ وَ شَعْبَانَ وَبَلِّغْنَارَمَضَانَ۔۔(مشکوۃ المصابیح:رقم الحدیث1396)
حضرت
ذوالنون مصریؒ فرماتے ہیں:”رجب بیج بونے کا مہینہ ہے، شعبان آب یاری کا اور رمضان
پھل کھانے کا مہینہ ہے۔“
شعبان کے روزے رکھنا
حضرت
عائشہ ؓسے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب روزے رکھنا شروع فرماتے
تو ہم کہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب روزہ رکھنا ختم نہ کریں گے اور جب
کبھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ نہ رکھنے پہ آتے تو ہم یہ کہتے کہ آپ ؐ اب
روزہ کبھی نہ رکھیں گے۔ میں نے آنحضرت ؐ کو رمضان شریف کے علاوہ کسی اور مہینہ کے
مکمل روزے رکھتے نہیں دیکھا اور میں نے آنحضرت ؐ کو شعبان کے علاوہ کسی اور مہینہ
میں کثرت سے روزہ رکھتے نہیں دیکھا۔ (صحیح البخاری:رقم الحدیث:1969، صحیح مسلم:رقم
الحدیث 1156)
کَانَ
اَحَبُّ الشُّہُورِ إِلٰی رَسُوْلِ اِ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اَنْ یَصُوْمَہُ
شَعْبَانَ، ثُمَّ یَصِلُہُ بِرَمَضَانَ.
”رسول
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام مہینوں میں سے شعبان کے روزے رکھنا زیادہ محبوب
تھا۔ آپ صلی للہ علیہ وآلہ وسلم شعبان (کے روزوں) کو رمضان المبارک کے ساتھ ملا دیا
کرتے تھے۔“ (احمد بن حنبل، المسند، 6/
188، رقم: 25589)
شب برات
اس
مہینے کی فضیلت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسی ماہِ مبارک میں وہ مبارک رات بھی آتی
ہے جسے ”شب برات“ کے نام سے موسوم کیا جاتاہے۔ امام بیہقی ’شعب الایمان‘ میں حضرت
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے فرمایا:
اَتَانِی
جِبْرِیْلُ فَقَالَ: ہٰذِہِ اللَّیْلَۃُ لَیْلَۃُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ وَ ِفِیْہَا
عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ بِعَدَدِ شُعُوْرِ غَنَمِ کَلْبٍ
”جبریل
علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے کہا: (یا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم!)
یہ رات، پندرھویں شعبان کی رات ہے اور اس رات اللہ تعالیٰ قبیلہ کلب کی بکریوں کے
بالوں کے برابر لوگوں کو جہنم کی آگ سے آزاد فرماتا ہے۔“(بیہقی، شعب الایمان، رقم:
3837)
حضور
ﷺ شعبان میں کثرت سے روزے رکھتے تھے۔ کسی نے اس کا سبب پوچھا تو آپؐ نے ارشاد فرمایا:”شعبان
سے شعبان کے درمیان موت لکھی جاتی ہے، میں چاہتا ہوں کہ جب میری موت لکھی جائے تو
میں روزے سے ہوں۔“
حضرت
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی بیان فرماتی ہیں:
یَفْتَحُ
اُ الْخَیْرَ فِی اَرْبَعِ لَیَالٍ: لَیْلَۃ الْاَضْحٰی، وَالْفِطْرِ، وَلَیْلَۃُ
النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، یُنْسَخُ فِیْہَا الْآجَالُ وَالارْزَاقُ وَیُکْتَبُ فِیْہَا
الْحَاجُّ وَفِی لَیْلَۃِ عَرَفَۃَ إِلَی الْاَذَانِ.
”اللہ
تعالیٰ چار راتوں میں (خصوصی طور پر) بھلائیوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔ 1۔ عید
الاضحیٰ کی رات، 2۔ عید الفطر کی رات، 3۔ شعبان کی پندرہویں رات کہ اس رات میں
مرنے والوں کے نام اور لوگوں کا رزق اور (اس سال) حج کرنے والوں کے نام لکھے جاتے
ہیں۔ 4۔ عرَفہ (نو ذو الحجہ) کی رات اذانِ فجر تک۔“(سیوطی، الدرالمنثور، 7/ 402)
شبِ برات میں محروم رہ جانے والے لوگ
احادیث
مبارکہ میں اس رات بھی درج ذیل طبقات کو مغفرت سے محروم قرار دیا گیا:
شرک
کرنے والا۔بغض و کینہ اور حسد رکھنے والا۔ ناحق قتل کرنے والا۔شراب نوشی کرنے
والا۔والدین کا نافرمان عادی زانی۔قطع رحمی
والا
مزید
ایک جگہ ارشاد فرمایا:”شعبان میں نامہ اعمال اٹھایا جاتا ہے تو میں چاہتا ہوں کہ
جب میرا نامہ اعمال اٹھایا جائے تو میں روزے سے ہوں۔“ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:”جو
شعبان کا ایک روزہ رکھے گا، اللہ تعالیٰ اس کے جسم کو جہنم کی آگ پر حرام کردے گا۔“
کوئی تبصرے نہیں: