ولادت باسعادت سیدہ زینب بنت علی سلام اللہ علیہا
| 1st Sha'aban : Birth Anniversary of Sayyida Zainab Bint-e-Ali {SA} |
ولادت۔نام و نسب۔
سیدہ
زینب سلام اللہ علیہا 5جمادی الثانی 5یا 6ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئیں۔آپ
کا اسم گرامی زینب آپ کے والد گرامی کا اسم گرامی سید نا مولا علی شیر خدا رضی
اللہ عنہ ہے۔والدہ ماجدہ کا نام خاتون جنت سیدہ فاطمہ الزاھرا ء رضی اللہ عنہا
تھا۔سید نا امام حسن علیہ السلام سید نا امام حسین علیہ السلام آپ کے بھائی تھے۔
ولادت کے وقت اعزاز۔
سیدہ
زینب بنت علی علیہ السلام جب پیدا ہوئیں تو آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ
منورہ میں تشریف فرما نہیں تھے۔ تین دن بعد جب آپ تشریف لائے تو آپ نے سیدہ زینب
کو اپنی گود میں اٹھایا اور کان میں اذان پڑھی اور کھجور چبا کر گھٹی دی اور آپ کا
نام زینب تجویز کیا۔
شبہاہت۔
بعض
روایات کے مطابق سیدہ زینب بنت علی علیہ السلام کی شباہت اپنی نانی اماں سیدہ خدیجۃ
الکبریٰ رضی اللہ تعالی عنہ پر تھی۔اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ سرکار دو عالم
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ زینب اپنی نانی اماں سیدہ خدیجہ کی ہم
شکل ہیں۔
حجت الوداع میں حضور کی ہمرکابی کا شرف۔
سیدہ
زینب بنت علی علیہ السلام اقاے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت عزیز تھیں۔یہاں
تک کہ خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر
آپ کے ہمراہ سوار تھیں۔
والدہ ماجدہ کی وفات۔
جب
آپ کی عمر مبارک ابھی پانچ سال تھی تو آپ کی والدہ ماجدہ سیّدہ فاطمۃ الزھراء رضی
اللہ تعالیٰ عنہا وصال فرما گئیں۔اور آپ کی تربیت
کی ذمہ داری سید نا علی شیر خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے سر انجام دی۔
اخلاق و کردار
سیدہ
زینب آقا دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تربیت یافتہ تھی۔آپ انتہائی عابدہ
زاہدہ اور اپنی والدہ ماجدہ کی سیرت کے عین مطابق شرم و حیاء کی پیکر تھی۔آپ میں
اپنی نانی اماں سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے تمام خصائل بھی موجود تھے۔
شادی اور اولاد۔
قریش
کے معززین کی بڑی تعداد نے آپ کے نکاح کے لیے پیغامات بھیجے لیکن سیدنا علی شیر
خدا رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کا نکاح آپ کے چچا زاد حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضی
اللہ تعالی عنہ سے فرمایا۔سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے پانچ بچے ہوئے جن میں سید
نا عون اور سیدنا محمد کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ
شہید ہو گئے۔دیگر تین سیدنا عبداللہ، سیدنا عباس، سیدہ ام کلثوم ہیں۔
واقعہ کربلا اور سیدہ زینب۔
واقعہ
کربلا میں آپ اپنے بھائی سیدنا امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ تھیں۔آپ کے دو
صاحبزادے سیدنا عون اور سیدنا محمد دونوں واقعہ کربلا میں شہید ہوئے۔آپ نے یزید کے
دربار میں انتہائی دلیری کے ساتھ تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا کہ سے یزید پر سکتہ طاری
ہو کر رہ گیااور زبان گنگی ہو گئی۔
آپ کا علم و فضل۔
حضرت
سیدہ زینب بنت علی علیہ السلام اپنے وقت کی عالمہ فاضلہ خاتون تھیں۔آپ کو محدثہ
ہونے کا شرف حاصل تھا۔آپ کو کئی احادیث روایت کرنے کا اعزاز حاصل تھا۔حضرت سیدہ زینب
سلام اللہ علیھا نے اپنی والدہ سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا سے احادیث
روایت کیں۔اسی طرح اپنے خاوند کی والدہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالی عنہا
سے بھی حدیث روایت کی۔واقعہ کربلا کے بعد
جید صحابہ کرام آپ کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
وفات۔
سیدہ
زینب بنت علی واقعہ کربلا کے بعد صرف دو سال زندہ رہیں اور 15 رجب سنہ 62 ہجری کو
مدینہ منورہ میں وصال فرمایا اور جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔بعض روایات کے مطابق
آپ کے وصال کا مقام دمشق بھی بتایا گیا ہے۔اور وہیں پر تدفین کی روایت بھی موجود
ہے۔
کوئی تبصرے نہیں: