یوم وصال ابو الحسنات سید محمد احمد قادری
Day of the death of Abu Al-Hasnat Syed Muhammad Ahmad Qadri
ابو
الحسنات سید محمد احمد قادری خطیب مسجد وزیر خان لاہور۔ مشہور عالم دین مولاناسید
دیدار علی شاہ الوری کے بڑے صاحبزادے تھے۔
ولادت۔
ابوالحسنات
سید محمد احمد قادری کی ولادت 1314ھ1896ء میں محلہ نواب پورہ میں بھارت
کی ریاست الور میں ہوئی۔
تعلیم وتربیت
حافظ
عبد الحکیم اور حافظ عبد الغفور سے کلام پاک حفظ کیا،اسی دوران مرزا مبارک بیگ سے
اردو اور فارسی کی ابتدائی تعلیم شروع کی اور استاذ قاری قادر بخش سے تجوید کی مشق
کی،گیارہ بارہ سال کی عمر میں حفظ کلام پاک کے ساتھ ساتھ اردو انشاء پر دازی اور
فارسی میں کسی قدر مہارت حاصل کرلی،پھر تمام علوم و فنون کی تعلیم والد ماجد سے
حاصل کی۔درس نظامی اور علوم مروجہ کی تحصیل و تکمیل اپنے والد ماجد اور
صدرالافاضل نعیم الدین مراد آبادی سے کی۔ قرآن کریم کے حافظ اور بہترین
قاری تھے۔ طب نواب حامی الدین مراد آبادی سے پڑھی۔ شعرو ادب سے بھی شغف رکھتے تھے
سیاسی سرگرمیاں
آپ
نے تحریک پاکستان میں مسلم لیگ کے لیے کام کیا۔ تقسیم کے بعد جمیعت العلماء
پاکستان کی تشکیل کی۔
1952ء میں تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں جو مجلس عمل بنی اس کے صدر
تھے۔ ایک سال کے لیے جیل گئے۔ آل انڈیاسنی کانفرنس نے تحریک پاکستان میں جس سر
فروشی اور جاں سپاری سے کام کیا اس کی مثال پیش نہیں کی جا سکتی۔
جمیعت علما پاکستان کا قیام۔
قیام
پاکستان کے بعد ایک ایسی ہمہ گیر تنظیم کی ضرورت محسوس ہوئی جو اہل سنت و جماعت کو
منظم کرنے کے ساتھ ملکی اور ملّی مسائل میں راہنمائی کا فریضہ انجام دے،غزالی زماں
حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کی تحریک پر انوار العلوم،ملتان میں
26،27،28، مارچ 1978ء کو ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان بھر کے علماء و مشائخ
نے شرکت کی،جمعیۃ العلماء پاکستان کی تشکیل کے بعد حضرت علامہ ابو الحسنات صدر،اور
حضرت علامہ کاظمی،ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے۔
یوم شریعت کا انعقاد۔
جمعیۃ العلماء پاکستان
اور جمعیۃ المشائخ کے متفقہ فیصلہ کے مطابق 7مئی 1948ء بروز جمعہ پاکستان بھر میں یوم
شریعت منایا گیا،جلسے منعقد ہوئے،قائد اعظم اور اسلامی جرائد کو تاریں دی گئیں اور
حکومت پر زور دیاگیا کہ پاکستان میں قانون اسلامی نافذکیا جائے
مسجد وزیر خان لاہور میں خطابات
مسجد
وزیر خاں،لاہور کی خطابت سے امام المحدثین مولانا سید دیدار علی شاہ سکبدوش ہوئے
تو سر ظفر علی ریٹائرڈ جج ہائیکورٹ و متولی مسجد وزیر خاں نے بڑے اصرار کے ساتھ
منصب خطابت مولانا ابو الحسنات کے سپرد کیا چنانچہ مولانا الور سے رخت سفر باندھ
کر لاہور تشریف لے آئے اور ہمیشہ کے لیے لاہور کے ہو کر رہ گئے۔
تصانیف
مشہور
تصانیف میں:
تفسیر
الحسنات۔
مخمس
حافظ۔مسدس حافظ۔دیوان حافظ اردو۔اوراق غم۔طیب الوردہ علی قصیدۃ البردہ (شرح قصیدہ
بردہ)۔خیرالبشر۔
کشف
المحجوب کا ترجمہ۔شمیم رسالت (1125 احادیث۔اسلام کے بنیادی عقائد
وفات
2
شعبان 1380ھ بمطابق 1961ء کو وفات پائی احاطہ مزار داتا
گنج بخش میں دفن ہوئے۔
کوئی تبصرے نہیں: