سول ڈرون اتھارٹی کا قیام ۔وزیر اعظم عمران خان کا ایک اہم قدم۔
تحریر۔پیر فاروق بہاوالحق شاہ۔
Establishment of Civil Drone Authority - An important step of Prime Minister Imran Khan.
ملک
کی حکومت ادارہ جاتی کام فروغ دینے میں
مصروف عمل ہے۔یہی وجہ ہے تمام امور کو ایک خاص نظم میں لانے کیلے مختلف ادارے قائم
کیے ان نو تشکیل شدہ اداروں میں سے ایک سول ڈرون اتھارٹی ہے۔جسکی منظوری وزیر اعظم
نے گزشتہ دنوں دی۔اس موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوے عمران خان نے کہا کہ ڈرون ٹیکنالوجی
کو پرامن مقاصد کے لیے بروئے کار لانا وقت کی اہم ضرورت ہےوزیر اعظم عمران خان نے
ملک میں سول ڈرون اتھارٹی کے قیام کی منظوری دے دی۔وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان کے
مطابق سول ڈرون اتھارٹی کے قیام کا مقصد ملک میں ڈرون ٹیکنالوجی کا فروغ، ڈویلپمنٹ
اور اس اہم شعبے کو ریگولیٹ کرنا ہے۔سول ڈرون اتھارٹی کے پاس ڈرون ٹیکنالوجی کو ریگولیٹ
کرنے، لائسنسوں کا اجرا، درآمد اور ملک میں پیداوار کی اجازت دینے کے اختیارات ہوں
گیاتھارٹی ڈرونز کی مینوفیکچرنگ، آپریشنز، ٹریننگ اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے حوالے
سے ذمہ داریاں سرانجام دے گی۔ڈرون اتھارٹی کی تفصیلات کے مطابق اتھارٹی کو جرمانے
اور سزا، لائسنسوں کی تنسیخ اور قانونی چارہ جوئی کے اختیار بھی حاصل ہوں گے۔
ڈرون اتھارٹی کی تنظیم۔
تفصیلات
کے مطابق سیکریٹری ایوی ایشن ڈویژن اتھارٹی کے سربراہ ہوں گے جبکہ دیگر اراکین میں
ایئر فورس، سول ایوی ایشن، دفاعی پیداوار، داخلہ اور وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی
کے اعلیٰ سطح کے افسران شامل ہوں گے۔اتھارٹی میں تمام وفاقی اکائیوں بشمول آزاد
جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے بھی ایک ایک نمائندہ شامل ہوگا، اس کے علاوہ
شعبے کے 3 ماہرین بھی اتھارٹی کا حصہ ہوں گے۔بیان میں کہا گیا کہ اتھارٹی میں تمام
متعلقین کی شمولیت اتھارٹی کے فرائض کی انجام دہی اور اداروں کے درمیان بہترین
کوآرڈینیشن میں معاون ثابت ہوگی۔وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈرون
ٹیکنالوجی کو کمرشل، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ، زراعت و دیگر پرامن مقاصد کے لیے بروئے
کار لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نےمزید کہا کہ اتھارٹی کے قیام سے نہ صرف اس
حوالے سے موجود خلا کو پُر کیا جاسکے گا جو ڈرون کے حوالے سے کوئی قانون نہ ہونے کی
وجہ سے موجود ہے، بلکہ یہ اتھارٹی ڈرون ٹیکنالوجی کے فروغ اور اس کی ملک میں پیداوار
میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔وزیر عمران خان نے گفتگو کرتے ہوے کہا کہ ڈرون ٹیکنالوجی
کے موثر استعمال سے وسائل کا موثر استعمال اور سروس ڈیلیوری کی بہتری میں مدد ملے
گی۔انہوں نے ہدایت کی کہ اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے قانون سازی کے عمل کو ترجیحی
بنیادوں پر مکمل کیا جائے اور کابینہ کی منظوری کے بعد بل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا
جائے۔
فواد چوہدری کا بیان۔
وفاقی
وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ
'اتھارٹی ڈرونز کے غیر عسکری یعنی شوق یا تفریح کے لیے استعمال کو ریگولیٹ کرے گی'۔انہوں
نے کہا کہ 'ڈرون اتھارٹی کا قیام ایک او سنگ میل ہے جبکہ اس وقت زراعت اور پولیس
کے لیے ڈرونز کے استعمال پر توجہ ہے'۔
ان
کا کہنا تھا کہ 'ایک اور اتھارٹی کے قیام کا منصوبہ زیر غور ہے جس سے پاکستان میں
تھری ڈی پرنٹرز اور روبوٹکس کی صنعت کے لیے راہ ہموار ہوگی'وفاقی حکومت نے ڈرون کے
استعمال کے لیے ڈرون ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر
اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کو ڈرون
پالیسی مرتب کرنے کے حوالے سیوفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اعلیٰ
سطح کی بریفنگ دی۔وزیراعظم کو ڈرون ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں پرامن اور تحقیقی
استعمال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔عمران خان نے کہا کہ ڈرون ٹیکنالوجی کی زراعت،
شہری منصوبہ بندی، سیکیورٹی اور امن و عامہ کے لیے بہت افادیت ہے۔انہوں نے اس ضمن
میں قانون سازی اور ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کے لیے کمیٹی قائم کرنے کی ہدایات دیں
کمیٹی
ایک ماہ کے اندر ڈرون ریگولیٹری اتھارٹی کے قانون کا مسودہ وزیر اعظم کو پیش کرے گی۔بعد
ازاں فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر مختصر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ 'ایک
اور کامیابی حاصل کرلی گئی ہے'۔
اسلام آباد مارگلہ پہاڑیوں پر ڈرون کا استعمال۔
پاکستان
میں ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال گزشتہ کچھ عرصہ سے جاری ہے۔اور وفاقی دارالحکومت میں
فضا کے ذریعے بیج ڈالنے کا رجحان کوئی نیا نہیں ہے لیکن اس مرتبہ یہ فیصلہ کیا گیا
ہے کہ مارگلہ کی پہاڑیوں پر جنگلات کو گھنا بنانے کے لیے ڈرون کا استعمال کیا جائے
گا۔چیف کمشنر آفس کے ترجمان نے ایک بیان جاری کرتے ہوے بتایا کہ ’ہم نے ایک ہفتے پہلے ایک تجربہ کیا
تھا اور پہاڑیوں میں کچھ پودوں کے بیج چھڑکے تھے اور اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ
مارگلہ پہاڑیوں میں ہریالی بڑھانے کے لیے فضا سے مزید بیج پھینکے جائیں گے‘۔انہوں
نے کہا کہ ’اگرچہ یہ لگتا ہے کہ پہاڑیاں سبز ہیں اور گھنے جنگل سے گھری ہوئی ہیں لیکن
حقیقت یہ ہے کہ یہاں درختوں کے بجائے جھاڑیاں زیادہ ہیں‘۔وفاقی دارالحکومت میں
فضائی طور پر بیج کا چھڑکاؤ 1960 کی دہائی میں ہوا تھا، اس دوران پیپر ملبیری
(کاغذی شہتوت) کے بیج بھی چھڑکے گئے تھے، تاہم شہر میں موجود یہ درخت اب پولن الرجی
کا باعث بن رہے ہیں۔اس کے علاوہ 1980 کی دہائی میں مارگلہ پہاڑیوں میں فضائی بیج
چھڑکے گئے تھے لیکن اس وقت مقامی درختوں کے بیجوں کا چھڑکاؤ کیا گیا تھا۔ترجمان کا
کہنا تھا کہ اس مرتبہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ 15 منظور شدہ اسپیشیز (نوع) کے بیجوں کی
گیند کا چھڑکاؤ کیا جائے گا، ’اگر اسلام آباد میں یہ مہم کامیاب ہوئی تو اسے پورے
پاکستان خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں پھیلایا جائے گا‘۔
خیال
رہے کہ گزشتہ برس جولائی میں وفاقی دارالحکومت کے رہائشیوں اور ماحولیاتی ماہرین
نے بیجوں کی گیندوں (سیڈ بالز) کی تیاری میں حصہ لیا اور انہیں پہاڑوں پر پھیلایایہاں
یہ بات واضح رہے کہ دنیا بھر میں بیجوں کو لینے کا امکان صرف 10 فیصد ہے جس کی وجہ
سے بیجوں کی گیندوں کا استعمال کیا جاتا اور اس سے بیج کے لینے کے امکانات 50 فیصد
تک ہوجاتی ہیں۔ایک بیج کو مٹی اور کھاد کے ساتھ ملا کر بیج گیند بنائی جاتی
ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ مارگلہ پہاڑیوں پر بہت زیادہ جھاڑیاں ہیں، جس کی وجہ سے
بہت زیادہ علاقے تک رسائی حاصل کرنا ناممکن یا بہت مشکل ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ
’فضائی طور پر پودہ لگانے کے لیے طیاروں کا استعمال بہت مہنگا ہے، جب طیاروں کا
استعمال کیا جاتا تو بیج کیگیندوں کو بہت زیادہ اونچائی سے پھینکا جاتا، جس میں گیند
کے ٹوٹنے یا صحیح جگہ پر نہ گرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں
ڈرون اتنا مہنگا نہیں اور یہ ہدف کیے گئے علاقوں میں کم اونچائی سے بیج پھینکنے کی
صلاحیت رکھتا ہے‘۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدام مارگلہ پہاڑیوں پر درختوں کی تعداد میں
اضافے کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا جارہا ہے۔
وفاقی
وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ڈرون اتھارٹی
نان ملٹری ڈرونز کو ریگولیٹ کرے گی۔ جن میں تفریح کے لیے اڑائے جانے والے ڈرونز بھی
شامل ہیں۔
ڈرون ٹیکنالوجی کے حوالے سے وزیر اعظم آفس کا علامیہ۔
وزیرِ
اعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ سول ڈرون
اتھارٹی کے قیام کا مقصد ملک میں ڈرون ٹیکنالوجی کا فروغ، ڈیولپمنٹ اور اس اہم
شعبے کو ریگولیٹ کرنا ہے۔
سول
ڈرون اتھارٹی کے پاس ڈرون ٹیکنالوجی کو ریگولیٹ کرنے، لائسنسوں کا اجرا، امپورٹ
اور ملک میں پیداوار کی اجازت دینے کے اختیارات ہوں گے۔
اتھارٹی
ڈرونز کی مینو فیکچرنگ، آپریشنز، ٹریننگ اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے حوالے سے ذمہ
داریاں سر انجام دے گی۔ اتھارٹی کو جرمانے اور سزا، لائسنسوں کی تنسیخ اور قانونی
چارہ جوئی کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ ڈرون ٹیکنالوجی کے
مؤثر استعمال سے وسائل کا مؤثر استعمال اور سروس ڈیلیوری میں بہتری میں مدد ملے گی۔
ان
کے بقول اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے قانون سازی کے عمل کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل
کیا جائے اور کابینہ کی منظوری کے بعد بل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے۔
ڈرون پالیسی میں ہے کیا؟
وزارتِ
سائنس و ٹیکنالوجی کی طرف سے تیار کردہ بریفنگ کے مطابق پاکستان میں ڈرون بنانے کے
حوالے سے وسیع مواقع موجود ہیں اور ان کے استعمال سے پاکستان کئی شعبوں میں آگے
بڑھ سکتا ہے۔
اس
مقصد کے لیے نیشنل سینٹر آف روبوٹکس اینڈ آٹومیشن (این سی آر اے) کے نام سے ایک
ادارہ موجود ہے جو ڈرون ٹیکنالوجی کےاستعمال کے حوالے سے کام کر رہا ہے۔اس ادارے
نے ڈرون ٹیکنالوجی کے حوالے سے اپنی سفارشات تیار کی ہیں تاہم حتمی طور پر کابینہ
اور پھر اسمبلی میں بل لانے پر ہی اس کے بارے میں حتمی قانون سازی ہو سکے گی۔این سی
آر اے کے مطابق پاکستان میں ڈرون ٹیکنالوجی سروے اینڈ میپنگ، زرعی ترقی، نگرانی، ڈیزاسٹر
رسپانس، انفراسٹرکچر کی مرمت اور ملٹری مقاصد میں استعمال ہوسکتی ہے۔اس وقت ایک
اندازے کے مطابق ملک بھر میں آٹھ ہزار ڈرون موجود ہیں جن میں زیادہ تر تفریح اور میڈیا
کے لیے استعمال ہو رہے ہیں اور ان کے استعمال کے لیے کوئی قانون موجود نہیں ہے۔
ڈرون کی برآمد کیلے وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی پالیسی۔
وزارت
سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سیکریٹری معروف بیروکریٹ ڈاکٹر ارشد محمود نے بتایا کہ
پاکستان میں ڈرون کی درآمد اور آپریشنز کی قانونی طور پر کوئی اجازت نہیں ہے لیکن
وزارتِ دفاع اور وزارتِ داخلہ کی اجازت سے ضرورت کے مطابق استثنیٰ دیا جا سکتا
ہے۔انہوں نے کہا کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے ڈرون ٹیکنالوجی کے لیے جو تجاویز دی
ہیں ان میں کہا گیا ہے کہ چار سو فٹ کی بلندی تک پرواز کرنے والے ڈرونز کے لیے سول
ڈرون ریگولیٹری اتھارٹی اجازت دے گی۔ جب کہ چار سو فٹ سے زائد بلندی کی ایئر اسپیس
سول ایوی ایشن اتھارٹی کے زیرِ کنٹرول ہو گی۔سول ڈرون اتھارٹی تمام آپریشنز، ایس
او پیز کی تیاری، معیارت کی نشاندہی، چار سو فٹ تک ایئر اسپیس کو ریگولیٹ کرنے اور
مانیٹرنگ کی ذمہ دار ہوگی۔
اس
کے ساتھ ساتھ رجسٹریشن، لائسنس، مینوفکچرنگ اور برآمد کے لیے قوائد بھی تیار کرے گی۔وزارت
سائنس و ٹیکنالوجی نے اپنی ابتدائی سفارشات میں اس اصول کو منظور کرنے کا کہا ہے
جس کے تحت نو-پرمیشن نو-ٹیک آف، یعنی بغیر اجازت ڈرون اڑنے کی اجازت نہیں۔
وزارتِ
سائنس و ٹیکنالوجی کے مطابق اس ضمن میں سافٹ ویئر تیار کیا جائے گا۔ جس کے تحت
تمام اڑنے والے ڈرونز کی شناخت، ممنوع علاقوں کی نشاندہی جہاں کسی صورت ڈرونز
اڑانے کی اجازت نہ ہو، کسی ممنوع علاقہ میں اڑنے والے ڈرون کی نشاندہی اور پرواز
کے بعد پرواز کیے گئے ڈرون کا مکمل ریکارڈ موجود ہو۔این سی آر اے کے چیئرمین ڈاکٹر
عمر شہباز خان نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان میں اس وقت ڈرون پر پابندی ہے اور
ہم چاہتے ہیں کہ اس ٹیکنالوجی کا مفید استعمال سامنے آئے۔عمر شہباز نے کہا کہ
پاکستان میں اس وقت ڈرون کی کوئی مینوفکچرنگ نہیں ہو رہی اور نہ ہی اس کے استعمال
پر رولز موجود ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کی وجہ سے بعض اوقات اس سے سیکیورٹی
خطرات بھی لاحق ہو جاتے ہیں۔ان کے بقول وہ چاہتے ہیں کہ ملٹری کے علاوہ جتنے بھی
ڈرونز استعمال کیے جائیں وہ مکمل طور پر ایک قاعدے کے تحت پرواز کریں اور ہر ایک کی
شناخت کا ڈیٹا موجود ہو۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے چار سو فٹ کی بلندی
تک پرواز کرنے والے تمام ڈرونز اس اتھارٹی کے تحت استعمال ہوں گے جب کہ اس سے زیادہ
بلندی پر اڑنے والے ڈرون سول ایوی ایشن اتھارٹی کے قواعد کے تحت پرواز کریں گے۔
ڈاکٹر
عمر شہباز کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس حوالے سے بہت سکوپ موجود ہے اور بہت سے
ادارے اس میں اپنی کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ان کے بقول بہت جلد پاکستان بھی اس ٹیکنالوجی
کے حوالے سے تیزی سے کام کرنے والے ممالک میں شامل ہوگا۔ لیکن فی الحال اس بارے میں
باقاعدہ قانون سازی کی ضرورت ہے اور اس اتھارٹی کے قیام کا مقصد ہی تمام ڈرونز کو
قواعد کے تحت لانا ہے۔
فصلوں پراسپرے کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کااستعمال
وزارت
سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے پاکستان میں فصلوں پر کیڑے مار دواکے اسپرے کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی
کا استعمال ایک نئے رجحان کی طرف اشارہ کیا ہے۔ پاکستان کے کاشتکاروں کے بارے میں یہ
رائے غلط ہے کہ وہ نئی ٹیکنالوجی اختیار کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں جب
انھوں نے پنجاب اور سندھ کے کاشتکاروں کے سامنے ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے کیڑے مار
زہر کے اسپرے کا آئیڈیا پیش کیا تو اکثریت نے اس آئیڈیے کو سراہا اور اسے زرعی
شعبہ کے لیے ایک انقلابی سہولت قرار دیتے ہوئے اس سہولت سے استفاد ہ کرنے میں
دلچسپی کا اظہار کیا۔وزارت کے وفاقی سیکرٹری ڈاکٹر ارشد نے بتایا کاشتکاروں کی
دلچسپی دیکھتے ڈرون تیار کرنے کا عندیہ دیا ہے
جو رواں سال کے اختتام تک متوقع ہے۔ یہ ڈرون 16لیٹر تک زرعی ادویات اٹھانے
کی صلاحیت رکھتے ہیں اور 8گھنٹوں میں 60سے 70ایکڑ رقبے پر کیڑے مار دوا کا اسپرے
کرنیکی صلاحیت رکھتے ہیں۔
فصلوں
پر کیڑے مار ادویا ت کے اسپرے کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال زرعی ادویات کے
کفایت بخش استعمال کا بھی سبب بنتا ہے عام طریقے سے کیڑے مار دوا کی زیادہ مقدار
چھڑکی جاتی ہے جو انسانی صحت کے لیے خطرہ ہونے کے ساتھ لاگت میں اضافہ کا بھی سبب
بنتی ہے۔زرائع کے مطابق ڈرون ٹیکنالوجی سے اسپرے کرنے کی صورت میں کیڑے مار دوا کی
40فیصد تک مقدار بچائی جاسکے گی، اسپرے کرنے کی فی ایکڑ لاگت اتنی ہی ہے جتنی مینوئل
طریقے سے ٹریکٹرز یا اسپرے مشینوں کے ذریعے کی جاتی ہے لیکن ڈرون کے ذریعے 70گنا زیادہ
رفتار سے فصلوں پر اسپرے کیا جاسکتا ہے یہ اسپرے رات کے وقت میں بھی کیا جاسکتا ہے
ڈرون اور ٹینکس میں نصب سینسر دوا کی مقدار ختم ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں اور ڈرون
ٹینک کو دوبارہ بھرنے کے بعد اسی مقام سے اسپرے شروع کرتا ہے جہاں اسپرے کرنے کا
سلسلہ کیڑے مار زہر ختم ہونے کی وجہ سے منقطع ہوا تھا
حرف آخر۔
Establishment of Civil Drone Authority - An important step of Prime Minister Imran Khan
وزیر
اعظم عمران خان کی حکومت ڈرون ٹیکنالوجی کے حوالے سے متاثر کن اقدامات کر رہی ہیں۔ڈرون
اتھارٹی کا قیام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق آلودگی کم
کرنے کیلے ٹیکنالوجی کے استعمال کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔۔اس سلسلہ میں ملک
بجلی پر چلنے والی بسوں کےمرحلہ وار
استعمال کی حوصلہ افزائی بھی کی جاے گی۔ڈرون ٹیکنالوجی میں معروف سرمایہ
کاری سمیر چشتی ملک سرمایہ کاری لانے کیلے مصروف عمل ہین۔ایک ایسے ماحول میں جہاں
مختلف وجوہات کی بنا پر بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہورہی ہے اس میں سمیر چشتی جیسے
لوگوں کا وجود غنیمت ہے ایسے لوگوں کی حکومتی سطح پر حوصلہ افزائی ہونی چاہیے
کوئی تبصرے نہیں: