Subscribe Us

Green Pakistan - International recognition of Pakistan's efforts to restore the environment

 

گرین پاکستان۔ماحولیات کی بحالی کے لئے پاکستان کی کوششوں کا عالمی سطح پر اعتراف

تحریر:ابو محمد حارث شاہ

https://pirfarooqbahawalhaqshah.blogspot.com/
https://pirfarooqbahawalhaqshah.blogspot.com/

اس حقیقت سے کوی انکار نہیں کر سکتا کہ انسانی صحت کے لیے کھلی فضا اور صاف ہوا میں سانس لینا بہت ضروری ہے لیکن اس ترقی یافتہ اور سائنٹیفک دور میں انسان کو نہ صاف ہوا میسر ہے اور نہ ہی کھلی فضا۔ اس جدید زمانہ میں بھی انسان آلودہ زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اس آلودہ زندگی سے انسان نہ صرف بے شمار بیماریوں کا شکار ہو رہا ہے بلکہ اسے ایک فعال زندگی گزارنے کی بجائے ذہنی کوفت میں مبتلا ہو رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ فضائی آلودگی ہے جو ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دینے میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔ان وجوہات کی بنیاد پر کرہ ارض انسان کے رہنے کیلے ناسازگار ہوتا جا رہا ہے۔

تحقیقات کے مطابق کچرے کے ڈھیروں سے بے شمار زہریلی گیسوں کا اخراج ہوتا ہے۔ بھارت، پاکستان اور انڈونیشیا سمیت جنوبی ایشیا کے ممالک جو دنیا کا تقریباً پانچواں حصہ بنتا ہے جو اس سے متاثر ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق زہریلا مادہ خون میں جذب ہونے سے رحم مادر میں پرورش پانے والے بچوں کو مسائل پیش آ سکتے ہیں جو بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے خطرہ ہیں۔ میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے وابستہ سٹیون بیرٹ کا کہنا ہے کہ گزشتہ 5 سے10 برسوں کے اعداد و شمار سے ثابت ہوا ہے کہ فضائی آلودگی سے شرح اموات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان کی خدمات

https://pirfarooqbahawalhaqshah.blogspot.com/
https://pirfarooqbahawalhaqshah.blogspot.com/

بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہے پاکستان نے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کیلے عالمی سطح پر بے مثال خدمات سرانجام دی ہیں۔انکی خدمات کے اعتراف کے طور پر پاکستان کو 2020ء کے لیے گرین کلائیمیٹ فنڈ (جی سی ایف) بورڈ کا شریک سربراہ بنایا گیا تھا۔ پاکستان میں بیت کم لوگ اس بات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔

جی سی ایف کے پاس 17 ارب ڈالر کے فنڈز ہیں اور یہ ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے ایک اہم عالمی فنڈ ہے۔ان فنڈر کے زریعے دنیا میں ماحولیاتی تبدیلی کے لیے عالمی سطح پر کوششیں جاری ہیں اور پاکستان ان کوششوں کی قیادت کر رہا ہے۔

چونکہ دنیا کے بڑے ممالک اس فنڈ میں تعاون کرتے ہیں اس وجہ سے ان کے مفادات بورڈ میں رکھے گئے لیکن پاکستان نے کینیڈا کے ساتھ مل کر ان فنڈز کو تیسری دنیا کے 130 سے زیادہ ممالک کے لیے تقسیم کیے ہیں۔

کیا پاکستان کے پالیسی ساز افراد اسکی اہمیت سے آگاہ ہیں؟


پاکستان کی موجودہ حکومت کے  پالیسی ساز افراد ماحولیاتی تبدیلی کو مستقبل کے اہم  مسئلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔موجودہ حکومت ماحولیاتی آلودگی کی سنگینی سے آگاہ ہے۔حکومتی سطح پر اس موضوع کے حوالے سے سنجیدگی کا تاثر پایا جاتا ہے۔لیکن اس کے باوجود اس حوالے سے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔لیکن حقیقیت اس سے قدرے مختلف ہے۔ اب یہ مسلہ محض ایک ملک کا نہیں بلکہ ایک عالمی مسلہ ہے اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو آج بھی دنیا کے کئی ممالک کی پالیسیوں پر اثر انداز ہورہا ہے۔ 2015ء کا پیرس کلائیمیٹ چینج ایگریمنٹ بھی اسیبات کا اظہار تھا۔ دنیا نے اس مسئلہ پر کام شروع کردیا ہے۔ یورپی یونین 2030ء تک 55 فیصد آلودگی کم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ دوسری جانب چین 2060ء اور برطانیہ 2050ء تک صفر آلودگی کا ہدف حاصل کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ بائیڈن کی زیر قیادت امریکا بھی اس معاہدے میں دوبارہ شامل ہوگیا ہے اور اس سے ان کوششوں کو مزید تقویت ملے گی۔

مستقبل کی ان تاریخوں سے اس  غلط فہمی کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ اب کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوچکا ہے۔ عالمی تبدیلی شروع ہوچکی ہے اور اس کے اثرات بھی نظر آرہے ہیں۔ عالمی سطح پر مالی معاملات بھی اب ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات سے مشروط ہوگئے ہیں۔ یورپی گرین ڈیل کا مقصد مستقبل میں ہونے والے تجارتی معاہدوں میں ’کاربن کے رساؤ‘ کو حل کرنا ہے۔ماحول دوست پیداوار کسی بھی ملک کی برآمدات میں اضافہ کرسکتی ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ بھی اس کی تیاری کرے اور اس کا فائدہ اٹھائے ورنہ یہ موقع ہاتھ سے جاسکتا ہے۔ ملک کے مالی معمالات اور تجارتی اور معاشی مسابقت کا دار و مدار ہماری توانائی اور صنعتی پالیسی کے حوالے سے لیے جانے والے فیصلوں اور معاشی اور معاشرتی پالیسیوں میں کاربن کے اخراج کو مدنظر رکھنے پر ہوگا۔

ماحولیاتی آلودگی کم کرنے کیلے ٹیکنالوجی کی اہمیت۔

جیسے جیسے دنیا ماحول دوست معیشت کی جانب بڑھ رہی ہے ویسے ویسے ماحول دوست ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری حاصل کرنے کے مواقع بھی بڑھ گئے ہیں۔ پاکستان کو بھی ان مواقعوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ کچھ ایسے فائدے ہیں جو ہم آسانی سے حاصل کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اس سال جی سی ایف نے تقریباً 25 کروڑ ڈالر کے منصوبوں کی منظوری دی ہے، جن کے تحت ترقی پذیر ممالک میں ٹیکسٹائل کی صنعت کو مالی امداد دی جائے تاکہ ٹیکسٹائل صنعت پرانی اور زیادہ توانائی استعمال کرنے والی مشینوں کی جگہ نئی اور ماحول دوست مشینوں پر منتقل ہوسکیں۔ اگر پاکستان بھی ایسا ہی کوئی اقدام اٹھائے تو ہم بھی نہ صرف آلودگی کے اخراج کو تقریباً ڈیڑھ کروڑ ٹن کم کرسکتے ہیں بلکہ اشیا کی کم قیمت میں برآمد سے ہمیں مسابقتی فائدہ بھی ہوسکتا ہے۔

جنگلی حیات کی حفاظت کیلئے اقدامات۔

ہمارے ماحول کی بقا کے ضامن جنگلی حیات ہے جو ان دنوں خطرے میں ہے۔پاکستان کی حکومت جنگلی حیات کی حفاظت اور بہتری کے لئے متعدد اقدامات اٹھا رہی ہے۔جنگلات اور جنگلی حیات کا تحفظ اب ایک عالمی ایجنڈہ بن چکا ہے۔اب عالمی دنیا ایسے اقداما ت اٹھا رہی ہے جس سے اس طرح کے کارو بار کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔جس سے جنگلات اور جنگلی حیات کو خطرات لاحق نہ ہوں۔اسی طرح کاروبار کرنے کی آسانی میں بھی پاکستان کی درجہ بندی بہتر ہورہی ہے۔ اگر حکومت سرمایہ کاری لانے اور نجی شعبہ اس سرمایہ کاری کو درست ٹیکنالوجی اور شراکت داری کی جانب موڑنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پاکستان ماضی کے کاربن پر مبنی معاشی راستے کے بجائے مستقبل کے ماحول دوست معاشی راستے پر اپنا سفر شروع کرسکتا ہے۔ماحولیاتی تبدیلی کو خارجہ پالیسی کے آلے کے طور پر استعمال کریں پاکستان نے ایک طویل عرصے سے بین الاقوامی پالیسی سازی فورمز میں اپنی شرکت کو بہت محدود رکھا اور ہمیں اس کی قیمت بھی ادا کرنی پڑی ہے اور ہم کثیر الجہتی فیصلہ سازی کے عمل سے باہر ہوتے گئے۔ جی سی ایف میں ہماری کارکردگی سے ہمیں یہ سیکھنا چاہیے کہ پاکستان بین الاقوامی

سطح پر اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔ اگر پاکستان خود کو ماحولیاتی تحفظ کے اہم کردار کے طور پر منوالیتا ہے تو اس طرح پاکستان ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے ایک توانا آواز بن جائے گا اور اس آواز کو ترقی یافتہ ممالک میں بھی سنا جائے گا۔ اس طرح ماحولیاتی تحفظ پر اٹھنے والی یہ آواز دیگر سیاسی اور معاشی مسائل کا بھی احاطہ کرنے لگے گی۔

ماحولیاتی آلودگی ختم کرنے کیلے وزیر اعظم کے ٹھوس اقدامات۔

وزیر اعظم عمران خان نے ماحولیاتی بگاڑ کا مقابلہ کرنے اور اسکو نقصان سے بچانے کیلے بلین ٹری سونامی منصوبے کے تحت دس بلین درخت لگانے کا ہدف بتایا ہے۔ یہ دس بلین درختوں کا ہدف پانچ برس کے لیے ہے۔جس میں سے دو سال گزر چکے ہیں

حکومتی منصوبہ کے مطابق پہلے تین سال میں 3.2 بلین درخت لگائے جائیں گے۔

حکام کے مطابق اگلے سال جون تک ایک بلین درخت لگا دیے جائیں گے۔ اس ایک بلین کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے دسمبر تک 20 کروڑ درخت لگائے جائیں گے اور پھر مزید 30 کروڑ درخت جون تک لگا دیے جائیں گے۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے ماحولیات ملک امین اسلم کے مطابق اس وقت تک پاکستان 50 کروڑ درخت لگا چکا ہے۔

واضح رہے کہ ورلڈ بینک نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں پاکستان میں ایسے چھ اضلاع کی نشاندہی بھی کی ہے، جہاں اگر شجرکاری نہ کی گئی تو وہ 2050 تک ریگستان بن جاے گا

عالمی سطح پر درخت لگانے کے حکومتی منصوبہ کی پزیرائی۔

https://pirfarooqbahawalhaqshah.blogspot.com/
https://pirfarooqbahawalhaqshah.blogspot.com/

حکومت پاکستان ماحولیاتی آلودگی ختم کرنے کیلے جو اقدامات کر رہی ہے عالمی دنیا مسلسل اسکی توصیف کر رہا ہے۔ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس سے خطاب کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے جن خیالات کا اظہار کیا تھا ان  سے متاثر ہوکر ورلڈ اکنامک فورم نے دنیابھر میں ایک ٹریلین درخت لگانے کی مہم کا اعلان کردیا ہے۔

وزیراعظم کے خطاب کو مہم کا حصہ بنایا گیا ہے اور باضابطہ طور پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس کے 90 فیصد حصے میں عمران خان کی تقاریر کے حصے شامل کیے گئے ہیں، اسی ویڈیو میں پاکستان کے مختلف مقامات پر شجر کاری مہم کے مناظر کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کا کہنا ہے دنیا بھر کو موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے جس سے نمٹنے کیلئے ہمیں دنیا بھر میں 100 ارب درخت لگانا ہوں گے، جیسے پاکستان نے اپنے ملک میں 1 ارب درخت لگائے ہیں اسی طرح باقی دنیا بھی اس منصوبے سے فائدہ حاصل کرے اور اپنے ملکوں میں درختوں کی تعداد کو بڑھائے تاکہ دنیا کے ماحول کو درپیش مسائل سے نمٹا جاسکے۔

یہ ویڈیو پیغام ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے باضابطہ طور پر حکومت ِ پاکستان کو بھجوا دیا گیا ہے، ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس سے خطاب کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ بڑی تعداد میں درختوں کی کٹائی سے ملک میں آلودگی بڑھ گئی ہے اور قدرتی حسن میں بھی کافی حد تک ماند پڑ چکا ہے، پاکستان سے پیار کی ایک بڑی وجہ زمین کے اس خطے کی قدرتی خوبصورتی بھی ہے۔عمران خان کے اس منصوبے سے صرف پاکستان ہی نہیں خطے اور دنیا کو ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے میں مدد ملے گی،ورلڈ اکنامک فورم کا اس منصوبے کو بنیاد بنا کر دنیا بھر میں 100 ارب درخت لگانے کی مہم شروع کرنا اور اس منصوبے کی عالمی سطح پر پزیرائی عمران خان کے ویژن کی کامیابی ہے۔دوسری طرف  معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے بلین ٹری منصوبے سے ماحول میں حقیقی تبدیلی آنا شروع ہوگئی ہے، ناروے کے سفارت کار نے اس تبدیلی کی تعریف کی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ ناروے کے سفارت کار ایرک سؤل ہائم نے وزیر اعظم کے بلین ٹری سونامی منصوبے سے پیدا تبدیلی کی تعریف کی،6سال میں بلین ٹری منصوبے سے ماحول میں حقیقی تبدیلی آنا شروع ہوگئی ہے۔

عدالت عظمی کے طلب کرنے پر بلین ٹری منصوبہ کی تفصیلات عدالت میں پیش۔

وزیر اعظم کے بلین ٹری منصوبہ کے حوالے سے سپریم کورٹ میں بھی مکمل اعداد و شمار جمع کرانے گیے۔اس حوالے سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے بلین ٹری منصوبے کی مکمل تفصیلات عدالت کو فراہم کرنے کی ہدایت کر دی، اس سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان سے وزیر موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم سے تفصیلی مشاورت بھی کی گء۔وزیر اعظم نے بلین ٹری منصوبے کی مکمل تفصیلات عدالت کو فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا اعلیٰ عدالت کو منصوبے کی مکمل تفصیل اور شفافیت سے آگاہ کیا جائے۔

سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق تمام صوبوں سے بھی مستند ڈیٹا طلب کر لیا گیا ہے، بلین ٹری منصوبے کی ڈرون فوٹیج اور مستند تصاویر بھی ریکارڈ کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔وفاقی حکومت نے سیٹلائٹ امیجز کے لیے اسپارکو سے بھی رابطہ کیا ہے، اسپارکو سے بلین ٹری منصوبے کی سیٹلائٹ امیجز فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔وفاقی وزیر ملک امین اسلم کا کہنا ہے کہ بلین ٹری وفاقی حکومت کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، منصوبے میں مکمل شفافیت کے پہلو کو روز اوّل سے مقدم رکھا گیا۔انھوں نے کہا یہ منصوبہ وزیر اعظم کے میرٹ اور شفافیت کے وژن کے مطابق جاری ہے، عالمی ماحولیاتی اداروں نے بھی منصوبے سے متعلق 

شفافیت کا اعتراف کیا، اس منصوبے کی تفصیلات فراہم کرنے کے لیے عدالت سے بھرپور تعاون کریں گے۔


Green Pakistan - International recognition of Pakistan's efforts to restore the environment Green Pakistan - International recognition of Pakistan's efforts to restore the environment Reviewed by Rizwan Malik on مارچ 09, 2021 Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.