حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل و کمالات
تحریر:پیر فاروق بہاؤالحق شاہ بھیرہ شریف
| https://pirfarooqbahawalhaqshah.blogspot.com/ |
حضرت خلیفہ اول سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی شخصیت کے حوالے سے ضیاء الامت حضرت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رقم طراز ہیں ''کون صدیق اکبر؟وہی جب ظلمت کدہ عالم میں رسالت محمدی کا چراغ روشن ہو رہا تھا تو مردوں میں سب سے پہلے جو پروانہ اس پر سو جان سے فدا ہونے کے لیے آگے بڑھا تھا۔جس نے بارگاہ جمال میں نذرانہ دل پیش کرنے سے پہلے کوئی معجزہ،کوئی دلیل طلب نہیں کی تھی جس نے نگاہ ناز کا اشارہ پاتے ہی بلا تامل نقد جان حاضر کر دی تھی۔عرب کے خود سر معاشرہ میں جو شخصیت اپنی ذاتی خوبیوں کے باعث بڑی محترم اور نہایت قابل اعتماد تھی ''جب آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو اس وقت حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ مال تجارت لے کر یمن کی طرف گئے ہوئے تھے۔جو نہی آپ واپس تشریف لائے تو مکہ کے سرداروں نے اپکو بتایا کہ مکہ کے در یتیم نے نبوت کا دعوی کر دیا ہے۔آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے پوچھنے پر بتایا گیا کہ نبوت کا دعوی محمد بن عبداللہ نے کیا ہے۔تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ بلا تامل حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس تشریف لے گئے۔آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جب دعوت اسلام حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے سامنے پیش کی تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فورا آپکی دعوت کی تصدیق کی اور اسلام قبول کیا۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایاکہ صدیق اکبر نے دلیل طلب کیے بغیر دعوت اسلا م کو قبول کیا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ قبول اسلام سے قبل بھی عرب میں ایک معزز شخصیت تھے۔اور لوگ آپکی کہی ہوئی بات پر نا صرف اعتماد کرتے بلکہ اپنے تنازعات کے لیے بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کوحکم مانتے۔آپ ساری زندگی بت پرستی سے دور رہے۔کبھی شراب کو ہاتھ نہ لگایا نا ہی غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث رہے۔یہی وجہ ہے کہ جب آپ اسلام لائے تو قریش مکہ کے کئی معزز اور چنیدہ افراد دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ان میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی حضرت زبیر،بنو امیہ کے۔رئیس اعظم حضرت عثمان،حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت طلحہ جیسی جلیل القدر شخصیات شامل تھیں۔حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ اسلام لانے کے بعد ان مظلوموں کی طرف متوجہ ہوئے جو محض اس جرم کی سزا کے طور پر ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے تھے کہ انہوں نے اسلام قبول کیوں کیا تھا۔آپ جب ان مسلمانوں کی طرف دیکھتے تو اپکا دل پسیج جاتا اور جونہی موقع ملتا آپ اپنی جیب سے رقم ادا کر کے ان کی گلو خلاصی کراتے۔آپ نے حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ ،عامر بن فہیرہ،کئی کنیزیں جن میں زنیرہ نہدیہ اور ام عبیس شامل تھیں۔ آپ کی ان خدمات کو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ والی وسلم ہمیشہ یاد رکھتے اور ہمیشہ آپکی تحسین فرماتے۔جب ھجرت کا معاملہ ہوا تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے ساتھ رفاقت کے لیے حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کا انتخاب فرمایا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس ہجرت کے سفر کے دوران آپ کا پورا خاندان اپنے آقاء و مولا کی خدمت اور ڈیوٹی میں مصروف عمل رہا۔ اور پھر اس اعزاز کا تزکرہ خود قرآن کریم میں ہو گیا۔سورۃ توبہ کی آیت نمبر40نازل ہوئی جسکا ترجمہ ضیاء القرآن میں اس طرح ہوا ''آپ دو میں سے دوسرے تھے جب وہ دونوں غار میں تھے جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے ساتھی سے فرما رہے تھے کہ غم نہ کرو بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے تو اللہ نے اس پر اپنی سکینت نازل فرمائی ''صدر الافاضل حضرت مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی اس آیت کے ضمن میں تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی صحابیت اس آیت سے ثابت ہے۔حسن بن فضل نے فرمایا جو شخص حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی صحابیت کا انکار کرئے وہ نص قرآنی کا منکر ہوا۔(۔خزائن العرفان)اس آیت کے ضمن میں تفسیر مظہری میں صراحتا درج ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی فضیلت کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والی وسلم کے ساتھ بغیر کسی فرق کے اللہ تعالی نے اس معیت کو ثابت کیا ہے۔حکم سکینت کے حوالے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ سکینت کا لفظ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے تھا۔کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ تو سکینت ہمیشہ ہی رہتی تھی۔قرآن کریم میں متعدد آیات حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی مواقفت میں نازل ہوئیں جسکا طویل تزکرہ ہو سکتا ہے لیکن صفحات کی تنگ دامانی کی وجہ سے محض ایک مثال بطور تبرک پیش کرتا ہوں۔سورۃ زمر کی آیت مبارکہ جسکا مفہوم یہ ہے ''کہ جو سچ لے کر آئے اور وہ جنہوں نے انکی تصدیق کی یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں ابن عساکرنے اس آیت کے ضمن میں تحریر کیا کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو رسول بنا کر بھیجا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے اپنی رسالت کی تصدیق کرائی تو اس پر یہ آیت کریم نازل ہوئی۔حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے ہی مروی ہے حق لے کر آنے والے سے مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہیں اور تصدیق کرنے والے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ ہیں۔اسی طرح ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا پر جب تہمت لگائی گئی جس میں آپکے خالہ زاد بھائی مسطخ بھی شامل تھے۔جب قرآن کریم میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کی بے گناہی اور پاک دامنی پر آیات نازل ہوئیں تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے قسم کھائی کہ وہ اب مسطخ کی مدد نہیں کریں گے۔اور انکو دی جانے والی امداد بند کر دی۔اس پر اللہ تعالی نے حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے آیت نازل فرمائی جو کہ سورۃ نور میں شامل ہے جسکا مفہوم یہ ہے۔''کہ وہ جو تم میں سے فضیلت والے ہیں اور گنجائش والے ہیں۔ قرابت داروں مسکینوں،مہاجرین اور اللہ کی راہ میں جھاد کرنے والوں کو دیتے رہیں۔ان سے درگزر کریں اور معاف کریں۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے خلوص اور ایثار کی داد بارگاہ نبوت سے کچھ اس طرح ملی۔(ترجمہ)حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہم پر جس نے بھی احسان کیا ہم نے اس کا بدلہ چکا دیا سوائے ابو بکر کے اس کے احسانات کا بدلہ قیامت کے دن اسے اللہ تعالی عطا فرمائے گا۔آپ نے مزید ارشاد فرمایا کہ مجھے کسی کے مال نے اتنا منافع نہیں دیا جتنا نفع ابوبکر کے مال نے دیا ہے۔اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا۔خبردار تمہارا نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اللہ تعالی کا خلیل ہے۔ایک اور مقام پر حضور کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے ابو بکر تو حوض کوثر پر بھی میرے ساتھ ہو گا اورغار میں بھی تو میرے ساتھ تھا۔
سرکار دو عا لم صلی اللہ علیہ والی وسلم نے متعدد مقامات پر شان صدیق اکبر کی طرف اشارہ فرمایا۔ایک روایت جو حضرت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری نے اپنے مقالات میں نقل کی ہے اس کے زکر پراکتفا کروں گا ''رحمت عالم صلی اللہ علیہ والی وسلم نے ایک روز ارشاد فرمایا نمازیوں کو جنت میں ایک خاص دروازے سے بلایا جائے گا۔مجاھد کو باب جھاد سے اذن باریابی حاصل ہو گا۔روزہ داروں کو باب ریان سے اندر آنے کی دعوت دی جائے گی۔لیکن اے ابوبکر تجھے جنت کے تمام دروازوں سے پکارا جائے گا۔آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک مقام پر بیان فرمایا کہ میری امت پر سب سے ذیادہ مہربان ابوبکر ہے۔حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ اتباع رسول کا کامل نمونہ تھے۔انکو بجا طور پر افضل البشر بعد النبی کہا جاتا ہے۔آپکے اتباع رسول کا اندازہ لگانے کے لیے لشکر اسامہ کا واقع بطور مثال کافی ہے۔جب جان عالم،روح کائنات صلی اللہ علیہ والی وسلم داغ مفارقت دے گئے تو پوری امت پر افسردگی کا عالم طاری ہو گیا اور ایک خوف کی فضا پیدا ہو گئی۔اس موقع پر۔اکثر۔ صحابہ نے مشورہ بھی دیا کہ لشکر اسامہ کی روانگی ملتوی کر دی جائے۔کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وصال کے بعد ارتداد کی ایک ایسی لہر چلی تھی جس نے امت مسلمہ کوپریشانی کا شکار کر دیا تھا۔صحابہ کرام کا یہ خیال تھا کہ اگر یہ لشکر روانہ کر دیا گیا اور مدینہ منورہ مجاھدین سے خالی ہو گیا تو قرین قیاس یہ ہے کہ دشمنان اسلام مدینہ پر حملہ کر دیں گے۔لیکن سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے ڈنکے کی چوٹ پر کہا کہ جس لشکر کو اللہ کے نبی نے تیار کیا ہے میں اسکو روکنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔بلکہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے تو یہاں تک ارشاد فرمایا ''اس ذات پاک کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر جنگل کے درندے بھی مدینہ میں گھس آئیں اورآ کر مجھے اچک لیں تو پھر بھی میں اس لشکر کو روانہ کرنے سے باز نہیں آؤں گا۔آپ مسلمہ کذاب سمیت مدعیان نبوت کو جس آہنی ہاتھ سے نمٹا وہ آپ کا ہی خاصہ تھا۔بلاشبہ آپ نے اسلام پر بے شمار احسانات ہیں اور پوری امت سیدنا صدیق اکبررضی اللہ تعالی عنہ کے احسانات کی مقروض ہے۔
کوئی تبصرے نہیں: