Subscribe Us

Sultan of India Khawaja Moinuddin Chishti Ajmeri Sanjari (may Allah have mercy on him)

 

سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی اجمیری سنجری رحمتہ اللہ علیہ

پیر فاروق بہاؤالحق شاہ۔ بھیر ہ شریف۔ تحریر:

https://pirfarooqbahawalhaqshah.blogspot.com/
سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی اجمیری سنجری رحمتہ اللہ علیہ

                                      ہندوستان ہزار سال سے زیادہ عرصہ بت پرستی کا مرکز تھا۔یہاں پر کفر و شرک کی تہہ اتنی دبیز اور گہری تھی کہ گمان نہیں ہوتا تھا کہ یہاں تک اسلام کی روشنی پہنچ پائے گی؟پھر قدرت کو ہندوستان کی سرزمین پر رحم آیا اور حضور غریب نواز کو اس عمل کیلئے منتخب فرما لیا اس امر میں کوئی شک نہیں کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کو اشارہ غیب مل چکا تھا اور اسی اشارہ کی بنیاد پر ہی آپ نے ہندوستان کو اپنا مسکن بنایا تھا۔ کتب تصوف کے مطابق سلسلہ عالیہ چشتیہ کے بانی حضر ت ابو اسحاق شامی رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔ سب سے پہلے چشتی لفظ ان ہی کے نام کا حصہ بنا۔ چشت افغانستان کے شہر ہرات کے نزدیک ایک شہر کا نام ہے۔ جہاں پر اہل تصوف نے ایک مرکز قائم کیا جس کی روشنی نے چار دانگ عالم کو منور کیا۔طریقت کے دیگر سلاسل کی طرح سلسلہ چشتیہ بھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک ملتا ہے۔حضرت خواجہ جی کی ولادت با سعادت537ھ بمطابق 1142ء سیستان کے قصبہ سنجر میں ہوئی اسی لئے آپ کو خواجہ معین اجمیری سنجری بھی کہا جاتا ہے۔ مراۃ الاسرار میں ہے کہ آپ کی والدہ ماجدہ بیان کرتی ہیں کہ”جب معین میرے شکم میں تھے تو میں بہت اچھے خواب دیکھا کرتی تھی۔ گھر میں خیر و برکت تھی دشمن بھی دوست بن گئے تھے اور ولادت کے وقت سار امکان نور سے روشن تھا“۔آپ کے والد ماجد کا اسم گرامی غیاث الدین تھا جبکہ والدہ کا نام ام ورع تھا جن کو ماہ نور بی بی کہا جا تا ہے۔آپ کا سلسلہ نسب کچھ ا س طرح ہے خواجہ معین الدین بن غیاث الدین بن کمال الدین بن احمد حسن بن نجم الدین طاہر بن عبد العزیز بن ابراہیم بن امام علی رضا بن موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن محمد باقر بن امام علی زین العابدین بن سیدنا امام حسین بن علی مرتضی رضی اللہ عنہم اجمعین۔ آ پ حسنی حسینی سید ہیں۔

          آپ کی ابتدائی تعلیم خراسان میں ہوئی۔ آپ نے قرآن کی تعلیم اپنے والد گرامی سے حاصل کی جو کہ بذات خود ایک بڑے عالم دین تھے۔ ۹ برس کی عمر میں قرآن کریم کا حفظ مکمل کر لیا۔ پھر ایک مدرسہ میں داخل ہو گئے اور علوم نقلیہ وعقلیہ میں مہارت حاصل کی۔ آ پ خداداد ذہانت اورغیر معمولی یادداشت کے مالک تھے۔ اسی یادداشت کی بدولت بہت قلیل عرصہ میں بہت زیادہ علم حاصل کیا جب آپ کی عمر مبارک ۵۱ سال ہوئی تو آپ کے والد ماجد کا سایہ سر سے اٹھ گیا لیکن آپ نے حصول علم کا سلسلہ جاری رکھا۔ آپ کی والدہ ماجدہ نے اس کمی کا احساس نہیں ہونے دیا اوران کی تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ ہونے دیا۔آپ کو ترکہ میں ایک باغ اور ایک پن چکی بھی ملی اسی کو آپ نے ذریعہ معاش بنایا۔ آپ خود بھی باغ کی دیکھ بھال کرتے۔ خو د ہی درختوں کو پانی دیتے اسی طرح پن چکی کا نظام خود ہی سنبھال رکھا تھا اس سے زندگی کے معاملات خوش اسلوبی سے رواں دواں تھے کہ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے آپ کی زندگی کا رخ بدل کر رکھ دیا۔ آپ کی سوانح کی کتب میں ایک واقعہ مذکور ہے کہ ایک مرتبہ آپ با غ کے پودوں کو پانی دے رہے تھے کہ مجذوب وقت حضرت ابراہیم قندوزی اسی باغ میں تشریف لے آئے۔ حضرت خواجہ نے بڑے ادب سے ان کو کھجور کا ایک خوشہ پیش کیا اور ادب و احترام کے ساتھ دوزانو ہو کر بیٹھ گئے۔ حضرت ابراہیم قندوزی نے انگور کھائے اور خوش ہو کر اپنی زنبیل سے روٹی کا ایک ٹکڑا نکالامنہ میں ڈال کر چبا کر حضرت خواجہ کو عطا فرما دیا۔ روٹی کے اس ٹکڑے کا حلق میں اترنے کی دیرتھی کہ دل و دماغ کی دنیا بدل گئی۔دنیا داری کی جگہ دین داری نے لے لی دنیاوی امور سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔باغ پن چکی وغیر ہ فروخت کر کے اس کی رقم غرباء و مساکین میں تقسیم کر دی اور خود سچے مرشد کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ آپ اپنے آبائی شہر سے نکلے اور سمر قند و بخارا کی طرف سفر شروع کیا جو اس وقت عالم اسلام میں علم کے مرکز کے طور پر جانے جاتے تھے۔ حضرت  خواجہ غریب نواز نے یہاں آ کر علم کی پیاس بجھائی۔ تفسیر، حدیث، فقہ، علم کلام اور دیگر ضروری علوم کا درس لیا اور ان میں کامل عبور حاصل کر لیا۔ ان کے اساتذہ میں مولانا شرف الدین صاحب شرع الاسلام اور مولانا حسام الدین بخاری کے نام قابل ذکر ہیں۔

          ان علوم میں مہارت حاصل کرنے کے بعد مرشد کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ آپ نے تلاش شیخ میں حجاز مقدس کا سفر کیا۔کئی علماء و صوفیاء کی خدمت میں حاضری دی لیکن کہیں بھی دل مطمئن نہ ہوا۔ پیر کامل کی جستجو اور تلاش میں آپ نیشا پور تشریف لے گئے وہاں  کے قصبہ ہارون گئے جہاں صوفی کامل، ہادی طریقت حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمتہ اللہ علیہ کی خانقاہ میں جاپہنچے اور آپ کے حلقہ ارادت میں شامل ہو گئے۔ حضرت خواجہ عثمان ہارونی کی بارگاہ میں اس وقت کے کبار علماء و مشائخ حاضر تھے لیکن حضرت عثمان ہارونی نے حضرت خواجہ غریب نواز کی طرف توجہ کی۔ کچھ وظائف ارشاد فرمائے اور اپنے دست حق پرست پر بیعت کی اور خرقہ خلافت بھی عطا فرمایا۔ اپنے پیرو مرشد سے خرقہ خلافت عطا ہونے کے بعدآپ شیخ کے حکم پر ہی پھر سیر و سیاحت پر نکل کھڑے ہوئے۔ آپ فرماتے کہ میری سیاحت کا مقصد اہل اللہ سے ملاقات اور اللہ کریم کی نشانیوں کا مشاہدہ کرنا تھا۔بعض روایات کے مطابق حضرت خواجہ غریب نواز کو حضرت شیخ نجم الدین اکبر رحمتہ اللہ علیہ، جیلان میں پیرا ن پیر حضرت شیخ عبد القادر جیلانی اور بغداد میں حضرت شیخ ضیاء الدین کی زیارت سے مشرف ہوئے اور کئی علوم حاصل کئے۔ بغداد کی سیاحت کے بعد حضرت خواجہ غریب نواز اصفہان تشریف لے گئے اور حضرت شیخ محمود اصفہانی سے ملاقات کی۔ سیر الاقطاب میں ہے کہ حضرت خواجہ صاحب حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے بعدمدینہ منورہ حاضر ہوئے۔ سرکار دوعالمﷺ کی بارگاہ میں حاضری دی، مراقبہ کیا،اپنے شب و روز عبادت، ذکر الہی اور درود و سلام میں گذارتے۔ یہاں تک کہ آپ کو بارگاہ رسالت سے ولایت کی بشارت کچھ اسطرح ہوئی۔ ”اے معین الدین تو میرے دین کا معین ہے میں نے تجھے ہندوستان کی ولایت عطا کی وہاں کفر کی ظلمت پھیلی ہوئی ہے تو اجمیر جا تیرے وجود سے کفر کا اندھیرا دور ہوگا اور اسلام کا نور ہر سو پھیلے گا“(سیر الاقطاب ص ۴۲۱)

          اس بشارت سے قبل آپ نے اجمیر یا ہندوستان کا سفرنہیں کیا تھا۔ انیس الارواح میں ہے کہ اس کیفیت میں آپ پر نیندکا غلبہ ہوا۔ آقائے دوعالمﷺ نے آپ کو خواب میں ایک ہی نظر میں مشرق و مغرب کا نظار کرا دیا اور اجمیر کی نشاندہی بھی فرما دی۔ حضور اکرمﷺ نے حضرت خواجہ کو ایک انار عطا فرمایا اور ساتھ ہی فرمایا کہ ہم تجھے خدا کے سپرد کرتے ہیں (انیس الارواح) بعض دیگر ثقہ روایات میں یہ بھی ہے کہ آپ اپنے مرشد کریم کے ہمراہ حجاز تشریف لائے اور جب دربار رسالت سے آپ کو اجمیر شریف جانے کا حکم ہوا تو آپ واپس مکہ مکرمہ تشریف لائے۔ یہیں پر آپ کے مرشد کریم نے تمام روحانی امانات آپ کے سپرد کیں اور خود دار بقاء کی طرف کوچ فرما گئے۔ حضرت خواجہ غریب نواز، عطاء رسول، والی ہند، مکہ مکرمہ سے اجمیر کی طرف روانہ ہوئے۔ افغانستان کے راستہ سے ہوتے ہوئے لاہور میں داخل ہوئے اور حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری کے مزار اقدس پر معتکف ہوئےء اور حضرت داتا صاحب کے قدمین میں بیٹھ کر وہ فیوض و برکات حاصل کئے جن کا شمار ممکن نہیں۔ لیکن ان انعامات اور روحانی توجہات کا اظہار اس شعر میں کر دیا جو آج ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ آپ حضور گنج بخش فیض عالم کے تصرفات کااظہار کچھ اس طرح کرتے ہیں۔

گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا

ناقصاں راپیر کامل کاملاں را رہنما

حضرت داتا علی ہجویری کے فیض کو اپنے دامن میں لئے ہوئے دہلی کی طرف روانہ ہوئے اس وقت آپ کے ہمراہ ۰۴فراد تھے۔ ڈاکٹر ضیاء الحبیب کاظمی اپنی کتاب میں تحریر کرتے ہیں کہ آپ کے اجمیر آنے سے ۲۱ ماہ قبل راجہ پرتھوی راج کی ماں نے اپنے بیٹے کو آگاہ کر دیا تھا کہ ایک درویش آئے گا اور تیری سلطنت کا خاتمہ کر دے گا۔جب حضرت خواجہ غریب نواز سلطان الہند اجمیر میں جلوہ گر ہوئے تو راجہ پرتھوی راج کو اپنی ماں کی وہ بات یاد آگئی۔ لیکن اس بد قسمت نے حضرت غریب نواز کے مقابلہ کا فیصلہ کیا جس نے اس کی بد بختی پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔پرتھوی راج نے آپ کو مغلوب کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔آپ پر مختلف حربے استعمال کئے کبھی رام دیو کی سربراہی میں آ پ پر حملہ کی کوش کی کبھی جادو کے ذریعے آ پ کو مرعوب کرنے کی کوشش ہوئی  لیکن اس کو منہ کی کھانا پڑ۔آپ کی کرامت کا ظہور کچھ یوں ہوا کہ آپ نے پیش گوئی فرمادی کہ ہم نے اس راجہ کو زندہ مسلمان مجاہدین کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔ چنانچہ588ھ میں شہاب الدین غوری غزنی سے ہندوستان پر حملہ آور ہوا اور راجہ کو شکست دے کر اسکو زندہ گرفتارکر لیا۔ اس کے گرفتار ہونے کے دیر تھی کہ کفر کی آخری رکاوٹ بھی ختم ہو گئی۔ اجمیر، اجمیر شریف بن گیا۔ گھر گھر سے اللہ اکبر کی صدائے دلنواز بلند ہونے لگی۔ بت پرستی کی غلاظت ختم ہوئی اور توحید کا شیریں نغمہ کانوں میں رس گھولنے لگا۔ مندروں کی گھنٹیوں کی بجائے پانچ وقت اللہ اکبر کی صدا ئیں بلند ہونے لگیں۔خطہ اجمیر سے محبت رسول کے دریا بہنے لگے۔ معرفت کے چشمے جاری ہو گئے توحید کا پرچم لہرانے لگا۔ حق کی روشنی کا ظہور ہونے لگا۔ ہندوستان میں رہنے والا ہر دل مضطرب ہو کر خواجہ جی کی درگاہ کی طرف بڑھنے لگا۔ سلطا ن الھند کی سلطانی کا پرچم بلند ہوا۔ عطائے رسول کی عطا کے چرچے دور دور تک پھیل گئے۔ خطہ ہندوستان جس پر کسی  نبی نے قدم نہیں ڈالے تھے اور توحید و رسالت کی روشنی سے محروم تھا اس خطہ میں اولاد رسولﷺ کے ایک فرد نے ۰۹ لاکھ لوگوں کو کلمہ پڑھاکر حلقہ بگوش اسلام کیا۔

                                      نگاہ ولی میں وہ تاثیر دیکھی                                     بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی

https://pirfarooqbahawalhaqshah.blogspot.com/
سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی اجمیری سنجری رحمتہ اللہ علیہ


          حضرت خواجہ صرف مسلمانوں کے غریب نواز نہ تھے بلکہ غیر مسلم بھی آپ کے در سے خالی نہ جاتے۔آپ کا پیغام محبت ہر ملک ہر مذھب کے لوگوں کے لئے تھا جو بھی آیا خالی دامن اپنی مرادوں سے بھر کر لے گیا۔ آپ کا لنگر وسیع تھا۔آپ کی سیرت کی تمام کتب میں یہ واقعہ تواتر سے موجود ہے کہ آپ کا باورچی روانہ آپ کی خدمت میں خرچہ لینے کے لئے آتا تو آپ مصلی اٹھا کر کہتے جتنا لینا ہے لے لو اور کبھی رقم کی کمی نہ ہوئی۔آپ دن میں دو مرتبہ قرآن کریم ختم کرتے۔۔ آپ کا وصال ۶ رجب المرجب633ھ  ۳۹ برس کی عمر میں ہوا اور اجمیر شریف میں اپنے حجرہ میں آسودہ خاک ہوئے۔ آپ کا فیض بعد از وصال جاری و ساری ہے۔ اور یہ بات پوری دنیا میں مشہور ہے کہ برصغیرپر ایک قبر حکومت کر رہی ہے۔


Sultan of India Khawaja Moinuddin Chishti Ajmeri Sanjari (may Allah have mercy on him) Sultan of India Khawaja Moinuddin Chishti Ajmeri Sanjari (may Allah have mercy on him) Reviewed by Rizwan Malik on مارچ 09, 2021 Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.