قسط نمبر49 واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں
تحریر۔ پیر محمد فاروق بہاوالحق شاہ۔
![]() |
| waqiat e serat un nabi episode 49 |
خلق خدا پر حضور کریم کی شفقت و رحمت
”قرآن.
کریم کی بہت سی ایسی آیات ہیں جن میں سرور عالم کی اس صفت جلیلہ کو بیان کیا گیا
ہے۔ان میں سے متعدد آیات کا مطالعہ آپ مختلف مقامات پر کر چکے ہیں صرف آپ کی یاد
تازہ کرنے کیلئے ایک دو آیتیں پیش کرتا ہوں۔ارشاد خداوندی ہے۔ترجمہ!”گراں گزرتا ہے
آپ پر تمہارا مشقت میں مبتلا ہونا۔وہ بہت ہی خواہشمند ہیں تمہاری بھلائی کے مومنوں
کے ساتھ بڑی مہربانی فرمانے والے اور ہمیشہ رحم کرنے والے ہیں۔“ دوسرا ارشاد خداندی
ہے۔ترجمہ!”نہیں بھیجا ہے ہم نے آپ کو مگر سارے جہانوں کیلئے سراپا رحمت بنا کر۔“ تیسری
آیت مبارکہ میں ہے۔ترجمہ!”اور آپ مومنین کے ساتھ بڑے مہربان اور ہمیشہ رحم کرنے
والے ہیں۔“ اس شفقت و رحمت نبوی کو واضح کرنے کیلئے ایک ایمان افروز حدیث آپ کے
سامنے پیش کرتا ہوں۔اس کے مطالعہ سے حضور سرو ر عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
جہاں شان شفقت و رحمت کا قارئین کو علم ہو گا وہاں وہ باہمی تعلق بھی آشکارا ہو
جائے گا جو نبی رحمت کو اپنی امت سے تھا۔ایک روز ایک بدو خدمت اقدس میں حاضر ہوا
اور سوال کیا کہ اسے کوئی چیز عطا کی جائے۔سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
اس وقت جو میسر تھا اسے دیدیا اور پوچھا۔کیا میں نے تیرے ساتھ کوئی احسان کیا ہے
اعرابی بولانہ آپ نے میرے ساتھ کوئی بھلائی کی ہے اور نہ کوئی قابل تعریف بات کی
ہے۔اس کے اس گستاخانہ جواب کو سن کر اہل ا سلام غصہ سے بھر گئے اور اس کی طرف دوڑے
تا کہ اس گستاخ کا سر قلم کر دیں۔سرکا ر دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں
سختی سے حکم دیا رک جاؤ کوئی آگے نہ بڑھے۔اس ارشاد کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم اپنے کاشانہ اقدس میں تشریف لائے۔بدو کو بھی بلا بھیجا۔جب وہ حاضر ہوا تو اس
کو مزید عطا فرمایا اور اس کی جھولی بھر دی۔پھر دریافت کیا کیا میں نے تمہارے ساتھ
کوئی بھلائی کی ہے۔کہنے لگا اے اللہ کے رسول آپ نے بڑا احسان فرمایا اللہ تعالیٰ آ
پ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔میرے اہل وعیال کی طرف سے بھی اور میرے قبیلہ کی طرف سے
بھی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب یہ جملہ سنا تو اسے فرمایا کہ تم نے
پہلے جو بات کہی تھی اس سے میرے صحابہ کو بڑا دکھ ہوا۔اگر تم پسند کرو تو یہی بات
ان کے سامنے دہرادو تا کہ ان کا رنج دو ر ہو جائے اور تیرے بارے میں ان کے سینے میں
جو خلش ہے وہ نکل جائے۔اس نے عرض کی بصد مسرت میں ان کے سامنے یہ جملہ دہرانے کیلئے
تیار ہوں۔دوسرے روز صبح یا عشاء کے وقت وہ پھر خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔رحمت عالم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو مخاطف کرتے ہوئے فرمایا۔اس اعرابی نے کل
جو بات کہی تھی اور تم نے سنی پھر ہم نے اس کو مزید عطا فرمایا اور اس کی جھولی
بھر دی تو اس نے بتایا کہ اب راضی ہو گیا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اب
اس اعرابی کو مخاطف کرتے ہوئے فرمایا کیا یہ بات ٹھیک ہے کہ تم راضی ہو گئے ہو۔اس
نے کہا نعم۔میں راضی ہوں اللہ تعالیٰ میرے اہل و عیال اور قبیلہ کی طرف سے حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جزائے خیر عطا فرمائے۔یہ جوآپ نے عطا فرمایا ہے یہ ان فقر
وافلاس کو دور کر دے گا۔اس کے بعد نور مجسم رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
اس تعلق کی وضاحت کی جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے امتیوں کے ساتھ ہے
جس میں ”حریص علیکم“ کی صفت جلیلہ کے جلوے نمایا ں ہو رہے ہیں۔سرور عالم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے حاضرین کی طرف توجہ فرماتے ہوئے فرمایا:میری اور تمہاری مثال ایسی
ہے جیسے کسی شخص کی اونٹنی بھاگ نکلے۔لوگ اس کو پکڑنے کیلئے اس کے پیچھے دوڑنے لگیں۔وہ
لوگوں کے پاؤں کی آہٹ سن کر اور زیادہ بد کے اور تیزی سے بھاگنا شروع کر دے۔ اسی
اثناء میں اس کا مالک آجائے تو وہ تعاقب کرنے والوں کو بلند آواز سے کہے ”خلو ابینی
و بین ناقتی“ میرے درمیان اور میری اونٹنی کے درمیان رکاوٹ نہ بنو۔درمیان سے ہٹ
جاؤ اور اس کا تعاقب نہ کرو۔میں تم سے زیادہ اپنی اونٹنی کا مزاج شناس ہوں اور اس
کے ساتھ نرمی کرنے والا ہوں۔اس کی بات سن کر تمام لوگ رک گئے۔اس نے اپنے دامن میں
سبز چادر ڈالا اور اونٹنی کی طرف بڑھا۔اونٹنی نے اپنے مالک کی جب مانوس آواز سنی
تو اس نے مڑ کر دیکھا کہ اس کا مالک اپنی جھولی میں سبز چارہ لئے دوڑا آرہا ہے۔وہ
اونٹنی رک گئی اور جہاں اس کا مالک تھا اسی طرف جانے لگی۔مالک نے اس کی نکیل پکڑ لی
اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ بیٹھ گئی پھر اپنا کجاوہ اس پر کس کر باندھا اور اس پر
سوار ہو گیا۔یہ مثال بیان کرنے کے بعد آپ نے فرمایا۔ترجمہ!”(کل اس شخص نے جو
گستاخانہ بات کی تھی اور تم اس کو قتل کرنے کیلئے دوڑ ے تھے)اگر میں درمیان میں
رکاوٹ نہ بنتا اور تم اس کو قتل کر دیتے تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہوتا۔“میں نے اس کو
اپنے حکیمانہ انداز سے بارگاہ رسالت کی تعظیم اور ادب کو ملحوظ رکھنے کی طرف
راہنمائی کی۔وہ جہنم سے بچ گیا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق قرار پایا۔اس روایت
کا خلاصہ یہ ہے۔ہم لوگ جو امتی ہیں اور اس کے باوجود احکام الہیٰ کی خلاف ورزیاں
کرتے رہتے ہیں ہماری مثال اس بھانگے والی اونٹنی کی ہے۔اپنی امت کے ساتھ حضور کی
شفقت کا یہ عالم تھا کہ ایسے احکام کی بجا آوری کا انہیں مکلف نہیں بنایا کرتے تھے
جو ان پر گراں گزرتے ہوں۔مثلاََ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میری
امت پر یہ امر گراں نہ گزرتا تو میں ان کو حکم دیتا کہ جب بھی وضو کریں مسواک ضرور
کیا کریں۔کیونکہ اس حکم سے کئی لوگوں کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ تھا اس لئے یہ حکم
نہیں دیا۔“(ضیاء النبی جلد پنجم صفحہ356-57-58)
”ابو
ذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ایک رات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیام
فرمایا۔ایک ہی آیت کی بار بار تلاوت فرماتے رہے۔کبھی رکوع کبھی سجدہ میں کبھی کھڑے
ہو کر اس آیت کو دہراتے یہاں تک کہ سپیدۂ سحر طلوع ہو گیا۔وہ آیت یہ تھی۔ترجمہ!”اگر
تو عذاب دے انہیں تو وہ بندے ہیں تیرے اور اگر تو بخش دے ان کو تو بلا شبہ تو ہی
بلا شبہ تو ہی سب پر غالب ہے اور بڑا دانا ہے۔“ صبح میں حاضر خدمت ہوا عرض کی یارسول
اللہ آج ساری رات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آیت کی تلاوت کرتے رہے یہاں تک
کہ صبح ہو گئی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنی امت کے بارے
میں اپنے رب سے شفاعت کی التجا کی ہے۔میں نے عرض کی یا رسول اللہ۔اللہ تعالیٰ نے کیا
جواب دیا؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔کہ اللہ تعالیٰ نے اس التجا کو
قبول کر لیا۔حضرت ابو ذر نے عرض کی اجازت ہو تو میں لوگوں کو یہ مثردہ سنا دوں؟
فرمایا بیشک۔حضرت فاروق اعظم حاضر خدمت تھے۔عرض کی یا رسول اللہ!ابو ذر کو یہ
بشارت سنانے کی اجازت نہ دیں ورنہ لوگ عبادت سے غافل ہو جائیں گے چنانچہ سرکار دو
عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو ذر کو واپس بلا لیا۔امام بخاری اور مسلم نے
حضرت باو قتادہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔میں
نمام شروع کرتا ہوں اور میرا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ آج لمبی تلاوت کروں گا۔پھر مجھے
کسی بچے کے رونے کی آواز آتی ہے تو میں مختصر کر دیتاہوں۔یہ رحمت صرف اپنوں تک ہی
محدود نہ تھی۔صرف انسان ہی اس چشمہ رحمت شفقت سے سیراب نہیں ہو ا کرتے بلکہ پرندوں
اور دیگر حیوانات پر بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شفقت یوں ہی برسا کرتا
تھا۔امام بخاری ”الادب“ میں حضرت ابن مسعود سے روایت کرتے ہیں۔”رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ایک جگہ قیام فرمایا وہاں ایک چڑیا کا گھونسلا تھا۔کسی شخص نے
اس گھونسلے سے اس کے انڈے اٹھا لئے۔وہ چڑیا آئی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے سرپر چکر لگانے لگی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا کس نے اس
کے انڈے اٹھا کر اسے تکلیف پہنچائی ہے؟ایک صحابی نے عر ض کی یا رسول اللہ!انڈے میں
نے اٹھائے ہیں۔“حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور اس کے انڈے اس کے
گھونسلے میں رکھ دو۔“(ضیاء النبی جلد پنجم صفحہ361-62)
ایک
روز رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمام پڑھائی اور بڑی مختصر چھوٹی چھوٹی
سورتیں تلاوت کیں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابو سعید
خدری نے عرض کی یا رسول اللہ!حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آج نماز ادا کی ہے
اور آج تک میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسی مختصر نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔حضور
نے فرمایا ترجمہ!”اثنائے نماز میں نے ایک بچے کے رونے کی آواز سنی اور مسلم خواتین
بھی صفیں باندھے نماز پڑھ رہی تھیں۔یقینا اس میں اس بچے کی ماں ہو گی۔میں نے ارادہ
کیا کہ میں جلدی نماز سے فارغ ہوں تا کہ وہ ماں نماز سے فارغ ہو کر اپنے بچے کو
گود میں لے اور اسے چپ کرادے۔“ عبداللہ بن ابی بکر بن حزم رضی اللہ عنہ روایت کرتے
ہیں۔کہ فتح مکہ کے موقع پر جب عرج کے مقام پر روانہ ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ایک کتیا دیکھی جس کے چھوٹے چھوٹے بچے اس کا دودھ پی رہے تھے اور وہ
غرارہی تھی۔سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک صحابی کو حکم دیا کہ وہ
اس کتیا اور اس کے بچوں کی حفاظت کیلئے یہاں کھڑا رہے تا کہ کوئی لشکری انہیں اذیت
نہ پہنچائے۔“(ضیاء النبی جلدپنجم صفحہ362-63)
وفائے عہد
”عبداللہ
بن ابی الحمساء رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
بعثت سے پہلے میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی چیز فروخت کی لیکن جو چیز
میں نے فروخت کی وہ ساری کی ساری اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں
پیش نہ کرسکا۔اس کا کچھ حصہ باقی رہ گیا۔میں نے وعدہ کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم یہاں ٹھہریں میں ابھی بقیہ لے کر حاضر ہوتا ہوں میں چلا گیامجھے یہ بات
بھول گئی اور دیگر کاموں میں مصروف ہو گیا۔تین دن کے بعد مجھے اچانک یاد آیا کہ میں
تو آپ کے ساتھ وعدہ کر آیا ہوں کہ میں بقیہ چیز آپ کو لا کر دیتا ہوں آپ میرا
انتظار کریں۔جب میں وہ چیز لے کر وہاں پہنچا تو رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم اسی جگہ تشریف فرماتھے جہاں میں حضور کو چھوڑ گیا تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے کسی ناراضگی اور غضب کا اظہار نہیں کیا بلکہ اپنے من موہنے انداز میں
اتنا فرمایا ترجمہ!”اے نوجوان:تو نے مجھے بڑی تکلیف پہنچائی ہے میں تین دن سے یہاں
تمہارے انتظار میں بیٹھا ہوں۔“(ضیاء النبی جلد پنجم صفحہ364)
Reviewed by Rizwan Malik
on
مارچ 09, 2021
Rating:

کوئی تبصرے نہیں: