Subscribe Us

waqiat e serat episode 48

 

واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں                                  

قسط نمبر48

تحریر۔ پیر محمد فاروق بہاوالحق شاہ۔

واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں                                


حضور کی شان تواضع

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں جہانوں کے مالک و مختار ہونے کے باوجود ایک متواضع شخصیت رکھتے تھے۔اس حوالہ سے صاحب ضیاء النبی نے اس صفت کو کچھ اس انداز میں بیان فرمایا

ایک روز سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما رہے تھے۔خدمت اقدس میں حضرت جبرئیل امین حاضر تھے کہ اچانک آسمان ایک کنارے سے پھٹا۔اچانک ایک فرشتہ کو دیکھا کہ وہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہے۔وہ حضرت اسرفیل تھے جو نہ اس سے پہلے کبھی کسی نبی پر ناز ل ہوئے اور نہ آج کے بعد کبھی وہ آسمان سے اتریں گے۔انہوں نے عرض کیا۔ترجمہ!”یارسول اللہ!آپ پر سلا م ہو اور آپ کا پرور دگار بھی آپ کو سلام فرماتا ہے۔میں آپ کے رب کی طرف سے آپ کی خدمت میں بحیثیت قاصر حاضر ہوا ہوں۔میرے اللہ نے مجھے حکم دیاہے کہ میں آپ کو اختیار دوں چاہے تو آپ ایسے نبی بنیں جو عبد ہے اور چاہے تو آپ ایسے ہی بنیں جو بادشاہ ہے۔جبرئیل پہلے ہی حاضر خدمت تھے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشورہ طلب کرتے ہوئے ان کی طرف نگا ہ فرمائی۔انہوں نے تواضع اختیار کرنے کے بارے میں عرض کی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے حضرت اسرفیل کو فرمایا  میں ایسا نبی بننا چاہتا ہوں جو اپنے خالق و مالک کا بندہ ہو۔اور اے عائشہ اگر میں ایسا نبی بننا پسند کرتا جو بادشاہ ہو تو یہ پہاڑ سونا بن کر میرے ہمراہ ہوتے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کو ئی ایسی خونہ تھی جو متکبر وں اور مغروروں کا شیوہ ہوا کرتی ہے۔جو شخص بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کرتا وہ سرخ رنگ کا ہو یا سیاہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی دعوت قبول فرماتے۔زمین پر گری ہوئی کھجور پاتے تو اسے اٹھا لیتے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے گدھے پر سواری کرنے کو عار محسوس نہ کرتے جس کی پیٹھ پر کوئی کپڑا نہ ڈالا گیا ہو۔“(ضیاء النبی جلد پنجم صفحہ337-41)

حضور کریم کی تواضع کے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ارشاد

حضرت عائشہ فرماتی ہیں ایک روز سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کاشانہ اقدس سے باہر تشریف لے گئے۔کندھے پر جو عباڈالی تھی اس کے دونوں طرفوں کو گرہ دی ہوئی تھی۔۔ایک اعرابی حاضر ہوا عرض کی یا رسول اللہ! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسی عبا کیوں پہنی ہوئی ہے فرمایا۔میں نے اس لئے یہ معمولی قبا پہنی ہے تا کہ میں کبرو نخوست کی بیخ کنی کر سکوں۔حجتہ الوداع کے موقع پر جبکہ جزیرہ عرب کے دور دراز گوشوں سے شمع جمال محمدی کے پروانے اپنے آقا کی زیارت اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قیادت میں حج ادا کرنے جمع ہو گئے تھے۔اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس اونٹ پر سوار تھے اس کا جو کجاوہ تھا وہ پرانا اور بو سیدہ تھا۔اور جو چادر اس پر ڈالی ہوئی تھی اس کی قیمت صرف چار درہم تھی۔اس عجزو انکسار کے ساتھ ساتھ حضور سراپا عجزو نیاز بن کر اپنے مولا کریم کی بارگاہ میں عرض کر رہے تھے۔ترجمہ!”اے اللہ! ا س حج کو حج مبرور بنا جس میں کوئی ریا کاری اور شہرت کی خواہش نہ ہو

 

حضرت انس کی روایت کا تذکرہ

ابن سعد حضرت انس سے روایت کرتے ہیں کہ سرور انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گدھے پر سوار ہوتے تھے اپنے پیچھے کسی اپنے خادم کو بھی بٹھالیتے اور اگر کوئی غلام بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعو ت کرتاتو اس کی دعوت قبول فرماتے۔حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان تواضع کو بیان کرتے ہوئے حضرت انس فرماتے ہیں۔سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمین پر بیٹھ جایا کرتے۔اس پر کھانا تناول فرماتے۔بکری کی ٹانگیں باندھ کر اس کو دوہتے۔اگر کوئی غلام دعوت کیلئے عرض کرتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبول فرماتے سرور انبیاء کے معمولات میں سے تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گدھے پر سواری فرماتے،مریض کی عیادت کرتے جنازہ میں شمولیت فرماتے اور اگر کوئی غلام دعوت دیتا تو  قبول فرماتے جس روز یہودیوں کے قبیلے بنو قریظہ پر حمہ کیا گیا اس وقت حضور ایسے گدھے پر سوار تھے جس کے منہ میں ایسی لگام تھی جو کھجوروں کے پتوں کو بٹ کربنائی گئی تھی اور اس کے اوپر خوگیر تھا وہ بھی کھجور کے پتوں سے بنایا گیا تھا۔حضرت ابن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ سے امام بیہقی نقل کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول مبارک تھا کہ جب کوئی آدمی ملاقات کرتا تو سب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے سلام فرماتے۔حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ترجمہ!”نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس حجرہ میں تشریف فرما ہوتے اس کا دروازہ بند نہ کیا جاتا اور نہ دربان مقرر کئے جاتے جو لوگوں کو آگے بڑھنے سے روکیں۔جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کا ارادہ کرتا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے ملاقات کرتے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمین پر بھی بیٹھ جاتے اپنے پیچھے کسی خادم کو بٹھا تے او ر اپنے ہاتھ مبارک کو چاٹ لیتے۔“(ضیاء البنی جلد پنجم صفحہ341-42)

ایک غریب اور نادار خاتون کا واقعہ

ضیاء النبی میں ایک خاتو ن کے واقعہ کا زکر ہے جس سے یہ واضع ہوتا ہے کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی تمام شانوں اور فضیلتوں کے باوجود نادر اور غریب لوگوں کی بات کس قدر توجہ سے سماعت فرماتے تھے

ایک روز سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بہت سے عقیدت مندوں کی معیت میں ایک راستہ میں تشریف لے جا رہے تھے سامنے سے ایک خاتون آگئی۔عرض کی اے اللہ کے پیارے رسول! میں ایک ضرورت کیلئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدمت میں حاضر ہوں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے مادر فلاں!اس گلی میں جس جگہ تم چاہو بیٹھو میں تیرے پاس بیٹھوں گا چنانچہ وہ ایک جگہ بیٹھ گئی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بیٹھ گئے اور اس وقت تک بیٹھے رہے جب تک وہ خاتون اپنی عر ضداشت پیش کرنے سے فارغ نہ ہوئی۔مدینہ طیبہ کی کمسن بچیاں اپنے آقا کی خدمت میں حاضر ہوتیں۔اگر کسی بچی کو کوئی کام ہوتا تو وہ اپنے آقا کا دست مبارک پکڑ کر آپ کو اپنے ساتھ لے جاتی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی دست مبارک اس کے ہاتھ سے کھینچتے نہیں تھے جب تک اس کا مقصد پورا نہ ہوتا۔امام احمد بن حنبل سے مروی ہے کہ سرورانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گھر تشریف لاتے تو بیکارنہ رہتے اگر کوئی کپڑا پھٹا ہوتا تو اسے سیتے اپنے جوتے کی مرمت فرماتے کنوئیں سے ڈول نکالتے اور اس کی مرمت کرتے۔اپنی بکری خود دوہتے اپنے ذاتی کام خود انجام دیتے کبھی کبھی کاشانہ اقدس کی صفائی بھی فرمادیتے اپنے اونٹ کے گھٹنے باندھتے اپنی اونٹنی کو چارہ ڈالتے۔خادم کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے۔حضرت عائشہ کے ساتھ آٹا گوندھتے بازار سے اپنا سا دہ سلف خود اٹھا لاتے۔“(ضیاء النبی جلد پنجم صفحہ344-45)

صحابہ کرام کے ساتھ خوش طبعی فرمانا

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ خوش طبعی بھی فرمایا کرتے ان کے ساتھ میل جول کرتے۔ان سے بلا تکلف گفتگو فرماتے۔ان کے بچوں سے بھی کھیلتے ان کو اپنی گود میں بٹھاتے۔مدینہ طیبہ کے دور دراز محلوں میں اگر کوئی صحابی بیمار ہو تا تو اس کی عیادت کیلئے تشریف لے جاتے اگر کسی شخص  سے کوئی قصورسرزد ہوتا اور وہ معافی طلب کرتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے معاف فرما دیتے۔حضرت انس سے مروی ہے کہ اگر کوئی شخص حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سرگوشی کرتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا کان مبارک اس سے نہ ہٹاتے جب تک وہ سرگوشی سے فارغ نہ ہو جاتا۔جب کوئی آپ کا دست مبارک پکڑتا جب تک وہ دست مبارک کو پکڑے رہتا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود اپنے دست اقدس کو نہ کھینچتے۔اپنی مجلس میں بیٹھنے والوں سے اپنے گھٹنوں کو آگے نہ کرتے جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شرف ملاقات حاصل کرتا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے سلام کہنے میں پہل فرماتے اپنے صحابہ کے ساتھ مصافحہ کرتے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ملاقاتیوں کی عز ت افزائی کرتے۔بسا اوقات اپنی چادر مبارک ان کیلئے بچھاتے اور اس کے اوپر بیٹھنے پر اصرار کرتے اور اگر تکیہ ہوتا تو اپنے مہمان کو پیش کرتے اور اسے مجبور کرتے کہ وہ اس پر بیٹھے اپنے صحابہ کوکنیت سے بلاتے تا کہ ان کی عز ت افزائی ہو۔اگر کسی صحابی کے متعدد نام ہوتے تو کلام نہ کرتے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر نماز میں مصروف ہوتے تو کوئی شخص ملاقات کیلئے حاضر ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نماز کو مختصر کر دیتے اور اس سے ازراہ لطف دریافت کرتے کہ وہ کیو ں آیا ہے جب اس کی حاجت براری سے فارغ ہوتے تو دربارہ نماز پڑھتے۔عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے اپنے آقا علیہ السلام سے زیادہ کسی کو مسکراتے نہیں دیکھا۔امام مسلم حضرت انس سے روایت کرتے ہیں کہ مدینہ طیبہ کے خدام صبح سویرے اپنے پانی سے بھرے برتن لے کر بارگاہ رسالت میں حاضر ہوتے اور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا دست مبارک اس برتن میں ڈالتے خواہ پانی کتنا  ٹھنڈا اور موسم کتنا خنک ہوتا۔وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک کے لمس سے اس پانی کو متبرک بنانے کیلئے حاضر ہوتے۔“(ضیاء النبی جلد پنجم صفحہ346-47)

حسنین کریمین کا حالت نماز حضور کے کندھوں پر سوار ہونا اور حضور کا لطف فرمانا

ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے سید نا امام حسن ابن علی رضی اللہ عنہما حاضر ہوئے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت نمام ادا کر رہے تھے۔جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں گئے تو حضرت حسن حضور کی پشت مبارک پر سوار ہو گئے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدے کو اس وقت تک لمبا کیا جب تک حضرت حسن نیچے نہ اترے۔جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہو ئے تو کسی صحابی نے عرض کی یا رسول اللہ آج حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بڑا لمبا سجدہ کیا ہے۔کریم نانا نے فرمایا میرا بیٹا میرے اوپر سوار ہو گیا تھا میں نے اس با ت کو نا پسند کیا کہ میں اس کو جلدی اترنے پر مجبور کروں۔ایک دفعہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما حاضر ہوئے۔کیا دیکھتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دونوں نور نظر سید امام حسن اور امام حسین حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت پر سوار ہیں۔حضرت جابر نے یہ منظر دیکھ کر فرمایا اے حسنین کریمین تمہارا اونٹ بہترین اونٹ ہے۔اس نکتہ شناس اور دلنواز آقا نے فرمایا اے جابر تم نے صحیح کہا کہ ان کی سواری بہترین ہے لیکن سواروں کو تو دیکھو یہ کتنے بہترین ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب کی صاحبزادی حضرت امامہ بھی بسا اوقات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب حالت نماز میں ہوتے تو سوار ہو جاتیں۔اس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات کے سوار ہونے سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خضوع و خشوع میں خلل واقع ہوتا ہو گا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہٹ جاتی ہو گی۔اس موقع پر عالم ربانی ولی کامل سید احمد بن زینی دحلان نے خوب لکھا ہے۔فرماتے ہیں ترجمہ!”اس قسم کے حالات ارباب کمال کو ان کیفیات سے منحرف نہیں کرتے کیونکہ وہ جمع الجمع کے مقام پر فائز ہوتے ہیں۔جو اس مقام پرفائز ہوتے ہیں نہ وحدت انہیں کثرت سے روکتی ہے اور نہ کثرت انہیں وحدت سے روکتی ہے یہ ارواح لطیفہ اپنے مختلف مدارج کے باعث متحد بھی ہوتے ہیں جدا بھی ہوتے ہیں۔قریب بھی ہوتے ہیں دور بھی۔عرشی بھی ہوتے ہیں فرشی بھی۔“علامہ مذکور کا آخری جملہ غور طلب ہے۔ترجمہ!”کہ وہ ذات پاک کہ اپنے رب کریم کی آیات کبریٰ کا مشاہدہ کرتے ہوئے جن کی نگاہیں حد ادب سے آگے نہیں بڑھتیں ان کو یہ معمول چیزیں کس طرح اپنے رب سے دور کر سکتی ہیں۔اور یہ ساری باتیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان تو اضع اور حسن خلق کی شاہد عدل ہیں۔“(ضیاء النبی جلد پنجم صفحہ350)

 

 

waqiat e serat episode 48 waqiat e serat  episode 48 Reviewed by Rizwan Malik on مارچ 09, 2021 Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.