واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمبر47
تحریر۔ پیر محمد فاروق بہاوالحق شاہ۔
![]() |
| waqiat e serat episode 47 |
حضور کی شان شجاعت
حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان شجاعت بے مثال تھی۔اسکی روحانی قوت کا اندازہ
لگانا نا ممکن ہے البتہ بنیادی شجاعت کی داستان ضیاء النبی میں ان الفاظ کے ساتھ بیان
ہوئی۔
”آپ نے سیرت نبوت کا مطالعہ فرمایا ہے۔بیسیوؤں ایسے واقعات اور
حالات رونما ہوئے جن کے سامنے بڑے بڑے بہادروں کا زہرہ آب ہو جاتا یہ۔ان کے ہوش
وحواس اڑ جاتے ہیں اور بجائے پیش قدمی کے وہ پسپائی پر مجبور ہو جاتے ہیں لیکن از
حد خطرناک قلق یا اضطراب،خوف یا ڈر کا کہیں دور دور تک نشان نہیں ملتا۔سفر ہجرت جو
خطرات سے لبریز ہے غزوہ بدر جس میں دشمن کے لشکر جرار کے ساتھ مقابلہ کرنے کیلئے
اسلام کے پرچم کے نیچے ایک قلیل تعداد ہے احد جبکہ ایک موقع پر بڑے بڑے نامو ر جنگ
آزماؤں کے قدم پھسل گئے اور انہوں نے راہ فرار اختیار کی،غزوہ جنین جبکہ دشمن کی
اچانک نے افکنی سے بڑے بڑے جو ان مردوں کے حوصلے پست ہو گئے ان تمام واقعات میں کہیں
بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پریشان ومضطرب نہیں دیکھا۔دشمن کے ہجوم
کے سامنے تیروں کی بارش میں ننگی تلواروں کے جھرمٹ میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ہر قسم کے خطرات سے بے نیاز ہو کر ثابت قدمی کا مظاہر ہ فرماتے رہے جنگ
حنین میں جب مجاہدین جان بچانے کیلئے ادھر ادھر ہو گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم جس خچر پر سوار تھے اس کو ایڑلگا رہے تھے تا کہ دشمن کی طرف بڑھے اور نبی
مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلند آواز سے یہ اعلان فرما رہے تھے۔ترجمہ!”میں نبی
ہوں اس میں کوئی جھوٹ نہیں۔میں عرب کے سردار اور بنی ہاشم کے رئیس اعظم عبدالمطلب
کا فرزند ہوں۔“ خوف وہر اس کی اس کیفیت میں جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
اپنے بکھرے ہوئے ساتھیوں کو للکارا تو اپنے آقا کی للکار سنتے ہی وہ پروانوں کی
طرح دوڑتے چلے آئے اور سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آس پاس حلقہ باندھ
کر دشمن کے سامنے ایک فولادی دیوار قائم کر دی۔اس قسم کے متعدد سنگین واقعات آپ نے
پڑھے ہوں گے جن سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان عظمت کا پتہ چلتا
ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صرف اللہ تعالیٰ کیلئے ہی غصہ آتا
تھا۔جہاں کسی نے اللہ تعالیٰ کی کسی حد کو توڑا یا اس کے کسی فرمان سے سرتابی کی تو حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کا غضب وجلال دیدنی ہوتا تھا۔اس کے علاوہ بڑے اشتعال انگیز حالات میں
بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غصہ نہیں آتا تھا۔حضرت ابن عمر رضی اللہ
عنہما فرمایا کرتے۔ترجمہ!”میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ نہ
کوئی شجاع دیکھا ہے نہ بہادر دیکھا ہے نہ سخی دیکھا ہے اور نہ جلد راضی ہونے والا
اور نہ کسی کو کسی صفت میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بر تر دیکھا
ہے۔“(ضیاء النبی جلد پنجم صفحہ329-30)
حضور کی شجاعت کا تذکرہ حضرت علی المرتضیٰ کی زبانی
حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شجاعت داستانیں سیرت کے صفحات پر جابجا موجود ہیں۔حضرت
مولا علی علیہ السلام نے آپکی شجاعت و بہادری کا ایک قصہ کچھ اس طرح بیان فرمایا۔
”سید ناعلی مرتضی کرم اللہ وجہہ اپنے آقا علیہ السلام کی شجاعت
و بسالت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔”جب جنگ شدت اختیار کر لیتی تھی اور فرط غضب
سے آنکھیں سرخ ہو جاتی تھیں تو ہم سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دامن
میں آکر پنا ہ لیتے تھے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ دشمن کے قریب ہوتے
تھے۔میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معرکہ بدر میں دیکھا کہ حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم دشمن کے سامنے چٹان بنے کھڑے ہیں او ر ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کے قرب میں پنا لئے ہوئے ہیں۔اس روز
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوت و
صولت بے مثال و بے نظیر تھی۔ہم اسکو شجاع کہا کرتے جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کے قریب ہوا کرتا۔“حضرت انس رضی اللہ
عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام لوگو ں سے زیادہ حسین،سخی اور زیادہ بہادر
تھے۔ایک رات اچانک مدینہ طیبہ کے کسی سمت شور اٹھا اہل مدینہ گھبرا کر اٹھے جس طرف
آواز آئی تھی اس طرف روانہ ہو گئے تا کہ معلوم کر یں کہ یہ آواز کس کی ہے۔جب اہل
مدینہ اس آواز کی تحقیق کیلئے کوئی پیادہ کوئی سوا رجا رہے تھے وہ کیا دیکھتے ہیں
کہ ان کا آقا و مولا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آواز کی تحقیق کے بعد مدینہ لوٹ رہے ہیں۔حضور
ابو طلحہ کے گھوڑے پر سوار تھے اس کی پشت ننگی تھی اس پر کوئی زین نہیں تھی۔تلوار
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گلے میں
حمائل تھی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دیکھا تو فرمایا مت گھبراؤ مت
گھبراؤ۔میں ساری بات کی تحقیق کر کے آرہا ہوں کوئی خطرے کی بات نہیں۔ابو طلحہ کا
گھوڑا اپنی سست رفتاری کی وجہ سے مشہور تھا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری
کی برکت سے اتنا تیز ہو گیا کہ کوئی گھوڑا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔سرور
عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واپس آکر فرمایا ہم نے اس گھوڑے کو سمندر کی طرح
پایا۔“(ضیاء النبی جلد پنجم صفحہ331-32)
ابن ابی خلف کا واصل جہنم ہونا
ابی
بن خلف ایک مشہور گستاخ تھا۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق ہذیان
سرائی کا معمول تھا۔غزوہ احد میں وہ حضور کے ہاتھوں جہنم کا اندھن بنا۔اس واقعہ کو
حضرت عمران بن حصین نے بیان فرمایا جسکو صاحب ضیاء النبی نے ان الفاظ جامہ کچھ یوں
پہنایا۔
”حضرت عمران بن حصین کہتے ہیں جب کبھی کفار کے لشکر سے ہماری
ٹکر ہوئی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے پہلے ان پر وار کیا کرتے تھے۔غزوہ
احد کے موقع پر کسی نے ابی بن خلف کو دیکھا۔وہ پوچھ رہا تھا محمد صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کہاں ہیں۔لا نجوت ان نجا۔اگر وہ آج صحیح سلامت واپس چلے گئے تو میری
بچنے کی کوئی صورت نہیں۔جس روز اس نے اپنے بیٹے عبداللہ کا فدیہ ادا کر کے اسے رہا
کروایا تھا اس دن اس نے محبوب رب العالمین کو مخاطب کرتے ہوئے ہذیان سرائی کی۔اس
نے ڈینگ ماری۔ اس احمق نے کہاترجمہ!”میرے پاس بڑا طاقتور گھوڑا ہے ہر روز میں اس
کو سولہ رطل مکئی کا دانہ کھلاتا ہوں۔میں اس پر سوار ہو کر (معا ذ اللہ)آپ کو قتل
کر وں گا۔“اللہ تعالیٰ کے محبوب رسول نے اس دشمن اسلام کو جواب دیا۔تم میں یہ جرات
کہا ں کہ میرا بال بھی بیکا کر سکو البتہ اس روز میں تمہیں موت کے گھاٹ اتاروں
گا۔انشا اللہ۔جب غزوہ احد میں معرکہ کا ر زار گر م ہوا تو ابی بن خلف اپنا گھوڑا
دوڑا کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملہ کرنے کے لئے بڑھا۔صحابہ کرام اس کے
آگے کھڑے ہو گئے اور گھوڑے کو روک لیا۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
اپنے صحابہ کو دیکھا کہ وہ اس کا راستہ روکے کھڑے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے بلند آواز سے فرمایا۔اے میرے صحابہ!ہٹ جاؤ اس کو میرے سامنے آنے دو۔صحابہ
کرام سامنے سے ہٹ گئے وہ گھوڑا دوڑاتا ہوا جب نزدیک آیا تو محبوب رب العالمین صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حارث بن صمہ سے چھوٹا نیزہ لیا اور اس پر بجلی کی سی سرعت
سے حملہ کیا۔وہ نیزہ اس کی گردن میں لگا وہ لڑکھڑایا اور گھوڑے کی پشت سے زمین پرآگرا۔پھر
دوڑ کر لشکر قریش میں آگھسا اور شور مچا دیا مجھے محمد نے قتل کر دیا۔اس کے دوست
اس کو تسلی دے رہے تھے کہ اے ابی!یہ بالکل معمولی زخم ہے تم نے یو ں ہی شور
مچارکھا ہے۔چند دنوں میں زخم بھر جائے گا اور تم تندرست ہو جاؤ گے۔وہ بولا
احمقو!جو ضرب مجھے لگی ہے اگر وہ تمام لوگوں پر بانٹ دی جائے تو کوئی بھی اس سے
جانبر نہ ہو سکے گا۔کیا انہوں نے میرے بارے میں یہ نہیں کہا تھا۔میں تم کو قتل
کروں گا۔بخدا اگر وہ مجھ پر نیز ے کا وار کرنے کے بجائے تھوک بھی دیتے تب بھی وہ
تھوک میرے لئے موت کا پیغام ہوتی کیونکہ اسے یقین تھا کہ زبان مصطفی صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم سے جو نکلتا ہے وہ تقدیر مبر م
ہے پوری ہو کر رہتی ہے۔جب یہ لشکر کفار احد سے خائب و خاسر ہو کر مکہ کے لئے روانہ
ہو کر اسرف کے مقام پر پہنچا تو ابی نے دم توڑ دیا اس طرح سرکادو عالم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کا فرمان ذی شان پورا ہو ا۔میرے اللہ نے چاہا تو میں تجھے موت کے گھاٹ
اتار وں گا۔حضور کی روحانی قوت کا اندازہ لگانا ہمارے لئے ممکن نہیں اللہ تعالیٰ
نے اپنے حبیب کو جو جسمانی طاقت و قوت ارزانی فرمائی تھی اس کو دیکھ کر بھی لوگ حیران
و ششد ر رہ جاتے تھے۔غزوہ خندق میں جب مدینہ کو مشرکین عرب کے لشکر جرار کی زد سے
بچانے کے لئے خندق کھودنے کا منصوبہ طے کیا گیا تو سارے صحابہ اپنے اپنے حصہ کی
کھدائی میں مصروف ہو گئے اتفاق سے ایک جگہ ایک ایسی چٹان آگئی جس کو توڑنے کیلئے
تمام مجاہدین اسلام نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔لیکن اس کو توڑنے میں کامیاب نہ
ہوئے۔لاچار ہو کر محبوب رب العالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں اقدس میں
حاضر ہوئے فریاد کی یا رسول اللہ!ایک ایسی چٹان حائل ہو گئی ہے کہ اگر اس کو یوں ہی
رہنے دیتے ہیں تو خندق کھودنے کی ساری محنت رائیگاں جائے گی دشمن اس کو پل کے طور
پر استعمال کر کے مدینہ طیبہ میں داخل ہو جائے گا۔رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم وہاں پہنچے جہاں وہ فولادی چٹان تھی۔حضور نے حضرت امیر المومنین علی مرتضیٰ
سے ایک گینتی پکڑی اور اللہ کا نام لے کر اس چٹان پر ضرب لگائی اس ضرب سے اس کا تیسرا
حصہ ٹوٹ کر پرے جا گرا۔پھر دوسری مرتبہ اللہ اکبر کا نعرہ لگاکر اسے ضرب لگائی اس
کا ایک اور تہائی حصہ ٹوٹ کر پرے جا گرا۔تیسری مرتبہ اللہ کے محبوب نے اپنے خداوند
قدوس کے نام کا نعرہ بلندکیا اور بقیہ تیسرا حصہ بھی ریزہ ریزہ ہو گیا۔وہ چٹان جس
پر سارے صحابہ جن میں حضرت علی مرتضی ٰ جیسے خیبر شکن پہلوان موجو د تھے اس کو
توڑنے سے قاصر رہے اس ذات اقدس و اطہر نے اجب اس پر اللہ کا نام لے کر ضرب لگائی
تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔“(ضیاء النبی جلد پنجم صفحہ333-34)
Reviewed by Rizwan Malik
on
مارچ 09, 2021
Rating:

کوئی تبصرے نہیں: