Subscribe Us

waqiat e serat episode 46

 

واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمبر46

تحریر۔ پیر فاروق بہاوالحق شاہ۔

واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمبر46

واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمبر46


بار گاہ رسالت میں ایک روز ایک آدمی حاضر ہوا اور سوال کیا۔سرکار کے پاس کوئی چیز موجو نہ تھی۔ایک دکاندا سے نصف وسق (وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے اور ہر صاع چار سیر کا)لیا۔اور اس شخص کو عطاء کر دیا۔بعد میں جس سے قرض لیا تھا وہ آدمی اپناقرض مانگنے کیلئے حاضر ہوا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نصف وسق اسے واپس نہیں کیا بلکہ پورا وسق دیا۔فرمایا نصف وسق قرض کی ادائیگی کیلئے اور نصف وسق تمہیں عطیہ دیا جاتا ہے۔طبرانی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے آپ فرماتے ہیں۔کہ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک روز بزاز کے ہاں تشریف لے گئے اور اس سے چار درہم کی قمیص خریدی۔وہ قمیص پہن کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لے گئے۔ایک انصاری آگیا عرض کی یا رسول اللہ!ترجمہ!”ازراہ کرم یہ قمیص مجھے پہنا دیجئے۔اللہ تعالیٰ آپ کو اجنت کا لباس پہنائے۔“رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلا تامل وہ قمیص اتار دی اور اس انصاری کو مرحمت فرما دی۔پھر دکان پر تشریف لے گئے اور اپنے لئے چار درہم کی ایک اور قمیص خریدی۔حضور پر نور جو گھر تشریف لائے اس وقت حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دس درہم تھے۔آٹھ درہم خرچ ہو گئے باقی دو رہ گئے۔اچانک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا ایک لونڈی راستے پر کھڑی رو رہی ہے۔رحمت عالم نے اس سے پوچھا تم کیوں رو رہی ہو اس نے عرض کی یا رسول اللہ!میرے گھر والوں نے مجھے دو درہم دئیے تھے تا کہ ان کا آٹا خرید کر لاؤں۔وہ مجھ سے گم ہوگئے ہیں اس لئے رو رہی ہوں کہ گھر کی مالکہ مجھے سزاد ے گی۔سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جو دو درہم باقی رہ گئے تھے وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو عطا فرمائے پھر کچھ وقفہ کے بعد اس بچی کی طرف دیکھا تو وہ رہ رہی تھی۔حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا اب تم کیو ں رو رہی ہو دو درہم تو تم نے لے لئے ہیں۔اس نے عرض کی میں ڈر رہی ہوں کہ میرا مالک مجھے مارے گا۔غریب نواز آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے سفارشی بن کر اس کے ہمراہ تشریف لے گئے۔جب ان کے گھر کے باہر پہنچے تو حسب معمول اہل خانہ کو اسلام علیکم فرمایا۔انہوں نے آواز سن بھی لی پہنچان بھی لی کہ سلام دینے والا اللہ تعالیٰ کے حبیب ہیں لیکن انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ سلام فرمایا پھر کچھ دیر کیلئے انتظار کی لیکن کوئی جواب نہ آیا۔تیسری بار پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام فرمایااس وقت اہل خانہ نے سلام کا جواب عرض کیا۔سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا جب میں نے پہلی دفعہ تمہیں سلام کیا تھا تو کیا تم نے سنا تھا؟انہوں نے عرض کی ہاں یا رسول اللہ ہم نے سنا تھا ہم دانستہ خاموش رہے تا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں بار بار سلام فرمائیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے اللہ تعالیٰ ہمیں ہر آفت سے سلامت رکھے۔انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ!ہمارے ماں باپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان ہوں آ پ نے کیسے قدم رنجہ فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ بچی ڈر رہی تھی کہ تم اسے مارو گے اس کی سفارش کیلئے میں اس کے ہمراہ آیا ہوں۔اس بچی کے مالک نے عرض کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس کے ہمراہ تشریف لانے کے باعث ہم نے اس لونڈی کو لوجہ اللہ آزاد کر دیا ہے۔امام بخاری اور دیگر محدثین نے حضرت سہیل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ایک خاتون بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئی۔وہ ایک چادر ہمراہ لائی جس کا حاشیہ بھی تھا اور  عرض کی یا رسول اللہ میں ہے اس کو اپنے ہاتھوں سے بنا ہے تا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے زیب تن فرمائیں پس ازراہ نوازش اسے قبول فرمائیں۔سرور عالم نے اپنی جان نثار خادمہ کی محبت بھری پیشکش کو قبول فرمایا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس چادر کو بطور تہبند باندھ کر باہر ہمارے پاس تشریف لائے۔فوراََ ایک اعرابی نے عرض کی یا رسول اللہ!میرے ماں باپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان ہوں مہربانی کر کے یہ چادر مجھے عطا فرمائیں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں میں یہ چادر تمہیں دوں گا۔کچھ دیر نبی رحمت اس مجلس میں تشریف فرما رہے پھر کاشانہ اقدس میں واپس چلے گئے اس چادر کو تہ کیا وار اس اعرابی کی طرف بھیج دی۔لوگوں نے اسے کہا کہ تمہیں یہ معلوم تھا کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ عادت مبارکہ ہے کہ آپ سے جب کوئی چیز مانگی جاتی ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دینے سے انکار نہیں کرتے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس چادر کی ضرورت تھی تم نے یہ سوال کیوں کیا۔اعرابی نے کہا خداکی قسم!میں نے چادر تہبند بنانے کیلئے نہیں مانگی بلکہ میں نے تو اس لئے اس کے بارے میں درخواست کی ہے کہ میں اس کو اپنا کفن بناؤں گا۔مجھے یہ امیدہے کہ سرکار نے اس پہنا ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے یہ میرے لئے عذاب سے نجات کا باعث ہو گی۔چنانچہ اس شخص نے اس چادر کو سنبھال کر رکھ لیا تا کہ اس کا کفن بنائے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک پارچہ باف کو کہا کہ اس شخص کیلئے چادر بنائے۔مقصد یہ تھا کہ اس چادر کے بجائے اسے نئی چادر بنوا کر دے دی جائے لیکن اس سے پیشتر کہ نئی چادر تیار ہوتی وہ اس سے پہلے ہی راہی ملک بقا ہو گیا اور اسے اس چادر میں کفن دیا گیا جسے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم اطہر کے ساتھ مس ہونے کا شرف حاصل تھا۔“(ضیاء النبی جلد پنجم صفحہ 325-26)

حضرت جابر کے اونٹ پر نظر کرم کرنے کا واقعہ یا پھر کرم نوازی کا ذکر

امام بخاری اور مسلم نے حضرت جابر سے روایت کیا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ اپنے اونٹ پر سوار ہو کر روانہ ہوئے۔وہ اونٹ بہت تھکا ہوا تھا بڑی مشکل سے قدم اٹھاتا تھا۔سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضر ت جابر کے پاس سے گزرے تو دیکھا کہ ان کا اونٹ بڑی مشکل سے قدم اٹھا رہا ہے تو سرکار نے اپنی چھڑی سے اسے کچو کا دیا اور اس کے لئے دعا بھی فرمائی۔چنانچہ وہ بڑی تیز رفتاری سے چلنے لگا۔اس سے پہلے وہ اتنا تیز نہ چلا تھا۔سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حصرت جابر کو کہا یہ مجھے فروخت کر ددو۔حضرت جابر نے عرض کی یا رسول اللہ میرا  باپ اور میری ماں حضو ر پر تصدق ہوں۔میں یہ اونٹ حضور کی خدمت میں پیش کرتا ہوں ازراہ بندہ پر ور ی قبول فرمائیں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مفت نہیں لوں گا قیمت ادا کروں گا۔چنانچہ حضرت جابر نے وہ اونٹ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فروخت کر دیا۔سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال کو حکم دیا کہ جابر کو اس اونٹ کی قیمت ادا کرو۔چنانچہ انہوں نے حکم کی تعمیل کی اس کے بعد رحمت عالم نے حضر ت جابر کو فرمایا۔ترجمہ!”اے جابر!یہ قیمت بھی لے جاؤ اور اپنا اونٹ بھی لے جاؤ۔اللہ تعالیٰ ان دونوں میں تیرے لئے برکت دے۔“حضرت انس سے مروی ہے کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ترجمہ!”فرمایا کیا تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ سب سے زیادہ سخی کون ہے خود ہی جواب میں فرمایا اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ سخی ہے۔اور اولاد آدم میں سے سب سے زیادہ سخی میں ہوں۔اور میرے بعد سب سے زیادہ سخی وہ شخص ہو گا جس نے علم پڑھا پھر اپنے علم کو پھیلایا۔اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اسے قبر سے اٹھائے گا تو وہ شخص فرد احد نہیں ہو گا بلکہ پوری امت کی حیثیت سے حاضر ہو گا۔نیز وہ شخص سب سے زیادہ سخی ہے جس نے اللہ کی راہ یں جہاد کیا یہاں تک کہ اس کو قتل کر دیا گیا۔“ابن ابی خثیمہ سید نا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔کہ آپ جب سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح و ثنا میں رطب اللسان ہوتے تو حضور کی سخاوت کا ضرور ذکر کرے فرماتے۔کان اجود الناس کفا۔یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ہتھیلی مبارک سے عطیہ دینے میں تمام لوگو سے زیادہ سخی تھے۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ترجمہ!“ اگر میرے پاس اتنا سونا ہوتا جتنے تہامہ کے پہاڑ ہیں تو سارے سونے کو میں تمہارے درمیان تقسیم کر دیتا۔تم مجھے نہ جھوٹا پاتے اور نہ بخیل۔“یعض نیاز مندوں نے اپنے آقا و مولا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے بڑے شوق سے ایک جبہ بنوایا۔اس جبہ کو بنوانے میں جو صوف استعمال ہوئی اس کی رنگت کالی تھی اس قسم کا جبہ عام طورپر اعرابی پہنا کرتے تھے۔ایک روزْ حضور پر نور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ جبہ زیب تن فرما کر اپنے صحابہ کرام کے پاس تشریف لے گئے ایک اعرابی نے جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسا خوبصورت جبہ پہنے دیکھا تو اس نے عرض کی یا رسول اللہ!میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یہ مجھے عطا فرمائیں رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ جب کوئی سائل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی چیز مانگتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے جواب میں ”لا“ یعنی نہ نہ کرتے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس اعرابی کو فرمایا”نعم“ میں تیرا یہ سوال قبول کرتا ہوں۔پھر اپنا جبہ اتار کر اس کو دے دیا۔اگرچہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت پسند تھا۔“(ضیاء النبی جلد پنجم صفحہ327)

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا سوال اور حضو ر کا جواب

جنتی خواتین کی سردار سیدہ فاطمہ الزاء رضی اللہ عنہا گھر کے سارے امور خود سر انجام دیتی تھیں۔ایک مرتبہ آپ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئیں اور کیا عرض کیا اور حضور نے کیا جواب ارشاد فرمایا آئیے مزید پڑھتے ہیں

ایک روز سیدۃ نساء العالمین حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا حاضر خدمت ہوئیں اور اپنے رؤف رحیم والد گرامی کے سامنے اپنے ہاتھ پیش کئے جن پہیم چکی چلانے سے گٹے پڑے تھے۔عرض کی گھر کے سارے کام یہاں تک کہ جھاڑو دینے کی خدمت بھی مجھے خود ادا کرنا پڑتی ہے۔میں نے سنا ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چند جنگی قیدی آئے ہیں اگر ایک خادم مجھے عطا فرمائیں تو میری اس تکلیف میں تخفیف ہو جائے گی۔اپنی جان سے عزیز تر صاحبزادی کی یہ درخواست سن کر اللہ کے پیارے محبوب نے فرمایا اے فاطمہ!یہ ممکن ہے کہ میں تمہیں خادم مہیا کروں اور اہل صفہ کو نظر انداز کر دوں کہ وہ خالی پیٹ پہلو بدلتے رہیں البتہ میں تمہیں ایک اور تحفہ دیتا ہوں ہر نماز کے بعد 33بار سبحان اللہ33بار الحمد اللہ34بار اللہ اکبر پڑھا کرو۔

جنگ جنین کے مال غنیمت کی تقسیم اور حضور کی دریا دلی

سلطان الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جو دو کرم کا اگرآپ نے اندازہ لگانا ہو تو صرف اس مال غنیمت کا اندازہ لگائیے جو جنگ حنین کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حصہ میں آیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اموال غنیمت سے پانچواں حصہ اپنے رسول کے لئے مقرر فرمایا تھا اور جنین کے غزوہ کے بعد جو مال غنیمت مسلمانوں کو ہاتھ آیا تھا اس خمس جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حصہ تھا اس کی تفصیل یو ں ہے۔آٹھ ہزار بکریاں ’چار ہزار آٹھ صداونٹ۔آٹھ ہزار اوقیہ چاندی۔گیارہ سو جنگی قیدی۔اسی ایک مال غنیمت سے جو خمس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکے قبضہ میں آیا تھا اس کا آپ نے اندازہ لگایا۔اس کے علاوہ بنی قریظہ بنی نضیر کے اور دیگر غزوات میں جو اموال غنیمت مسملانوں کو مے تھے ان سب میں سے پانچواں حصہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حصہ تھا۔سرکاردو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں اگر دولت کی محبت ہوتی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس گراں بہا سرمایہ کو مزید کاروبار میں لگا کر بے شمار نفع حاصل کر سکتے تھے لیکن اللہ کے حبیب نے انتہائی سادگی اور قناعت سے زندگی بسر فرمائی اور کئی بار فاقہ کشی تک نوبت پہنچتی۔جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہوئے تو چند صاع جو کے عوض حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زرہ ایک یہودی سے پاس گروی تھی۔وہ سرکار دو عالم بڑی دریا دلی سے ضرورت مندوں،فقیروں،بیواؤں اور یتیموں پر خرچ کر دیا کرتے تھے۔یہ ہے اللہ کے محبوب کا وہ جو دو کرم جس کی تمہیں کہیں مثال نہیں ملتی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس جودو کرم کا نتیجہ تھا کہ وہ لوگ جن کے دلوں میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عداوت کی آگ بھڑک رہی تھی وہ اس جودو کرم کے باعث حضور کے متوالے بن گئے اور شمع رسالت پر پروانوں کی طرح سب کچھ لٹانے کیلئے بیقرار ہو گئے۔“(ضیاء النبی جلد پنجم صفحہ328-29)

waqiat e serat episode 46 waqiat e serat episode 46     Reviewed by Rizwan Malik on مارچ 09, 2021 Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.