واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمبر45
تحریر۔ پیر فاروق بہاوالحق شاہ۔
حضو ر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفت حلم
![]() |
واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمبر45
”حضرت
عبداللہ بن سلام سے مروی ہے کہ زید بن سعنہ جو یہود کا بڑا جید عالم تھا اس نے بتایا
کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کی جتنی علامتیں ہماری کتب میں بیان کی
گئی ہیں میں نے ان سب کا مشاہدہ کر لیا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں
بتما مھا پائی جاتی ہیں مگر د و علامتیں ایسی تھیں۔جن کے بارے میں نے ابھی حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آزمائش نہیں کی تھی وہ دو باتیں یہ تھیں۔ترجمہ!”اس کاحلم،
اس کے جہل سے سبقت لے جاتا ہے۔“ ترجمہ!”حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جہالت اور
حمایت کاجتنا مظاہرہ کیا جائے اتنا ہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حلم میں
اضافہ ہوتا ہے۔“ میں لطائف الجیل کیلئے ان دو صفات کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم میں مشاہدہ کرنا چاہتا تھا۔چنانچہ میں نے اس مقصد کیلئے سرور عالم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم سے کھجوریں خریدیں اور ان کی قیمت نقدادا کر دی۔حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے کھجوریں اس کے حوالے کرنے کیلئے ایک تاریخ مقرر فرما دی۔ابھی اس معیاد
کو دو دن باقی تھے کہ میں آگیا اورکھجوروں کا مطالبہ کردیا۔میں نے حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کی قمیص اور چادر کو زور سے پکڑ لیا اور غضبناک چہرہ بنا کر آپ کی
طرف دیکھنا شروع کیا۔پھر میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لے کر کہا۔”کیا
تم میرا حق ادا نہیں کرو گے،اے عبدالمطلب کی اولاد! بخدا تم بہت ٹال مٹول کرنے
والے ہو۔مجھے تمہاری اس عادت کا پہلے بھی تجربہ ہے۔“ اس وقت حضرت فاروق اعظم رضی
اللہ عنہ بارگاہ اقدس میں حاضر تھے انہوں نے جب ابن سعنہ کی یہ گستا خانہ گفتگو سنی۔تو
اس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ترجمہ!”اے اللہ کے دشمن!تم یہ بکواس اللہ تعالیٰ کے
رسول کے بارے میں میری موجودگی میں کر رہے ہو۔تمہیں شرم نہیں آتی۔“ نبی کریم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عمر کی اس گفتگو کو بڑے سکون و تحمل کے ساتھ سنتے رہے
اور مسکراتے رہے پھر حضرت عمر کو فرمایا۔ترجمہ!”اے عمر!جوبات تو نے اسے کہی ہے ہمیں
تو اس سے بہتر بات کی توقع تھی۔تمہیں چائیے تھا کہ مجھے کہتے کہ میں حسن و خوبی سے
اس کی کھجوریں اس کے حوالے کر دوں اور اسے کہتے کہ وہ اپنے حق کا مطالبہ شائستگی
سے کرے۔“عمر جاؤ۔اور اس کا حق اس کے حوالے کر دو اور جتنا اس کا حق ہے اس سے بیس
صاع زائد کھجوریں اس کو دو تا کہ تو نے اسے جو خوفزدہ کیا ہے اس کا بدلہ ہو جائے
اور اس کی دلجوئی ہو جائے۔زید بن سعنہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر مجھے اپنے ہمراہ لے
گئے اور اپنے آقا کے فرمان کی تعمیل کرتے ہوئے میری کھجوریں بھی میرے حوالے کر دیں
اور بیس صاع اس سے زیادہ بھی مجھے دے دئیے۔اس وقت میں نے حضرت عمر کو مخاطب کرتے
ہوئے کہا۔اے عمر!حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کی جتنی علامات ہماری کتب میں
مذکور تھیں ایک ایک کر کے ان سب کا مشاہدہ میں نے آپ کی ذات میں کر لیا مگر دو
علامتیں ایسی تھیں جن سے میں نے ابھی تک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آزمایا
نہیں تھا۔اب میں نے ان دونوں کو بھی آزما لیا ہے۔ترجمہ!”آج میں اے عمر آپ کو گواہ
بناتا ہوں کہ میں اس بات پر راضی ہو گیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرا رب ہو اسلام میرا
دین ہو اور سرور انبیاء محمد مصفطی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے نبی ہوں۔“( ضیاء
النبی جلد پنجم صفحہ311-12)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک اعرابی کا واقعہ
اس
واقعہ میں صاحب ضیاء النبی نے حضور کے اخلاق حسنہ کی خوبصورت تصویر کشی کی ہے آئیے
ملا حظہ فرمائیں۔
”حضرت
عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک
اعرابی سے اونٹ خریدے اور اس کے عوض بطور قیمت کھجوریں دینے کا وعدہ فرمایا۔پھر
فرمایاہم تمہیں ذخیرہ کی کھجوریں بطور قیمت ادا کریں گے۔(ذخیرہ ایک خاص جگہ کا نام
ہے جہاں کی کھجوریں اعلیٰ قسم کی ہوتی تھیں)۔حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم گھر تشریف لائے اور ذخیرہ کی کھجوروں کو تلاش کیا لیکن وہ نہ ملیں۔حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو اعرابی کے پاس تشریف لے گئے۔اسے فرمایا کہ اے اللہ کے
بندے!ہم نے تجھ سے اونٹ خریدے ہیں اس کے بدلے میں تمہیں ذخیرہ کی کھجوریں دینے کا
وعدہ کیا ہے لیکن اس قسم کی کھجور ہمارے پاس نہیں ہے۔اعرابی بولا ہائے دھوکہ بازی
ہائے دھو کہ بازی۔صحابہ نے اس گستاخی پر اسے جھڑ کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے جب دیکھا تو صحابہ کو منع کیا کہ اسے کچھ نہ کہو حق دار کو بات کرنے کی اجازت
ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات تین بار دہرائی۔جب حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ملاحظہ فرمایا کہ اس اعرابی کو اس بات کی سمجھ نہیں آئی تو حضو ر صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک صحابی کو حکم دیا کہ وہ خولہ بنت حکیم بن امیہ صحابیہ
کے پاس جائے اور انہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ پیغام دے کہ اگر تمہارے
پاس ذخیرہ کی کھجوروں کا وسق ہو تو وہ ہمیں مستعاد دیدو جس وقت ہمارے پاس اس قسم
کھجوریں آئیں گی ہم ادا کر دیں گے۔حضرت خولہ کو یہ پیغام ملا۔انہوں نے عرض کی اس
قسم کی کھجور میرے پاس ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آدمی کو میرے پاس بھیج
دیں میں اس کے حوالہ کر دوں گی۔سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی
کوکہا کہ جاؤ۔اور اس اعرابی کا جتنا حق بنتا ہے اس کو ادا کر دو۔چنانچہ اس شخص نے
حضرت خولہ سے مطلوبہ مقدار کھجوروں کی لے کر اس اعرابی کے سپرد کر دی۔وہ اپنی
کھجوریں وصول کرنے کے بعد واپس لوٹا۔دیکھا کہ اللہ کا رسول اپنے صحابہ کے حلقہ میں
تشریف فرما ہے تو اس کو یارائے ضبط نہ رہا۔کہنے لگا۔ترجمہ!”اللہ تعالیٰ آپ کو
جزائے خیر عطا فرمائے۔بیشک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا حق پورا پورا ادا
کر دیا ہے او ر بڑی عمدگی کے ساتھ۔“ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح و ثنا جس طرح قرآن کریم میں مذکور ہے
بعینہ اسی طرح تو رات میں بھی موجود ہے(تورات کی یہ آیت ملاحظہ فرمائیے)ترجمہ!”اے
نبی مکرم ہم نے بھیجا ہے آپ کو گواہ بنا کر۔نیز بشارت دینے والا۔بروقت ڈرانے
والا۔نا خواندہ لوگوں کیلئے پناہ۔تو میرا بندہ ہے اور میرا رسول ہے۔میں نے تمہارا
نام متوکل رکھا ہے۔نہ سختی کرنے والا نہ تند مزاج۔نہ بازاروں میں تمہارا نام متوکل
رکھا ہے۔نہ سختی کرنے والا نہ تند مزاج۔نہ بازاروں میں شور مچانے والا۔برائی کا
بدلہ برائی سے دیتے بلکہ عفوو در گزر سے کام لیتے ہیں۔“(ضیاء النبی جلد پنجم
صفحہ312-13)
حضور کی شان جودو کرم
”صفت
جودو کرم،سخاوت و فیاضی میں کوئی شخص بھی صاحب خلق عظیم،نبی کریم کی ہمسری کا دعویٰ
نہیں کر سکتا۔ہر شخص جس کو کبھی بارگاہ نبوت میں حاضری کی سعادت میسر آئی ہو اور
زبان مبارک سے رشد و ہداہیت کے ارشادات سننے کا شرف حاصل ہوا ہو،وہ اس حقیقت
کااعتراف کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔فرزدق نے کیا خوب کہا ہے۔ترجمہ!”میرے ممدو ح نے
تشہد کے بغیر کبھی ”لا“ نہیں کہا اور اگر تشہد میں اشھد ان لاالہ الا اللہ کہنا
ضروری نہ ہوتا پھر ان کی”لا“ بھی نعم ہوتی۔“ حضرت ابن عباس حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی شان جودو کرم کا ذکر کرتے ہوئے
فرماتے ہیں۔ترجمہ!”نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو بھلائی پہنچانے میں
ساری دنیا سے زیادہ سخی تھے اور ماہ رمضان المبارک میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کی جب جبرئیل امین سے ملاقات ہوتی توآپ کی سخاوت کا یہ عالم ہوتا کہ جیسے تیز
ہوا چلتی ہے۔“حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:ایک آدمی نے حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کے سامنے دست سوال دراز کیا تو حضور کے دست جودو سخانے اس کو اتنی بکریاں
عطا فرمائیں جن سے دو پہاڑوں کے درمیان کی وسیع وادی بھر گئی۔لوٹ کر جب وہ اہل وطن
کے پاس آیا اس نے انہیں کہا۔ترجمہ!”وقت
ضائع کئے بغیر فوراََ اسلام قبول کر لو کہ محمد کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب
کسی کو ئی چیز عطا فرماتے ہیں تو پھر اسے فقرو فاقہ کا اندیشہ نہیں رہتا۔“جس رات
غار حرا میں حضور پر نور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی الہیٰ کا نزول ہوا تو آپ
واپس تشریف لائے۔ام المومنین حضرت خدیجتہ الکبریٰ سے سارا ماجرا بیان کیا۔وہ حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس حاضر ہوئیں۔تو حضرت ورقہ نے
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حالات سن کر فرمایا۔ترجمہ!”(آپ کو پریشان ہونے کی
بالکل ضرورت نہیں)آپ تو قرض کے بارگراں کے نیچے دبے ہوئے لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔جو
نادار ہو اس کی ضروریات زندگی مہیا فرماتے ہیں۔“اس سے واضح ہوا کہ حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کے اعلان نبوت سے پہلے ہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان
جودو کرم زبان زد خاص و عام تھی۔“(ضیاء النبی جلد پنجم صفحہ319-20-21)
حضرت عبا س پر سرکار کا جودو کرم
حضرت
عباس حضور کے چچا تھے اور از مر محبوب تھے اپکے کرم کا بادل حضرت عباس پر کس طرح
برساملا حظہ فرمائیں۔
”ایک
دفعہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سحاب کرم
برسا۔انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ میں بہت زیر بار ہوں۔غزوۂ بدر کے بعد میں نے
اپنا فدیہ بھی ادا کیا اور اپنے بھیتجے عقیل کافدیہ بھی ادا کیا اس لئے مجھے کچھ
عطا فرمائیے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سونے چاندی کا ایک ڈھیر لگا
تھا۔حضرت عباس نے اپنی چادر بچھا دی اور اس ڈھیر سے سونا چاندی اٹھا اٹھا کر اپنی
چادر پر رکھنے لگے۔جب وہ اپنے دل کی حسرت پوری کر چکے تو گٹھڑی باندھی۔جب اس کو
اٹھا کر اپنے سر پر رکھنے لگے تو وہ اتنی وزنی تھی کہ اسے اٹھا نہ سکے۔حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کی یا رسول اللہ!اس کے اٹھانے میں میری مدد
فرمائیں۔حضور نے انکا ر کر دیا پھر عرض کی کسی اور کو حکم دیں کہ وہ اس کے اٹھانے
میں میری مدد کرے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر بھی ایسا کرنے سے انکارکر دیا۔دوسر
ی مرتبہ وزن کم کیا اور باقی ماندہ کو بد قت سر پر اٹھایا اور گھر کی طرف روانہ ہو
گئے۔جب تک حضرت عباس نظر آتے رہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو دیکھتے رہے
اور تعجب کرتے رہے۔اس روایت کے بعد علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ حضرت عباس طاقتور
بلند قامت اور سیلم الفطرت آدمی تھے اس قوت و قامت کے باعث جو کچھ انہوں نے گھٹھڑی
میں اٹھایا وہ چالیس ہزار سے کم نہ تھا۔“(ضیاء النبی جلد پنجم صفحہ 321-22)
Reviewed by Rizwan Malik
on
مارچ 09, 2021
Rating:

کوئی تبصرے نہیں: