واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمبر44
تحریر۔ پیر فاروق بہاوالحق شاہ۔
![]() |
واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمبر44
نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاقِ حسنہ حلم،احتمال،عفو اور
صبر
حضور
کے اخلاق حسنہ میں حلم،معاف کرنے کی عادات مبارکہ نمایا ں تھیں ضیاء النبی میں آپکی
صفات جلیلہ کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
”یہ
چند الفاظ بظاہر قریب المعنی ہیں لیکن اس کے باوجود ہر ایک میں ایک امتیاز ی شان
ہے جو اسے دوسرے کلمات سے ممتاز کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کریم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کی تادیب و تربیت کی تھی اور ان کو ان پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا
تھا۔ترجمہ!”قبول کیجئے معذرت خطا کاروں سے۔حکم دیجئے نیک کاموں کا اور رخ انور پھیر
لیجئے نادانوں کی طرف سے۔“اس آیت کی تشریح کیلئے ضیاء القرآن سے ایک اقتباس پیش
خدمت ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کی تادیب و تربیت کرتے ہوئے تین
مکارم اخلاق کو اپنانے کا حکم دیا ہے۔(۱)جو قصور وار معذرت طلب
کرتا ہوا آپ کے پاس آئے اسے کمال فراخدلی اور شفقت سے معاف کر دیجئے۔بدلہ اور
انتقام لینے پر اصرار نہ کیجئے۔حضرت امام جعفر الصادق علیہ وعلیٰ آباء ہ السلام نے
فرمایا۔قرآن کریم میں اخلاق حسنہ کے متعلق یہ جامع ترین آیت ہے۔ہر مومن کو ان صفات
حسنہ سے متصف ہونا چائیے۔خصوصاََ اس طبقہ کو جن کے ذمہ اشاعت دین اور تبلیغ اسلام
کا فریضہ ہے انہیں خصوصی طور پر اپنے آپ کو ان خصائل حمیدہ سے مزین کرنا چائیے۔“(ضیاء
النبی جلد پنجم صفحہ302)
اخلاق حسنہ،بذبان مصطفی
حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبان حق ترجمان سے ان صفات کا زکر فرمایا جن
سے آپکو منصف کیا گیا ضیاء النبی میں یہ حدیث مبارکہ اس طرح مذکور ہے۔
”اس
مضمون کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیادہ تفصیل سے اس ارشاد گرامی
میں بیان فرمایا ہے۔ترجمہ!”مجھے میرے پرور دگار نے 9 باتوں کا حکم دیا ہے۔(۱)ظاہر و باطن میں اخلاق کو
اپنا شعار بناؤں۔(۲)خوشنودی
اور ناراضگی دونوں حالتوں میں عدل کروں۔(۳)خوشحالی اور تنگدستی میں
میانہ روی اختیار کروں۔(۴)جو
مجھ پر ظلم کرے اس کو معاف کردوں۔(۵)جو مجھ سے قطع تعلقی کرے اس سے صلہ رحمی
کروں۔(۶)اس
کو دوں جو مجھے محروم رکھے۔(۷)میری
زبان گویا ہو تو ذکر الہیٰ سے۔(۸)خاموشی کی حالت میں اس کی آیتوں میں
غوروفکر کروں۔(۹)میرے
دیکھنے میں عبرت پذیری ہو۔“ علامہ سیوطی ے ابن جریر۔ابن ابی حاتم ابو شیخ کی تفاسیر
کے حوالہ سے لکھا ہے۔کہ جب یہ آیت خُذِ الْعفْوَ اَلْٰا یتہ نازل ہوئی تو نبی کریم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبرئیل سے اس کے مفہوم کے بارے میں دریافت کیا۔انہوں
نے عرض کی کہ میں اللہ تعالیٰ سے پوچھ کر اس کا مفہوم بیان کر سکتا ہوں۔چنانچہ
جبرئیل اجازت لے کر بار گاہ رب العزت میں حاضر ہوئے وہاں سے یہ پیغام لے کر واپس
آئے عرض کی یا رسول اللہ!اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ جو آپ سے قطع رحمی کرے
اس سے آپ صلہ رحمی کریں۔جو آپ کو محروم رکھے اس کو آپ عطا کریں اور جو آپ پر ظلم
کرے اس سے آپ عفوو در گزر کریں۔“اسی سلسلہ میں ارشاد الہیٰ ہے ترجمہ!”چائیے کہ یہ
لوگ معاف کر دیں اور در گزر کریں۔کیا تم اس بات کو درست نہیں رکھتے کہ اللہ تعالیٰ
تمہارے گناہوں کو معاف فرما دے اور اللہ تعالیٰ غفو درو رحیم ہے۔“اگرچہ اس مضمون کی
بہت سی آیات قرآن کریم میں موجود ہیں لیکن میں صرف اسی ایک آیت کے ذکر پر اکتفا
کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے بصدعجزو نیاز التجا کرتا ہوکہ مجھ نا چیز کو اور تمام
غلامان مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان اخلاق حسنہ اور فضائل عالیہ سے اپنے آپ
مزین کرنے کی توفیق عطا فرمائے کیونکہ یہی وہ اخلاق عالیہ ہیں جن میں عظمت انسانی
کا راز پنہاں ہے۔وَلْیَعْفُوا وَلْیَصْفَحُوا
أَلَا تُحِبُّونَ أَن یَغْفِرَ اللَّہُ لَکُمْ وَاللَّہُ غَفُورٌ رَّحِیمٌ
(22)ترجمہ!”جو شخص (مصائب و آلام میں)صبر کرتا ہے اور جو شخص مخالفین (کے جو
روجفا)کو معاف کرتا ہے تو بیشک یہ طرز عمل ان امور میں سے ہے جن کی شان بڑی بلند
ہے۔“(ضیاء النبی جلد پنجم صفحہ303)
حضور
کے حلم و عفو کی مختلف مثالیں
حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساری زندگی حلم اور معاف کرنا تا ہم حصول برکت کے لیے
چند واقعات پیش خدمت ہیں۔
”اما
م مسلم او ر امام بخاری نے صیحین میں اللہ تعالیٰ کے محبوب کے حلم و عفو کی شان جلیل آشکار ا کرنے کیلئے ایک
واقعہ قلمبند کیا ہے جو نقل کر رہاہوں۔ترجمہ!”جنگ احدمیں جب حضور پر نور کے دندان
مبارک شہید کر دئیے گئے اور رخ انور کو زخمی کر دیا گیا تو صحابہ کرام کو از حد
تکلیف ہوئی۔عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان موذیوں اور بدکاروں کیلئے
اگر حضور بد دعا کر دیتے تو غضب خداوندی انہیں ملیا میٹ کر دیتا۔رحمت مجسم نے اپنے
جاں نثار صحابہ کرام کو یہ ارشاد فرمایا:اے میرے صحابہ!میں لعنت بھیجنے کیلئے
معبوث نہیں کیا گیا(یعنی بد دعا کرنے کے لئے)بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حق کا داعی
او ر سراپا رحمت بنا کر بھیجا ہے۔اس ارشا د کے بعد حضور نے اپنے مبارک ہاتھ دعا کیلئے
بارگاہ رب العالمین میں پھیلا دئیے۔اور ان ظالموں اور جفا کاروں کی تباہی کے بجائے
یہ التجا کی:اے اللہ!میری قوم کو ہدایت دے(ساتھ ہی ان کی عذر خواہی کرتے ہوئے عرض
کی)یا اللہ ان کی یہ ظالمانہ حرکتیں اس لئے ہیں کہ وہ مجھے جانتے نہیں۔اگر وہ مجھے
پہچان لیتے تو ہر گز ایسا نہ کرتے۔“(ضیاء النبی جلد پنجم صفحہ305)
آقا دو عالم کی بے ادبی کرنے والوں کو وعید
”کفار
مکہ کے علاوہ عرب کے اکھڑ مزاج اور گنوار بھی ایسی ایسی ناشائستہ حرکتیں کرتے تھے
جن سے درگزر کرنا ہر ایک کے بس کا روگ نہ تھا۔وہ صرف ذات پاک مصطفی ہی تھی جو ان
دل آزاریوں پر صبر کا مظاہرہ فرماتی تھی۔امام بخاری و مسلم نے حضرت جابر رضی اللہ
عنہ سے روایت کیا ہے کہ جابر نے فرمایا۔ترجمہ!”کہ یہ واقع میری دو آنکھوں نے دیکھا
اور میرے دو کانوں نے سنا کہ اللہ تعالیٰ کے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
جعرانہ میں تشریف فرماتھے۔حضرت بلال ایک چادر میں چاندی تھی۔حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم اسے تقسیم فرما رہے تھے۔ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ تقسیم میں عدل و
انصاف فرما ئیے۔سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو فرمایا تیرا خانہ
خراب ہو اگر میں عدل نہیں کروں گا تو اور کون عدل کرے گا۔اگر میں عدل نہ کروں تومیں
خائب و خاسر ہوں۔“یہ گفتگو سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ
مجھے اجاز ت دیجئے کہ میں اس منافق کو قتل کر دوں۔سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا۔میں اللہ سے پناہ مانگتا ہوں کہ لوگ میرے بارے میں یہ گفتگو
کرنے لگیں کہ اب میں نے اپنے صحابہ کو قتل کرنا شروع کر دیا ہے۔پھر اس منافق کے بارے
میں ارشاد فرمایا۔ترجمہ!”یہ(گستاخ)شخص اور اس کی پارٹی وہ لوگ ہیں جو قرآن کی قرات
کرتے ہیں لیکن قرآن ان کے گلے سے نیچے نہیں اترتا۔یہ لوگ دین سے اس طرح بھاگتے ہیں
جس طرح تیرا پنے ہدف سے۔“حضورکے اس آخری ارشاد سے پتہ چلتا ہے کہ جو نبی رحمت صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقد س پرکوئی اعتراض کرتے ہیں وہ گستاخ اور بے ادب ہیں۔یہ
بھی پتہ چلتا ہے کہ ایک ایسا فرقہ ہو گا جن کا ایسا عقیدہ ہو گا۔قرآن ان کے گلے میں
ہی اٹک کر رہ جائے گا۔ان کے دل تک قرآنی تعلیمات کا کوئی اثر نہیں ہو گا اور دین
سے وہ بھاگتے ہوں گے۔“(ضیاء النبی جلد پنجم صفحہ306)
ایک عورت کی بد اخلاقی کا واقع اور حضور کا حکم
”علامہ
طبرانی نے حضرت ابی امامہ سے ایک عجیب واقعہ نقل کیا ہے جسے پڑھ کر حضور کے حلم کیو
سعتوں اور گہرائیوں کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ایک عورت ہر زہ سرائی اور یا وہ گوئی میں
معروف تھی۔ہر مرد سے وہ ناشائستہ گفتگو کرنے کی عادی تھی۔سرکار دو عالم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ثرید تناول فرما رہے تھے اور ایک چٹان پر بیٹھے تھیوہ یہیں سے گزری
کہنے لگی ذرا دیکھو ان کی طرف غلاموں کی طرح بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کی طرح کھا رہے
ہیں حلم و وقار کے اس گوہ گراں نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا مجھ سے بڑھ کر اور
عبد اور غلام کون ہے۔پھر وہ کہنے لگی خود تو کھا رہے ہیں اور مجھے نہیں
کھلاتے۔حضورنے فرمایا تم بھی کھاؤ پھر کہنے لگی مجھے اپنے ہرتھ سے دیجئے۔سرور عالم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دہن مبارک سے لقمہ نکال کر اسے دیا۔جب اس نے وہ
لقمہ کھایا تو حضور کے متبرک لقمہ کی برکت سے اس کی ساری بدا ٓحلاقیاں وار بے حیائیاں
ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ہو گئیں۔جب تک زندہ رہی پھر کبھی اس نے کسی سے بیہودہ گفتگو
نہ کی۔
ایک بدو کے چادر کھینچنے کا واقعہ
”حضرت
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ٓٓؑٓآپ نے بتایا کہ میں ایک روز اپنے آقادو عالم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چادر
اوڑھی ہوئی تھی جس کے کنارے بڑے کھردرے تھے دریں اتناء ایک اعرابی آیا اس نے اس
چادر کو پکڑ کر بڑے زور سے کھینچا اور اتنے زور سے کھینچا کہ حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی گردن مبارک پر اسکے نشان پڑ گئے۔اس گستاخانہ حرکت کے بعد وہ بڑی بے حیائی
سے کہنے لگا۔ترجمہ!”اللہ کا جو مال تیرے پاس
ہے اس سے میرے ان دو اونٹوں ک لاد دو۔(مزید بے حیائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے
بولا)آپ اپنے اور اپنے باپ کے مال سے میرے اونٹوں کو نہیں لاد رہے ایسی گستاخانہ
جسارت پر سراپا رحمت ورافت نبی نے ذرابرہمی کا اظہار نہ کیا اور سکوت اختیار کیا
پھر فرمایا بیشک جو مال میرے پاس ہے وہ اللہ تعالیٰ کا مال ہے اور میں اس کا بندہ
ہوں پھر فرمایا جو تم چادر کھینچ کر مجھے تکلیف پہنچائی ہے میں اس کا انتقام تم سے
ضرورلوں گا۔وہ کہنے لگا ہرگز نہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیوں اس
بدو نے کہا (کیونکہ میں بخوبی جانتا ہوں)کہ آپ شیوہ ہے کہ آپ برائی کا بدلہ برائی
سے نہیں دیا کرتے۔سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی با ت سن کر ہنس پڑے اور
حکم دیا کہ اس کے ایک اونٹ پر جو کی بھری بوریاں لاد دو اور دوسرے پر کھجوریں۔ام
المونین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے آقا ئے نامدار کے اخلاق کریمہ بیان
کرتے ہوئے فرماتی ہیں میں نے یہ کبھی نہیں دیکھا کہ اگر کسی نے آپ پر ظلم اور زیادتی کی ہو تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے اس کا انتقام لیا ہو جب تک کوئی شخص اللہ کی حدود سے کسی حد کو نہ
توڑتا۔سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہاد فی سبیل اللہ کے بغیر کسی پر ہاتھ
نہیں اٹھایا نہ کسی خادم کو کبھی مارا اور نہ کبھی کسی عورت کو۔“(ضیاء النبی جلد
پنجم صفحہ309)
Reviewed by Rizwan Malik
on
مارچ 09, 2021
Rating:

کوئی تبصرے نہیں: