سعودی
عرب اور قطر کے مابین تعلقات بحال ہوگئے۔برف پگھل گئی
تحریر۔پیر
فاروق بہاوالحق شاہ۔
![]() |
| Relations between Saudi Arabia and Qatar have been restored. The ice has melted |
مشرق وسطیٰ سے یہ
اہم خبر سننے کو ملی کہ قطر اور اس پر پابندیاں عائد کرنے والی چار عرب ریاستوں میں
سفارتی تعلقات بحال ہوگئے ہیں۔عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی عرب کے وزیر
خارجہ شہزادہ فیصل بن فرہاد نے کہا کہ ان ممالک نے پوری طرح سے اپنے باہمی
اختلافات ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔سعودی عرب اور قطر کے مابین بڑا بریک تھرو تب
ہوا جب جی سی سی اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب آمد پر سعودی عرب کے ولی عہد
شہزادہ محمد بن سلمان نے خود قطری امیر کا استقبال کیا تھا۔
کشیدگی
کا پس منظر۔
2017 سعودی
عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر سے تعلقات ختم کر دیے تھے اور اس پر
شدت پسندی کی معاونت کرنے کا الزام لگایا تھا۔ قطر ان الزمات سے انکار کرتا آیا
ہے۔لیکن اسکے باوجود مزکورہ ممالک نے قطر کی بات پر اعتماد نہ کیا۔اور پھر تعلقات
میں سرد مہری آ گی۔اس سرد مہری کے ماحول میں جی سی سی کا اجلاس منعقد ہوا۔اس اجلاس
میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ ان کوششوں کی
مدد سے ہم مشترکہ بیان پر متفق ہوئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہم خلیج، عرب ممالک اور
مسلم یکجہتی کے بارے میں اپنے عزم اور استحکام کا اعادہ کریں گے۔'ان کا مزید کہنا
تھا: 'آج ہمیں شدید ضرورت ہے کہ اپنے خطے کی تشہیر کریں اور اپنے ارد گرد کے درپیش
مسائل اور خطرات، بالخصوص ایرانی حکومت کے جوہری اور بلیسٹک میزائل پروگرام اور اس
کے تباہی اور سبوتاژ کرنے کے منصوبوں کے خلاف متحد ہو جائین۔
خلیج
تعاون کونسل کے اجلاس میں قطر کے امیر تمیم بن حماد التھانی اپنے ملک کے وفد کی
سربراہی کی۔
خلیج تعاون
کونسل کے اجلاس کے بارے میں تجزیہ کرتے ہوئے بی بی سی کے نامہ نگار برائے سکیورٹی
امور فرینک گارڈنر کا کہنا ہے قطر پر لگائی گئی پابندیاں ہٹانے کے لیے مہینوں سے
سفارتی کوششیں جاری تھیں جس میں کویت کا بڑا اہم کردار تھا لیکن ساتھ ساتھ تعلقات
بحال کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی اشارے دیے گئے تھے عرب میڈیا میں تجزیہ
نگار اپنے تبصروں میں برملا کہ رہے کیا کہ ساڑھے تین سال کے عرصے پر محیط اس پابندی
سے نہ صرف قطر کو شدید معاشی نقصان ہوا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک کے
آپس کے اتحاد کو بھی بہت ٹھیس پہنچی ہے اور قطر اتنی جلدی اپنے ساتھ کیے گئے اس
سلوک کو نہ بھولے گا نہ معاف کرے گا جسیوہ خلیجی ممالک کی جانب سے اپنی پیٹھ میں
خنجر گھونپنے کے مترادف سمجھتا ہے۔بی بی سی اردو سے وابستہ تجزیہ نگار فرینک
گارڈنر اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ سفارتی بیان بازی اپنی جگہ، متحدہ عرب
امارات کو ابھی بھی قطر سے بہت خدشات لاحق ہیں اور انھیں شک ہے کہ قطر اپنی ڈگر نہیں
بدلے گا۔دوسری طرف قطر نے دہشت گردی میں معاونت کرنے کے الزامات کی تردید کی ہے، لیکن
ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس نے
غزہ اور لبیا میں سیاسی اسلام کی تحریکوں اور اخوان المسلمین کی ہمیشہ مدد کی ہے
جسے متحدہ عرب امارات اپنی سلطنت کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے۔ان پابندیوں کے رد عمل
کے طور پر ان پابندیوں کے بعد قطر نے خلیجی ممالک کے بجائے ترکی اور ایران کا رخ کیا
اور ان کے
زیادہ نزدیک ہو
گیا ہے۔اس سے قبل پیر کی شب سعودی عرب نے قطر کے ساتھ اپنی سرحد دوبارہ کھول دی تھی
جس کے بعد قطری امیر شیخ تمیم بن حماد التھانی کا سعودی عرب آمد پر سلطنت کے ولی
عہد محمد بن سلمان نے ان کا استقبال کیا تھا۔یہ سعودی عرب اور قطر کے مابین ساڑھے
تین برس قبل منقطع ہونے والے تعلقات کی بحالی کے سلسلے میں پہلا بڑا قدم تھا۔
قطر
کا سرکاری اعلان۔
اس سے قبل قطر کی
سرکاری نیوز ایجنسی کی ٹویٹ کے مطابق ’قطر کے امیر قطری ریاست کے ایک وفد کی
سربراہی کریں گے جو (سعودی عرب میں) خلیج تعاون کونسل کی سپریم کونسل کے 41ویں سیشن
میں شرکت کرے گا۔‘یہ اعلان قطر کے وزیر خارجہ کی جانب سے کیے گئے اس بیان کے بعد
سامنے آیا تھا جس میں انھوں نے سعودی عرب کے ساتھ قطر کی زمینی، فضائی اور بحری
سرحدیں دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا۔قطر کے وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا تھا کہ
خلیج تعاون کونسل کے ممبر ممالک سعودی عرب میں منعقد ہونے والے اجلاس کے دوران قطر کا بائیکاٹ باقاعدہ
ختم کرنے کے بیان پر بھی دستخط کریں گے۔
کویت
کا اعلان۔
سعودی عرب سے
قبل کویت نے بھی اعلان کیا تھا کہ سعودی
عرب قطر کے ساتھ اپنی سرحدیں دوبارہ کھول رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے
سے جاری تنازع کے خاتمے کی جانب اسے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ سعودی
عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے جون 2017 میں قطر کے مبینہ طور پر دہشت
گردی کی حمایت کرنے اور ایران کے ساتھ روابط رکھنے کی بنا پر اس سے تعلقات ختم
کرتے ہوئے قطر کے آگے کئی مطالبات رکھے تھے۔قطر ایک چھوٹی لیکن بہت مالدار خلیجی ریاست
ہے اس نے ہمیشہ اسلامی جنگجوؤں کی حمایت کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔اس خبر کا سب
سے پہلے اعلان کویت کے وزیر خارجہ احمد نصر الصباح نے ٹی وی پر گذشتہ روز کیا
تھا۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق قطر اور
سعودی عرب کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ملک کویت نے ابھی حال ہی میں
تھوڑی کامیابی حاصل کی لیکن اس سے پہلے کے کچھ مہینوں تک ’فیس سیونگ‘ کے لیے کسی
قرارداد کے آثار بڑھتے دکھائی دے رہے تھے جس نے اس عمل میں شامل سبھی ممالک کو
نقصان پہنچایا۔
تعلقات
کی بحالی میں امریکہ کا کردار۔
![]() |
| Relations between Saudi Arabia and Qatar have been restored. The ice has melted |
سعودی عرب اور
قطر کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے امریکی انتظامیہ کا واضح کردار نظر آتا ہے۔
سینیئر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سابق صدر ٹرمپ کے داماد اور سینیئر مشیر نے
تعلقات کی بحالی میں بنیادی کردار ادا کیا۔قطر کے امیر تمیم بن حماد التھانی نے
سعودی بادشاہ، شاہ سلمان کی جانب جی سی سی کے اجلاس میں شرکت کی دعوت کو قبول کیا
تھا۔بی بی سی کی بین الاقوامی امور کی چیف نامہ نگار لیز ڈوسیٹ کی رپورٹ کے مطابق
جی سی سی کا اجلاس منعقد کرنے والوں میں شامل ایک ذریعے سے انھیں معلوم ہوا ہے کہ
سعودی حکام کی جانب سے قطر کے لیے اپنے فضائی، بحری اور بری راستے کھولنے کا مقصد
دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی بحالی کا اقدام ہے تاکہ اجلاس میں قطری امیر کی
شمولیت کو یقینی بنایا جا سکے۔سنہ 2017 میں جب قطر پر یہ پابندیاں عائد کی گئی تھیں
تو قطری امیر نے کہا تھا کہ وہ ایسے کسی ملک کا سفر نہیں کریں گے جس نے قطری شہریوں
کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔وال سٹریٹ جرنل سے گفتگو میں ٹرمپ انتظامیہ کے
ایک افسر نے کہا کہ یہ اب تک ہمارے لیے سب سے بڑی پیش رفت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس
کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ایک دوسرے سے محبت کرنے لگیں گے اور بہترین دوست بن جائیں
گے لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے کے قابل ہوں گے۔
اس خبر کے سامنے
آنے سے پہلے ہی ذرائع ابلاغ میں یہ اس امید کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ سعودی عرب
کے تاریخی مقام ال اولہ میں ہونے والے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے اکتالیسویں
اجلاس کے نتیجے میں خطے کے ممالک میں تین سال سے جاری تناؤ کے بعد اب قریبی تعاون
بڑھ سکے گا۔جی سی سی ممالک میں سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور
عمان شامل ہیں۔
قطر
کے ساتھ تعلقات۔
سعودی عرب،
متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے 2017 کے وسط سے قطر کے ساتھ سفارتی،
تجارتی اور فضائی تعلقات منقطع ہونے کے بعد اس تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے امریکہ
اور کویت نے مل کر کوشش کی ہے۔چاروں ممالک نے دوحہ پر دہشت گردی کی حمایت کرنے کا
الزام عائد کیا تھا۔ قطر نے جو خطے میں امریکی فوج کے سب سے بڑے اڈے کی میزبانی
کرتا ہے، ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتا رہا ہے کہ بائیکاٹ کا مقصد اس کی
سالمیت اور خودمختاری کو نقصان پہنچانا ہے۔ان ممالک نے تعلقات کی بحالی کے لیے قطر
کے سامنے 13 مطالبات رکھے تھے جن میں الجزیرہ چینل کو بند کرنا، ایک ترک اڈہ خالی
کروانا، اور اخوان المسلمین سے تعلقات کو ختم کرنا شامل ہے۔قطر نے بار بار کہا ہے
کہ وہ بغیر کسی شرط کے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
تعلقات خراب کیوں ہوے
تھے؟
یہ ایک اہم سوال
ہے جس پر مختلف تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔غیر ملکی میڈیا خصوصا عرب میڈیا اس پر کھل
کر بات کر رہا ہے۔ تجزیہ نگاروں کی راے میں قطر کی طرف سے اپنے موقف پر برقرار
رہنے کی ایک بڑی وجہ اس کا یہ یقین تھا کہ وہ شدت پسندی کا حامی نہیں ہے۔ دراصل
مصر اور سعودی عرب کی نظر میں اخوان المسلمین شدت پسند گروہ ہے جبکہ قطر، فلسطین
اور ترکی اسے صرف ایک سخت گیر اسلامی تنظیم کے طور پر دیکھتے ہیں۔قطر شدت پسندی کی
حمایت کرنے سے انکار کرتا ہے۔ اس نے غزہ، لیبیا اور دیگر مقامات پر سیاسی اسلامی
تحریکوں کی حمایت کی ہے، خاص طور پر روایتی اخوان المسلمین جیسی تنظیموں کی جو خلیجی
ممالک کے نزدیک شدت پسند تنظیم ہے۔اس کے علاوہ قطر نے ایران کے ساتھ تعلقات مضبوط
نہ کرنے کے لیے دباؤ کو اپنی خارجہ پالیسی پر حملے کے طور پر دیکھا ہے۔ حالانکہ جی
سی سی کے ایک رکن کی حیثیت سے قطر اس بات کے لیے پابند ہو سکتا ہے کہ وہ گروہ کی
طے شدہ پالیسی پر عمل کرے۔دراصل قطر اور چاروں ممالک یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب
امارات، بحرین اور مصر کے درمیان تعلقات سنہ 2014 میں اس وقت خراب ہو چکے تھے جب
ان چاروں ممالک نے اپنے سفارتکاروں کو کچھ ماہ کے لیے واپس بلانے کا قدم اٹھایا
تھا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ ان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی
ہے۔
کیا سعودی عرب قطر کو
تنہا کرنے میں ناکام رہا؟2017 میں سعودی عرب اور اتحادیوں کا خیال تھا کہ عرب
اتحاد قطر کو دنیا سے کاٹ دے گا اور تنہای کا شکار کر دے گا۔لیکن ایسا ممکن نہیں
ہوا اور دنیا قطر سے علیحدہ نہیں ہو سکی۔تاہم
مبصرین کا کہنا ہے کہ کشیدگی کے خاتمے میں سابق امریکی انتظامیہ کا کردار رہا ہے وہ نئی امریکی انتظامیہ کے لیے باعث اطمینان ہو
گا۔پاکستان کی سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ
قطر اور سعودی عرب کے درمیان صلح دیر آید درست آید کے مصداق ہے جس کا پاکستان خیر
مقدم کرتا ہے۔وائس آف امریکہ سے گفتگو میں مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ یہ ایک
بلا وجہ لڑائی تھی جو کہ قطر کے اتحادی ممالک کی جانب سے اچانک الزامات کی بوچھاڑ
سے شروع ہوئی۔مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ اس ساری صورتِ حال میں قطر اپنی پالیسی
پر قائم رہا اور مخالفین نے حقائق سامنے رکھتے ہوئے پالیسی میں تبدیلی کی ہے اور ایک
کشیدگی کا محاذ ختم ہوا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس غیر ضروری سفارتی و سیاسی جنگ کا
خاتمہ مسلم ممالک اور خلیج اتحاد کے لیے اچھی پیش رفت ہے۔دفتر خارجہ کے ذرائع کا
کہنا ہے کہ سعودی عرب قطر کو تنہا کرنے میں ناکام رہا اور دوحہ کا بائیکاٹ بے سود
ہو گیا تھا۔خارجہ امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یمن جنگ اور ترکی و ایران کے خطے میں
بڑھتے اثر و رسوخ نے سعودی عرب کو مجبور کیا کہ وہ قطر کے ساتھ اپنے معاملات کو حل
کرے اور نئی امریکی انتظامیہ کے آنے کے تناظر میں یہ ایک متوقع اقدام تھا۔ذرائع کے
مطابق قطر خلیج تعاون کونسل کا رکن رہنے کے ساتھ ساتھ آزاد خارجہ پالیسی چاہتا ہے
اور اب سعودی عرب نے ایک طرح سے قطر کی اس پالیسی کو تسلیم کر لیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ
اگرچہ قطر کے ساتھ کچھ پرانی کشیدگیاں برقرار رہیں گی تاہم سعودی عرب نے اس حالیہ
اقدام سے اپنے مسائل میں سے ایک مسئلے کو حل کرلیا ہے تاکہ بڑے مسائل کو دیکھا
سکے۔
پاکستان
نے دباؤ کے باوجود قطر سے تعلقات استوار رکھے۔
سینٹ کی خارجہ
امور کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ قطر کے ساتھ خلیجی ممالک
کے تنازعے میں پاکستان نے جھکاؤ کسی ایک جانب نہیں دیکھایا اور دباؤ کے باوجود قطر
سے تعلقات استوار رکھے۔وہ کہتے ہیں کہ افغان امن مذاکرات کا مرکز ہونے کے باعث بھی
پاکستان کے دوحہ سے اچھے مراسم تھے جو اسلام آباد کے حق میں تھے اور اب تعلقات کی
بحالی سے نئی امریکی انتظامیہ اور صدر جو بائیڈن کا درد سر بھی کم ہو گا۔انہوں نے
کہا کہ سعودی عرب اور قطر دونوں کا سیاسی شجرہ واشنگٹن ڈی سی سے ملتا ہے جس نے اس
صلح کرانے میں سہولت کاری کی۔وہ سمجھتے ہیں کہ خلیجی ممالک کو اندازہ ہے کہ صدر
ٹرمپ کے دور میں امریکہ کے ساتھ جاری گہری قربت اب صدر بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے
پر شائد جاری نہ رہ سکے اور حالات کے مطابق نئے حقائق کو محسوس کرتے ہوئے ایک کشیدگی
کا خاتمہ کیا ہے۔
Reviewed by Rizwan Malik
on
مارچ 10, 2021
Rating:


کوئی تبصرے نہیں: