Subscribe Us

waqiat e serat episode 65

 

واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں      قسط نمبر65

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بازو مبارک

waqiat e serat episode 65
waqiat e serat episode 65


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رکانہ سے کشتی کا واقعہ ضیاء النبی میں اس طرح سے موجود ہے۔

امام بیہقی اور ابو نعیم نے حضرت ابو امامہ سے روایت کیا ہے:مکہ مکرمہ میں ایک شخص تھا جس کا نام رکانہ تھا۔اس کا شمار سب سے زیادہ طاقتور لوگوں میں ہوتا تھا لیکن وہ مشرک تھا اور وادی اضم میں بکریاں چرایا کرتا تھا۔ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ سے نکلے اور اس وادی کی طرف تشریف لے گئے۔راستے میں رکانہ سے ملاقات ہو گئی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت اکیلے تھے۔رکانہ نے

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو کھڑا ہو گیا۔کہنے لگا اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ وہ ہیں جو ہمارے بتوں کو برا بھلا کہتے ہیں اور ہمیں ایک خدا کی عباد ت کی دعوت دیتے ہیں جو عزیز و حکیم ہے؟پھر اس نے کہا اگر میرے اور آپ کے درمیان رشتہ داری نہ ہوتی تو میں آپ سے اس وقت تک بات نہ کرتا جب تک کہ آپ کو قتل نہ کر دیتا۔اب آپ میرے قابومیں ہیں اپنے خدا کو جوعزیزو حکیم ہے اسے بلائیے وہ آپ کو مجھ سے نجات دلائے۔پھر رکا نہ نے کہا میں آج آپ کے سامنے ایک چیز پیش کرتا ہوں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کشتی لڑوں اور آپ اپنے اللہ کو عزیزو حکیم ہے،پکاریں کہ میرے مقابلے میں آپ کی امداد کرے اور میں اپنے خداؤں لات وعزیٰ کو پکاروں گا۔اگر آپ مجھے گرا دیں تو میری بکریوں سے دس بکریاں چن لیں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تیر ی مرضی ہو میں تجھ سے کشتی لڑنے کیلئے تیار ہوں۔چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور جھٹکا دیا،چشم زدن میں وہ چاروں شانے چت زمین پر آرہا۔اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے سینے پر بیٹھ گئے۔رکانہ نے کہا میرے سینے سے اٹھئے۔یہ آپ کا کمال نہیں ہے بلکہ یہ آپ کے خدا،جو عزیزوحکیم ہے،کا کمال ہے۔میرے خداؤں لات و عزیٰ نے میری مدد نہیں کی۔آج تک کسی نے میری پشت نہیں لگائی تھی پھر رکانہ بولا۔ایک مرتبہ اور آپ مجھ سے کشتی لڑیں اگر آپ پھر بھی مجھے گرا دیں تو میرے ریوڑ سے دس بکریاں چن لیں۔دونوں کشتی  کیلئے تیار ہو گئے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خداوند عزیرزحکیم کو مدد کیلئے پکارا۔اس نے اپنے لات و عزیٰ کو مدد کیلئے پکارا۔لیکن

رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پکڑا اور زمین پر دے مارا اور اس کے سینہ پر سوار ہو گئے۔رکانہ پھر کہنے لگا اٹھئے یہ آپ کا کمال نہیں ہے آپ کے رب کا کمال ہے۔اس نے آپ کی مدد کی لیکن میرے خداؤں نے مجھے نظر انداز کر دیا۔رکانہ پھر کہنے لگا کہ ایک مرتبہ پھر آئیے اگر اس دفعہ آپ نے پھر گرالیں تو میرے ریوڑ سے دس مزید بکریاں چن لیں۔تیسری بار بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جھٹکا دیا اور وہ زمین پر چت گر پڑا۔کہنے لگا یہ آپ کا کمال نہیں بلکہ آپ کے رب کا کمال ہے جو عزیزوحکیم ہے مجھے میرے خداؤں لات وعزیٰ نے رسوا کیا ہے۔حسب وعدہ آپ میرے ریوڑ سے تیس بکریاں چن لیں۔

رکانہ کا معجزہ طلب کرنا اور درخت کا سلام کے لیے حاضر ہوجانا

حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایارکانہ مجھے تیری بکریوں کی ضرورت نہیں یہ اپنے پاس رکھ۔میں تمہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔مجھے اس بات سے تکلیف ہوتی ہے کہ تجھے آتش چہنم میں جھونک دیا جائے۔رکانہ اسلام قبول کر لے،عذاب جہنم سے بچ جائے گا۔کہنے لگا جب تک آپٖ مجھے کوئی نشانی نہ دکھائیں میں آپ کی دعوت کو قبول نہیں کروں گا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر میں تجھے نشانی دکھادوں تو کیا تو میری دعوت کو قبول کر لے گا؟اس نے کہا بیشک۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک ہی ایک بیری کا درخت تھا جس کی شاخیں اور ٹہنیاں دور دور تک پھیلی تھیں۔سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف اشارہ کیا اور اسے فرمایا:اللہ تعالیٰ کے اذن سے میرے پاس آجا۔اسی وقت اس کے دو حصہ ہو گئے ایک نصف اپنی ٹہنیوں شاخوں سمیت زمین کو چیرتا ہوا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں میں حاضر ہو گیا۔رکانہ کہنے لگا بیشک آپ نے بہت بڑی نشانی دکھائی ہے لیکن اب آپ اس کو حکم دیں کہ واپس چلا جائے تب مانوں گا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا وہ درخت اپنی شاخوں سمیت واپس چلا گیا اور جو نصف وہاں نصب تھا اس کے ساتھ پیوست ہو گیا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا رکا نہ حسب وعدہ اب اسلام قبول کرو اور عذاب الہیٰ سے بچ جاؤ لیکن رکا نہ نے کہا مجھے اب اس بات میں کوئی شبہ نہیں رہا کہ تیراخداسچا ہے اور وہ وحدہ لاشریک ہے لیکن اسلام قبول کرنے سے میرانفس جھجک رہا ہے کیونکہ مجھے خوف ہے اگر میں نے اسلام قبول کر لیا تو مکہ کی عورتیں اور بچے جہاں جہاں سنیں گے کہیں گے رکانہ نے کشتی میں گر کر اسلام قبول کیا ہے۔وہ کہنے لگا آپ میرے ریوڑ سے تیس بکریاں لے جائیں۔جن کا وعدہ کر چکا ہوں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے ان بکریوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے میری خواہش ہے کہ لوگ اپنے خالق حقیقی پر ایمان لائیں اور تمام باطل خداؤں کی عبادت ترک کر کے اللہ وحدہ لا شریک کے سامنے سر بسجود ہوں۔یہ کہہ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لائے۔حضرت ابو بکر صدیق اور فاروق اعظم(رضی اللہ عنہم) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں ادھر ادھر گھوم رہے تھے کسی نے بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو وادی اضم تشریف لے گئے ہیں۔ادھر روانہ ہوئے اور جنگل کے کنارے کھڑے ہو کر انتظار کرنے لگے۔جب نا گہاں دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لا رہے ہیں دونوں دوڑ کر اپنے آقا کی پیشوائی کیلئے بڑھے۔پھر عرض کی یا رسول اللہ آپ اکیلے اس جنگل کی طرف کیوں چلے گئے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جانتے ہیں یہاں ایک مشہور پہلوان رکانہ کا قبضہ ہے۔بڑا طاقتور بھی ہے اور آپ کا دشمن بھی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے جاں نثاروں کے ان خدشات کو سن کر ہنس پڑے فرمایا  اللہ تعالیٰ ہر وقت میرے ساتھ ہے اور اس کا وعدہ ہے:وہ خود میری حفاظت کا ذمہ دار ہے۔رکانہ کی کیا مجال تھی کہ میرے سامنے اف بھی کر سکتا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکانہ سے کشتی کا ماجرابیان کیا یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ددنوں جاں نثاروں کی خوشی کی حد نہ رہی۔بعض علماء سیرت نے روایت کیا ہے کہ رکانہ کے بیٹے محمد نے بتایا کہ رکا نہ مسلمان ہو گیا تھا۔اسی طرح حاکم نے مستد رک میں اور سہیلی اور بیہقی نے ابوالا سود جمحی سے کشتی لڑنے کا واقعہ بیان کیا ہے۔وہ بھی بڑا طاقتور پہلوان تھا جس کو آج تک کسی نے گرایا نہیں تھا۔وہ گائے کے چمڑے پر کھڑا ہوتا اور دس طاقتور آدمی اس کو کھنچتے تا کہ اس کے قدموں سے اس چمڑے کو نکال لیں لیکن ہ چمڑا ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا تھا لیکن ہو ابو الا سود سر مو اپنی جگہ سے نہ سرکتا تھا۔اس نے کہا کہ اگر مجھے آپ گرا دیں تو میں ایمان لاؤں گا۔سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چشم زدن میں اس کو چت گرادیا لیکن اس کی بد بختی تھی کہ اس نے اسلام قبول نہ کیا۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کلائی مبارک

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلائی مبارک سے ٹپکنے والے پسینے کے قطرے کا واقعہ ضیاء النبی میں کچھ اس طرح سے موجود ہے۔

ابویعلی اور طبرانی اوسط میں اور ابن عساکر یہ سب حضر ت ابو ہریرہ سے روایت کرتے ہیں۔ایک شخص بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہتا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے امداد کا خواستگار ہوں۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے ایسے کرو ایک شیشی لو جس کا منہ فراخ ہو اور ایک ٹہنی کاٹ کر لاؤ۔پس وہ لے کر حاضر ہوا۔اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کلائی پر پسینے کے قطرے نمودار تھے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پسینے کے قطرے انگلی سے نچوڑ کر اس شیشی میں ٹپکا دئیے اس وقت خوشبو لگائی ہو تو اس لکڑی کو اس شیشی میں ڈال کر نکال لے اور جو نمی اس کے ساتھ لگے اس سے اپنے آپ کو معطر کر لے وہ پسینہ اس قدر خوشبو دار تھا کہ جب بھی وہ ملا کرتی تو تمام مدینہ کی فضا اس کی خوشبو سے معطر ہو جاتی۔لوگوں نے اس گھر کا نام بیت مطیبین رکھ دیا”خوشبو والوں کا گھر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی کی شہادت کا واقعہ  اس شہید سے اظہار محبت

 امام مسلم نے حضرت ابی برزہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جہاد میں تشریف لے گئے۔اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح عظیم عطا فرمائی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپے صحابہ(رضی اللہ عنہم)کو فرمایا لشکر اسلام سے کچھ لوگ مفقود تو نہیں؟صحابہ نے عرض کی فلا ں فلاں نظر نہیں آرہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا انہیں تلاش کرو۔جب وہ سب کو تلاش کر کے اکٹھا کر کے لائے فرمایا کوئی اور تو غائب نہیں؟صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سب کی لاشیں مل گئیں ہیں اب کوئی مفقود نہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں تو جلیبیب کو نہیں دیکھ رہا اس کو تلاش کرو۔صحابہ اس کی تلاش میں نکلے جہاں ا ن کافروں کے لاشے تھے وہاں قریب ہی جلیبیب کی لاش تھی جس نے پہلے ان سات کو قتل کیا پھر اس کو کسی مشرک نے قتل کر دیا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی لاش کے پاس تشریف لے گئے اور اس کو اپنی کلائیوں پر اٹھایا اور فرمایا یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔سرکار نے اس وقت تک اپنے غلام کو اپنی کلائیوں پر اٹھائے رکھا جب تک ان کی قبرتیار نہ ہو گئی پھر جب قبر تیار ہو گئی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپنے جا ں نثار مجاہد کو اپنے دست مبارک سے لحد میں سلا دیا۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گردن مبارک

فرشتوں کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت میں ہر وقت حاضر رہنے کا واقعہ ضیاء النبی میں ان الفاظ میں ہے۔

امام مسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ابو جہل نے چند اشخاص سے کہا کہ محمد (فداہ ابی وامی)تمہارے سامنے آکر اپنا منہ اور ماتھا زمین پر رگڑتا ہے؟انہوں نے کہا۔ہاں ابو جہل بولا مجھے لات وعزیٰ کی قسم اگر میں اسے ایسا کرتا دیکھ لوں گا تو میں اپنے قدموں سے اس کی گردن لتاڑدوں گا اس کا منہ خاک میں ملا دوں گا۔ایک روزوہ آیا۔سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کودیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے ہیں۔وہ اپنے مذموم ارادہ کو علمی جامہ پہنانے کیلئے اس طرف آیا جہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے لیکن جب قریب پہنچا تو پیچھے منہ کرکے بھاگنا شروع کر دیا۔لوگ اس کی اس حالت کودیکھ کر ازحدمتعجب ہوئے۔اس سے پوچھا ابو جہل تجھے کیا ہوا جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب پہنچ گیا تو تو منہ پھیر کر وہاں سے بھاگ نکلا؟اس نے کہا میں نے جب قریب پہنچ کر آپ کی گردن پر وار کرنے کا ارادہ کیا تو میں نے دیکھا میرے اور آپ کے درمیان آگ کی ایک خندق ہے۔مجھے یقین ہو گیا اگر میں آگے پڑھا تو اس آگ کی خندق میں گر پڑوں گا اس لئے واپس بھاگا۔حضور صلیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب اس کی یہ با ت سنی تو فرمایا اگر وہ میرے نزدیک آتا تو فرشتے اس کا جوڑ جوڑ الگ کر کے آگ کی گھاٹی میں پھینک دیتے۔“(ضیاء النبی ج5ص482تا486)

 

 

 

 

waqiat e serat episode 65 waqiat e serat episode 65 Reviewed by Rizwan Malik on مارچ 10, 2021 Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.