Subscribe Us

waqiat e serat episode 67 in urdu

 

واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں      قسط نمبر 67

حضور کی پشت مبارک

waqiat e serat episode 67 in urdu
waqiat e serat episode 67 in urdu

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طوفیل بارش کا برسنا ضیاء النبی میں کچھ یوں بیان ہوا ہے۔

امام ا حمد،مقرش کعبی سے روایت کرتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے جعرانہ سے عمرہ کی نیت کی۔میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی پشت مبارک کو دیکھا۔یو ں معلوم ہوتی تھی جیسے چاندی کی ڈھلی ہوئی ہو۔ابن عساکر نے جہم بن عرفطہ سے روایت کیا ہے کہ میں مکہ مکرمہ آیا۔لوگ قحط میں مبتلا تھے۔سارے قریش حضرت ابو طالب(رضی اللہ عنہ) کی خدمت میں حاضر ہو کر فریا د کناں ہوئے۔اے ابو طالب!(رضی اللہ عنہ)وادیاں خشک ہو گئی ہیں۔جانوروں کیلئے سبز گھاس کا تنکا بھی نہیں۔گھروں میں اہل خانہ سخت بھوک میں مبتلا ہیں۔چلئے اور اللہ کی جناب میں بارش کیلئے دعا فرمائیے۔حضرت ابو طالب(رضی اللہ عنہ) روانہ ہوئے۔ان کی معیت میں ایک نوجوان تھا جس کی صورت بڑی من موہنی تھی۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ بادل کوپھاڑ کر ابھی سورج نمودار ہوا ہے۔ ان کے اردگرداوربھی چھوٹے بچے تھے۔حضرت ابو طالب (رضی اللہ عنہ)نے آپکی پشت کو کعبہ سے لگایا اور اس نوجوان نے انگلی کا اشارہ آسمان کے گوشتہ سے بادل نمودار ہونے لگا بادل ادھر ادھر سے اکٹھے ہوئے۔سارا مطلع ابر آلود ہو گیا اور پھر بارش برسنا شروع ہو گئی تو ہر طرف پانی ہی پانی نظر آرہا تھا۔وادیاں بہنے لگیں اور زمین سر سبز ہو گئی۔اسی منظر کو بیان کرتے ہوئے حضرت ابو طالب(رضی اللہ عنہ) کی زبان سے نکلا۔:”یہ سفید رنگ والا اس کے من موہنے چہرے کے طفیل بادلوں کا سوال کیا جاتا ہے۔یتیموں کا نگہبان اور بیواؤں کی عصمت کا محافظ ہے۔

حضور کی ولادت باسعادت کا واقعہ

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کا واقعہ ضیاء النبی میں اس طرح موجود ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مکہ مکرمہ میں ایک یہودی رہائش پذیر تھا۔جب وہ رات آئی جس رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی ولادت با سعادت ہوئی تو ہو اس محفل میں گیا جہاں قریش اکٹھے تھے اس نے کہا اے گروہ قریش کیا آج کی رات تمہارے ہاں کوئی بچہ پیدا ہوا ہے؟انہوں نے کہا بخدا ہمیں علم نہیں۔اس یہودی نے کہا تعجب کی بات ہے۔تفتیش کرو اور میری بات کو یا د رکھو آج کی رات ایک نبی پیدا ہوا ہے۔اس کے کندھوں کے درمیان بالوں کا گچھا ہے۔پس لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے۔اپنے اہل خانہ سے پوچھا قریش کے کسی گھر میں کوئی بچہ پیدا ہوا ہے؟انہوں نے بتایا کہ عبداللہ بن عبدالمطلب کے ہاں ایک فرزند پیدا ہوا ہے جس کا نام محمد رکھا گیا ہے۔لوگ اس یہودی کے گھر گئے اسے بتایا کہ ہمارے گھرانہ میں ایک بچہ تو لد ہوا ہے۔لوگ اس یہودی کے گھر گئے اسے بتایا کہ ہمارے گھرانہ میں ایک بچہ تو لد ہوا ہے۔اس نے کہا مجھے ساتھ لے چلو میں خود دیکھوں۔اسے لے کر حضرت آمنہ کے گھر گئے اور انہیں عرض کی جو بچہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے دیا ہ وہ دکھائیے۔آپ کپڑے میں لپیٹ کر اس چاند سے بچے کو باہر لائیں،اس یہودی نے پیٹھ کو دیکھا مہر نبوت دیکھی فرط غم سے غش کھا کر گر پڑا۔جب اسے ہوش آیا تو انہوں نے پوچھا تمہیں کیا ہو گیا؟کہنے لگا صدحیف نبی اسرائیل کے گھرانے سے نبوت رخصت ہو گئی۔اے گروہ قریش بخدا اس مولود مسعود کی سطوت کا ڈنکا مشرق و مغرب میں بجے گا۔اس وقت اس محل میں قریش کے سردار رؤ سا موجود تھا۔جن میں ہشام بن مغیرہ ولید بن مغیرہ عتبہ بن ربیعہ جیسے دشمنان اسلام تھے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کی ان لوگوں کے شر سے خود حفاظت فرمائی۔امام زہری حضرت عباس سے روایت کرتے ہیں جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر مبارک چھ برس کی ہوئی تو آپ کی والدہ ماجدہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کو اپنی کنیز ام ایمن کے ہمراہ مدینہ منورہ لے آئیں اور حضرت عبدالمطلب کے ماموں کے پاس،جو بنی عدی بن نجار کی اولاد میں سے تھے وہاں آکر ٹھہریں۔آپ ایک ماہ وہاں رہیں۔جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرم سے ہجرت کرکے جب مدینہ منورہ میں تشریف فرما ہوئے تو جس گھر میں آپ کی والدہ محترمہ آپ کو لے کر رہی تھیں۔تو ہم اس گھر میں رہے تھے۔اور میں بنی عدی کے کنوئیں میں تیر نے کی مشق کیا کرتا تھا اور یہودیوں کے کئی اشخاص جو کتب سماوی خصوصاََ تورات کے بہت ماہر تھے مجھے آکر دیکھا کرتے تھے۔ام ایمن آپ کی والدہ محترمہ کی کنیز تھی،اس کا بیان ہے کہ ایک دن میں نے بڑے یہودی کو یہ کہتے ہوئے سنا:اس امت کا نبی (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اشارہ کر کے)یہ ہے اور یہی شہر مدینہ طیبہ اس کا دار الجبر ۃ ہوگا۔حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے مزید فرمایا:پھر کچھ دن وہاں رہ کر میری والدہ مجھے واپس لے کر مکہ کیلئے روانہ ہوئیں۔ابو نعیم کی ایک روایت ہے:حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مدینہ طیبہ کے قیام کے دوران ایک یہودی نے مجھے بہت غور سے دیکھا اور تار تا رہا۔ایک دن اس نے مجھ سے پوچھا بچے تمہارا نام کیا ہے؟میں نے کہا احمد۔اس پر اس نے میری پشت دیکھی اور دیکھ کرکہا یہ  اس امت کا نبی ہے۔پھر اس نے اپنے بھائیوں کو یہ بات بتائی۔انہوں نے میری ماں سے آکر کہا۔میری والد ہ اس بات سے ڈر کر کہ مبادا کوئی یہودی یا کوئی حاسد میرے بیٹے کو گزندنہ پہنچائے وہاں سے مکہ کو روانہ ہوئیں۔حکمت الہیٰ جب ابو اء پہنچیں تو وہاں ان کا انتقال ہو گیا اور وہیں دفن ہوئیں۔اس وقت میری والدہ ماجدہ کی عمر بیس سال کے لگ بھگ تھی۔

حضور کے قدم مبارک

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک سے چشمہ جاری ہو جانے کا واقعہ ضیاء النبی میں اس طرح موجود ہے۔

سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سنگ خارا پر قدم مبارک رکھتے تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک کے نشان اس میں لگ جاتے۔امام ترمذی نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کہیں قدم رکھتے تو پورا قدم رکھتے۔میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ تیز رفتار کوئی نہیں دیکھا۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ زمین سامنے سے لپٹی جا رہی ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑی بے پرواہی سے چلتے اور ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ دینے کیلئے اتنے تیز چلتے کہ ہمارا سانس پھول جاتا۔ابن سعد،خطیب اور ابن عساکر نے عمرو بن سعید سے روایت کیا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک روز اپنے چچا حضرت ابو طالب (رضی اللہ عنہ)کے ساتھ ذی المجاز گئے۔یہ جگہ عرفہ سے ایک فرسخ کی مسافت پر ہے۔زمانہ جاہلیت میں یہاں ایک میلہ لگا کرتا تھا۔آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے چچا حضرت ابو طالب(رضی اللہ عنہ(کو پیاس لگی۔آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا کہ مجھے پیاس لگی ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ایڑی زمین پر ماری۔بعض نے کہا ایک چٹان پر ماری کچھ پڑھا اچانک پانی کا فوارہ بہ نکلا۔حضرت ابو طالب فرماتے ہیں:میں نے ایسا میٹھا ٹھنڈا پانی کبھی نہیں دیکھاتھا۔میں نے خوب سیر ہو کر پیا۔جب سیر ہو گیاتو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر ایڑی ماری اور وہ پانی غائب ہو گیا۔امام مسلم حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو یاد فرمایا۔وہ حاضر ہوا۔اس نے شکایت کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میری اونٹنی نے مجھے تھکا دیا ہے،یہ بہت سست رفتار ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنے قدم مبارک سے ٹھوکر لگائی۔ابو ہریرہ کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک کی ٹھوکر سے وہ ایسی برق رفتار ہو گئی کہ کسی اور اونٹنی کو اپنے آگے بڑھنے نہیں دیتی تھی۔

حضور کا جسم مبارک

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سایہ کبھی زمین پر نہیں پڑا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سراپا نور تھے اور نور کا سایہ نہیں ہوتا ضیاء النبی میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم مبارک کو ان الفا ظ میں بیان کیا ہے۔

ابو یعلی،ابن ابی حاتم اور ابو نعیم اسماء بنت ابی بکر سے روایت کرتے ہیں:جب یہ سورت (تَبَتْ یَدَآاَبْی لَھبَ)نازل ہوئی تو حرب کی بیٹی عوراء جو ابو لہب کی بیوی تھی شور مچاتی آئی۔ایک پتھر کا ڈنڈا اس کے ہاتھ میں تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس صدیق اکبر تھے۔جب صدیق اکبر نے اس کو دیکھا،عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)یہ آ رہی ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ گزندنہ پہنچائے۔انہوں نے فرمایا وہ مجھے نہیں دیکھ سکتی۔سرکا ردوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن کریم کی چند آیات پڑھیں۔وہ آگئی اور صدیق اکبر کے سر کے قریب کھڑی ہوئی لیکن اس نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کو نہ دیکھا۔حضرت صدیق اکبر(رضی اللہ عنہ)کو کہنے لگی کہ تمہارے صاحب نے میری ہجوکی ہے۔ آپ نے جواب دی اس گھر کے رب کی قسم میرا صاحب شاعر نہیں ہے۔اور نہ اسے علم ہے کہ شعر کیا ہوتا ہے اور مذمت کرنا شاعروں کا کام ہے۔سرکار دو عالم نے ابو بکر (رضی اللہ عنہ)سے کہا اس سے پوچھو مجھے دیکھ رہی ہے۔صدیق اکبر نے اسے کہا میرے ساتھ کوئی اور آدمی تجھے نظر آرہا ہے؟اس نے کہا مجھ سے مذاق کرتے ہو بخدا مجھے تو تمہارے ساتھ کوئی اور آدمی نظر نہیں آرہا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ مجھے کیونکہ دیکھ سکتی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کے اور میرے درمیان پردہ ڈال دیا تھا۔امام ترمذی ذکوان سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سایہ سورج اور چاند کی روشنی میں نظر نہیں آتا تھا۔ابن سبع نے اپنی کتاب خصائص میں لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دھوپ اور چاند کی روشنی میں چلا کرتے تھے لیکن کبھی کسی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سایہ نہیں دیکھا۔ اس کی وجہ بتادی:حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سراپا نور تھے اور نور کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا۔قاضی عیاض شفاء شریف میں فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم اطہر پر کبھی مکھی نہیں بیٹھا کرتی تھی۔طبرانی نے اوسط میں سلمیٰ زوجہ ابی رافع سے روایت کیا ہے کہ سلمیٰ نے کہا میں نے سر ور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غسل کا پانی ایک مرتبہ پیا سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے تیرے بدن پر آگ کو حرام کر دیا ہے۔“(ضیاء النبی ج5ص494تا497)

 

 

waqiat e serat episode 67 in urdu waqiat e serat episode 67 in urdu Reviewed by Rizwan Malik on مارچ 13, 2021 Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.