واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں قسط نمبر 66
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سینہ مبارک
| waqiat e serat episode 66 in urdu |
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سینہ
کشادہ کر دیا اور فرائض رسالت سرانجام کرنے کو بڑا وسیع حوصلہ دیا ضیاء النبی میں
اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا ذکر کچھ یوں ہوا ہے۔
”اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کریم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ مبارک کی خود تعریف فرمائی ہے ارشاد الہیٰ ہے۔:(کیا
ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ کشادہ نہیں کر دیا یعنی کر دیا ہے)علامہ راغب اصفہانی
الشرح کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔:”گوشت کاٹنے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کو
الشرح کہتے ہیں۔اسی سے شرح صدر ماخوذ ہے۔اس کا مفہوم یہ ہے کہ نور الہیٰ سے سینہ
کشادہ ہو جاتا اللہ تعالیٰ کی جانب سے تسکین و طمانیت کا حاصل ہو جانا اور اس کی
طرف سے دل میں مسرت و راحت کا شعو رپیدا ہو جانا۔“اصل میں کشادگی اور فراخی کا
مفہوم ادا کرتا ہے۔کسی الجھی ہوئی اور مشکل بات کی توضیح کو بھی شرح کہتے ہیں۔فرماتے
ہیں شرح کے لفظ کا استعمال دلی مسرت اور قبلی خوشی کیلئے بھی ہوتا ہے۔آخر میں
لکھتے ہیں۔:”شرح صدر کا یہ مفہوم لیا جاتا ہے کہ نفس کو قوت قدسیہ اور انوار الہیہ
سے اس طرح موید کرنا کہ وہ معلومات کے قافلوں کیلئے میدان بن جائے،ملکات کے ستاروں
کے لئے آسمان بن جائے اور گوناگوں تجلیات کیلئے عرش بن جائے۔جب کسی کی یہ کیفیت
ہوتی ہے تو اس کو ایک حالت دوسری حالت سے مشغول نہیں کر سکتی۔اس کے نزدیک
مستقبل،حال اور ماضی سب یکساں ہو جاتے ہیں۔پھر فرماتے ہیں:اس مقام پر اللہ تعالیٰ
اپنے حبیب پر احسانات کا ذکر فرما رہا ہے اس لئے یہاں شرح صدر کا یہی آخری معنی
مناسب ہے۔“ اس تحقیق کے بعد آیت کی تشریف بایں الفاظ فرماتے ہیں۔:”آیت کا معنی یہ
ہے کہ کیا ہم نے آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سینہ کو کشادہ نہیں کر دیا کہ غیب
و شہادت کے دونوں جہاں اس میں سما گئے ہیں۔استفادہ اور افادہ کی دونوں مملکتیں جمع
ہو گئی ہیں۔علائق جسمانیہ کے ساتھ آپ کی وابستگی ملکات روحانیہ کے انوار کے حصول میں
رکاوٹ نہیں۔خلق کی بہبودی کے ساتھ آپ کا تعلق معرفت الہیٰ میں اتغراق سے رکاوٹ نہیں۔“
علامہ شبیر احمد عثمانی اس آیت کے صمن میں لکھتے ہیں۔اس میں علوم و معارف کے سمندر
اتار دئیے۔لوازم نبوت اور فرائض رسالت برداشت کرنے کو بڑا وسیع حوصلہ دیا۔“
حضور کا قلب مبارک
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس فرشتے کا نازل ہونا
اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ مبارک کو چاک کرنے کا واقعہ ضیاء النبی
میں اس طر ح سے بیان ہوا ہے۔
”محبوب رب العالمین سید الا نبیاء
والمرسلین کے قلب مبارک کی وسعتوں اور گہرائیوں کا اندازہ لگانا اس کے بارے میں لب
کشائی کی جرات کرنا انسان کے حیط امکان سے باہر ہے اس لئے ہم اپنی طرف سے اس قلب
منیر کے بارے میں کچھ کہنے کا حق رکھتے ہیں اور اس قلب عظیم کے بارے میں جو مروی
ہے اسے قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں اور اس کے صرف سادہ ترجمہ پر اکتفا کریں
گے۔کیونکہ ان کلمات طیبات کی تشریح و توضیح ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔ابو نعیم نے
اس حدیث کو روایت کیا ہے جس کا متن درج ذیل ہے۔:”یونس بن میسرہ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک روز میرے پاس ایک فرشتہ آیا جس کے پاس
سونے کا ایک طشت تھا۔اس نے میرے پیٹ کو چاک کیا۔اور میرے پیٹ میں جو چیزیں زائد تھیں
ان کو نکالا پھر اس کو دھویا پھر اس پر کوئی چیز چھڑکی پھر فرمایا:رسول اللہ(صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم)آپ کا دل ایسا ہے جو بات اس میں ڈالی جاتی ہے حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم اس کو سمجھتے ہیں اور یاد بھی رکھتے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کی دو آنکھیں ہیں جو خوب دیکھتی ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو کان
ہیں جو خوب سنتے ہیں آپ کا اسم مبارک محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ہے۔آپ اللہ کے
رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ہیں ساری دنیا آپ کی پیروی کرے گی۔میدان حشر میں سب
لوگ آپ کے پیچھے ہوں گے۔آپ کا دل قلب سلیم ہے۔آپ کی زبان سچی ہے۔حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کا نفس مطمئن ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلق مضبوط ہے۔آپ قشم یعنی
تمام اخلاق حمیدہ کے جامع ہیں۔“ دوسری حدیث جسے دارمی اور ابن عساکر نے ابن غنم سے
روایت کیا ہے اس کا متن درج ذیل ہے۔“
جبرئیل امین کا حضور کی بارگاہ میں حاضر ہونا
”جبرئیل امین سرکا دو عالم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم پر ناز ل ہوئے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شکم مبارک کو شق کیا
اور پھر عرض کی یا رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قلب مبارک جو چیز اس
میں،ڈالی جاتی ہے وہ اس کو سمجھتا بھی ہے اور یاد بھی رکھتا ہے۔اس قلب کے دو کان ہیں
جو خوب سننے والے ہیں۔دو آنکھیں ہیں جو خوب دیکھنے والی ہیں۔آپ کا نام محمد صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔آپ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ہیں۔آپ کی پیروی
کی جائے گی۔ساری مخلوق قیامت کے روز آپ کے پیچھے ہو گی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کا خلق قیم ہے۔یعنی مستحکم ہے۔حضوعر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سچی ہے۔حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نفس مطئمن ہے۔“
شق صدر کا واقعہ
تیسری حدیث ہے۔:”امام مسلم نے انس بن مالک سے روایت کیا ہے
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:میں جب اپنے گھر میں تھا میرے
پاس ایک فرشتہ آیا مجھے لے کر وہ چاہ زمزم تک گیا پھر اس نے میرا سینہ شق کیا پھر
اسے زمزم کے پانی سے دھویا پھر ایک سونے کا طشت لایا گیا جو ایمان و حکمت سے بھرا
ہوا تھا۔پس وہ طشت میرے سینے میں انڈیل دیا گیا۔حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
و شق صدر کے نشان دکھاتے تھے جو سینہ شق کرنے اور پھر اس کو سینے سے باقی رہ گئے
تھے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں اس کے بعد مجھے فرشتہ آسمان کی طرف
لے چلا۔“ امام بیہقی کہتے ہیں کہ شق صدر ایک مرتبہ نہیں ہوا بلکہ کئی بار ہوا۔سب
سے پہلے جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت حلیمہ کے پاس ایام رضاعت میں
تھے۔دوسری مرتبہ بعثت سے پہلے۔تیسری مرتبہ واقعہ معراج سے پہلے۔اس سے معلوم ہوتا
ہے کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنی حیات طیبہ کے کسی اہم مرحلہ میں
قدم رکھتے تھے تو اس وقت یہ واقعہ پیش آتا تھا اور اس کا مدعا یہ تھا کہ حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم زندگی کے نئے مرحلہ میں جن ذمہ داریوں کو سنبھالنے والے ہیں
ان کی ادائیگی پوری قوت اور ہمت سے کر سکیں۔بعثت سے پہلے اس شق صدر کی حکمت محتاج
بیان نہیں مسند نبوت پر فائز ہونے کے بعد قرآن کریم کا نزول اور اس کے اوامرو نواہی
پر صدق دل سے عمل یہ کوئی معمولی مرحلہ نہ تھا یہ تو گراں بہا امانت کو اٹھانے کا
وقت تھا جس کو اٹھانے سے آسمانوں زمین اور پہاڑوں نے معذرت کی تھی۔اس بار گراں کو
اٹھانے کیلئے جس یقین اور حکمت سے بھرا ہوا زریں طشت انڈیل دیا گیا۔پھر معراج شریف
سے پہلے بھی اس عمل کو دہرایا گیا کیونکہ یہ وہ سفر تھا جس میں اللہ تعالیٰ کی شان
جلالت والوہیت اس کے علم محیط اور اس کی حکمت بالغہ کی آیات بینات کو دکھایا جانے
والا تھا۔اس کے لئے بھی ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب کو ایسے انوار اور ایسی
قوتوں سے معمور کر دیا جائے تا کہ اللہ کا محبوب ان کا صحیح انداز میں مشاہدہ کر
سکے اس سے اپنے قلب منیر کو روشن کرے اور اس کی تجلیات سے اس ظلمت کدہ عالم کو بھی
روشن کر دے۔ان روایات سے آپ کو اس قلب منور کی عظمتوں اور عزیمتوں کا کچھ نہ کچھ
اندازہ ہو گیاہو گا۔اس کا ایک ظاہری مظہر جس کا مشاہدہ ہر کوئی کر سکتا تھا وہ ہے
جو حضرت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کی حدیث پاک میں بیان کیا گیا ہے۔“
عائشہ صدیقہ کا سوال اورحضور کا جواب
”امام بخاری اور مسلم نے حضرت عائشہ
صدیقہ سے روایت کی ہے۔آپ(رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں۔:”میں نے ایک روز عرض کی یا
رسول اللہ!حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ(رضی
اللہ عنہ) میری دونوں آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔“ اور حضرت انس سے
جو حدیث مروی ہے وہ بھی اس حدیث کی تائید کرتی ہے۔حضرت امام بخاری اور مسلم حضرت
انس سے روایت کرتے ہیں۔“:انبیاء کی آنکھیں سوتی ہیں اور ان کے دل بیدار ہوتے ہیں۔“محبوب
رب العالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
قلب منیر کے بارے میں علامہ زینی دحلان نے اپنی سیر ت نبویہ میں جو لکھا ہے اس کا
خلاصہ قارئین کے پیش خدمت ہے،فرماتے ہیں یہ حقیقت پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ جس
مرتبہ کمال پر اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کریم کو فائز فرمایا ہے کسی اور کیلئے یہ
منزلت رفعیہ ثابت نہیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے رازاور اخلاص کا مقام دل کو بنایا
ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس بندے کے دل کو چن لیتا ہے اس کو اپنے راز کا
امین بنا لیتا ہے اور سب سے پہلے جس مبارک دل کو اللہ تعالیٰ نے اپنے راز کا امین
بنایا وہ قلب مبارک سید الخلق رحمتہ للعالمین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ہے۔کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم خلق میں سب سے پہلے ہیں اورظہور میں سب انبیاء سے آخر میں ہیں۔اللہ تعالیٰ کی
حکمت نے اجسام و قوالب کے اخلاق کو دلوں میں مخفی رازوں کی علامت اور نشانی بنایا
ہے۔پس جس کے دل میں راز خداوندی محتقتق ہو گیا اس کے اخلاق میں بڑی وسعتیں پیدا ہو
جاتی ہیں اور اس کی شفقت کا سایہ کسی ایک نوع اور جنس کے ساتھ مخصوص نہیں رہتا
بلکہ اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق،اس کا تعلق نباتات سے ہو،جمادات سے ہو یا حیوانات
سے ہو،سب پر یکسا ں رہتا ہے۔وہ نوع انسانی میں ہر فرد کے ساتھ ایسے اخلاق سے پیش
آتا ہے جس سے اس کا بگاڑدور ہوتا ہے اور اس میں خوبیاں نمودار ہوتی ہیں۔اور اسی
شفقت کے پیش نظر کبھی اس کو سختی سے بھی پیش آنا پڑتا ہے۔بعض اوقات اس کی خیر خواہی
کیلئے اس پر حدود بھی ناف کی جاتی ہیں۔اس طرح ہر نرمی اور ہر سختی پر پیار اور ہر
شدت میں اس کی بہتری محلوظ ہوتی ہے۔طبرانی نے ابی عقبہ الخولانی سے ایک حدیث مرفوع
نقل کی ہے۔:”ساکنان زمین سے بعض ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے برتن ہوتے ہیں اور
اللہ تعالیٰ کے برتن اس کے نیک بندوں کے قلوب ہواکرتے ہیں اور ان میں ے سے بھی
اللہ کو پیارا وہ ہوتا ہے جو اس کی مخلوق کیلئے بڑا نرم اور رقیق ہوتا ہے۔“ سرور
انبیاء علیہ الحتیتہ والثناء شرف معراج سے مشرف ہونے سے پہلے جو کفار ومشرکین کو
شرک میں مستغرق دیکھتے اور انہیں قرآن کریم پر طعن و تشنیع کے تیر چلاتے ہوئے پاتے
اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ
تمسخراڑایا کرتے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بڑا دکھ ہوتا تھا اور طبیعت میں
گھٹن پیدا ہوجاتی تھی۔اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا۔:”اور ہم خوب
جانتے ہیں کہ آپ کا دل تنگ ہوتا ہے ان باتوں سے جو دوہ کیا کرتے ہیں۔“لیکن اللہ
تعالیٰ نے آپ کو عرش بریں پر بلایا اور اپنی قدرت،ہمہ دانی اور حکمت بالغہ کی بڑی
بڑی نشانیاں دکھائیں پھر قمام قاب قوسین پر فائز کر کے اپنے دیدار سے مشرف فرمایا
تو وہ سینہ کی تنگی ہمیشہ کیلئے کافور ہو گئی۔جتنا بھی کوئی ستاتا یا کوئی تمسخر
اڑاتا،جبین نبوت پر کبھی ملال کے آثار نمودار نہ ہوتے۔“(ضیاء النبی ج5ص487تا 493
کوئی تبصرے نہیں: