شب معراج میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشاہدات

Observations of the Holy Prophet (sws) on the night of Miraj Shareef
غیبت کرنے والوں
کا تزکرہ: حضور اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا معراج کی رات میرا گزر ان
لوگوں پر ہوا جنکے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے ہی اپنے سینوں اور چہروں کو چھیل
رہے تھے میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں تو فرمایا یہ آپکی امت کے وہ لوگ ہیں جو غیبت
کرتے اور انکی بے ابروئی میں لگے رہتے تھے۔
سود
کھانے والوں کا بیان
حضور اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا میرا گزرایسے
لوگوں سے ہوا جنکے پیٹ اتنے بڑھے ہوئے تھے جتنے انسانوں کے۔رہنے۔ والے گھر۔ ان میں
سانپ اور۔بچھو۔۔ جو ان کے پیٹ سے نظر آ رہے تھے میں نے دریافت کیا کہ یہ کون لوگ ہیں؟حضرت
جبرائیل ؑنے عرض کی یہ وہ لوگ ہیں جو سود کھاتے ہیں اور سود کا کاروبار کرتے ہیں۔
زانی
مرد اور عورتوں کا تزکرہ
آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم کا گزر ایسی قوم سے ہوا
جن کے سامنے ایک ھانڈی میں پکا ہوا گوشت تھا اور دوسری ھانڈی میں سڑا ہوا گوشت
تھا۔لیکن وہ لوگ پکا ہوا۔۔ گوشت کے بجائے گلا سڑا گوشت کھا رہے تھے۔سرکار دو
عالم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے پوچھا لہ یہ
کون لوگ ہیں تو جبرائیل ؑ نے عرض کی یا رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم یہ وہ
لوگ ہیں جن کے پاس۔طیب ا۔۔ اور حلال عورتیں تھیں لیکن اسکے باوجود وہ۔فحشوں۔
عورتوں کے ساتھ۔رات بسر۔۔ کرتے تھے۔
امانتوں
میں خیانت کرنے والوں کا زکر
آپ صل اللہ علیہ
والہ وسلم کا گزر ایک ایسی قوم سے ہوا جنہوں نے لکڑیوں کے بھاری گھٹے باندھ رکھے
تھے اور ان میں اٹھانے کی ہمت نہ تھی اور ان میں مزید لکڑیاں ان گھٹوں میں شامل کر
رہے تھے۔ حضور صل اللہ علیہ والہ وسلم نے
دریافت کیا یہ کون لوگ ہیں؟ تو جبرائیل ؑ نے عرض کی یا رسول اللہ صل اللہ علیہ
والہ وسلم یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کی امانتیں اپنے پاس رکھتے تھے لیکن واپس نہیں
کرتے تھے اور مزید امانتیں اپنے پاس رکھ لیتے تھے۔اور صحیح طور پر امانتیں ادا
کرنے میں تساھل سے کام لیتے تھے۔
بے
عمل علماء کا تزکرہ
آپ صل اللہ علیہ
والہ وسلم کا گزر ایسی قوم سے ہوا جنکی زبانیں اور باچھیں لوہے کی کینچیوں سے۔۔۔
سے کاٹی جا رہی تھی۔جبرائیل ؑ سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں تو انہوں نے عرض کی یا رسول
اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم یہ وہ امت کے بے عمل علماء ہیں جو خود تو لوگوں
کو۔نصحیت۔۔ کرتے تھے لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتے تھے۔اس طرح انہی لوگوں کے درمیان
ایک بوڑھے شخص اور ایک بوڑھی عورت نے آپکو متوجہ کرنا چاہا لیکن حضرت جبرائیل ؑ نے
اپکو متوجہ ہونے سے روک دیا۔پوچھنے پر بتایا بوڑھا مرد شیطان تھا اور بوڑھی عورت
دنیا تھی۔آپ نے شیطان اور دنیا سے اعراذ کر کے اپنا سفر جاری رکھیں۔
خوش
نصیب جنتیوں کا۔۔۔۔کا تزکرہ
آپ صل اللہ علیہ
والہ وسلم کا گزر ایک ایسی قوم سے ہوا جو ایک ہی دن میں فصل کاشت کرتی اور اسی دن
پھل اٹھا لیتی۔جبرائیل ؑ نے عرض کی یا رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم یہ وہ لوگ
ہیں جو اللہ کی راہ میں جھاد کرنے والے ہیں۔انکی ایک نیکی 700نیکیو ں سے بڑھ کر
ہوجاتی ہے۔اور اللہ کی راہ میں جو۔خرچ کرتے ہیں اللہ انکو نعم البدل عطا فرماتا
ہے۔پھر آپ نے انبیاء کی نماز کی امات کروائی جس کا تزکرہ امام زرکانی نے تفصیل سے
بیان کیا ہے۔۔ واقع معراج دراصل آقائے دو عالم صل اللہ علیہ والہ وسلم کے عروج کا
آغاز تھا۔عام الحزن کے خاتمے کا سال تھا۔واقع معراج نے کفار مکہ کے دلوں میں حضور
اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم کی دھاک بیٹھا دی۔شب معراج نے کفار مکہ کے دلوں میں
دھاک بیٹھا دی۔شب معراج کو شب بیداری کرنا،اس میں نوافل پڑھنا،قرآن کریم کی تلاوت
کرنا،آقائے دو عالم صل اللہ علیہ والہ وسلم پر درود پڑھنا عظیم فائدہ کا باعث
ہے۔اور اگلے دن روزہ رکھناصلحائے امت کا معمول رہاہے۔اللہ تعالی ہم سب کو واقع
معراج کے تمام پہلوں کو سمجھنے اورور بیان کی گئی
باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرئے۔
Reviewed by Rizwan Malik
on
مارچ 11, 2021
Rating:
کوئی تبصرے نہیں: