Subscribe Us

Hazrat Ibrahim As

 

ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ابو الانبیاء بھی کہا جاتا ہے۔آپ کی اولاد میں متعدد انبیاء پیدا ہوئے جو لوگوں کو توحید کی طرف بلانے کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام آزر تھا۔جبکہ بعض مفسرین کے نزدیک ازر آپ کے چچا کا نام تھا۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ اور دیگر علمائے انساب کے نزدیک آپ کے والد کا نام تارخ تھا۔مورخین کے نزدیک حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کی عمر پچھتر سال تھی جب آپکی ولادت ہوئی۔آپ ایک وجیہ شخصیت کے مالک تھے۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا حلیہ معلوم کرنا ہو تو اپنے ساتھی یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لو۔اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کو بچپن میں ہی عقل فہم اور شعور کی دولت سے مالا مال فرما دیا تھا اور منصب نبوت پر فائز ہونے سے قبل ہی آپ کی فہم و فراست کی داستانیں عام ہو چکی تھیں۔جب آپ بڑے ہوئے تو اللہ کریم نے آپ کو خلیل اللہ کے منصب پر فائز فرمایا۔سورہ انبیاء کی آیت نمبر 51 میں ارشاد ہوا کہ ہم نے ابراہیم کو پہلے سے ہدایت عطا فرمائی تھی اور اسے جانتے تھے۔

دعوت توحید کا اعلان۔ 

منصب نبوت پر فائز ہونے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو توحید کی طرف بلایا۔سورہ عنکبوت کی متعدد آیات میں ان کی تفصیل بیان کی گئی۔حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کو کہا کہ بتوں کی پوجا چھوڑو اور اللہ سے رزق طلب کرو۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو توحید کی طرف بلانے کے لیے ہرممکن دلائل اختیار کیے۔اور اپنی قوم کو گمراہی کے اندھیرے سے نکال کر ایمان کی روشنی کی طرف لانے کی کوشش کی۔تاہم آپ کی قوم اپنی دھن کی پکی رہی۔

اللہ کی زمین پر پہلے بت شکن۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام اس دنیا میں توحید کے پرچار کرنے والے تھے اپکو  بت پرستی سے شدید نفرت تھی لیکن آپ کی قوم نے آپ کی بات تسلیم نہ کی۔سورہ انبیاء میں اس واقعہ کے متعلق بیان ہواکہ ایک مرتبہ آپ کی قوم میلہ دیکھنے چلی گئی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بتوں کی بے بسی کو واضح کرنے کے لئے ایک کلہاڑا لیا اور بت خانے میں چلے گئے۔وہاں جا کر بتوں کے مختلف اعضاء توڑ دیے اور پھر کلہاڑا سب سے بڑے بت کے کندھے پر رکھ دیا۔قوم نے واپس آکر جب یہ معاملہ دیکھا تو حضرت ابراہیم کو کٹہرے میں لایا گیا۔آپ نے ان کے فکر کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ کسی نفع نقصان کے مالک ہوتے تو سب سے پہلے اپنا دفاع خود کر لیتے۔لیکن بدقسمتی سے ان کی قوم نے اس عمل کو سمجھنے کے بجائے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ دشمنی کرنے کا فیصلہ کیا۔

حضرت ابراہیم آگ کے الاؤ میں۔     

سورہ انبیاء اور سورہ صافات کی مختلف آیات میں آپ کو آگ میں ڈالنے کا واقعہ مذکور ہے۔اپکی  قوم دلائل کے سامنے بے بس ہو گئی تو انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ کے الاؤ میں ڈال کر جلانے کا فیصلہ کیا۔ایک عرصہ تک پوری قوم لکڑیاں اکٹھی کرکے آگ کا الاؤ روشن کرتی رہی۔یہاں تک کہ آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے۔آپ کو منجنیق سے باندھ کر آگ میں پھینکا گیا لیکن اللہ کے حکم سے آگ گلزار بن گئی اور آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچی۔ آپ  کے منصب نبوت کا مزید کھل کر اظہار ہوا۔کتب تاریخ میں ہے۔کہ جس شخص نے آپ کو منجنیق میں ڈالا تھا اس کو زمین میں دھنسا دیا گیا۔اس واقعہ کو قرآن کریم میں بڑے احسن انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

نمرود کو دعوت توحید۔ 

نمرود آپ کے دور کا طاقتور بادشاہ تھا آپ اس کے پاس تشریف لے گئے اور اس کو توحید کی طرف بلایا۔لیکن اس نے خود ہی خدائی کا دعویٰ کردیا۔حضرت براھیم علیہ السلام نے اس کو چیلنج کیا کہ اگر تم خدا ہو تو سورج کو مغرب سے نکال کر مشرق میں غروب کرو۔ اس پر وہ لاجواب ہوگیا لیکن اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے پیغام توحید قبول نہ کیا۔اس کی سرکشی کے جواب میں اللہ تعالی نے مچھروں کا عذاب نازل کیا اور وہ ہلاک ہوگیا۔

حضرت اسماعیل کی ولادت اور مکہ میں امد۔    

جب آپ کی عمر مبارک 86 سال تھی تو اللہ کریم نے حضرت ہاجرہ علیہ السلام کے بطن سے آپ کو حضرت اسماعیل علیہ السلام عطا فرمائے۔جبکہ آپ سے 13 سال بعد حضرت سارا علیہ السلام کے بطن سے آپ کے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام پیدا ہوئے۔اللہ کے حکم سے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو مکہ مکرمہ میں ایک سنسان اور بیابان وادی میں لا کر بٹھا دیا۔سورہ ابراہیم میں وہ دعا مذکور ہے جس میں حضرت ابراہیم نے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ میں اپنی اولاد کو مکہ میں ایسی جگہ چھوڑ کر جا رہا ہوں جہاں پر کوئی سبزہ نہیں ہے۔میری اولاد کو ایسا بنا  دے کہ وہ تیری طرف ہی جھکے رہیں اور تیری عبادت کریں تیرا شکر کریں۔ حضرت ہاجرہ کے مکہ مکرمہ میں قیام کی برکت سے ہی آب زمزم کی نعمت اور صفا مروہ کی عبادت امت مسلمہ کو نصیب ہوئی۔

حضرت اسماعیل کی قربانی۔    

سورہ صافات میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی کا ذکر  ہے کہ جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں

 قربانی کا منظر دیکھا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والد گرامی  کے حکم کی روح کو سمجھتے ہوئے خود کو قربانی کے لئے پیش کیا۔اللہ کریم نے اپنی قدرت سے عین چھری چلانے کے وقت جنت سے دنبہ نکال کر حضرت ابراہیم کے چھری کے نیچے رکھ دیا۔ حضرت اسماعیل اور حضرت ابراہیم کے اس عمل کی برکت سے اللہ کریم نے امت مسلمہ کو قربانی جیسی عبادت سے سرفراز فرمایا۔

بیت اللہ کی تعمیر۔اور دعا ابراہیم۔     

قرآن کریم کے تین مختلف سورتوں میں کعبۃ اللہ کی تعمیر اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا ذکر ہے۔ اللہ کریم نے وحی کے ذریعے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مکہ مکرمہ میں اس جگہ کی طرف اشارہ فرمایا جہاں پر آج کعبہ شریف موجود ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ہمراہ کعبۃ اللہ کی تعمیر شروع کی۔اس کی تکمیل کے بعد آپ نے اللہ کریم کی بارگاہ میں عاجزی و انکساری کے ساتھ ایک ایسی دعا مانگی کہ جس سے پوری انسانیت پر آپ نے احسان عظیم فرمایا اور آپ کی اس دعا کی برکت سے سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بطور نبی بعثت ہوئی۔حضور خود ارشاد فرماتے تھے کہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا جواب ہوں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تعمیر کردہ کعبۃ اللہ کی عمارت طویل عرصہ کسی نہ کسی حالت  میں قائم رہی۔لیکن اس کے مؤسس اول ہونے کا اعزاز رکھتے ابراہیم علیہ السلام کو ہی حاصل ہے۔

حضرت ابراہیم کا مقام قرآن کی روشنی میں۔   

اس مختصر مضمون میں حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ وسلام کے مقام اور آپ کے فضائل کا بیان

ممکن نہیں ہیں لیکن اختصار کے ساتھ عرض ہے کہ قرآن کریم کی کئی سورتیں جن میں سورہ بقرہ، سورہ انعام سورہ احزاب، سورہ عنکبوت، سورہ حج،سورۃ ابراہیم۔سورہ انبیاء سورہ حدید میں مختلف مقامات پر حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کا تفصیل سے ذکر موجود ہے۔ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے بھی متعدد صحیح احادیث میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فضائل کا بیان فرمایا ہے یہاں تک کہ نماز میں جو درود پڑھا جاتا ہے وہ بھی حضرت ابراہیم اور آپ کی آل پر ہی پڑھا جاتا ہے۔۔قرآنی آیات کی روشنی میں آپ ایک پر رحم دل نرم خو و اور مشفق نبی تھے سے آپ سختی کا جواب بھی نرمی سے دیتے۔عقیدہ توحید کی راہ میں ہر رکاوٹ کا دلیری سے مقابلہ فرماتے۔مشرکین کی دھمکیوں کا نرمی سے جواب دیتے۔مشرک رشتہ داروں کے ساتھ بھی حسن  سلوک فرماتے

آپکی وفات اور عمر۔   

قصص الانبیاء کے مختلف کتب میں آپ کی عمر کے حوالے سے مختلف روایات درج ہیں لیکن جس روایت پر زیادہ مؤرخین کا اتفاق ہے وہ یہ ہے کہ آپ 175 سال کی عمر میں وفات پائی،آپ کثیرالعیال تھے اور آپ کی نسل دنیا  کے مختلف علاقوں میں موجود تھی۔

Hazrat Ibrahim As Hazrat Ibrahim As Reviewed by Rizwan Malik on جون 03, 2021 Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.