حضرت نوح علیہ السلام
اللہ
کی زمین پر شیطان کا راج قائم ہوچکا تھا۔حضرت آدم کی تعلیمات کو یکسر فراموش کر دیا
گیا تھا
ابلیس
نے خلد سے نکلتے وقت اللہ تعالیٰ سے جو
مہلت مانگی تھی وہ مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے
پوری قوم کو کفر و شرک میں مبتلا کر چکا تھا۔ہر گھر گھر بُت کدہ بن چُکے تھا۔اور پانچ بُتوں کو اپنا معبود تصوّر
کر لیا گیا تھا۔ قرآنِ کریم نے ان بُتوں کے نام وَد، سُواع، یَغوث، یعوق اور نَسر
بتائے ہیں (سورہ نوح)۔ لوگ انبیائے سابقینؑ یعنی ابوالبشر حضرت آدمؑ، حضرت شیثؑ
اور حضرت ادریسؑ کی تعلیمات کو یک سَر بُھلا چُکے تھے۔ حضرت ادریسؑ نے تو ان کی
بڑھتی ہوئی کافرانہ حرکتوں کے سبب ان سے جہاد بھی کیا تھا، لیکن اب تو حضرت ادریسؑ کو بھی وفات پائے سیکڑوں
برس گزر چُکے تھے اولادِ آدمؑ کی نافرمانیوں اور شیطان کی مکّاری و عیّاری نے کرہ
ارض کو کفر و شرک، برائی اور بے حیائی کی غلاظتوں سے بَھر دیا تھا۔ ابلیس اپنی کامیابی
پر بہت مسرور تھا اور اُدھر آسمانوں میں
فرشتے اہلِ زمین کی مخدوش حالت اور شیطان کی کام یابی اور اس کے مکروفریب پر حیران
و پریشان تھے ان کی نگاہیں بار بار بیت المعمور کی جانب اٹھتیں کہ اللہ کب ان کی تباہی و بربادی کا حکم نازل
فرمائیں گے؟ لیکن اللہ کو اپنی مخلوق سے پیار ہے۔اللہ تعالی نے اس گمراہ قوم کو
آخری حد تک مہلت عطا فرمائی۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس قوم ہی میں سے ایک نیک شخص،
حضرت نوحؑ کو نبوت کے جلیل القدر منصب پر فائز فرمایا۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے”ہم
نے نوحؑ کو اُن کی قوم کی طرف (نبی بنا کے) بھیجا۔ اُنہوں نے اُن سے کہا ”مَیں تم
کو کھول کھول کر ڈر سُنانے اور یہ پیغام پہنچانے آیا ہوں کہ اللہ کے سوا کسی کی
عبادت نہ کرو۔ اگر تم اسی طرح کفر و شرک میں مبتلا رہے، تو مجھے ڈر ہے کہ تم کسی
سخت عذابِ الٰہی میں مبتلا نہ ہو جاؤ۔“ (سورہ ہود25)، لیکن قوم نے اُن کی ہدایات
کو حقارت سے ٹھکرا دیا۔
زمانہ
بعثت۔
حضرتِ
نوح علیہ السلام کے زمانہ بعثت کے متعلق متعدد روایات منقول ہیں۔ان میں سے ثقہ
روائت نزر قارئین کررہا ہوں۔
سیدنا عبداللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ
نے حضرت نوحؑ کو چالیس برس کی عُمر میں نبوّت عطا فرمائی۔ طوفان سے پہلے آپؑ مسلسل
ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو دعوت توحید
دیتے رہے اور وعظ و تبلیغ میں مصروف ریے۔اس
کیفیت کو قرآن کریم میں ان الفاظ سے بیان کیا گیا۔ اور ہم نے نوحؑ کو اُن کی قوم کی طرف بھیجا، تو
وہ اُن میں پچاس برس کم ہزار برس رہے۔“ (العنکبوت 14) اس طرح قرآنی وضاحت کے مطابق
اُن کی عُمر نو سو پچاس برس سے زیادہ ہوئی۔قوم
کی بے راہ روی اور مصائب کے کوہِ گراں کے باوجود حضرت نوح علیہ السلام ہمہ وقت تبلیغِ دین میں مصروف رہے اور اپنی قوم کی بے راہ روی پر بڑے دِل گرفتہ رہتے۔
آپکی تبلیغ کے جواب میں اُن کی قوم اُنہیں
طرح طرح کی اذیّتیں دیتی، اُن پر مصائب کے پہاڑ ڈھاتی، لیکن وہ صبر کرتے اور اُن
کے لیے دعائے خیر فرماتے۔ حضرت ابنِ عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا”کسی
نبی کو اپنی قوم کے ہاتھوں اتنی تکلیف اور اذیّت نہیں پہنچی، جتنی حضرت نوحؑ کو
اپنی قوم کے ہاتھوں برداشت کرنی پڑی۔“ کافر اُن کو ڈراتے، دھمکاتے اور تبلیغ سے
باز رکھنے کے لیے اتنا مارتے کہ وہ بے ہوش ہو جاتے۔ کبھی اُن کے گلے میں پھندا ڈال
کر بازاروں میں گھسیٹتے پِھرتے۔ حضرت ابنِ عباسؓ سے ایک اور روایت منقول ہے کہ”اُن
کی قوم اُنھیں اتنا مارتی کہ وہ گر جاتے، تو اُن کو کمبل میں لپیٹ کر کسی مکان یا
ویرانے میں ڈال دیتے اور سمجھتے تھے کہ وہ انتقال کر گئے ہیں، مگر پھر جب اُن کو
ہوش آتا، تو دوبارہ اپنی قوم کو راہِ حق کی طرف بلانے میں مصروف ہو جاتے۔“اتنی زیادہ
تکالیف کے باوجود آپ تبلیغ سے باز نہ اے اور لوگوں کو دعوت حق دیتے رہے۔
بارگاہ خداوندی میں
گذارشات کا تزکرہ قرآن میں۔
حضرت
نوح علیہ السلام کی طویل جدوجہد کے نتیجے میں صرف80لوگ ایمان لائے۔ آخرکار طویل
اور سخت ترین کاوشوں کے بعد وہ لمحہ آ ہی گیا کہ جب آپؑ قوم سے مایوس ہو کر اپنے
ربّ کے سامنے اپنی معروضات پیش کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ کا قرآنِ پاک میں
ارشاد ہے”(نوحؑ نے) اللہ سے عرض کی کہ”اے میرے رب! مَیں اپنی قوم کو دن، رات دعوت
حق کی طرف بلاتا رہا، لیکن وہ میرے بلانے سے اور زیادہ بھاگتے رہے۔ مَیں نے جب کبھی
انھیں تیری بخشش کی طرف بُلایا(یعنی توبہ کی جانب)، تو یہ اپنے کانوں میں انگلیاں
ڈال لیتے، اپنے چہروں کو کپڑوں سے چُھپا لیتے اور ضد، تکبّر اور غرور کرتے۔ مَیں
نے ان کو اعلانیہ، خفیہ غرض ہر طرح سے سمجھایا اور کہا کہ اپنے پروردگار سے معافی
مانگو کہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے پانی برسائے گا۔ تمہارے مال
و اولاد میں ترقّی دے گا اور تمہیں باغ عطا کرے گا اور تمہارے لیے نہریں بہا دے
گا۔ آخر تم کو کیا ہوا ہے کہ تم اللہ کی عظمت کا اعتقاد نہیں رکھتے؟ حالاں کہ اُس
نے تم کو کئی طرح سے بنایا ہے۔ کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان
اوپر تَلے بنائے ہیں اور اُن میں چاند کو خُوب جگمگاتا ہوا اور سورج کو چراغ بنایا؟
اور اللہ ہی نے تم کو زمین سے (ایک خاص طریقے سے) پیدا کیا ہے۔ پھر وہ تمہیں اس زمین
میں واپس لے جائے گا اور اس سے یکایک تم کو نکال کھڑا کر دے گا۔ اور اللہ نے زمین
کو تمہارے لیے فرش کی طرح بچھا دیا تاکہ تم اس کے اندر کُھلے راستوں میں چلو“۔
نوحؑ نے کہا”میرے ربّ! انہوں نے میری بات رَد کر دی اور اُن رئیسوں کی پیروی کی،
جو مال اور اولاد پا کر اور زیادہ نامُراد ہو گئے۔ ان لوگوں نے بڑا بھاری مکر کا
جال پھیلا رکھا ہے۔ اُنہوں نے(یعنی رئیسوں نے) کہا کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ
چھوڑنا اور وَد اور سُواع اور یَغوث اور یعوق اور نَسر کو کبھی تَرک نہ کرنا۔
اُنہوں نے بہت لوگوں کو گم راہ کیا ہے اور تُو بھی ان ظالموں کو گم راہی کے سِوا
کسی چیز میں ترقّی نہ دے۔“(آخر) وہ اپنے گناہوں کے سبب (پہلے) غرق کر دیے
گئے، پھر آگ میں ڈال دیے
گئے، تو اُنہوں نے اللہ کے سِوا کسی کو اپنا مددگار نہ پایا۔ اور نوحؑ نے دُعا کی
کہ”میرے پروردگار! کسی کافر کو روئے زمین پر بسنے والا نہ چھوڑ۔ اگر تُو نے ان کو
چھوڑ دیا، تو یہ تیرے بندوں کو گم راہ کریں گے اور ان کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا
وہ بھی بدکار اور سخت کافر ہی ہو گا۔ اے میرے پروردگار! مجھ کو اور میرے والدین کو
اور ہر اس شخص کو جو میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہوا ہے اور سب مومن
مَردوں اور عورتوں کو معاف کر دے اور ظالموں کے لیے اور زیادہ تباہی بڑھا۔“ (ملخص
از سورہ نوحؑ)
کشتی
بنانے کا حکم۔
حضرت
نوحؑ کی گزارشات اللہ کریم نے قبول فرما لیں
اور اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف وحی نازل فرمائی۔قرآنِ کریم میں ارشاد ہے”اور نوحؑ
کی طرف وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں جو لوگ ایمان لا چُکے ہیں، اُن کے سِوا اب
اور کوئی ایمان نہیں لائے گا، تو جو کام یہ کر رہے ہیں،اُن کی وجہ سے غم نہ کھاؤ۔
اور ایک کَشتی ہمارے حکم سے ہمارے رُوبرو بناؤ اور ان کافروں سے متعلق اب کوئی
گفتگو ہم سے نہ کرنا، کیوں کہ یہ سب لازمی طور پر غرق کر دیے جائیں گے۔“ (سورہ ہود
36-37)
طوفانِ نوح ؑ۔
حضرت
نوح ؑکشتی بنانے میں مصروف ہوگیے۔جب کشتی تیار ہو گئی اور جب عذابِ الٰہی کا وقت آیا،
تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ہر قسم کے جانوروں کا ایک، ایک جوڑا اس میں رکھ لو
اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، اُنہیں بھی سوار کر لو۔ حضرت نوحؑ نے احکامِ خداوندی
کے مطابق سب کو سوار کر لیا اور عبادتِ الٰہی میں مصروف ہو گئے۔ آپکے گھر کے تنور
سے پانی ابلنے لگا۔ آسمان سے قیامت خیز بارش برسنے لگی۔ گویا قیامت کا منظر برپا
ہوگیا۔حضرت نوح کی کشتی، طوفان کی تندوتیز لہروں پر تیرتی رہی۔اسی اثنا میں حضرت نوحؑ نے اپنے بیٹے، کنعان کو دیکھا، جو ایک
اونچے مقام پر موجود تھا۔ اُنہوں نے کہا ”اے بیٹے! ہمارے ساتھ کَشتی میں سوار ہو
جا اور کافروں کے ساتھ نہ رہ۔“ اُس نے کہا”ابّا! میری فکر نہ کرو، میں ابھی اس سب
سے اونچے پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا اور پانی سے بچ جاؤں گا۔“ نوحؑ نے کہا”آج قہرِ الٰہی
سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ اسی اثناء میں ان دونوں کے درمیان پانی کی ایک بڑی لہر حائل
ہو گئی اور وہ غرق ہو گیا۔“ حضرت نوحؑ نے اپنے ربّ سے اپنے بیٹے کی مغفرت اور نجات
کے لیے عرض کی ”اے پروردگار! تُو نے میرے گھر والوں کی بخشش کا وعدہ فرمایا ہے، تو
یہ بیٹا بھی گھر والوں میں ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا”اے نوحؑ! وہ تیرے اہل میں
سے نہیں ہے، کیوں کہ اس کے اعمال اچھے نہیں ہیں۔“(سورہ ہود)
آدم
ثانی۔
اللہ
تعالیٰ نے قومِ نوحؑ کو اس کی نافرمانیوں کے سبب طوفانِ بادوباراں کے ذریعے غرق کر
دیا کوئی جان دار شے باقی نہ بچی۔ کشتی میں موجود افراد اور جانوروں کے سِوا
ہر چیز تباہ و برباد ہوگئی۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے بارش ختم ہوگی اور زمین نے
پانی نگل لیا۔ پھر
اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ”اے نوحؑ! ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ (جو)
تم پر اور تمہارے ساتھ کی جماعتوں پر (نازل کی گئی ہیں) اُتر آؤ (سورہ ہود 48)۔
چناں چہ حضرت نوحؑ نے ایک نئی بستی بسا کر دنیا کے کاروبار کو اَزسِرنو جاری و ساری
کیا، اسی لیے آپؑ کو”آدمِ ثانی“ بھی کہا جاتا ہے۔
کوئی تبصرے نہیں: