Subscribe Us

Waqiat E Serat Hazrat Adam As

واقعات و سیرت حضرت آدم علیہ السلام

ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کو اس دنیا کا پہلا انسان ہونے کا شرف حاصل ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کے پہلے بندے اور نبی تھے۔اس میں کوی شک نہیں کہ تخلیق آدم سے پہلے  جن اور فرشتے اللہ تعالی کی عبادت کے لیے ہر وقت سر بسجود رہتے تھے۔ تعالی کی عبادت میں ہر وقت مصروف رہتے تھے۔اس کے باوجود اللہ تعالی نے حضرت آدم کو تخلیق کرنے کا فیصلہ فرمایا۔اور اپنے ارادے کے متعلق فرشتوں کو آگاہ کیا۔کہ وہ ایک ایسی مخلوق پیدا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو۔۔اختیار وارادے کا مالک ہوگا اور میری زمین پر جس قسم کا تصرف کرنا چاہے گا کرسکے گا اور اپنی ضروریات کے لیے اپنی مرضی کے مطابق کام لے سکے گا گویا وہ میری قدرت اور میرے تصرف واختیار کا مظہر ہوگا۔فرشتوں نے جب یہ سنا تو حیرت میں ڈوب  گئے اورا للہ کے حضور بطور سوال عرض کیا: اے اللہ۔! کیا آپ ایسے کو پیدا کرناچاہتے ہیں جو زمین کو فساد اور خونریزی سے بھر دے گا۔یعنی فرشتوں نے اس نئی مخلوق کو جنات پر قیاس کیا اور وہ یہ سمجھے کہ نئی مخلوق بھی جنات کی طرح بے حد سرکش اور نافرمان ہوگی۔ وہ بولے کہ ہم جماعتِ ملائکہ آپ کی تسبیح وتہلیل کے لیے کافی ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے جواب دیا: ”آدم ؑ کے پیدا کرنے میں جو جو حکمتیں ہیں تم ان سے واقف نہیں بلکہ ہم ہی خوب جانتے ہیں۔

سورۃ البقرہ میں اللہ نے اس بارے میں آیات نازل کی ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا اور ان کا خمیر تیار ہونے سے قبل فرشتوں کو اطلاع دی:

اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً (سورۃ البقرہ)

(اے ملائکہ) میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔”۔پر فرشتوں نے عرض کی کہ اے ہمارے رب کیا ہم تیری عبادت کے لئے کافی نہیں؟اپ جس مخلوق کو پیدا فرمانے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ زمین میں فساد برپا کرے گا۔لیکن اللہ کریم نے ارشاد فرمایا جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔

حضرت آدم کی تخلیق اور فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم۔


اللہ رب العزت نے حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا فرمایا۔آپ کی تخلیق کے سے قبل اللہ رب العزت نے فرشتوں کو آگاہ کہ وہ عنقریب مٹی سے ایک ایسی مخلوق پیدا فرمانے والا ہے جو بشر کے نام سے موسوم ہوگی۔نام کے اعتبار سے وہ بشر کہلائے گی تاہم زمین میں وہ مخلوق ہماری خلافت کا شرف حاصل کرے گی۔روایات کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کا خمیر مٹی سے گوندھا گیا۔اور ایک ایسی مٹی سے گوندھا گیا جو مختلف اوقات میں کی جانے والی تبدیلیوں کو قبول کرنے والی تھی۔جب یہ مٹی بڑی ٹھیکری  کی شکل اختیار کر گئی اور اس میں کھنکھاہٹ پیدا ہوگی۔تو اللہ تعالی نے اس جسد خاکی میں اپنی روح پھونکی۔اور وہ گوشت پوست اور  پٹھوں پر مشتمل ایک زندہ انسان بن گیا۔اللہ رب العزت نے روح پھونکنے کے ساتھ ہی اس میں ارادہ، عقل اور وجدان جیسی جذباتی کیفیات بھی شامل کردیں۔اس طرح اللہ تعالی نے اپنی قدرت کاملہ سے مٹی سے زندہ انسان کی تخلیق فرماء۔۔حضرت آدم علیہ السلام میں روح پھونکنے کے بعد اللہ تعالی نے اعلان فرمایا آیا کہ یہ انسان میری قدرت کا عظیم شاہکار ہے انھوں نے یہی زمین پر میرا خلیفہ ہوگا۔فرشتوں نے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں عرض کی یہ انسان زمین میں فساد برپا کرے گا خون بہائے گا آئے گا ہمارے ہوتے ہوئے آپ کو کوئی اور مخلوق تخلیق کرنے کی کیا ضرورت ہے۔اللہ کریم نے ارشاد فرمایا کہ اے فرشتو جو چیز میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔اللہ تعالی نے حضرت آدم کی عظمت کو واضح کرنے کیلئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے اس کو تمام علوم کا علم عطا فرما دیا کیا اور ساتھ ہی تمام فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ اسے سجدہ کریں۔

شیطان کے سجدہ سے انکار۔

جب اللہ تعالی نے تمام فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم صادر فرمایا  تو تمام فرشتے اللہ کے حکم کی تعمیل میں حضرت آدم کے سامنے سربسجود ہو گئے۔تاہم ہم شیطان نے نے گھمنڈ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ کے حکم کو تسلیم نہ کیا۔اس موقع پر اللہ کریم کا شیطان سے مکالمہ ہوا۔جس کا تفصیلی تذکرہ سورہ اعراف میں موجود ہے۔تاہم اس نے سجدے سے انکار کر کے اپنے لئے ابدی ذلت اپنے مقدر میں لکھوا لیں۔اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو حکم دیا کیا کہ وہ وہ جنت میں قیام  کریں۔ان نعمتوں میں سے جو مرضی ہے کھائیں۔یہیں پرحضرت حوا علیہا السلام کو پیدا کیا گیا۔حضرت ابن مسعود  اور دیگر کئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مروی ہے  کہ جب کہ ابلیس  کو جنت سے نکال دیا گیا اور حضرت آدم کو جنت میں رکھا گیا تو ان کو تنہائی سے کوفت  ہوتی تھی۔ایک دن حضرت آدم سو گئے جب وہ بیدار ہوئے تو ان کے سرہانے ایک عورت بیٹھی تھی جس کو اللہ تعالی نے ان کی پسلی سے پیدا فرمایا تھا۔ حضرت آدم  نے پوچھا تم کون ہو،تمہیں  کیوں پیدا کیا گیا،تو انہوں نے کہا کہ میں عورت ہوں اور مجھے اس لیے پیدا کیاگیا  کہ تمہیں مجھ سے سکون ملے۔تب اللہ تعالی نے فرمایا اے آدم تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور اس جنت میں سے جہاں سے چاہو خوب کھاؤ۔(تبیان القرآن،جلد اول۔صفحہ 344)تاہم اللہ کریم نے ایک خاص درخت کے متعلق ارشاد فرمایا تھا کہ تم نے اس کے نزدیک نہ  جانا۔اس درخت کے حوالے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ وہ زیتون کا درخت تھا۔ایک اور روایت میں ہے کہ وہ گندم کا پودا تھا۔تاہم اس بات کی تعیین  ممکن نہیں لیکن ایک بات ہے کہ اس درخت کے متعلق اللہ کریم نے واضح حکم ارشاد فرمایا تھا کہ اس درخت کے نزدیک نہیں جانا اور نہ ہی اس کا پھل کھانا ہے

حضرت آدم کے جنت سے نکالے جانے کا واقعہ۔

جب اللہ تعالی نے حضرت آدم سے فرمایا کہ آدم تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو، اور جنت میں سے جہاں چاہو خوب سیر ہو کر کھاؤ لیکن فلاں درخت کے نزدیک نہ جانا اس وقت ابلیس نے جنت میں  جانے کا ارادہ کیا۔ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام سے کہا کہ کیا میں تمہیں ایسا درخت نہ بتاؤں جس کو کھانے کے بعد تم فرشتوں کی طرح ہو جاؤ گے یا پھر تم ایسی طاقت حاصل ہوجائے گی کہ تم ہمیشہ زندہ رہو گے اور تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔اس نے قسم کھا کر ان کی خیر خواہی کا یقین دلایا حالانکہ وہ تو ان کے ساتھ کھلی دشمنی کر رہا تھا۔حضرت آدم علیہ السلام نے تو کھانے سے انکار کیا۔تاہم حضرت حوا نے آگے بڑھ کر اس درخت کا پھل کھا لیا اور حضرت آدم سے کہا کہ اے آدم میں نے اسے کھا لیا ہے تم بھی کھاؤ دیکھو مجھے تو  کچھ بھی نہیں ہوا۔حضرت آدم نے جونہی  اس درخت کا پھل کھایا تو دونوں کی شرمگاہ کھل گئی اور وہ درخت کے پتوں سے آپ نے اپنے جسم کو ڈھانپنے لگے۔شیطان کا وار کامیاب ہوگیا۔جس پر اللہ کریم نے ارشاد فرمایا کہ تم سب اب یہاں سے نیچے چلے جاؤ۔تم میں سے بعض،بعض کے دشمن ہوں گے اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقت مقرر تک ٹھکانا اور فائدہ اٹھانا ہے۔(آیت نمبر 36) شجرِ ممنوعہ کھانے کی پاداش میں حضرت آدم اور حضرت حوا کو جنت سے نکال کر زمین پر اتار دیا گیا۔(ملخص از ضیاء القرآن،تبیان القرآن

حضرت آدم کی توبہ کی قبولیت کا واقعہ۔

حضرت آدم جنت میں قیام پذیر تھے لیکن دانہ گندم کھانے کی پاداش میں ان کو جنت سے زمین پر جانے کا حکم ہوا۔لیکن پھر فرط ندامت سے اتنا روئے اور انہوں نے آنسوؤں کے اتنے دریا بہائے  کہ اللہ کی رحمت  نے ان کی طرف توجہ فرمائی۔حضرت آدم کء سال تک معافی مانگتے رہے اور ندامت سے روتے رہے۔حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا  حضرت آدم کو کئی سالوں بعد یاد آیا کہ مجھے جس وقت اللہ تعالی نے پیدا کیا تھا اور میرے اندر روح پھونکی تھی تو میں نے سر عرش کی طرف اٹھایا اور دیکھا کہ عرش پر لکھا ہوا تھا لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ۔میں نے خیال کیا کہ جس زات  کا نام اللہ تعالی نے اپنے برابر لکھا ہوا ہے اس کا واسطہ دے کر مانگتا ہوں ہو چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام نے دعا مانگی اے اللہ مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے معاف فرما دے۔تو اللہ تعالی نے انکی مغفرت فرماتے ہوے ارشاد فرمایا کہ اے آدم۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم سب پیغمبروں سے عظیم  ہیں اگر وہ نہ ہوتا تو کچھ بھی پیدا نہ کرتا۔جناچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو معاف فرما دیا۔

حضرتِ آدم علیہ السلام کا وصال  آدم علیہ السلام کی اصل عمر ایک ہزار برس تھی۔اپنی عمر کے چالیس سال آپ نے حضرت

داؤد علیہ السلام کو دینے کا کہہ دیا تھا۔اس لیے آپ کا انتقال نوسو ساٹھ برس کی عمر میں ہوا۔جب حضرت آدم ؑ نوسوساٹھ سال کے ہوگئے تو بچوں سے کہا مجھے جنت کے پھل کھانے کی خواہش ہورہی ہے سارے بچے ادھر ادھر پھیل گئے پھل ڈھونڈنے کے لیے۔ راستے میں ان کو موت کے فرشتے ملے جو انسانی شکل میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ واپس جاؤ!حضرت آدم ؑکی موت کا وقت قریب ہے۔ فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کی روح قبض کی۔ غسل دیا۔ خوشبو لگائی اوردفنادیا۔ آپ کی موت کے بعد حضرت شیث علیہ السلام کے سر پر نبوت وخلافت کا تاج سجایا گیا۔حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کے ایک سال بعدحضرت حواؑ کابھی انتقال ہوگیا۔

طبری اور ابن الاثیر کی روایت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو کعبہ بنانے کا حکم دیا اور حضرت جبرئیل نے انھیں مناسک ادا کرنے کے طریقے بتائے۔ بقول یعقوبی جبل ابوقیس کے دامن میں مغارۃ الکنوز“خزانوں کے غار”میں آپ کی تدفین ہوئی۔

بعض مورخین کے بقول آپ کی قبرمبارک سعودی عرب میں مسجد خیف کے صحن میں ہے۔

بعض مورخین کے بقول آپ کی قبرمبارک سعودی عرب کی مسجد خیف کے اندر واقع ہے۔

بعض مورخین کے بقول آپ کی قبرمبارک سری لنکا میں اترنے کے مقام پر واقع ہے۔

بعض مورخین کے بقول آپ کی قبرمبارک عراق میں واقع ہے۔


Waqiat E Serat Hazrat Adam As Waqiat E Serat Hazrat Adam As Reviewed by Rizwan Malik on جون 03, 2021 Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.