یوم وصال حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھما۔
نام۔آپ کااسم ِ گرامی عبداللہ اورکنیت اورعبدالرحمن
تھی، مگرابن عمر کے نام سے مشہور ومعروف ہیں۔
خاندان۔
ابن عمر کاسلسلہ نسب نویں پشت پرسول اللہ ﷺ سے مل جاتاہے۔
تاریخ
پیدائش۔آپ کی تاریخ پیدائش میں اختلاف ہے۔بعض کے نزدیک آپ نبوت کے پہلے سال پیدا
ہوئے بعض دوسرے یاتیسرے سا ل کی تاریخ بتاتے ہیں مگر راجح تاریخ پیدائش 611ء ہے۔
حلیہ۔شکل
وشباہت میں والدماجد سے مماثلت تھی: قد لمبا، جسم بھاری، رنگ گندمی، داڑھی مشت
بھر، مونچھیں کاٹی ہوئی جس سے لبوں کی سفیدی نمایاں ہوجاتی، بال کاندھوں، تک، سیدھی
مانگ نکالا کرتے،عموماً زردخضاب پسند فرماتے تھے۔
لباس۔معمولی
موٹا پائجامہ، سیاہ عمامہ اورپاؤں میں سادہ سی چپل، کبھی کبھار قیمتی لباس زیب تن
فرماتے تاکہ کفران نعمت نہ ہو۔ انگوٹھی پرعبدالرحمن بن عمر کندہ تھا جومہرکاکام بھی
دیتی تھی۔
قبول
اسلام غزوات میں شرکت۔آپ بعثت نبوی ﷺ کے
تھوڑا عرصہ بعد ہی اپنے والدِ ماجد کے اسلام لانے پراسلام لائے! اس وقت آپ کی عمر
دس سال تھی پھر آپ نے اپنے والد ماجدکے ہمراہ مدینہ طیبہ کورسول اللہ ﷺ کے حکم کے
مطابق ہجرت کی۔جنگِ احد میں کفار کیساتھ جنگ کرنے کی آپ کی بڑی خواہش تھی مگر کم
سنی کے باعث رسول اللہ ﷺ نے آپ کوجنگِ احد میں شمولیت سے منع فرمادیا تھا۔ عزوہ
احد کے بعد متعدد غزوات میں رسول اللہ کی معیت میں دادِ شجاعت دی اورمتعددکافروں
کو تہ تیغ کیا۔ جنگِ قادسیہ، جنگ یرموک، فتح افریقہ، فتح مصروفارس اوربصرہ ومدائن
میں شمولیت کی۔
ذریعہ
معاش۔تجارت پیشہ تھے، مدینہ کے مقدس بازاروں میں اونٹ کے تاجر تھے۔علاوہ ازیں
عہدرسالت میں جاگیربھی عطا ہوئی تھی جس کالگان ملتا تھا عہد فاروقی میں ڈھائی ہزار
درہم ملتا تھا۔عہد عثمانی میں اورعہد بنوامیہ میں وظیفہ میں اضافہ ہوا آپ سخی اورفیاض
دل تھے۔اللہ پاک کی راہ میں خرچ کرکے خوش ہو تے تھے ا س لیے آخرزندگی میں عسرت سیدوچاررہے۔
عظیم
باپ کے عظیم بیٹے حضرت عبداللہ بن عمر چارمعروف عبادلہ میں سے ایک عبداللہ تھے
(باقی تین عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمروبن العاص، اورعبداللہ بن زبیر نادرِ
روزگارشخصیات تھیں) آپ اُم المؤمنین حضرت
سیدہ حفصہ ؓ کے سگے بھائی تھے۔
حدیث
سید المرسلین کے حافظ
آپ
ان سات، جلیل القدر نابغہ روز گاشخصیات میں سے ایک تھے،جن کومحدثین کی صف میں سات
مکثرین یعنی ”کثرت سے روایت کرنیوالوں کے،،خطاب سے نوازا گیا،ان میں سے دوسرے نمبر
پرآپ کااسم گرامی تاقیامت منقش ہوچکا ہے۔
مکثرین
کے اسماء گرامی یہ ہیں۔1۔ حضرت عبدالرحمن
ابوہریرہ 2۔ عبداللہ بن عمر 3۔ انس بن مالک 4۔ حضرت السید ہ عائشہ ام المؤمنین ؓ 5۔ حضرت
عبداللہ بن عباس 6۔ حضرت جابربن عبداللہ
7۔حضرت ابوسعید الخدری۔
آپ
سے دو ہزار چھ سو تیس (2630) احادیث مروی ہیں۔
محبت
رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔ آپ کوختمی مرتبت احمد مجتبیٰ،محمد مصطفےٰﷺ سے جووالہانہ
محبت تھی، وہ انہی کاخاصہ تھا۔ ابن عمر کی پوری زندگی رسول اللہ ﷺ کی حسین ودلکش
زندگی کاپرتوجمیل تھی۔ حضرت عبداللہ بن عمر سنت ِ رسولﷺ کے اس قدر شدید عامل تھے کہ جہاں بھی رسول اللہ ﷺ نے حضروسفر میں
نماز ادا کی آپ نے وہان نماز ادا کی۔جہاں آ پ ﷺ نے آرام فرمایا وہاں آپ نے آرام کیا
اورجہاں آپ ﷺ نے چند ثانئے توقف فرمایا،وہاں ابن عمر نے توقف کیا۔
دنیا
سے بے رغبتی۔حضرت عبداللہ بن عمر نے ساری عمر میں ایک ہزار عمرے اورساٹھ حج ادا
کئے۔ آ پ خوفِ آخرت سے اکثر ترساں و لزراں رہتے تھے۔ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ
آخرت کاسبق دینے والے میرے آقا ومربی رسول خداہیں۔ ایک دن رسول اللہﷺ نے مجھے
دونوں کندھوں سے پکڑ کرفرمایا ”کن فی الدنیا کانک غریب اوعابرسبسل،، یعنی دنیا میں
اس طرح رہ جیسے توپردیسی یاراہ چلتامسافر ہے،،اس روایت کوابن عمر سے بخاری ومسلم
دونوں نے روایت کیا ہے۔
چنانچہ
حضرت ابن عمر اس ارشاد نبی ﷺ سے اتنے
متاثر ہوئے کہ صحابہ کرام کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد ہرشخص کچھ نہ کچھ بدل گیا
مگر نہ بدلے توعبداللہ بن عمر۔ حضرت جابربن عبداللہ فرماتے ہیں:”ہم میں سے کوئی ایسا
نہیں جسے دنیا نے اپنی طرف مائل نہ کیا ہو یا وہ خود دنیا کی طرف مائل نہ ہواہو لیکن
ابن عمر نہ دنیا کی طرف مائل ہوئے اور نہ دنیا ان کی مائل ہوئی۔
خشیت
الٰہی۔امام شعبی سے سفیان ثوری روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ عبداللہ بن عمر،حضرت
مصعب، عبدالملک بن مروان اورعبداللہ بن زبیر چاروں خانہ کعبہ میں جمع تھے۔سب نے مل
کر فیصلہ کیا کہ ہرشخص رکن یمانی پکڑ
کرخدا سے اپنی دلی تمناؤں سے متعلق دعا مانگے۔سب نے اپنی دلی مراد سے متعلق دعا
مانگی۔آخر میں حضرت عبداللہ بن عمر نے اللہ کے حضور جودعا مانگی اس سے ان کے زہد
وورع اورخشیت الہی کااندازہ ہوتاہے۔فرمایا:
”یااللہ تورحمن ورحیم ہے، میں تیری اس رحمت کاواسطہ دیکر
دعاکرتا ہوں جوتیرے غضب پرغالب ہے کہ تومجھے آخرت میں رسوا وذلیل نہ کرنا اوراس
عالم میں مجھے جنت عطا فرما۔
وفات۔حجاج
بن یوسف حضرت ابن عمر سے دل ہی دل میں ناراض
ہوگیا، مگر ظاہراً ان کو نقصان پہنچانہ سکتا تھا چنانچہ اس نے ایک آدمی کوتیار
کیا اورزہربجھا تیر عین اس وقت اس وقت آپ کے پاؤں کے آخری حصہ میں مارا جب آپ طواف
بیت اللہ میں مصروف تھے چنانچہ اس تیرکے زہر سے آپ ا س دنیا ئے فانی سے 74ھ میں
رفیق اعلیٰ کوجاملے۔
کوئی تبصرے نہیں: